محبت رسول ﷺ کا اظہار: شعراء کی زبانی

 

ریاض فردوسی

محبت رسول ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔آپ ﷺ سے محبت صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ آپ کی سنت پر چلنے،آپ کے اخلاق اپنانے اور آپ کی اطاعت کرنے کا نام ہے۔قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہی اللہ کی محبت حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ہماری زندگی،ہماری خوشیاں اور ہماری آخرت سب آپ ﷺ کی تعلیمات سے روشن ہیں۔جس دل میں نبی کریم ﷺ کی محبت بستی ہے،وہ دل ایمان کی مٹھاس محسوس کرتا ہے۔آپ ﷺ نے انسانیت کو محبت، رحم،عدل اور امن کا درس دیا۔اللہ ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے اور آپ ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے۔آمین۔

نعت رسول اکرم ﷺ کے عربی اور فارسی شعرا کے
حتی الامکان معروف اور منسوب اشعار منتخب کیے ہیں۔
حضور ﷺ کی شان میں سیدہ کائنات سلام اللہ علیھا کے کلمات و تاثرات وصال رسول ﷺپر اظہار غم:
آپ ﷺ کے وصال کے وقت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے انتہائی پردرد لہجے میں فرمایا:
"یا ابتاہ! إلى رَبّه ما أجرَبَهُ،یا ابتاہ! جَنَّةُ الفردَوس مَأواهُ، یا ابتاہ! إلى جبريلَ نَنعاهُ”
(اے میرے ابجان!وہ اپنے رب کے کتنے قریب پہنچ گئے۔ اے میرے اباجان!جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔اے میرے اباجان! ہم جبرائیل امین کو آپ کی موت کی خبر سناتے ہیں)
حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ سلام اللہ علیہا نے بابرکت روضہ رسولﷺ پر حاضری دیتے ہوئےحضرت انس بن مالکؓ سے فرمایاتھا:”اے انس! کیا تمہارے دل اس بات پر راضی ہوگئےکہ تم نے رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالی؟”(اور آپ ﷺ کے فراق میں شدت گریہ سے یہ شعر پڑھاجس کا مفہوم ہے کہ آپ ﷺ پر جو مصیبتیں آئیں،اگر وہ دنوں پر آتیں تو دن رات کی تاریکی میں بدل جاتے)

حضرت ابو طالب ابن عبد المطلب۔

وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بوَجْهه

ثمَالُ الْيَتَامَى عصْمَةٌ للْأَرَامل
ترجمہ۔وہ روشن اور نورانی چہرہ کہ جن کے رخ زیبا کے وسیلے سے بادلوں سے بارش طلب کی جاتی ہے،آپ یتیموں کے مددگار اور بیواؤں کے محافظ و نگہبان ہیں۔

حضرت علیؓ کا ارشاد!

يا خَيْرَ مَنْ دُفنَتْ بالْقاع أَعْظُمُهُفَطَابَ منْ طيْبهنَّ الْقَاعُ وَالْأَكَمُنَفْسي الْفدَاءُ لقَبْرٍ أَنْتَ سَاكنُهُفيه الْعَفَافُ وَفيه الْجُودُ وَالْكَرَمُ

ترجمہ:اے وہ بہترین ہستی جن کی مبارک ہڈیاں زمین کے اس حصے میں مدفون ہیں،جن کی خوشبو سے زمین کے ٹیلے اور میدان مہک اٹھے۔میری جان اس قبر پر فدا ہو جس کے آپ مکین ہیں،جس میں پاک دامن،سخاوت اور کرم بستا ہے۔
حضرت حسان بن ثابتؓ۔
وأحسنُ منك لم ترَ قطُّ عيني
وأجملُ منك لم تلد النساءُ
ترجمہ:میری آنکھ نے آپ ﷺ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا،اور نہ کسی عورت نے آپ ﷺ سے زیادہ خوب صورت کسی کو جنم دیا۔

حضرت حسان بن ثابتؓ۔

وأكرمُ منك لم ترَ قطُّ عيني
وأطيبُ منك لم تلد النساءُ

ترجمہ:میری آنکھ نے آپ ﷺ سے زیادہ معزز کسی کو نہیں دیکھا،اور نہ عورتوں نے آپ ﷺ سے زیادہ پاکیزہ کسی کو جنم دیا۔

حضرت حسان بن ثابتؓ۔

شَقَقْتَ له من اسمكَ ليُجلَّهُ
فذو العرش محمودٌ وهذا محمدُ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے نام ’’محمود‘‘سے آپ ﷺ کے لئے ’’محمد‘‘نام بنایا،تاکہ آپ کی تعظیم ہو،پس عرش والا محمود ہے اور یہ محمد ﷺ ہیں۔

حضرت کعب بن زہیرؓ۔

إنَّ الرسولَ لنورٌ يُستضاءُ به
مُهَنَّدٌ من سيوف الله مسلولُ
ترجمہ:بے شک رسول اللہ ﷺ ایسا نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے،آپ ﷺ اللہ کی تلواروں میں سے ایک بے نیام تلوار ہیں۔

حضرت کعب بن زہیرؓ۔

في عصمةٍ من رسول الله إذ قالَ
لا يأخذنّي بأقوال الأُلى قالوا
ترجمہ:مجھے رسول اللہ ﷺ کی پناہ حاصل ہے،جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کی کہی ہوئی باتوں کی وجہ سے مجھے گرفت میں نہیں لیا جائے گا۔

حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔

يا ربّ لولا أنتَ ما اهتدينا
ولا تصدَّقنا ولا صلَّينا
ترجمہ:اے ہمارے رب!اگر تو نہ ہوتا تو ہم نہ ہدایت پاتے، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔
امام بوصیریؒ قصیدۂ بردہ۔
محمدٌ سيّدُ الكونين والثقلين
والفريقين من عُربٍ ومن عجم
ترجمہ:محمد ﷺ دونوں جہانوں اور جن و انس کے سردار ہیں،خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔

امام بوصیریؒ۔

هو الحبيبُ الذي تُرجى شفاعتُهُ
لكلّ هولٍ من الأهوال مقتحم
ترجمہ:وہ محبوب خدا ﷺ ہیں جن کی شفاعت ہر بڑی مصیبت اور ہول ناکی کے وقت امید کی جاتی ہے۔

مولانا جلال الدین رومیؒ

نام احمد نام جملہ انبیاست
چون کہ صد آمد نود ہم پیش ماست
ترجمہ:احمد ﷺ کا نام گویا تمام انبیاء کے ناموں کا جامع ہے،جب سو حاصل ہوگیا تو نوّے بھی اس میں شامل ہوگئے۔

مولانا رومیؒ۔

مصطفیٰ آمد کہ آرد دین حق
تا کند روشن دل ما را ز حق
ترجمہ:مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے تاکہ دین حق پہنچائیں اور ہمارے دل کو حق کی روشنی سے منور فرمائیں۔

شیخ سعدیؒ۔

ماہ فرو ماند از جمال محمد
سرو نباشد بہ اعتدال محمد
ترجمہ:چاند محمد ﷺ کے جمال کے سامنے ماند پڑ گیا، اور کوئی سرو آپ ﷺ کے اعتدال و حسن کے برابر نہیں۔

شیخ سعدیؒ۔

آدم و نوح و خلیل و موسیٰ و عیسیٰ
آمدہ مجموع در ظلال محمد
ترجمہ: آدم، نوح،خلیل،موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سب محمد ﷺ کے فیض و سایۂ رحمت کے سلسلے میں جمع ہیں۔

بہ نام آن‌کہ دل ما بہ نور او روشن
ز مہر اوست جہان را جمال و زیبایی
ترجمہ:اس ذات کے نام سے جس کے نور سے ہمارے دل روشن ہیں،اور جس کی محبت سے جہان کو حسن و خوب صورتی نصیب ہوئی۔

مولانا جامیؒ۔

ز احمد تا احد یک میم فرق است
جہانی اندرین یک میم غرق است
ترجمہ:’’احمد‘‘ اور ’’احد‘‘ میں صرف ایک میم کا فرق ہے، مگر اس ایک میم کے راز میں ایک پوری دنیا ڈوبی ہوئی ہے۔

حکیم سنائی غزنویؒ۔

محمد آن کہ بہ عالم ز حق پیامی داد
ز نور او دل مردان صفا و سامی داد
ترجمہ:محمد ﷺ وہ ہیں جنہوں نے عالم کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اپنے نور سے مردان حق کے دلوں کو پاکیزگی اور بلندی عطا کی۔

امیر خسرو

محمد جان جانان است و جانان جہانی
کہ بی او نیست در عالم قرار و زندگانی
ترجمہ:محمد ﷺ جانوں کے محبوب اور سارے جہان کے محبوب ہیں،آپ ﷺ کے بغیر عالم میں نہ حقیقی سکون ہے نہ زندگی کی معنویت۔

غالب

حق جلوہ گر ز طرز بیان محمد است
آری کلام حق بہ زبان محمد است
ترجمہ۔خدا کا جلوہ حضور ﷺ کے انداز بیان سے ظاہر ہوتا ہے،بلکہ حق کا کلام خود محمد ﷺ کی زبان مبارک پر ہے۔

غالب

غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزدان گذاشتم
کاں ذات پاک مرتبہ‌دان محمد است
مفہوم۔مرزا غالب عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے آپ کی تعریف کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ وہی اس پاک ذات کی حقیقی قدر و منزلت کو جانتا ہے۔

اقبالؔ

وہ دانائے سبل،ختمُ الرسل،مولائے کل
جس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
ترجمہ:وہ تمام راستوں کے سب سے بڑے دانا،خاتم النبیین اور سب کے آقا ﷺ ہیں جن کی راہ کی خاک نے بھی وادی سینا کے نور کو فروغ عطا کر دیا۔
بیدم شاہ وارثی
کیا لطف ہو محشر میں میں شکوے کئے جاؤں
وہ ہنس کے کہے جائیں دیوانہ ہے دیوانہ
واضح رہے کہ نعتیہ شاعری کے بعض اشعار مختلف دیوانوں اور نسخوں میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ ملتے ہیں،اور بعض اشعار کی نسبت بھی محققین کے ہاں مختلف بیان ہوئی ہے۔بالخصوص فارسی اشعار میں اصل دیوان سے تقابل کرنا بہتر ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

سجیت کماراور تیجندر سنگھ بالترتیب کشمیر اور جموں کے IGP تعینات

جنگ نیوز سرینگر/ جموں و کشمیر پولیس میں بڑے پیمانے...

تازہ ترین خبریں

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

سجیت کماراور تیجندر سنگھ بالترتیب کشمیر اور جموں کے IGP تعینات

جنگ نیوز سرینگر/ جموں و کشمیر پولیس میں بڑے پیمانے...

محبت رسول ﷺ کا اظہار: شعراء کی زبانی

 

ریاض فردوسی

محبت رسول ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے۔آپ ﷺ سے محبت صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ آپ کی سنت پر چلنے،آپ کے اخلاق اپنانے اور آپ کی اطاعت کرنے کا نام ہے۔قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہی اللہ کی محبت حاصل کرنے کا راستہ ہے۔ہماری زندگی،ہماری خوشیاں اور ہماری آخرت سب آپ ﷺ کی تعلیمات سے روشن ہیں۔جس دل میں نبی کریم ﷺ کی محبت بستی ہے،وہ دل ایمان کی مٹھاس محسوس کرتا ہے۔آپ ﷺ نے انسانیت کو محبت، رحم،عدل اور امن کا درس دیا۔اللہ ہمیں اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کی سچی محبت عطا فرمائے اور آپ ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق دے۔آمین۔

نعت رسول اکرم ﷺ کے عربی اور فارسی شعرا کے
حتی الامکان معروف اور منسوب اشعار منتخب کیے ہیں۔
حضور ﷺ کی شان میں سیدہ کائنات سلام اللہ علیھا کے کلمات و تاثرات وصال رسول ﷺپر اظہار غم:
آپ ﷺ کے وصال کے وقت سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا نے انتہائی پردرد لہجے میں فرمایا:
"یا ابتاہ! إلى رَبّه ما أجرَبَهُ،یا ابتاہ! جَنَّةُ الفردَوس مَأواهُ، یا ابتاہ! إلى جبريلَ نَنعاهُ”
(اے میرے ابجان!وہ اپنے رب کے کتنے قریب پہنچ گئے۔ اے میرے اباجان!جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔اے میرے اباجان! ہم جبرائیل امین کو آپ کی موت کی خبر سناتے ہیں)
حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ سلام اللہ علیہا نے بابرکت روضہ رسولﷺ پر حاضری دیتے ہوئےحضرت انس بن مالکؓ سے فرمایاتھا:”اے انس! کیا تمہارے دل اس بات پر راضی ہوگئےکہ تم نے رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالی؟”(اور آپ ﷺ کے فراق میں شدت گریہ سے یہ شعر پڑھاجس کا مفہوم ہے کہ آپ ﷺ پر جو مصیبتیں آئیں،اگر وہ دنوں پر آتیں تو دن رات کی تاریکی میں بدل جاتے)

حضرت ابو طالب ابن عبد المطلب۔

وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بوَجْهه

ثمَالُ الْيَتَامَى عصْمَةٌ للْأَرَامل
ترجمہ۔وہ روشن اور نورانی چہرہ کہ جن کے رخ زیبا کے وسیلے سے بادلوں سے بارش طلب کی جاتی ہے،آپ یتیموں کے مددگار اور بیواؤں کے محافظ و نگہبان ہیں۔

حضرت علیؓ کا ارشاد!

يا خَيْرَ مَنْ دُفنَتْ بالْقاع أَعْظُمُهُفَطَابَ منْ طيْبهنَّ الْقَاعُ وَالْأَكَمُنَفْسي الْفدَاءُ لقَبْرٍ أَنْتَ سَاكنُهُفيه الْعَفَافُ وَفيه الْجُودُ وَالْكَرَمُ

ترجمہ:اے وہ بہترین ہستی جن کی مبارک ہڈیاں زمین کے اس حصے میں مدفون ہیں،جن کی خوشبو سے زمین کے ٹیلے اور میدان مہک اٹھے۔میری جان اس قبر پر فدا ہو جس کے آپ مکین ہیں،جس میں پاک دامن،سخاوت اور کرم بستا ہے۔
حضرت حسان بن ثابتؓ۔
وأحسنُ منك لم ترَ قطُّ عيني
وأجملُ منك لم تلد النساءُ
ترجمہ:میری آنکھ نے آپ ﷺ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا،اور نہ کسی عورت نے آپ ﷺ سے زیادہ خوب صورت کسی کو جنم دیا۔

حضرت حسان بن ثابتؓ۔

وأكرمُ منك لم ترَ قطُّ عيني
وأطيبُ منك لم تلد النساءُ

ترجمہ:میری آنکھ نے آپ ﷺ سے زیادہ معزز کسی کو نہیں دیکھا،اور نہ عورتوں نے آپ ﷺ سے زیادہ پاکیزہ کسی کو جنم دیا۔

حضرت حسان بن ثابتؓ۔

شَقَقْتَ له من اسمكَ ليُجلَّهُ
فذو العرش محمودٌ وهذا محمدُ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے نام ’’محمود‘‘سے آپ ﷺ کے لئے ’’محمد‘‘نام بنایا،تاکہ آپ کی تعظیم ہو،پس عرش والا محمود ہے اور یہ محمد ﷺ ہیں۔

حضرت کعب بن زہیرؓ۔

إنَّ الرسولَ لنورٌ يُستضاءُ به
مُهَنَّدٌ من سيوف الله مسلولُ
ترجمہ:بے شک رسول اللہ ﷺ ایسا نور ہیں جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے،آپ ﷺ اللہ کی تلواروں میں سے ایک بے نیام تلوار ہیں۔

حضرت کعب بن زہیرؓ۔

في عصمةٍ من رسول الله إذ قالَ
لا يأخذنّي بأقوال الأُلى قالوا
ترجمہ:مجھے رسول اللہ ﷺ کی پناہ حاصل ہے،جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کی کہی ہوئی باتوں کی وجہ سے مجھے گرفت میں نہیں لیا جائے گا۔

حضرت عبداللہ بن رواحہؓ۔

يا ربّ لولا أنتَ ما اهتدينا
ولا تصدَّقنا ولا صلَّينا
ترجمہ:اے ہمارے رب!اگر تو نہ ہوتا تو ہم نہ ہدایت پاتے، نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔
امام بوصیریؒ قصیدۂ بردہ۔
محمدٌ سيّدُ الكونين والثقلين
والفريقين من عُربٍ ومن عجم
ترجمہ:محمد ﷺ دونوں جہانوں اور جن و انس کے سردار ہیں،خواہ وہ عرب ہوں یا عجم۔

امام بوصیریؒ۔

هو الحبيبُ الذي تُرجى شفاعتُهُ
لكلّ هولٍ من الأهوال مقتحم
ترجمہ:وہ محبوب خدا ﷺ ہیں جن کی شفاعت ہر بڑی مصیبت اور ہول ناکی کے وقت امید کی جاتی ہے۔

مولانا جلال الدین رومیؒ

نام احمد نام جملہ انبیاست
چون کہ صد آمد نود ہم پیش ماست
ترجمہ:احمد ﷺ کا نام گویا تمام انبیاء کے ناموں کا جامع ہے،جب سو حاصل ہوگیا تو نوّے بھی اس میں شامل ہوگئے۔

مولانا رومیؒ۔

مصطفیٰ آمد کہ آرد دین حق
تا کند روشن دل ما را ز حق
ترجمہ:مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے تاکہ دین حق پہنچائیں اور ہمارے دل کو حق کی روشنی سے منور فرمائیں۔

شیخ سعدیؒ۔

ماہ فرو ماند از جمال محمد
سرو نباشد بہ اعتدال محمد
ترجمہ:چاند محمد ﷺ کے جمال کے سامنے ماند پڑ گیا، اور کوئی سرو آپ ﷺ کے اعتدال و حسن کے برابر نہیں۔

شیخ سعدیؒ۔

آدم و نوح و خلیل و موسیٰ و عیسیٰ
آمدہ مجموع در ظلال محمد
ترجمہ: آدم، نوح،خلیل،موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سب محمد ﷺ کے فیض و سایۂ رحمت کے سلسلے میں جمع ہیں۔

بہ نام آن‌کہ دل ما بہ نور او روشن
ز مہر اوست جہان را جمال و زیبایی
ترجمہ:اس ذات کے نام سے جس کے نور سے ہمارے دل روشن ہیں،اور جس کی محبت سے جہان کو حسن و خوب صورتی نصیب ہوئی۔

مولانا جامیؒ۔

ز احمد تا احد یک میم فرق است
جہانی اندرین یک میم غرق است
ترجمہ:’’احمد‘‘ اور ’’احد‘‘ میں صرف ایک میم کا فرق ہے، مگر اس ایک میم کے راز میں ایک پوری دنیا ڈوبی ہوئی ہے۔

حکیم سنائی غزنویؒ۔

محمد آن کہ بہ عالم ز حق پیامی داد
ز نور او دل مردان صفا و سامی داد
ترجمہ:محمد ﷺ وہ ہیں جنہوں نے عالم کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور اپنے نور سے مردان حق کے دلوں کو پاکیزگی اور بلندی عطا کی۔

امیر خسرو

محمد جان جانان است و جانان جہانی
کہ بی او نیست در عالم قرار و زندگانی
ترجمہ:محمد ﷺ جانوں کے محبوب اور سارے جہان کے محبوب ہیں،آپ ﷺ کے بغیر عالم میں نہ حقیقی سکون ہے نہ زندگی کی معنویت۔

غالب

حق جلوہ گر ز طرز بیان محمد است
آری کلام حق بہ زبان محمد است
ترجمہ۔خدا کا جلوہ حضور ﷺ کے انداز بیان سے ظاہر ہوتا ہے،بلکہ حق کا کلام خود محمد ﷺ کی زبان مبارک پر ہے۔

غالب

غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزدان گذاشتم
کاں ذات پاک مرتبہ‌دان محمد است
مفہوم۔مرزا غالب عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے آپ کی تعریف کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، کیونکہ وہی اس پاک ذات کی حقیقی قدر و منزلت کو جانتا ہے۔

اقبالؔ

وہ دانائے سبل،ختمُ الرسل،مولائے کل
جس نے غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا
ترجمہ:وہ تمام راستوں کے سب سے بڑے دانا،خاتم النبیین اور سب کے آقا ﷺ ہیں جن کی راہ کی خاک نے بھی وادی سینا کے نور کو فروغ عطا کر دیا۔
بیدم شاہ وارثی
کیا لطف ہو محشر میں میں شکوے کئے جاؤں
وہ ہنس کے کہے جائیں دیوانہ ہے دیوانہ
واضح رہے کہ نعتیہ شاعری کے بعض اشعار مختلف دیوانوں اور نسخوں میں معمولی لفظی فرق کے ساتھ ملتے ہیں،اور بعض اشعار کی نسبت بھی محققین کے ہاں مختلف بیان ہوئی ہے۔بالخصوص فارسی اشعار میں اصل دیوان سے تقابل کرنا بہتر ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں