انسانی روح کی حقیقت: ایک جائزہ

 

 

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی

روح کے بارے میں مدینہ کے یہودیوں نے قریشِ مکہ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے تین سوالات میں سے ایک سوال ’’اصحابِ کہف‘‘ کے بارے میں، دوسرا ’’روح‘‘ کے متعلق اور تیسرا ’’ذوالقرنین‘‘ کے بارے میں پوچھا تھا۔ اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے جوابات سورۂ الکہف میں دیے گئے ہیں، جب کہ روح کے متعلق سوال کا مختصر جواب سورۂ بنی اسرائیل، آیت 85 میں دیا گیا ہے کہ روح کا تعلق عالمِ امر سے ہے، اور عالمِ امر چونکہ عالمِ غیب ہے، اس لئے اس کے بارے میں تم لوگ بہت کم علم رکھتے ہو۔
البتہ سورۂ الاعراف، آیت 172 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب آپ کے رب نے تمام بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا۔ یہ واقعہ عالمِ ارواح میں وقوع پذیر ہوا تھا، جب انسانی جسم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ انسانوں کی پہلی تخلیق عالمِ ارواح میں ہوئی تھی، جہاں ان سے میثاق لیا گیا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا گیا کہ ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘‘ تمام ارواح نے اقرار کیا۔ یعنی یہ اقرار پوری طرح ہوش و حواس اور خود شعوری کے ساتھ ہوا تھا۔
انسان کی اس خود شعوری کا تعلق اس کی روح سے ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے بطورِ خاص صرف انسان میں پھونکی ہے۔ یہ گواہی پوری نوعِ انسانی کے لئے حجت بھی ہے، کیونکہ ہر انسانی روح اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرکے دنیا میں آئی ہے، اور روزِ محشر کے عظیم محاسبے کے لئے عالمِ ارواح میں لیا جانے والا یہ عہد ہی کافی ہے، جس کا احساس اور شعور ہر انسان کی فطرت میں سمو دیا گیا ہے۔
عالمِ ارواح کی یہ زندگی پورے شعور کے ساتھ تھی۔ عالمِ ارواح میں عہد لئے جانے کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی روح سے لے کر دنیا کے آخری انسان کی روح تک تمام ارواح حاضر اور موجود تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو موت کی نیند سلا دیا۔ یہ ہر انسان کی پہلی موت تھی، جو عالمِ ارواح میں اس پر وارد ہوئی۔ اس طرح تمام ارواح کو گویا ایک کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کر دیا گیا۔ چنانچہ جو ارواح ابھی تک دنیا میں نہیں آئیں، وہ ابھی تک اسی کیفیت میں ہیں۔
پھر جب عالمِ خلق، یعنی ’’ماں کے پیٹ‘‘ میں کسی انسان کے جسم کا لوتھڑا ایک سو بیس دن، یعنی چار ماہ، میں تیار ہوجاتا ہے (سورۂ المؤمنون، آیات 12 تا 14)، تو اس کی روح کو اس لوتھڑے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس جسم میں منتقل ہونے کے بعد جب روح ’’آنکھ‘‘ کھولتی ہے تو یہ اس روح کا احیائے اوّل ہے۔
اس کے بعد وہ انسان ماں کے پیٹ سے دنیا میں وارد ہوتا ہے، ایک معین عرصے تک دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ دنیوی زندگی کی یہ موت اس انسان یا روح کی دوسری موت ہے۔ موت کے بعد وہ روح عالمِ برزخ میں ’’علیین‘‘ یا ’’سجین‘‘ (سورۂ المطففین، آیات 7 تا 9 اور 18 تا 21) چلی جاتی ہے، جبکہ جسم اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے، یعنی مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔
اسی طرح پوری نوعِ انسانی کی ارواح اپنی اپنی باری پر زندہ ہوکر دنیا میں آتی جائیں گی اور یہاں اپنے اپنے جسم کے ساتھ زندگی گزار کر ’’دوسری موت‘‘ کے بعد عالمِ برزخ کو سدھار جائیں گی۔
جب قیامت برپا ہوگی تو ہر انسان کی روح کو ایک دفعہ پھر اس کے دنیوی جسم سے ملا کر زندہ کردیا جائے گا۔ یہ تمام انسانوں کا ’’احیائے ثانی‘‘ ہوگا۔ جب میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی تو کہا جائے گا:
’’آگئے ہو نا ہمارے پاس! جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، بلکہ تم نے تو سمجھ رکھا تھا کہ ہم تمہارے لئے وعدے کا کوئی وقت مقرر ہی نہ کریں گے۔‘‘
(سورۂ الکہف، آیت 48)
جب تمام لوگ میدانِ محشر میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو انہیں اپنا عہد ’’الست بربکم‘‘ (سورۂ الاعراف، آیت 172) بھی یاد دلایا جائے گا۔ چنانچہ سورۂ الکہف، آیت 49 کے مطابق:
’’رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ، اور تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ کیسا اعمال نامہ ہے! اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی چیز کو، مگر اسے محفوظ رکھا ہے۔‘‘
یہ پوری نوعِ انسانی کے ایک ایک فرد کی زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کی تفصیل پر مشتمل ریکارڈ ہوگا۔
سورۂ المؤمن، آیت 11 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وہ فریاد کریں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا۔ اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے، تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے؟‘‘
عالمِ ارواح سے دنیا کی زندگی تک اور دنیا کی موت کے بعد قیامت کے اس دن تک کئی ادوار ہم پر گزر چکے ہیں۔ تو اے پروردگار! اب ایک دور اور سہی۔ ایک مرتبہ پھر ہم پر کرم فرمایا جائے اور ہمیں ایک اور موقع دے دیا جائے۔
یعنی وہ لوگ اپنی سابقہ زندگی کے مختلف ادوار کو دلیل بنا کر ایک اور دور کی رعایت حاصل کرنے کی درخواست کریں گے۔
یہ ہے روح کی اصل حقیقت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے اور اس کی روح عالمِ بالا، یعنی برزخ، کی طرف پرواز کرتی ہے تو جو لوگ اس سے پہلے موت کا مزہ چکھ چکے ہوتے ہیں اور عالمِ برزخ میں موجود ہوتے ہیں، وہ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ پھر کسی شخص کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہے۔ اگر وہ ابھی دنیا میں زندہ ہوتا ہے تو اس کی خبر دیتے ہیں، اور اگر وہ مر چکا ہوتا ہے تو اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ دنیا میں اس کی موت بہت پہلے واقع ہوچکی ہے، لیکن ابھی تک یہاں نہیں پہنچا۔
تو عالمِ برزخ والے قیاس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی روح کو ’’سجین‘‘ میں رکھا ہوگا۔ شاید وہ بدروح ہے، کیونکہ نیک ارواح کی جگہ ’’علیین‘‘ میں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بدکار ارواح کے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، بلکہ انہیں ’’سجین‘‘ میں رکھا جائے گا۔
انسانی روح کی حقیقت، اصل میں یہی ہے۔

 

 

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا...

روس-نیٹوکی جنگ اور دنیا کا مستقبل

  طفیل مگسی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ: بین الاقوامی عسکری اور سیاسی...

یوم اساتذہ:معماران قوم کو سلام

  مہناز سرینگر جنگ قوموں کی تعمیر بلند و بالا عمارتوں،...

احتجاج کا حق، انصاف کا اصول

اگر یہ فیصلہ اسی اصول کو مضبوط کرتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لئے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

لداخ میں بڑی سیاسی پیش رفت: سونم وانگچک کا اہم اعلان، کرگل-لہہ پدیاترا مؤخر

  سرینگر: جنگ نیوز ڈیسک لداخ میں طویل عرصے سے جاری مطالبات...

تازہ ترین خبریں

ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا...

روس-نیٹوکی جنگ اور دنیا کا مستقبل

  طفیل مگسی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ: بین الاقوامی عسکری اور سیاسی...

یوم اساتذہ:معماران قوم کو سلام

  مہناز سرینگر جنگ قوموں کی تعمیر بلند و بالا عمارتوں،...

احتجاج کا حق، انصاف کا اصول

اگر یہ فیصلہ اسی اصول کو مضبوط کرتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لئے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

لداخ میں بڑی سیاسی پیش رفت: سونم وانگچک کا اہم اعلان، کرگل-لہہ پدیاترا مؤخر

  سرینگر: جنگ نیوز ڈیسک لداخ میں طویل عرصے سے جاری مطالبات...

انسانی روح کی حقیقت: ایک جائزہ

 

 

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی

روح کے بارے میں مدینہ کے یہودیوں نے قریشِ مکہ کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے تین سوالات میں سے ایک سوال ’’اصحابِ کہف‘‘ کے بارے میں، دوسرا ’’روح‘‘ کے متعلق اور تیسرا ’’ذوالقرنین‘‘ کے بارے میں پوچھا تھا۔ اصحابِ کہف اور ذوالقرنین کے جوابات سورۂ الکہف میں دیے گئے ہیں، جب کہ روح کے متعلق سوال کا مختصر جواب سورۂ بنی اسرائیل، آیت 85 میں دیا گیا ہے کہ روح کا تعلق عالمِ امر سے ہے، اور عالمِ امر چونکہ عالمِ غیب ہے، اس لئے اس کے بارے میں تم لوگ بہت کم علم رکھتے ہو۔
البتہ سورۂ الاعراف، آیت 172 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب آپ کے رب نے تمام بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا۔ یہ واقعہ عالمِ ارواح میں وقوع پذیر ہوا تھا، جب انسانی جسم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ انسانوں کی پہلی تخلیق عالمِ ارواح میں ہوئی تھی، جہاں ان سے میثاق لیا گیا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا گیا کہ ’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘‘ تمام ارواح نے اقرار کیا۔ یعنی یہ اقرار پوری طرح ہوش و حواس اور خود شعوری کے ساتھ ہوا تھا۔
انسان کی اس خود شعوری کا تعلق اس کی روح سے ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے بطورِ خاص صرف انسان میں پھونکی ہے۔ یہ گواہی پوری نوعِ انسانی کے لئے حجت بھی ہے، کیونکہ ہر انسانی روح اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرکے دنیا میں آئی ہے، اور روزِ محشر کے عظیم محاسبے کے لئے عالمِ ارواح میں لیا جانے والا یہ عہد ہی کافی ہے، جس کا احساس اور شعور ہر انسان کی فطرت میں سمو دیا گیا ہے۔
عالمِ ارواح کی یہ زندگی پورے شعور کے ساتھ تھی۔ عالمِ ارواح میں عہد لئے جانے کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی روح سے لے کر دنیا کے آخری انسان کی روح تک تمام ارواح حاضر اور موجود تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو موت کی نیند سلا دیا۔ یہ ہر انسان کی پہلی موت تھی، جو عالمِ ارواح میں اس پر وارد ہوئی۔ اس طرح تمام ارواح کو گویا ایک کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کر دیا گیا۔ چنانچہ جو ارواح ابھی تک دنیا میں نہیں آئیں، وہ ابھی تک اسی کیفیت میں ہیں۔
پھر جب عالمِ خلق، یعنی ’’ماں کے پیٹ‘‘ میں کسی انسان کے جسم کا لوتھڑا ایک سو بیس دن، یعنی چار ماہ، میں تیار ہوجاتا ہے (سورۂ المؤمنون، آیات 12 تا 14)، تو اس کی روح کو اس لوتھڑے میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس جسم میں منتقل ہونے کے بعد جب روح ’’آنکھ‘‘ کھولتی ہے تو یہ اس روح کا احیائے اوّل ہے۔
اس کے بعد وہ انسان ماں کے پیٹ سے دنیا میں وارد ہوتا ہے، ایک معین عرصے تک دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ دنیوی زندگی کی یہ موت اس انسان یا روح کی دوسری موت ہے۔ موت کے بعد وہ روح عالمِ برزخ میں ’’علیین‘‘ یا ’’سجین‘‘ (سورۂ المطففین، آیات 7 تا 9 اور 18 تا 21) چلی جاتی ہے، جبکہ جسم اپنی اصل کی طرف لوٹ جاتا ہے، یعنی مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔
اسی طرح پوری نوعِ انسانی کی ارواح اپنی اپنی باری پر زندہ ہوکر دنیا میں آتی جائیں گی اور یہاں اپنے اپنے جسم کے ساتھ زندگی گزار کر ’’دوسری موت‘‘ کے بعد عالمِ برزخ کو سدھار جائیں گی۔
جب قیامت برپا ہوگی تو ہر انسان کی روح کو ایک دفعہ پھر اس کے دنیوی جسم سے ملا کر زندہ کردیا جائے گا۔ یہ تمام انسانوں کا ’’احیائے ثانی‘‘ ہوگا۔ جب میدانِ حشر میں اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی تو کہا جائے گا:
’’آگئے ہو نا ہمارے پاس! جیسے ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا، بلکہ تم نے تو سمجھ رکھا تھا کہ ہم تمہارے لئے وعدے کا کوئی وقت مقرر ہی نہ کریں گے۔‘‘
(سورۂ الکہف، آیت 48)
جب تمام لوگ میدانِ محشر میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو انہیں اپنا عہد ’’الست بربکم‘‘ (سورۂ الاعراف، آیت 172) بھی یاد دلایا جائے گا۔ چنانچہ سورۂ الکہف، آیت 49 کے مطابق:
’’رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ، اور تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے: ہائے ہماری شامت! یہ کیسا اعمال نامہ ہے! اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی چیز کو، مگر اسے محفوظ رکھا ہے۔‘‘
یہ پوری نوعِ انسانی کے ایک ایک فرد کی زندگی کے ایک ایک لمحے اور ایک ایک عمل کی تفصیل پر مشتمل ریکارڈ ہوگا۔
سورۂ المؤمن، آیت 11 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’وہ فریاد کریں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا۔ اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے، تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے؟‘‘
عالمِ ارواح سے دنیا کی زندگی تک اور دنیا کی موت کے بعد قیامت کے اس دن تک کئی ادوار ہم پر گزر چکے ہیں۔ تو اے پروردگار! اب ایک دور اور سہی۔ ایک مرتبہ پھر ہم پر کرم فرمایا جائے اور ہمیں ایک اور موقع دے دیا جائے۔
یعنی وہ لوگ اپنی سابقہ زندگی کے مختلف ادوار کو دلیل بنا کر ایک اور دور کی رعایت حاصل کرنے کی درخواست کریں گے۔
یہ ہے روح کی اصل حقیقت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے اور اس کی روح عالمِ بالا، یعنی برزخ، کی طرف پرواز کرتی ہے تو جو لوگ اس سے پہلے موت کا مزہ چکھ چکے ہوتے ہیں اور عالمِ برزخ میں موجود ہوتے ہیں، وہ اس کا استقبال کرتے ہیں۔ پھر کسی شخص کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کس حال میں ہے۔ اگر وہ ابھی دنیا میں زندہ ہوتا ہے تو اس کی خبر دیتے ہیں، اور اگر وہ مر چکا ہوتا ہے تو اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ دنیا میں اس کی موت بہت پہلے واقع ہوچکی ہے، لیکن ابھی تک یہاں نہیں پہنچا۔
تو عالمِ برزخ والے قیاس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی روح کو ’’سجین‘‘ میں رکھا ہوگا۔ شاید وہ بدروح ہے، کیونکہ نیک ارواح کی جگہ ’’علیین‘‘ میں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بدکار ارواح کے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، بلکہ انہیں ’’سجین‘‘ میں رکھا جائے گا۔
انسانی روح کی حقیقت، اصل میں یہی ہے۔

 

 

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں