5.1 شدت کا زلزلہ

 

چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے زلزلے کے بعد نیپال میں سیلاب کی تازہ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ نیپال پولیس نے اطلاع دی ہے کہ ترشولی کے علاقے کو دوبارہ سے خالی کرایا جا رہا ہے۔ نیچے کی طرف بہنے والے پانی کے زبردست اضافے کی وجہ سے دریا کے پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سی جی ٹی این کی ایک رپورٹ کے مطابق، چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر نے بتایا کہ زلزلے نے جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے لونگ چانگ شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔

الرٹ جاری کرتے ہوئے نیپال پولیس نے کہا کہ تبت کی جانب ایک ڈیم دوبارہ ٹوٹ گیا ہے۔

نیپال پولیس نے ایکس پر پوسٹ کیا، "اطلاع موصول ہوئی ہے کہ تبت کی طرف پانی کا ایک ڈیم دوبارہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس لیے تمام سیکورٹی اہلکاروں، ریسکیو اور ریلیف ورکرز اور عام لوگوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر چوکس رہیں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور دوسروں کو مطلع کریں۔”

ترشولی سے رسووا تک سڑک پر تعمیراتی کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ تمام جے سی بی مشینوں کو واپس بلا لیا گیا ہے، اور سڑک کی تعمیر کی تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں شامل ایک اہلکار نے اے این آئی کو بتایا، "ہم کھٹمنڈو سے یہاں آئے ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہاں سے سڑک رسووا کی طرف جاتی ہے۔ رسووا تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہ، سب کچھ تباہ ہوچکا ہے۔ مقامی اور قومی حکومتوں کو ملبہ ہٹانا ہوگا۔”

ایک جے سی بی ڈرائیور نے کہا، "یہاں کام روک دیا گیا ہے۔ پانی کی سطح پھر سے بڑھ رہی ہے۔”

مکینوں نے اپنی املاک کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ کیچڑ میں پھنسنے کے بعد کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہونے کے تجربے کو سناتے ہوئے، ایک مقامی رہائشی نے کہا، "ہر کوئی بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا، ہم گہری کیچڑ میں پھنس گئے، ہم نے اپنا سب کچھ کھو دیا — اپنے گھر، دکانیں اور سامان۔۔۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے، ہم اپنے کام میں مصروف تھے۔ترشولی اور دھوبی ندیوں سے ہم نے بھاگنا شروع کر دیا، پورا بازار بہہ گیا۔۔۔اس وقت ہم کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

نیپال پولیس نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کو نیپال کے رسووا ضلع میں تباہ کن سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جب کہ 1,545 لوگ زخمی ہیں۔

نیپال پولیس کے مطابق، سب سے زیادہ اموات چتوان ضلع میں ہوئیں ہیں، جہاں سے 178 لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس کے بعد این پی ایسٹ میں 110، گورکھا میں 44، نوواکوٹ میں 37، دھاڈنگ میں 33، تناہون میں 28، این پی ویسٹ میں 27، اور رسووا میں 12 ہلاکتیں ہوئیں۔

حکام نے رسووا سے 644، نواکوٹ سے 898 اور دھاڈنگ سے تین افراد کو ریسکیو کیا ہے۔

ایوان نمائندگان میں قائد حزب اختلاف بھیشم راج انگڈمبے نے کہا کہ نیپالی فوج جغرافیائی چیلنجوں کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے ترشولی میں نامہ نگاروں کو بتایا، "یہاں جغرافیائی خطوں کی وجہ سے، موسمی حالات امدادی کارروائیوں کے لیے سازگار نہیں ہیں، اس کے باوجود، ہماری فوج اور ہماری تمام ہیلی کاپٹر ٹیمیں اس کوشش میں پوری طرح مصروف ہیں۔ ہم بالائی علاقوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کر رہے ہیں- وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں سب مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ، "اس آپریشن کے لیے فوج کے دو ہیلی کاپٹر اور نجی شعبے کے دیگر ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے ہیں۔ ہم اپنے اختیار میں ہر وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہم سب کو آگاہ کر رہے ہیں، اور ہماری سیکورٹی ایجنسیاں لوگوں کو محفوظ رہنے کی تلقین کرنے کے لیے ایڈوائزری جاری کر رہی ہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

سجیت کماراور تیجندر سنگھ بالترتیب کشمیر اور جموں کے IGP تعینات

جنگ نیوز سرینگر/ جموں و کشمیر پولیس میں بڑے پیمانے...

منشیات اسمگلنگ: افتخار احمد ولد غلام رسول قریشی کا مکان سیل

جنگ نیوز سرینگر/ منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذرائع...

تازہ ترین خبریں

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

سجیت کماراور تیجندر سنگھ بالترتیب کشمیر اور جموں کے IGP تعینات

جنگ نیوز سرینگر/ جموں و کشمیر پولیس میں بڑے پیمانے...

منشیات اسمگلنگ: افتخار احمد ولد غلام رسول قریشی کا مکان سیل

جنگ نیوز سرینگر/ منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی ذرائع...

5.1 شدت کا زلزلہ

 

چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے زلزلے کے بعد نیپال میں سیلاب کی تازہ وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ نیپال پولیس نے اطلاع دی ہے کہ ترشولی کے علاقے کو دوبارہ سے خالی کرایا جا رہا ہے۔ نیچے کی طرف بہنے والے پانی کے زبردست اضافے کی وجہ سے دریا کے پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سی جی ٹی این کی ایک رپورٹ کے مطابق، چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر نے بتایا کہ زلزلے نے جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے لونگ چانگ شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔

الرٹ جاری کرتے ہوئے نیپال پولیس نے کہا کہ تبت کی جانب ایک ڈیم دوبارہ ٹوٹ گیا ہے۔

نیپال پولیس نے ایکس پر پوسٹ کیا، "اطلاع موصول ہوئی ہے کہ تبت کی طرف پانی کا ایک ڈیم دوبارہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس لیے تمام سیکورٹی اہلکاروں، ریسکیو اور ریلیف ورکرز اور عام لوگوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر چوکس رہیں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور دوسروں کو مطلع کریں۔”

ترشولی سے رسووا تک سڑک پر تعمیراتی کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ تمام جے سی بی مشینوں کو واپس بلا لیا گیا ہے، اور سڑک کی تعمیر کی تمام سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں شامل ایک اہلکار نے اے این آئی کو بتایا، "ہم کھٹمنڈو سے یہاں آئے ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہاں سے سڑک رسووا کی طرف جاتی ہے۔ رسووا تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ہ، سب کچھ تباہ ہوچکا ہے۔ مقامی اور قومی حکومتوں کو ملبہ ہٹانا ہوگا۔”

ایک جے سی بی ڈرائیور نے کہا، "یہاں کام روک دیا گیا ہے۔ پانی کی سطح پھر سے بڑھ رہی ہے۔”

مکینوں نے اپنی املاک کے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ کیچڑ میں پھنسنے کے بعد کسی طرح وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہونے کے تجربے کو سناتے ہوئے، ایک مقامی رہائشی نے کہا، "ہر کوئی بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا، ہم گہری کیچڑ میں پھنس گئے، ہم نے اپنا سب کچھ کھو دیا — اپنے گھر، دکانیں اور سامان۔۔۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے، ہم اپنے کام میں مصروف تھے۔ترشولی اور دھوبی ندیوں سے ہم نے بھاگنا شروع کر دیا، پورا بازار بہہ گیا۔۔۔اس وقت ہم کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

نیپال پولیس نے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کو نیپال کے رسووا ضلع میں تباہ کن سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جب کہ 1,545 لوگ زخمی ہیں۔

نیپال پولیس کے مطابق، سب سے زیادہ اموات چتوان ضلع میں ہوئیں ہیں، جہاں سے 178 لاشیں برآمد ہوئیں۔ اس کے بعد این پی ایسٹ میں 110، گورکھا میں 44، نوواکوٹ میں 37، دھاڈنگ میں 33، تناہون میں 28، این پی ویسٹ میں 27، اور رسووا میں 12 ہلاکتیں ہوئیں۔

حکام نے رسووا سے 644، نواکوٹ سے 898 اور دھاڈنگ سے تین افراد کو ریسکیو کیا ہے۔

ایوان نمائندگان میں قائد حزب اختلاف بھیشم راج انگڈمبے نے کہا کہ نیپالی فوج جغرافیائی چیلنجوں کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے ترشولی میں نامہ نگاروں کو بتایا، "یہاں جغرافیائی خطوں کی وجہ سے، موسمی حالات امدادی کارروائیوں کے لیے سازگار نہیں ہیں، اس کے باوجود، ہماری فوج اور ہماری تمام ہیلی کاپٹر ٹیمیں اس کوشش میں پوری طرح مصروف ہیں۔ ہم بالائی علاقوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی کر رہے ہیں- وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں سب مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ، "اس آپریشن کے لیے فوج کے دو ہیلی کاپٹر اور نجی شعبے کے دیگر ہیلی کاپٹر تعینات کیے گئے ہیں۔ ہم اپنے اختیار میں ہر وسائل کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہم سب کو آگاہ کر رہے ہیں، اور ہماری سیکورٹی ایجنسیاں لوگوں کو محفوظ رہنے کی تلقین کرنے کے لیے ایڈوائزری جاری کر رہی ہیں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں