
اویس ابن علی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، اور ان عظیم نعمتوں میں علم بھی ایک نہایت اہم نعمت ہے۔ علم انسان کی شخصیت کو سنوارتا ہے، اس کی سوچ کو وسعت دیتا ہے اور اسے زندگی میں آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتا ہے۔
تعلیم کے اس پورے عمل میں بنیادی طور پر تین کردار نہایت اہم ہیں: استاد، طالبِ علم اور والدین۔ اگر یہ تینوں اپنے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کریں تو ان شاء اللہ بچوں کا مستقبل روشن اور ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ لیکن اگر، اللہ نہ کرے، ان تینوں میں سے کسی ایک کی ذمہ داری میں بھی کوتاہی رہ جائے تو اس کے منفی اثرات بچے کی تعلیم اور مستقبل پر پڑ سکتے ہیں۔
تعلیم کے اسی نظام میں ہوم ورک بھی ایک اہم حصہ ہے۔ ہوم ورک کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بچہ اسکول میں سیکھی ہوئی باتوں کو سمجھنے، دہرانے اور عملی طور پر استعمال کرنے کے قابل ہو۔ لیکن ہمیں یہاں رک کر ایک اہم سوال ضرور کرنا چاہیے:
کیا زیادہ ہوم ورک واقعی بچے کی تعلیم میں اضافہ کر رہا ہے، یا بچہ صرف وقت پورا کرنے اور صفحات مکمل کرنے میں مصروف ہے؟
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہوم ورک دیتے وقت صرف اس کی مقدار نہیں بلکہ اس کے معیار اور مقصد کو بھی سامنے رکھا جائے۔ بعض اوقات ایسا ہوم ورک جو بظاہر تعلیمی سرگرمی محسوس ہوتا ہے، دراصل بچے کے لئے ذہنی دباؤ، تھکن اور تعلیم سے بے رغبتی کا سبب بن سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں ہوم ورک کے اصل مقصد سے بہت سے لوگ غافل ہیں۔ ہوم ورک کا مقصد محض کاپی کے صفحات مکمل کروانا نہیں، بلکہ بچے کو سبق سمجھنے، اس پر غور کرنے اور سیکھی ہوئی بات کو عملی طور پر استعمال کرنے کے قابل بنانا ہے۔
خواہ وہ نحو و صرف، تفسیر، فقہ کی کتاب ہو یا دنیاوی علوم میں سائنس، فزکس، ریاضی، عربی، اردو اور انگریزی کا مضمون؛ ہر کتاب اور ہر باب کا اپنا ایک مخصوص تعلیمی مقصد ہوتا ہے۔ ہوم ورک کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ بچہ اس مقصد کو حاصل کرے، سبق کو سمجھے اور حاصل کیے ہوئے علم کو اپنی زندگی میں استعمال کرنا سیکھے۔
لیکن ہمارے یہاں ایک روایتی طرزِ ہوم ورک رائج ہو چکا ہے، اور وہ ہے Copy-Paste۔
بچہ اپنا ہوم ورک خود سمجھ کر حل کرنے کے بجائے کبھی موبائل سے جواب تلاش کرتا ہے، کبھی کتاب سے جوں کا توں نقل کر لیتا ہے، اور کبھی کسی دوسرے بچے کی کاپی دیکھ کر اپنا کام مکمل کر لیتا ہے۔ بعض اوقات وہ جواب کو سمجھنے کے بجائے صرف رٹنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہاں تک کہ بعض کلاسوں میں یہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے کہ دو تین بچے ہوم ورک مکمل کرکے لے آتے ہیں اور باقی بچے انہی کی کاپیوں سے اپنا کام مکمل کر لیتے ہیں۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک دکھائی دیتا ہے: بچے کی کاپی مکمل، والدین مطمئن اور استاد بھی مطمئن؛ لیکن اصل سوال یہ ہے:
کیا واقعی بچے نے کچھ سیکھا؟
ایسے ہوم ورک میں بچے کے لئے سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔ آہستہ آہستہ بچے کے ذہن میں یہ تصور پیدا ہوسکتا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف کام مکمل کرنا اور کاپی بھرنا ہے، نہ کہ علم حاصل کرنا۔
اس کے بجائے اگر ہم بچے سے کہیں کہ جو سبق اس نے کلاس میں پڑھا ہے، اسے اپنی روزمرہ زندگی میں تلاش کرے اور اس کا عملی استعمال سمجھے، تو اس سے کہیں زیادہ حقیقی سیکھنے کا عمل پیدا ہوسکتا ہے۔
مثلاً اگر سبق پانی کی بچت کے بارے میں ہے تو بچے کو صرف دس جملے لکھنے کے لئے نہ کہا جائے، بلکہ اس سے کہا جائے:
"آج اپنے گھر میں غور کرو کہ پانی کہاں ضائع ہو رہا ہے، اسے روکنے کے لئے تم کیا کرسکتے ہو، اور اپنے مشاہدے کی بنیاد پر چند جملے لکھو۔”
اسی طرح ہر مضمون کے ہوم ورک کو اس کی نوعیت کے مطابق عملی زندگی سے جوڑا جاسکتا ہے۔ ریاضی میں گھر کے اخراجات یا اشیاء کی قیمتوں کا حساب، سائنس میں روزمرہ زندگی کے سائنسی مشاہدات، عربی میں گھر اور معاشرے میں استعمال ہونے والے الفاظ اور جملے، اردو اور انگریزی میں روزمرہ زندگی سے متعلق تحریری سرگرمیاں—یہ سب بچے کو یہ سمجھانے میں مدد دے سکتے ہیں کہ جو کچھ وہ کتاب میں پڑھ رہا ہے، وہ اس کی حقیقی زندگی سے بھی وابستہ ہے۔
والدین کا کردار
اس پورے عمل میں والدین کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کا ہوم ورک خود نہ کریں اور نہ ہی ہر سوال کا جواب فوراً بتا دیں۔ ان کا کام بچے کے لئے ہوم ورک مکمل کرنا نہیں، بلکہ بچے کو سوچنے میں مدد دینا ہے۔
مثلاً شام کے وقت بچے کو اپنے سامنے بٹھا کر ایسے سوالات کیے جائیں جن سے وہ خود جواب تک پہنچنے کی کوشش کرے:
"تمہارے خیال میں اس کا جواب کیا ہوسکتا ہے؟”
"تم نے ایسا کیوں سوچا؟”
"اسے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کہاں دیکھ سکتے ہیں؟”
اس طرح والدین بچے کے لئے جواب لکھنے والے نہیں بلکہ اس کی سوچ کو بیدار کرنے والے معاون بن سکتے ہیں۔
والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بچے کی زندگی صرف ہوم ورک تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسے مطالعے، کھیل، آرام اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کے لئے بھی مناسب وقت ملنا چاہیے۔ ایک متوازن معمول بچے کی بہتر تعلیمی اور شخصی نشوونما کے لئے اہم ہے۔
استاد کا کردار
ہوم ورک کے مؤثر ہونے میں استاد کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ ہوم ورک کی مقدار کم ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن اس کا مقصد واضح ہونا چاہیے۔
صرف اس لئے کہ ایک باب مکمل ہوگیا ہے، اگر استاد تمام سوالات کے جوابات خود بورڈ پر لکھ دے اور بچے انہیں اپنی کاپی میں نقل کرلیں تو بچے کی اپنی سوچنے کی صلاحیت کے لئے بہت کم گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔
ہمیں یہاں بھی ایک بنیادی سوال کرنا چاہیے:
اگر بچے نے باب پڑھ لیا، لیکن اس کے سوالات کے جوابات خود تلاش کرنے اور خود لکھنے کی کوشش ہی نہیں کی، تو پھر اس باب کو پڑھنے کا اصل فائدہ کیا ہوا؟
بچے کو موقع دیا جانا چاہیے کہ باب مکمل ہونے کے بعد وہ خود سوال سمجھے، اس پر غور کرے، جواب تلاش کرے اور اپنی سمجھ کے مطابق جواب لکھے۔ اگر جواب میں غلطی ہوجائے تو استاد اسے درست کرے اور بچے کو سمجھائے۔ غلطی کرنا سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے، لیکن کوشش کیے بغیر تیار جواب نقل کرنا بچے کی صلاحیت کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں دیتا۔
استاد کو چاہیے کہ بچوں کی ذہنی اور تعلیمی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوم ورک دے، تاکہ ہر بچہ اپنی استطاعت کے مطابق کام کرسکے۔ سب سے بڑھ کر بچوں کو عملی کام، مشاہدے، تجربے، سوال کرنے اور مسئلہ حل کرنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔
طالبِ علم کا کردار
تعلیم کے اس پورے عمل میں طالبِ علم کا کردار بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ صرف استاد اور والدین کی کوشش کافی نہیں؛ بچے کو خود بھی اپنی تعلیم کے بارے میں سنجیدہ اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔
طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنا ہوم ورک محض کاپی کے صفحات بھرنے کے لئے نہ کرے، بلکہ اسے سمجھ کر اور صحیح طریقے سے مکمل کرے۔ اس کا مقصد یہ نہ ہو کہ کسی طرح کام ختم ہوجائے، بلکہ یہ ہو کہ جو سبق اس نے پڑھا ہے، اسے اچھی طرح سمجھ سکے اور اس علم کو اپنی روزمرہ زندگی میں عملی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرے۔
ہر کتاب اور ہر باب کا اپنا ایک مقصد ہوتا ہے۔ طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ اس مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر کسی باب میں کوئی اصول، قاعدہ یا علمی بات پڑھائی گئی ہے تو صرف اسے یاد کرلینا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس علم کو کہاں اور کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔
طالبِ علم کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگلے دن جو سبق کلاس میں پڑھایا جانا ہے، اسے پہلے سے خود پڑھ کر آئے۔ جب بچہ سبق پہلے سے دیکھ کر آتا ہے تو اسے موضوع کا بنیادی تعارف حاصل ہوجاتا ہے، وہ کلاس میں استاد کی بات زیادہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور استاد بھی بہتر انداز میں سبق کی تیاری کرسکتا ہے۔
اسی طرح جب استاد کسی باب کے سوالات دے تو طالبِ علم کو چاہیے کہ وہ سوال خود سمجھے، خود غور کرے اور جواب اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش کرے۔ کسی دوسرے بچے کی کاپی دیکھ کر یا موبائل سے تیار جواب نقل کرکے کام مکمل کرنا آسان ضرور ہے، لیکن اس سے بچے کو اپنی صلاحیت استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
یقیناً ہر بچے کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کسی کو ایک سوال سمجھنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے اور کسی کو کم۔ اس لئے بچے کو اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور ضرورت پڑنے پر استاد اور والدین سے رہنمائی لینی چاہیے۔
ہمیں ہوم ورک کے خلاف ہونے کی ضرورت نہیں؛ ہمیں ہوم ورک کے طریقۂ کار اور مقصد پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہوم ورک خواہ نحو، صرف، تفسیر، فقہ کی کتاب کا ہو یا سائنس، فزکس، ریاضی، عربی، اردو اور انگریزی کا؛ ہر کتاب اور ہر باب کا اپنا ایک مقصد ہونا چاہیے، اور ہوم ورک اسی مقصد کے حصول کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
ہمیں اپنے بچوں کی کاپیوں سے زیادہ ان کے ذہنوں کی فکر کرنی ہوگی؛ کیونکہ مکمل کاپی تعلیم کی ضمانت نہیں، جبکہ سمجھ، سوچ، مشاہدہ اور عمل حقیقی تعلیم کی بنیاد ہیں۔
جب استاد رہنمائی کرے، والدین معاون بنیں اور طالبِ علم خود محنت کرے تو ہوم ورک ایک بوجھ نہیں رہتا بلکہ حقیقی تعلیم کا مؤثر ذریعہ بن جاتا ہے۔
آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں علم جیسی عظیم نعمت کی قدر کرنے، اسے صحیح طریقے سے حاصل کرنے، اپنی ذمہ داریوں کو درست طور پر ادا کرنے اور اپن
ی آنے والی نسلوں تک علم کو بہترین انداز میں پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔


