
بلال بشیر بٹ
جنگ نیوز
سرینگر/وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہند نے 2029 تک ’منشیات سے پاک بھارت‘ کے ہدف کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جون 2026ء میں ’نشا مکت بھارت‘ وژن ڈاکیومنٹ2029 -2026جاری کیا تھا۔
اس وژن ڈاکیومنٹ کے اہم نکات اور منشیات کے خلاف حکمت عملی کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کرنے کے لئے پریس انفارمیشن بیورو (PIB) سرینگر نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) کے اشتراک سے بدھ کو سرینگر میں ’’ورتالاپ‘‘ کا انعقاد کیا۔
پروگرام میں NCB کے زونل ڈائریکٹر، جموں و کشمیر و لداخ ریجن، پیوش کمار انکت، ڈائریکٹر PIB سرینگر قاضی سلمان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (میڈیا)، وزارت داخلہ، راجیو کمار رستگی نے شرکت کی۔ میڈیا نمائندگان کو ملک بھر میں منشیات کے خلاف کارروائیوں، ضبطیوں، گرفتاریوں، گہری سطح کی تحقیقات اور ضبط شدہ منشیات کی تلفی سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
حکام کے مطابق جولائی 2026ء سے جولائی 2029ء تک کا تین سالہ لائحۂ عمل منشیات سے پاک بھارت کے ہدف کو مقررہ مدت میں حاصل کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ اس حکمت عملی کی بنیاد چار ستونوں پر ہے: انٹیلی جنس و آپریشن پر مبنی نفاذ، پری کرسر اور مصنوعی منشیات پر قابو، طلب اور نقصانات میں کمی، اور صلاحیت سازی و باہمی رابطہ کاری۔
اس حکمت عملی کا عملی منتر ’’معلوم کریں، خلل ڈالیں اور ختم کریں‘‘ (Detect, Disrupt and Destroy) قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت منشیات کے ذرائع، راستوں، اسمگلروں، ٹیکنالوجی، ادائیگی کے ذرائع اور سرغنوں کی شناخت؛ ترسیل، لاجسٹکس، پری کرسر سپلائی، ڈارک نیٹ ورک، حوالہ اور نارکو فنانسنگ کو نشانہ بنانا؛ اور غیر قانونی لیبارٹریوں، منشیات کی کاشت، کارٹل کے اثاثوں اور تقسیم کے پورے نیٹ ورک کے خاتمے پر توجہ دی جائے گی۔
حکومت نے منشیات کے خلاف جنگ کو قومی سلامتی کی ترجیح قرار دیتے ہوئے غیر قانونی منشیات کی لیبارٹریوں کے خاتمے، منشیات سے متعلق مجرموں اور مفرور افراد کو قانون کے دائرے میں لانے، نظاموں کے انضمام اور قابل پیمائش قومی نتائج کے حصول پر خصوصی توجہ دی ہے۔
پروگرام میں تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک بنانے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا۔ NCC، NSS اور My Bharat کے ذریعے بڑی تعداد میں ’نشا مکت بھارت متر‘ تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ نوجوانوں میں منشیات کے مضر اثرات کے حوالے سے آگاہی بڑھائی جاسکے۔
وژن ڈاکیومنٹ میں منشیات کے خلاف رسد میں کمی، طلب میں کمی اور نقصانات میں کمی کے تین جہتی طریقۂ کار پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ منشیات کے نیٹ ورک، مالی وسائل اور مفرور عناصر کو نشانہ بنانے کے لئے Whole-of-Government حکمت عملی اپنانے اور مختلف اداروں کی مشترکہ کارروائی کو مضبوط بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق وژن ڈاکیومنٹ مرکزی وزارتوں، محکموں، منشیات کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔
تین سالہ لائحۂ عمل میں مصنوعی منشیات اور ڈارک نیٹ کے ذریعے ہونے والی اسمگلنگ سے نمٹنے، نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی روک تھام، علاج و بحالی مراکز تک رسائی بڑھانے اور مختلف اداروں کے درمیان مربوط کارروائی کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
’’ورتالاپ‘‘ کے ذریعے میڈیا سے بھی معاشرے میں آگاہی اور عوامی شرکت کو فروغ دینے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی، تاکہ منشیات کے خلاف قومی مہم کو وسیع تر سماجی تعاون حاصل ہوسکے۔


