جنگ نیوز
سری نگر/سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے ایک وفد نے بدھ کو سری نگر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے 1947 کے قبائلی حملے کے دوران شہید ہونے والے سکھوں کی یاد میں یادگار تعمیر کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا اور اس سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے درخواست پر غور کیے جانے کا خیرمقدم کیا۔
شرکاء نے شہداء کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی اور بارہمولہ، بڈگام، کمراز اور کرناہ میں قبائلی حملہ آوروں کی پیش قدمی کے خلاف مزاحمت کے دوران سکھ خاندانوں کی قربانیوں کو یاد کیا۔
کموڈور ڈی۔ ایس۔ سودھی (ریٹائرڈ) نے 1947 کے واقعات میں کشمیریوں، بالخصوص سکھ برادری کی خدمات اور قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مختلف برادریوں کے افراد کی جانب سے ایک دوسرے کو فراہم کی گئی مدد کا بھی ذکر کرتے ہوئے اسے کشمیر کی مشترکہ تاریخ اور فرقہ وارانہ یکجہتی کا اہم حصہ قرار دیا۔
ایس۔ کیرت سنگھ، ڈی آئی جی (ریٹائرڈ) نے اس دور میں پیش آنے والے تشدد، لوٹ مار اور آتش زنی کی اپنی یادیں بیان کیں، جبکہ ڈاکٹر کومل جے بی سنگھ نے عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات محفوظ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر جگمیت کور بالی اور مصنف ایس۔ اجیت سنگھ مستانہ نے بھی سکھ برادری کی قربانیوں اور مزاحمت کو دستاویزی شکل دینے کی اہمیت اجاگر کی۔
وفد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ یادگار کے لئے کسی مناسب اور تاریخی اہمیت کے حامل مقام کا انتخاب کرکے اس کی تعمیر کے عمل کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ شرکاء کے مطابق یہ یادگار صرف سکھ شہداء کو خراج عقیدت پیش نہیں کرے گی بلکہ 1947 کے المناک واقعات کے دوران کشمیر کے مشترکہ دکھ، حوصلے، انسانیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت بھی بن سکتی ہے۔


