جنگ نیوز ڈیسک
نیویارک/بھارتی وزیر خارجہ ایس جیشنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر سخت تنقید کی، تاہم انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر اسے ’’دہشت گردی کا مسلسل مرتکب‘‘ قرار دیا۔ یہ بیان پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ایک روز قبل جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کشمیر سمیت متعدد علاقائی امور اٹھائے تھے۔
جیشنکر نے کہا کہ دہشت گردی کو معمول بنانے یا اس کے مرتکبین کو نتائج سے استثنا دینے کی کوششیں قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرے گا اور دہشت گردی کے ساتھ دوستی اور خیرسگالی بیک وقت برقرار نہیں رہ سکتی۔
بھارتی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کو عالمی امن کے لئے مستقل خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب دہشت گردی کو ریاستی سرپرستی اور سرحد پار کارروائیوں سے جوڑا جائے تو یہ عالمی نظام کے لئے براہِ راست چیلنج بن جاتی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے مالی ذرائع کو بے نقاب کرنے اور ان کے خلاف کارروائی پر بھی زور دیا۔
یہ مؤقف بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے 25 ستمبر کو اپنے خطاب میں کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطین اور جموں و کشمیر کے معاملات کو جوڑا تھا اور پاکستان کے مطابق پائیدار امن کے لئے سفارتی حل پر زور دیا تھا۔
جے شنکر نے اپنی تقریر میں مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر بھی بات کی اور کہا کہ پائیدار اور دیرپا امن کے لئے دو ریاستی حل ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فلسطینی عوام کے لئے انسانی امداد اور راحت رسانی کی کوششوں میں بھی حصہ لے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی 22 ستمبر کو دو ریاستی حل کو اسرائیلی اور فلسطینی عوام کے لئے پائیدار امن و سلامتی کی راہ قرار دیا تھا، جس میں 1967 سے پہلے کی حدود کی بنیاد پر دو خودمختار ریاستوں کا تصور شامل ہے۔


