اردو شاعری اور مصنوعی ذہانت: امکانات و مضمرات

پروفیسر مشتاق احمد
انسانی تاریخ میںکسی بھی بڑی سائنسی یا تکنیکی انقلابات یا ایجاد ات کے ساتھ یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ آیا یہ نئی قوت انسان کی تخلیقی، فکری اور روحانی سرگرمیوں کو محدود کر دے گی یا ان کی جگہ لے لے گی۔ صنعتی انقلاب کے دور میں یہ خدشہ فنونِ لطیفہ کے بارے میں ظاہر کیا گیاتھا ، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ظہور پر کتاب کی موت کا اعلان ہوااور اب مصنوعی ذہانت کے عہد میں ادب اور شاعری کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہے۔یہ سوال بہت معنی خیز ہے اور عہدِ حاضر کے فکری اضطراب کی پوری ترجمانی کرتا ہے۔ جب ہر شعبۂ حیات میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی برتریت، افادیت اور ناگزیر حیثیت کی بحث ہے تو یہ خدشہ فطری ہے کہ ادب بالخصوص شاعری کہیں غیر متعلق (irrelevant) نہ ہو جائے۔ لیکن اگر ہم اس سوال کو فلسفیانہ، جمالیاتی اور تہذیبی تناظر میں دیکھیں تو صورتِ حال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔مصنوعی ذہانت نہ صرف معلومات کو جمع، ترتیب اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اب وہ نظمیں، کہانیاں اور تنقیدی مضامین بھی تخلیق کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ:
 کیا ادب، خصوصاً شاعری، محض ایک متبادل مشین کے سامنے اپنی معنویت کھو دے گی؟
امریکی فلسفی و ماہر زبان جان سرل (John Searle-31 July 1932-17 September 2025) نے اپنے مشہور مضمون‘‘Minds, Brains and Programs’’میں مصنوعی ذہانت اور انسانی شعور کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
"A Computer may simulate understanding, but it does not possess consciousness or intentionality.” (1)
یعنی مشین فہم (simulation of understanding) تو پیدا کر سکتی ہے مگر احساس، شعور اور داخلی تجربہ اس کے بس کی بات نہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ادب، خصوصاً شاعری، مصنوعی ذہانت سے ممتاز ہو جاتی ہے۔ شاعری محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ اندرونی کرب، وجد، خوف، محبت اور وجودی سوالات کی آواز ہے۔اس لئے ادب کو ایک انسانی تجربے کی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔انگریزی نقاد ٹی ایس ایلیٹ (T. S. Eliot- 26 September 1888- 04 January 1965) کے مطابق:
” Poetry is not a turning loose of emotion but an escape from emotion: the expression is not Personality, but an escape from personality.” (2)
 ایلیٹ کا یہ قول بظاہر شاعری کو ذاتی احساسات سے الگ کرتا ہے، مگر درحقیقت ایلیٹ یہاں انسانی شعور کی تہذیبی گہرائی کی بات کر رہا ہے۔ شاعری وہ فن ہے جو فرد کے تجربے کو اجتماعی انسانی حافظے میں ڈھال دیتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے پاس کوئی ذاتی ماضی، تہذیبی زخم، یا اجتماعی صدمہ نہیں۔ وہ ہولوکاسٹ کا درد، غلامی کی اذیت، یا ہجرت کی کسک محسوس نہیں کر سکتی، صرف ڈیٹا کی بنیاد پر اس کی نقل کر سکتی ہے۔غرض کہ شاعری اور احساسِ وجود قدرتی عطیہ ہے ، مشینی کھیل نہیں۔
ژاں پال سارتر(ؔJeanPaul Sartre-21 June 1905-15 April 1980) اور البرٹ کامیوؔ (Albert Camus – 07 November 1913-04 January 1960) ۔ جیسے وجودی مفکرین نے ادب کو انسانی وجود کی بے معنویت اور کرب کے اظہار کا ذریعہ قرار دیا۔ اگرچہ یہ مفکرین فرانسیسی تھے، مگر انگریزی دنیا میں ان کے افکار کا گہرا اثر پڑا۔انگریزی نقاد ایف۔ آر۔ لیوس (F. R. Leavis- 4 July 1895-14 April 1978) لکھتے ہیں:
"Great literature is a record of significant human experience”. (3)
یہی وہ‘‘significant human experience’’ہے جو مصنوعی ذہانت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ شاعری وجودی سوالات کو جنم دیتی ہے، جوابات نہیں دیتی۔ مشین کا مزاج حل (solution) کا ہے، جب کہ شاعری کا مزاج سوال (question) کا۔
تخلیق اور تخلیقی اضطراب صرف انسانی ذہن کی اُپج اور محسوسات کا حصہ ہے اس لئے امریکی شاعر اور نقاد رابرٹ فراسٹ (Robert Frost- 26 March 1874-29 January 1963) کے مطابق:
"Poetry is when an emotion has found its thought and the thought has found words”(4)
یہاں جذبات، فکر اور زبان کا جو ربط ہے، وہ انسانی ذہن کی داخلی کیفیات کا مرہونِ منت ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ہاں نہ جذبات کی اصل موجودگی ہے، نہ اضطراب، نہ خوفِ زوال، نہ موت کا شعوربلکہ جو پروگرام اس میں فیڈ کیا گیا ہے اسی ڈاٹا کی بنیاد پر وہ شعری اظہار کے لئے مجبور ہے۔مشین کے اندر کبھی بھی انسانی شدتِ احساس پیدا نہیں ہو سکتا اور نہ وہ درد وکرب کے محسوسات کو الفاظ کے پیکر میں ڈھال سکتا ہے۔ ہارولڈ بلوم (Harold Bloom- 11 July 1930- 14 October 1923) نے The Anxiety of Influence(5) میں شاعری کو ایک مسلسل تخلیقی کشمکش قرار دیا۔ شاعر اپنے پیش روؤں سے نبرد آزما ہوتا ہے، ان سے حسد بھی کرتا ہے اور ان سے مکالمہ بھی۔ کیا مشین حسد کر سکتی ہے؟ کیا وہ تخلیقی خوف محسوس کر سکتی ہے؟ جواب واضح ہے: نہیں۔ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ادب اخلاقی اور تہذیبی قوت کا نتیجہ ہوتاہے اس لئے انگریزی ادیب جارج آرویل (George Orwell- 25 June 1903-21 January 1950) نے ادب کو محض جمالیات نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری قرار دیا ہے ۔ بقول آرویل:
"The opinion that art should have nothing to do with politics is itself a political attitude.”(6)
غرض کہ شاعری جبر کے خلاف آواز بنتی ہے، ظلم پر سوال اٹھاتی ہے، اور خاموش اکثریت کی ترجمان ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت چونکہ طاقت کے ڈھانچوں کے اندر تیار ہوتی ہے، اس لئے وہ اکثر اسٹیٹس کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے مضبوط کرتی ہے۔اس لئے قاری، شاعر اور مشین میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ادب کا حسن صرف تخلیق میں نہیں بلکہ قرأت (Reading) میں بھی ہے۔ قاری جب نظم پڑھتا ہے تو وہ اپنی ذات، اپنے تجربے اور اپنی یادوں کے ساتھ متن میں داخل ہوتا ہے۔امریکی مفکر اسٹینلے فِش (Stanley Fish-19 April 1938 ) کا واضح موقف ہے کہ:
Meaning is not in the text alone, but in the reader.”(7)’ "Interaction with it.
یہ تعامل انسانی سطح پر ہوتا ہے، مشینی نہیں۔ مصنوعی ذہانت قاری نہیں بن سکتی، وہ صرف صارف (user) بن سکتی ہے۔اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت ادب کی دشمن ہے؟یہ کہنا بھی درست نہیں کہ مصنوعی ذہانت ادب کی دشمن ہے۔ درحقیقت وہ ایک آلہ (tool) ہے۔ جیسا کہ کنیڈین مارشل مک لوہن (Marshall McLuhan -21 July 1911- 31 December 1980 ) نے اپنی کتاب’ Understanding Media (1964)‘ ‘ میں کہا تھاکہ:”The medium is the message”(8).۔مارشل نے ہی گلوبل ویلیج کا تصور پیش کیا تھااور شاعری کے افہام وتفہیم کے متعلق ایک نیا تصور بھی پیش کیا تھا۔
اگر ہم مصنوعی ذہانت کو محض ایک میڈیم سمجھیں تو یہ ادب کے پھیلاؤ، ترجمے، تدوین اور تحقیق میں معاون بن سکتی ہے، مگر تخلیق کی روح اس کے دائرے سے باہر رہے گی۔اگر مصنوعی ذہانت کی شاعری کے متعلق کوئی رائے قائم کرنی ہوگی تو مذکورہ تمام مباحث کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگاکہ ادب کا مستقبل کیا ہوگا اور مستقبل میں شاعری کی ضرورت کیا رہ جائے گی۔میرا نظریہ ہے کہ جس دنیا میں مشینیں زیادہ ہوں گی، وہاں انسان کو انسان ہونے کی یاد دلانے کے لئے شاعری کی ضرورت اور بڑھ جائے گی۔ تنہائی، بے معنویت، اور ڈیجیٹل وجود کے عہد میں شاعری ایک روحانی پناہ گاہ بنے گی۔انگریزی شاعر ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (W. H. Auden-21 Feb. 1907- 29 Sep. 1973) نے کہا تھا:
Poetry makes nothing happen.”(9) "it survives,
یعنی شاعری فوری نتائج پیدا نہ بھی کرے، تب بھی وہ زندہ رہتی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔مصنوعی ذہانت کا عہد ادب کے زوال کا نہیں بلکہ ادب کی اصل شناخت کے انکشاف کا عہد ہے۔ شاعری اس لئے اہم نہیں کہ وہ معلومات دیتی ہے، بلکہ اس لئے اہم ہے کہ وہ انسان کو انسان سے جوڑتی ہے۔جب تک انسان کے اندر خوف، محبت، موت کا شعور، تنہائی کا کرب اور معنی کی تلاش باقی ہے،تب تک شاعری زندہ رہے گی اور شاید اسی لئے مصنوعی ذہانت کے شور میں شاعری کی سرگوشی اور زیادہ ضروری ہو جائے گی۔اس لئے کہ شاعری صرف کسبی نہیں بلکہ فطری عطیہ ہے اور مشین کے ذریعہ جو ادب لکھا جا رہاہے وہ سب صرف اور صرف کسبی ہے کہ اس کے اندر جو موضوعاتی مواد جمع کئے گئے ہیں اس کی ترجمانی کرنے پر وہ مجبور ہے جب کہ انسان تغیر زمانہ کے ساتھ اور فکری ونظری حالات کے بدلتے ہوئے تناظر میں اپنے احساسات وجذبات کا اظہار کرتاہے۔ اس لئے مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی خالص ادب کی اہمیت وافادیت برقرار رہے گی اور عہد بہ عہد اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا ہی رہے گا۔جیسا کہ( Geoffrey Hinton- (6 Dec. 1947  جسے 2024ء میں فزکس کا نوبل انعام ملا تھا اور جسے مصنوعی ذہانت کا بابائے آدم کہا جاتاہے اس نے اپنی کتاب:
 "Unsuperkised Learning: Foundation of Neural Computation ( Computational Neuro Science) 1999, Co-Editor: Terrence J. Sejnowski”(10)
میں کہا ہے کہ ’’مصنوعی ذہانت کے ذریعہ آپ کُہرے میں راستہ دیکھ سکتے ہیں لیکن اس کے آگے کیا ہے اس کا پتہ نہیں چلتا‘‘۔یعنی مصنوعی ذہانت وقتی رہنمائی کے لئے تو سود مند ثابت ہو سکتی ہے لیکن ازلی وابدی حقیقت کی ترجمانی میں معاون ثابت نہیں ہو سکتی کہ انسان کی غوروفکر کا محور ومرکز مستقل نہیں بلکہ تغیر پذیر ہوتاہے اور یہی وجہ ہے کہ کسی شاعر کی تمام تر تخلیقات موضوعی اور فکری اعتبار سے یکساں نہیں ہوتی۔
حوالہ جات؍وکتب استفادہ( مضمون) اردو شاعری اور مصنوعی ذہانت: امکانات و مضمرات

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا...

روس-نیٹوکی جنگ اور دنیا کا مستقبل

  طفیل مگسی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ: بین الاقوامی عسکری اور سیاسی...

یوم اساتذہ:معماران قوم کو سلام

  مہناز سرینگر جنگ قوموں کی تعمیر بلند و بالا عمارتوں،...

احتجاج کا حق، انصاف کا اصول

اگر یہ فیصلہ اسی اصول کو مضبوط کرتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لئے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

لداخ میں بڑی سیاسی پیش رفت: سونم وانگچک کا اہم اعلان، کرگل-لہہ پدیاترا مؤخر

  سرینگر: جنگ نیوز ڈیسک لداخ میں طویل عرصے سے جاری مطالبات...

تازہ ترین خبریں

ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا...

روس-نیٹوکی جنگ اور دنیا کا مستقبل

  طفیل مگسی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ: بین الاقوامی عسکری اور سیاسی...

یوم اساتذہ:معماران قوم کو سلام

  مہناز سرینگر جنگ قوموں کی تعمیر بلند و بالا عمارتوں،...

احتجاج کا حق، انصاف کا اصول

اگر یہ فیصلہ اسی اصول کو مضبوط کرتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لئے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

لداخ میں بڑی سیاسی پیش رفت: سونم وانگچک کا اہم اعلان، کرگل-لہہ پدیاترا مؤخر

  سرینگر: جنگ نیوز ڈیسک لداخ میں طویل عرصے سے جاری مطالبات...

اردو شاعری اور مصنوعی ذہانت: امکانات و مضمرات

پروفیسر مشتاق احمد
انسانی تاریخ میںکسی بھی بڑی سائنسی یا تکنیکی انقلابات یا ایجاد ات کے ساتھ یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ آیا یہ نئی قوت انسان کی تخلیقی، فکری اور روحانی سرگرمیوں کو محدود کر دے گی یا ان کی جگہ لے لے گی۔ صنعتی انقلاب کے دور میں یہ خدشہ فنونِ لطیفہ کے بارے میں ظاہر کیا گیاتھا ، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ظہور پر کتاب کی موت کا اعلان ہوااور اب مصنوعی ذہانت کے عہد میں ادب اور شاعری کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہے۔یہ سوال بہت معنی خیز ہے اور عہدِ حاضر کے فکری اضطراب کی پوری ترجمانی کرتا ہے۔ جب ہر شعبۂ حیات میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی برتریت، افادیت اور ناگزیر حیثیت کی بحث ہے تو یہ خدشہ فطری ہے کہ ادب بالخصوص شاعری کہیں غیر متعلق (irrelevant) نہ ہو جائے۔ لیکن اگر ہم اس سوال کو فلسفیانہ، جمالیاتی اور تہذیبی تناظر میں دیکھیں تو صورتِ حال بالکل مختلف نظر آتی ہے۔مصنوعی ذہانت نہ صرف معلومات کو جمع، ترتیب اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ اب وہ نظمیں، کہانیاں اور تنقیدی مضامین بھی تخلیق کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ:
 کیا ادب، خصوصاً شاعری، محض ایک متبادل مشین کے سامنے اپنی معنویت کھو دے گی؟
امریکی فلسفی و ماہر زبان جان سرل (John Searle-31 July 1932-17 September 2025) نے اپنے مشہور مضمون‘‘Minds, Brains and Programs’’میں مصنوعی ذہانت اور انسانی شعور کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
"A Computer may simulate understanding, but it does not possess consciousness or intentionality.” (1)
یعنی مشین فہم (simulation of understanding) تو پیدا کر سکتی ہے مگر احساس، شعور اور داخلی تجربہ اس کے بس کی بات نہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں ادب، خصوصاً شاعری، مصنوعی ذہانت سے ممتاز ہو جاتی ہے۔ شاعری محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ اندرونی کرب، وجد، خوف، محبت اور وجودی سوالات کی آواز ہے۔اس لئے ادب کو ایک انسانی تجربے کی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔انگریزی نقاد ٹی ایس ایلیٹ (T. S. Eliot- 26 September 1888- 04 January 1965) کے مطابق:
” Poetry is not a turning loose of emotion but an escape from emotion: the expression is not Personality, but an escape from personality.” (2)
 ایلیٹ کا یہ قول بظاہر شاعری کو ذاتی احساسات سے الگ کرتا ہے، مگر درحقیقت ایلیٹ یہاں انسانی شعور کی تہذیبی گہرائی کی بات کر رہا ہے۔ شاعری وہ فن ہے جو فرد کے تجربے کو اجتماعی انسانی حافظے میں ڈھال دیتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے پاس کوئی ذاتی ماضی، تہذیبی زخم، یا اجتماعی صدمہ نہیں۔ وہ ہولوکاسٹ کا درد، غلامی کی اذیت، یا ہجرت کی کسک محسوس نہیں کر سکتی، صرف ڈیٹا کی بنیاد پر اس کی نقل کر سکتی ہے۔غرض کہ شاعری اور احساسِ وجود قدرتی عطیہ ہے ، مشینی کھیل نہیں۔
ژاں پال سارتر(ؔJeanPaul Sartre-21 June 1905-15 April 1980) اور البرٹ کامیوؔ (Albert Camus – 07 November 1913-04 January 1960) ۔ جیسے وجودی مفکرین نے ادب کو انسانی وجود کی بے معنویت اور کرب کے اظہار کا ذریعہ قرار دیا۔ اگرچہ یہ مفکرین فرانسیسی تھے، مگر انگریزی دنیا میں ان کے افکار کا گہرا اثر پڑا۔انگریزی نقاد ایف۔ آر۔ لیوس (F. R. Leavis- 4 July 1895-14 April 1978) لکھتے ہیں:
"Great literature is a record of significant human experience”. (3)
یہی وہ‘‘significant human experience’’ہے جو مصنوعی ذہانت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ شاعری وجودی سوالات کو جنم دیتی ہے، جوابات نہیں دیتی۔ مشین کا مزاج حل (solution) کا ہے، جب کہ شاعری کا مزاج سوال (question) کا۔
تخلیق اور تخلیقی اضطراب صرف انسانی ذہن کی اُپج اور محسوسات کا حصہ ہے اس لئے امریکی شاعر اور نقاد رابرٹ فراسٹ (Robert Frost- 26 March 1874-29 January 1963) کے مطابق:
"Poetry is when an emotion has found its thought and the thought has found words”(4)
یہاں جذبات، فکر اور زبان کا جو ربط ہے، وہ انسانی ذہن کی داخلی کیفیات کا مرہونِ منت ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ہاں نہ جذبات کی اصل موجودگی ہے، نہ اضطراب، نہ خوفِ زوال، نہ موت کا شعوربلکہ جو پروگرام اس میں فیڈ کیا گیا ہے اسی ڈاٹا کی بنیاد پر وہ شعری اظہار کے لئے مجبور ہے۔مشین کے اندر کبھی بھی انسانی شدتِ احساس پیدا نہیں ہو سکتا اور نہ وہ درد وکرب کے محسوسات کو الفاظ کے پیکر میں ڈھال سکتا ہے۔ ہارولڈ بلوم (Harold Bloom- 11 July 1930- 14 October 1923) نے The Anxiety of Influence(5) میں شاعری کو ایک مسلسل تخلیقی کشمکش قرار دیا۔ شاعر اپنے پیش روؤں سے نبرد آزما ہوتا ہے، ان سے حسد بھی کرتا ہے اور ان سے مکالمہ بھی۔ کیا مشین حسد کر سکتی ہے؟ کیا وہ تخلیقی خوف محسوس کر سکتی ہے؟ جواب واضح ہے: نہیں۔ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ادب اخلاقی اور تہذیبی قوت کا نتیجہ ہوتاہے اس لئے انگریزی ادیب جارج آرویل (George Orwell- 25 June 1903-21 January 1950) نے ادب کو محض جمالیات نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری قرار دیا ہے ۔ بقول آرویل:
"The opinion that art should have nothing to do with politics is itself a political attitude.”(6)
غرض کہ شاعری جبر کے خلاف آواز بنتی ہے، ظلم پر سوال اٹھاتی ہے، اور خاموش اکثریت کی ترجمان ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت چونکہ طاقت کے ڈھانچوں کے اندر تیار ہوتی ہے، اس لئے وہ اکثر اسٹیٹس کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے مضبوط کرتی ہے۔اس لئے قاری، شاعر اور مشین میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ادب کا حسن صرف تخلیق میں نہیں بلکہ قرأت (Reading) میں بھی ہے۔ قاری جب نظم پڑھتا ہے تو وہ اپنی ذات، اپنے تجربے اور اپنی یادوں کے ساتھ متن میں داخل ہوتا ہے۔امریکی مفکر اسٹینلے فِش (Stanley Fish-19 April 1938 ) کا واضح موقف ہے کہ:
Meaning is not in the text alone, but in the reader.”(7)’ "Interaction with it.
یہ تعامل انسانی سطح پر ہوتا ہے، مشینی نہیں۔ مصنوعی ذہانت قاری نہیں بن سکتی، وہ صرف صارف (user) بن سکتی ہے۔اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت ادب کی دشمن ہے؟یہ کہنا بھی درست نہیں کہ مصنوعی ذہانت ادب کی دشمن ہے۔ درحقیقت وہ ایک آلہ (tool) ہے۔ جیسا کہ کنیڈین مارشل مک لوہن (Marshall McLuhan -21 July 1911- 31 December 1980 ) نے اپنی کتاب’ Understanding Media (1964)‘ ‘ میں کہا تھاکہ:”The medium is the message”(8).۔مارشل نے ہی گلوبل ویلیج کا تصور پیش کیا تھااور شاعری کے افہام وتفہیم کے متعلق ایک نیا تصور بھی پیش کیا تھا۔
اگر ہم مصنوعی ذہانت کو محض ایک میڈیم سمجھیں تو یہ ادب کے پھیلاؤ، ترجمے، تدوین اور تحقیق میں معاون بن سکتی ہے، مگر تخلیق کی روح اس کے دائرے سے باہر رہے گی۔اگر مصنوعی ذہانت کی شاعری کے متعلق کوئی رائے قائم کرنی ہوگی تو مذکورہ تمام مباحث کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگاکہ ادب کا مستقبل کیا ہوگا اور مستقبل میں شاعری کی ضرورت کیا رہ جائے گی۔میرا نظریہ ہے کہ جس دنیا میں مشینیں زیادہ ہوں گی، وہاں انسان کو انسان ہونے کی یاد دلانے کے لئے شاعری کی ضرورت اور بڑھ جائے گی۔ تنہائی، بے معنویت، اور ڈیجیٹل وجود کے عہد میں شاعری ایک روحانی پناہ گاہ بنے گی۔انگریزی شاعر ڈبلیو۔ ایچ۔ آڈن (W. H. Auden-21 Feb. 1907- 29 Sep. 1973) نے کہا تھا:
Poetry makes nothing happen.”(9) "it survives,
یعنی شاعری فوری نتائج پیدا نہ بھی کرے، تب بھی وہ زندہ رہتی ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔مصنوعی ذہانت کا عہد ادب کے زوال کا نہیں بلکہ ادب کی اصل شناخت کے انکشاف کا عہد ہے۔ شاعری اس لئے اہم نہیں کہ وہ معلومات دیتی ہے، بلکہ اس لئے اہم ہے کہ وہ انسان کو انسان سے جوڑتی ہے۔جب تک انسان کے اندر خوف، محبت، موت کا شعور، تنہائی کا کرب اور معنی کی تلاش باقی ہے،تب تک شاعری زندہ رہے گی اور شاید اسی لئے مصنوعی ذہانت کے شور میں شاعری کی سرگوشی اور زیادہ ضروری ہو جائے گی۔اس لئے کہ شاعری صرف کسبی نہیں بلکہ فطری عطیہ ہے اور مشین کے ذریعہ جو ادب لکھا جا رہاہے وہ سب صرف اور صرف کسبی ہے کہ اس کے اندر جو موضوعاتی مواد جمع کئے گئے ہیں اس کی ترجمانی کرنے پر وہ مجبور ہے جب کہ انسان تغیر زمانہ کے ساتھ اور فکری ونظری حالات کے بدلتے ہوئے تناظر میں اپنے احساسات وجذبات کا اظہار کرتاہے۔ اس لئے مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی خالص ادب کی اہمیت وافادیت برقرار رہے گی اور عہد بہ عہد اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا ہی رہے گا۔جیسا کہ( Geoffrey Hinton- (6 Dec. 1947  جسے 2024ء میں فزکس کا نوبل انعام ملا تھا اور جسے مصنوعی ذہانت کا بابائے آدم کہا جاتاہے اس نے اپنی کتاب:
 "Unsuperkised Learning: Foundation of Neural Computation ( Computational Neuro Science) 1999, Co-Editor: Terrence J. Sejnowski”(10)
میں کہا ہے کہ ’’مصنوعی ذہانت کے ذریعہ آپ کُہرے میں راستہ دیکھ سکتے ہیں لیکن اس کے آگے کیا ہے اس کا پتہ نہیں چلتا‘‘۔یعنی مصنوعی ذہانت وقتی رہنمائی کے لئے تو سود مند ثابت ہو سکتی ہے لیکن ازلی وابدی حقیقت کی ترجمانی میں معاون ثابت نہیں ہو سکتی کہ انسان کی غوروفکر کا محور ومرکز مستقل نہیں بلکہ تغیر پذیر ہوتاہے اور یہی وجہ ہے کہ کسی شاعر کی تمام تر تخلیقات موضوعی اور فکری اعتبار سے یکساں نہیں ہوتی۔
حوالہ جات؍وکتب استفادہ( مضمون) اردو شاعری اور مصنوعی ذہانت: امکانات و مضمرات

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں