میری بچی، کیا اب تمہارے لئے کوئی جگہ محفوظ نہیں

مدثر رشید

کشتواڑ میں ایک کم عمر طالبہ کی مبینہ طور پر حمل سے جڑے حالات میں موت کی خبر نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس معاملے میں ایک استاد کے ملوث ہونے کے الزامات نے اس درد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایک معصوم بچی کی موت کو صرف ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا شاید ہمارے لئے آسان ہو، مگر ایک ماں کے لئے یہ صرف خبر نہیں۔ یہ اس کی پوری زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔
وہ ماں جس نے اپنی بچی کو صبح تیار کیا ہوگا، اس کے بال سنوارے ہوں گے، اس کے لئے دعا کی ہوگی، اس کے ہاتھ میں کتابیں دی ہوں گی اور شاید یہ سوچا ہوگا کہ میری بچی ایک دن بڑی ہو کر اپنے خاندان کا نام روشن کرے گی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ جس دنیا میں وہ اپنی بچی کو علم حاصل کرنے کے لئے بھیج رہی ہے، اسی دنیا میں کہیں نہ کہیں ایسے خطرات بھی موجود ہیں جن کا اسے تصور تک نہیں تھا۔
آج ایک ماں کا دل چیخ کر پوچھتا ہے:
میری بچی! کیا اب تمہارے لئے اسکول بھی محفوظ نہیں؟ کیا تمہارا استاد بھی ہمیشہ اعتماد کے قابل نہیں؟ کیا تمہارا محلہ محفوظ نہیں؟ کیا تمہارے اردگرد کے لوگ محفوظ نہیں؟ آخر ہم اپنی بچیوں کو کہاں لے جائیں؟
یہ سوال صرف ایک ماں کا نہیں، یہ سوال والدین، اساتذہ، علماء، معاشرے اور ہم سب کے ضمیر کا سوال ہے۔

ہمیں کسی ایک دروازے پر انگلی رکھ کر یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ذمہ داری صرف والدین کی تھی، یا صرف استاد کی تھی، یا صرف علماء کی تھی۔ بچے کی تربیت ایک مشترکہ امانت ہے، اور اس امانت میں والدین، استاد اور علماء سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔
والدین بچے کو دنیا میں لاتے ہیں، استاد اس کے ذہن کو بناتا ہے، اور عالم اس کے دل اور روح کو اللہ سے جوڑنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر ان تینوں ستونوں میں سے کوئی ایک کمزور ہوجائے تو نسل کی تربیت ادھوری رہ جاتی ہے۔
سب سے پہلے والدین
آج کے مصروف دور میں ہم اپنے بچوں کو بہترین اسکول، مہنگے کپڑے، موبائل فون، سہولیات اور جیب خرچ تو دے دیتے ہیں، مگر کبھی کبھی ان کے ساتھ بیٹھنے کا وقت نہیں دے پاتے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں، "کتنے نمبر آئے؟” لیکن یہ پوچھنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں کہ "تمہارے دل میں کیا چل رہا ہے؟”
ہم پوچھتے ہیں، "ہوم ورک مکمل کیا؟”
مگر کیا ہم یہ بھی پوچھتے ہیں، "کسی نے تمہیں پریشان تو نہیں کیا؟ کسی نے تمہیں ڈرایا تو نہیں؟ کسی نے تمہیں کوئی ایسی بات کہی جسے تم اپنے دل میں چھپا رہی ہو؟”
والدین کو اپنے بچوں کے لئے صرف سرپرست نہیں بلکہ سب سے محفوظ دوست بننا ہوگا۔ ایسا دوست جس کے سامنے بچہ اپنی ہر پریشانی بیان کرسکے۔ اگر بچہ ڈر جائے کہ والدین اسے ڈانٹیں گے، ماریں گے یا اس کی بات پر یقین نہیں کریں گے تو وہ خاموشی اختیار کرسکتا ہے، اور کبھی کبھی یہی خاموشی ایک بہت بڑے سانحے کا دروازہ بن جاتی ہے۔
اور پھر اساتذہ۔
استاد کا مقام ہمارے معاشرے میں ہمیشہ بہت بلند رہا ہے۔ والدین کے بعد استاد ہی وہ شخصیت ہے جس کے حوالے ایک بچہ روزانہ کئی گھنٹوں کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایک استاد کے سامنے صرف کتاب نہیں ہوتی، ایک پوری نسل ہوتی ہے۔
استاد کے سامنے بیٹھا ہوا بچہ کسی کا لختِ جگر ہے، کسی ماں کی امید ہے، کسی باپ کا خواب ہے۔ اس لئے استاد کا منصب صرف پڑھانا نہیں، بلکہ بچے کے اعتماد، عزت اور شخصیت کی حفاظت بھی ہے۔
اگر کوئی استاد اپنے منصب، اختیار یا بچے کے اعتماد کا غلط استعمال کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ پورے استاد کے مقدس رشتے کو زخمی کرتا ہے۔
لیکن ہمیں ہزاروں مخلص اساتذہ کو بھی سلام پیش کرنا ہوگا جو آج بھی اپنی زندگیوں کا بہترین وقت ہماری نسلوں کی تعمیر میں لگا رہے ہیں۔ ہمیں استاد کو بدنام نہیں کرنا، بلکہ استاد کے منصب کو اتنا باوقار اور ذمہ دار بنانا ہے کہ اس کے تقدس سے کھیلنے کی کسی کو جرأت نہ ہو۔

اسکولوں میں صرف نصاب کافی نہیں۔ بچوں کی حفاظت کے لئے واضح اصول، نگرانی، محفوظ شکایتی نظام، کونسلنگ اور ایسا ماحول ضروری ہے جہاں کوئی بچہ خوف کے بغیر اپنی بات کہہ سکے۔
اور پھر ہماری ذمہ داری آتی ہے علماء کرام اور دینی رہنماؤں کی۔
علماء ہمارے معاشرے کی روحانی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہماری مساجد صرف نماز کی جگہیں نہیں، بلکہ تربیت کے مراکز بھی بن سکتی ہیں۔ ہمارے منبر صرف مسائل بیان کرنے کے لئے نہیں، بلکہ معاشرے کے ضمیر کو جگانے کے لئے بھی ہیں۔
آج ہمارے علماء کو مسجد کے منبر سے والدین کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اولاد صرف اللہ کی نعمت نہیں بلکہ اللہ کی امانت بھی ہے۔ انہیں اساتذہ کو ان کے منصب کی جواب دہی یاد دلانی ہوگی۔ نوجوانوں کو نگاہ کی حفاظت، حیا، پاکیزگی، حدود اور نفس کی تربیت کا حقیقی مفہوم سمجھانا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بتانا ہوگا کہ اسلام میں کسی انسان کی عزت پامال کرنا معمولی گناہ نہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں بتانا کہ "یہ حرام ہے”؛ ہمیں انہیں یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ کیوں حرام ہے، اس کے پیچھے حکمت کیا ہے، اور ایک مسلمان اپنے نفس، نگاہ اور رویے کو کیسے پاک رکھتا ہے۔

ہمارے علماء اگر سیرتِ رسول ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور تابعینؒ کی زندگیوں کو نوجوانوں کے سامنے زندہ مثالوں کے طور پر پیش کریں تو شاید ہماری نسل کو وہ اخلاقی طاقت مل سکے جس کی آج شدید ضرورت ہے۔
ہم حضرت عمر فاروقؓ کے عدل کو پڑھتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ کی حیا کو پڑھتے ہیں۔ صحابہؓ کی امانت، تقویٰ اور کردار کو پڑھتے ہیں۔ ہم حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ اور بے شمار صحابہؓ کی قربانیوں کو پڑھتے ہیں۔ پھر ہم اپنے کشمیر کی روحانی روایت کو دیکھتے ہیں، جہاں شیخ نورالدین نورانیؒ، نند ریشیؒ اور شیخ العالمؒ نے انسانیت، سادگی، محبت، تقویٰ اور پاکیزگی کا پیغام دیا۔
تو سوال یہ ہے کہ وہ تربیت ہماری نسل تک کہاں پہنچی؟
ہم نے اپنے بچوں کو دنیا کی تاریخ تو پڑھائی، مگر کیا ہم نے انہیں اپنے کردار کی تاریخ بھی پڑھائی؟
ہم نے انہیں کامیابی کا مطلب بتایا، مگر کیا ہم نے انہیں یہ بتایا کہ **اللہ کے نزدیک کامیابی کیا ہے؟
ہم نے انہیں بڑے خواب دیکھنا سکھایا، مگر کیا ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ خواب پورے کرنے سے پہلے کردار بنانا ضروری ہے؟
ہمیں اپنے اسکولوں کا ماحول بھی دوبارہ سوچنا ہوگا۔ ثقافت کے نام پر ہر چیز کو قبول کرنا ترقی نہیں۔ جدید ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی حیا، تہذیب، مذہبی اقدار اور اخلاقی حدود کو بھول جائیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو ایسی سرگرمیاں دینی چاہئیں جن میں علم بھی ہو، کھیل بھی ہو، صحت مند تفریح بھی ہو، ثقافت بھی ہو، مگر ساتھ ہی قرآن، سیرت، اسلامی تاریخ، اخلاق، انسانی حقوق اور ہمارے بزرگوں کی زندگیوں سے جڑنے کا موقع بھی ہو۔
اسکول میں قرآن بھی ہو، سائنس بھی ہو۔ تاریخ بھی ہو، جدید علم بھی ہو۔ کھیل بھی ہوں، صحت مند ثقافتی سرگرمیاں بھی ہوں۔ مگر ہر چیز کے ساتھ کردار کی تربیت بھی ہو۔
کیونکہ صرف ذہین بچہ معاشرے کو محفوظ نہیں بناتا، اچھا کردار رکھنے والا انسان بناتا ہے۔
اور یہاں ایک اور بہت بڑی ذمہ داری ہم سب معاشرےکی بھی ہے۔
ہم اکثر کسی حادثے کے بعد چند دن افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرتے ہیں، غم کا اظہار کرتے ہیں اور پھر چند دن بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہم واقعی اپنی بچیوں کے لئے محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف سانحے کے بعد نہیں، سانحے سے پہلے جاگنا ہوگا۔
ہمیں اپنے محلے میں ایک دوسرے کے بچوں کی خبر رکھنی ہوگی۔ ہمیں غلط رویے کو دیکھ کر خاموش نہیں رہنا ہوگا۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ "یہ میرا مسئلہ نہیں” شاید ہماری سب سے بڑی اجتماعی کمزوری بن چکی ہے۔
اور میرے بھائیو، سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ ہم اپنےبیٹوں کی تربیت کریں۔

ہم اپنی بیٹیوں کو ہزار پابندیاں لگا سکتے ہیں، مگر اگر ہم اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت، نگاہ کی حفاظت، حیا، حدود اور اللہ کے سامنے جواب دہی نہیں سکھائیں گے تو معاشرہ محفوظ نہیں ہوگا۔
بیٹی کو ہر وقت یہ کہنا کہ "باہر مت جانا” کافی نہیں۔
بیٹے کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ "کسی کی بیٹی کو اپنی بہن سمجھ کر عزت دینا، کسی کی خاموشی کو اجازت نہ سمجھنا، کسی کمزور پر اختیار کا غلط استعمال نہ کرنا اور یہ یاد رکھنا کہ تم جہاں بھی ہو، اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔”
یہی اصل تربیت ہے۔
آج ہمیں اپنی نسل کو پھر سے آخرت یاد دلانے کی ضرورت ہے۔
ہم سب نے ایک دن قبر میں جانا ہے۔
وہاں نہ موبائل ہوگا، نہ دولت، نہ عہدہ، نہ شہرت، نہ سوشل میڈیا، نہ ہماری دنیاوی طاقت۔ وہاں صرف انسان ہوگا اور اس کے اعمال ہوں گے۔

وہ قبر یاد کرو جہاں قیامت کی صبح تک انسان کو رہنا ہے۔ وہ تنہائی یاد کرو۔ وہ حساب یاد کرو۔ وہ دن یاد کرو جب ایک نگاہ، ایک لفظ، ایک ظلم، ایک خیانت اور ایک امانت—سب کا حساب ہوگا۔
پھر ہم کیوں ایسی خواہشات کے غلام بنیں جن کے پیچھے صرف چند لمحوں کی لذت اور پوری زندگی کی رسوائی ہے؟
خدارا، ابھی بھی وقت ہے۔
والدین اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
اساتذہ اپنے منصب کی حرمت سمجھیں۔

علماء اپنی آواز کی طاقت سمجھیں۔
اسکول اپنی امانت سمجھیں۔
معاشرہ اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھے۔
ہمیں اپنی بچیوں کو خوف میں نہیں، اعتماد میں بڑا کرنا ہے۔
ہمیں اپنے بیٹوں کو صرف دنیا میں کامیاب نہیں، آخرت میں سرخرو ہونے والا انسان بنانا ہے۔
اور ہمیں اپنے اسکولوں کو صرف تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ علم، کردار، قرآن، سیرت، تاریخ، اخلاق اور انسانیت کے مراکز بنانا ہے۔
میری بچی!
کاش تم ایک دن ہم سے یہ نہ پوچھو:
کیا میں محفوظ ہوں؟”
بلکہ ہم اتنا محفوظ، پاکیزہ اور ذمہ دار معاشرہ بنا سکیں کہ تمہیں یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
کاش تمہاری ماں تمہیں اسکول بھیجتے ہوئے صرف یہ کہے:
جاؤ میری بچی، اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔ تم علم حاصل کرو، آگے بڑھو، اپنے خواب پورے کرو؛ تمہارے والدین تمہارے ساتھ ہیں، تمہارے استاد تمہارے محافظ اور رہنما ہیں، ہمارے علماء تمہاری تربیت کے لئے کھڑے ہیں، اور ہمارا معاشرہ تمہاری عزت کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔”
یہی وہ معاشرہ ہے جس کی ہمیں دوبارہ تعمیر کرنی ہے۔
کیونکہ ہماری بچیاں صرف ہمارے گھروں کی عزت نہیں، ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اور امانت میں خیانت صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر کی شکست ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

میری بچی، کیا اب تمہارے لئے کوئی جگہ محفوظ نہیں

مدثر رشید

کشتواڑ میں ایک کم عمر طالبہ کی مبینہ طور پر حمل سے جڑے حالات میں موت کی خبر نے ہر حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس معاملے میں ایک استاد کے ملوث ہونے کے الزامات نے اس درد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایک معصوم بچی کی موت کو صرف ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا شاید ہمارے لئے آسان ہو، مگر ایک ماں کے لئے یہ صرف خبر نہیں۔ یہ اس کی پوری زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔
وہ ماں جس نے اپنی بچی کو صبح تیار کیا ہوگا، اس کے بال سنوارے ہوں گے، اس کے لئے دعا کی ہوگی، اس کے ہاتھ میں کتابیں دی ہوں گی اور شاید یہ سوچا ہوگا کہ میری بچی ایک دن بڑی ہو کر اپنے خاندان کا نام روشن کرے گی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ جس دنیا میں وہ اپنی بچی کو علم حاصل کرنے کے لئے بھیج رہی ہے، اسی دنیا میں کہیں نہ کہیں ایسے خطرات بھی موجود ہیں جن کا اسے تصور تک نہیں تھا۔
آج ایک ماں کا دل چیخ کر پوچھتا ہے:
میری بچی! کیا اب تمہارے لئے اسکول بھی محفوظ نہیں؟ کیا تمہارا استاد بھی ہمیشہ اعتماد کے قابل نہیں؟ کیا تمہارا محلہ محفوظ نہیں؟ کیا تمہارے اردگرد کے لوگ محفوظ نہیں؟ آخر ہم اپنی بچیوں کو کہاں لے جائیں؟
یہ سوال صرف ایک ماں کا نہیں، یہ سوال والدین، اساتذہ، علماء، معاشرے اور ہم سب کے ضمیر کا سوال ہے۔

ہمیں کسی ایک دروازے پر انگلی رکھ کر یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ذمہ داری صرف والدین کی تھی، یا صرف استاد کی تھی، یا صرف علماء کی تھی۔ بچے کی تربیت ایک مشترکہ امانت ہے، اور اس امانت میں والدین، استاد اور علماء سب برابر کے ذمہ دار ہیں۔
والدین بچے کو دنیا میں لاتے ہیں، استاد اس کے ذہن کو بناتا ہے، اور عالم اس کے دل اور روح کو اللہ سے جوڑنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر ان تینوں ستونوں میں سے کوئی ایک کمزور ہوجائے تو نسل کی تربیت ادھوری رہ جاتی ہے۔
سب سے پہلے والدین
آج کے مصروف دور میں ہم اپنے بچوں کو بہترین اسکول، مہنگے کپڑے، موبائل فون، سہولیات اور جیب خرچ تو دے دیتے ہیں، مگر کبھی کبھی ان کے ساتھ بیٹھنے کا وقت نہیں دے پاتے۔ ہم ان سے پوچھتے ہیں، "کتنے نمبر آئے؟” لیکن یہ پوچھنے میں پیچھے رہ جاتے ہیں کہ "تمہارے دل میں کیا چل رہا ہے؟”
ہم پوچھتے ہیں، "ہوم ورک مکمل کیا؟”
مگر کیا ہم یہ بھی پوچھتے ہیں، "کسی نے تمہیں پریشان تو نہیں کیا؟ کسی نے تمہیں ڈرایا تو نہیں؟ کسی نے تمہیں کوئی ایسی بات کہی جسے تم اپنے دل میں چھپا رہی ہو؟”
والدین کو اپنے بچوں کے لئے صرف سرپرست نہیں بلکہ سب سے محفوظ دوست بننا ہوگا۔ ایسا دوست جس کے سامنے بچہ اپنی ہر پریشانی بیان کرسکے۔ اگر بچہ ڈر جائے کہ والدین اسے ڈانٹیں گے، ماریں گے یا اس کی بات پر یقین نہیں کریں گے تو وہ خاموشی اختیار کرسکتا ہے، اور کبھی کبھی یہی خاموشی ایک بہت بڑے سانحے کا دروازہ بن جاتی ہے۔
اور پھر اساتذہ۔
استاد کا مقام ہمارے معاشرے میں ہمیشہ بہت بلند رہا ہے۔ والدین کے بعد استاد ہی وہ شخصیت ہے جس کے حوالے ایک بچہ روزانہ کئی گھنٹوں کے لئے کیا جاتا ہے۔ ایک استاد کے سامنے صرف کتاب نہیں ہوتی، ایک پوری نسل ہوتی ہے۔
استاد کے سامنے بیٹھا ہوا بچہ کسی کا لختِ جگر ہے، کسی ماں کی امید ہے، کسی باپ کا خواب ہے۔ اس لئے استاد کا منصب صرف پڑھانا نہیں، بلکہ بچے کے اعتماد، عزت اور شخصیت کی حفاظت بھی ہے۔
اگر کوئی استاد اپنے منصب، اختیار یا بچے کے اعتماد کا غلط استعمال کرتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ پورے استاد کے مقدس رشتے کو زخمی کرتا ہے۔
لیکن ہمیں ہزاروں مخلص اساتذہ کو بھی سلام پیش کرنا ہوگا جو آج بھی اپنی زندگیوں کا بہترین وقت ہماری نسلوں کی تعمیر میں لگا رہے ہیں۔ ہمیں استاد کو بدنام نہیں کرنا، بلکہ استاد کے منصب کو اتنا باوقار اور ذمہ دار بنانا ہے کہ اس کے تقدس سے کھیلنے کی کسی کو جرأت نہ ہو۔

اسکولوں میں صرف نصاب کافی نہیں۔ بچوں کی حفاظت کے لئے واضح اصول، نگرانی، محفوظ شکایتی نظام، کونسلنگ اور ایسا ماحول ضروری ہے جہاں کوئی بچہ خوف کے بغیر اپنی بات کہہ سکے۔
اور پھر ہماری ذمہ داری آتی ہے علماء کرام اور دینی رہنماؤں کی۔
علماء ہمارے معاشرے کی روحانی رہنمائی کرتے ہیں۔ ہماری مساجد صرف نماز کی جگہیں نہیں، بلکہ تربیت کے مراکز بھی بن سکتی ہیں۔ ہمارے منبر صرف مسائل بیان کرنے کے لئے نہیں، بلکہ معاشرے کے ضمیر کو جگانے کے لئے بھی ہیں۔
آج ہمارے علماء کو مسجد کے منبر سے والدین کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اولاد صرف اللہ کی نعمت نہیں بلکہ اللہ کی امانت بھی ہے۔ انہیں اساتذہ کو ان کے منصب کی جواب دہی یاد دلانی ہوگی۔ نوجوانوں کو نگاہ کی حفاظت، حیا، پاکیزگی، حدود اور نفس کی تربیت کا حقیقی مفہوم سمجھانا ہوگا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بتانا ہوگا کہ اسلام میں کسی انسان کی عزت پامال کرنا معمولی گناہ نہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ نہیں بتانا کہ "یہ حرام ہے”؛ ہمیں انہیں یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ کیوں حرام ہے، اس کے پیچھے حکمت کیا ہے، اور ایک مسلمان اپنے نفس، نگاہ اور رویے کو کیسے پاک رکھتا ہے۔

ہمارے علماء اگر سیرتِ رسول ﷺ، صحابۂ کرامؓ اور تابعینؒ کی زندگیوں کو نوجوانوں کے سامنے زندہ مثالوں کے طور پر پیش کریں تو شاید ہماری نسل کو وہ اخلاقی طاقت مل سکے جس کی آج شدید ضرورت ہے۔
ہم حضرت عمر فاروقؓ کے عدل کو پڑھتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ کی حیا کو پڑھتے ہیں۔ صحابہؓ کی امانت، تقویٰ اور کردار کو پڑھتے ہیں۔ ہم حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت مصعب بن عمیرؓ اور بے شمار صحابہؓ کی قربانیوں کو پڑھتے ہیں۔ پھر ہم اپنے کشمیر کی روحانی روایت کو دیکھتے ہیں، جہاں شیخ نورالدین نورانیؒ، نند ریشیؒ اور شیخ العالمؒ نے انسانیت، سادگی، محبت، تقویٰ اور پاکیزگی کا پیغام دیا۔
تو سوال یہ ہے کہ وہ تربیت ہماری نسل تک کہاں پہنچی؟
ہم نے اپنے بچوں کو دنیا کی تاریخ تو پڑھائی، مگر کیا ہم نے انہیں اپنے کردار کی تاریخ بھی پڑھائی؟
ہم نے انہیں کامیابی کا مطلب بتایا، مگر کیا ہم نے انہیں یہ بتایا کہ **اللہ کے نزدیک کامیابی کیا ہے؟
ہم نے انہیں بڑے خواب دیکھنا سکھایا، مگر کیا ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ خواب پورے کرنے سے پہلے کردار بنانا ضروری ہے؟
ہمیں اپنے اسکولوں کا ماحول بھی دوبارہ سوچنا ہوگا۔ ثقافت کے نام پر ہر چیز کو قبول کرنا ترقی نہیں۔ جدید ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی حیا، تہذیب، مذہبی اقدار اور اخلاقی حدود کو بھول جائیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو ایسی سرگرمیاں دینی چاہئیں جن میں علم بھی ہو، کھیل بھی ہو، صحت مند تفریح بھی ہو، ثقافت بھی ہو، مگر ساتھ ہی قرآن، سیرت، اسلامی تاریخ، اخلاق، انسانی حقوق اور ہمارے بزرگوں کی زندگیوں سے جڑنے کا موقع بھی ہو۔
اسکول میں قرآن بھی ہو، سائنس بھی ہو۔ تاریخ بھی ہو، جدید علم بھی ہو۔ کھیل بھی ہوں، صحت مند ثقافتی سرگرمیاں بھی ہوں۔ مگر ہر چیز کے ساتھ کردار کی تربیت بھی ہو۔
کیونکہ صرف ذہین بچہ معاشرے کو محفوظ نہیں بناتا، اچھا کردار رکھنے والا انسان بناتا ہے۔
اور یہاں ایک اور بہت بڑی ذمہ داری ہم سب معاشرےکی بھی ہے۔
ہم اکثر کسی حادثے کے بعد چند دن افسوس کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرتے ہیں، غم کا اظہار کرتے ہیں اور پھر چند دن بعد سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اگر ہم واقعی اپنی بچیوں کے لئے محفوظ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں صرف سانحے کے بعد نہیں، سانحے سے پہلے جاگنا ہوگا۔
ہمیں اپنے محلے میں ایک دوسرے کے بچوں کی خبر رکھنی ہوگی۔ ہمیں غلط رویے کو دیکھ کر خاموش نہیں رہنا ہوگا۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ "یہ میرا مسئلہ نہیں” شاید ہماری سب سے بڑی اجتماعی کمزوری بن چکی ہے۔
اور میرے بھائیو، سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ ہم اپنےبیٹوں کی تربیت کریں۔

ہم اپنی بیٹیوں کو ہزار پابندیاں لگا سکتے ہیں، مگر اگر ہم اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت، نگاہ کی حفاظت، حیا، حدود اور اللہ کے سامنے جواب دہی نہیں سکھائیں گے تو معاشرہ محفوظ نہیں ہوگا۔
بیٹی کو ہر وقت یہ کہنا کہ "باہر مت جانا” کافی نہیں۔
بیٹے کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ "کسی کی بیٹی کو اپنی بہن سمجھ کر عزت دینا، کسی کی خاموشی کو اجازت نہ سمجھنا، کسی کمزور پر اختیار کا غلط استعمال نہ کرنا اور یہ یاد رکھنا کہ تم جہاں بھی ہو، اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔”
یہی اصل تربیت ہے۔
آج ہمیں اپنی نسل کو پھر سے آخرت یاد دلانے کی ضرورت ہے۔
ہم سب نے ایک دن قبر میں جانا ہے۔
وہاں نہ موبائل ہوگا، نہ دولت، نہ عہدہ، نہ شہرت، نہ سوشل میڈیا، نہ ہماری دنیاوی طاقت۔ وہاں صرف انسان ہوگا اور اس کے اعمال ہوں گے۔

وہ قبر یاد کرو جہاں قیامت کی صبح تک انسان کو رہنا ہے۔ وہ تنہائی یاد کرو۔ وہ حساب یاد کرو۔ وہ دن یاد کرو جب ایک نگاہ، ایک لفظ، ایک ظلم، ایک خیانت اور ایک امانت—سب کا حساب ہوگا۔
پھر ہم کیوں ایسی خواہشات کے غلام بنیں جن کے پیچھے صرف چند لمحوں کی لذت اور پوری زندگی کی رسوائی ہے؟
خدارا، ابھی بھی وقت ہے۔
والدین اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
اساتذہ اپنے منصب کی حرمت سمجھیں۔

علماء اپنی آواز کی طاقت سمجھیں۔
اسکول اپنی امانت سمجھیں۔
معاشرہ اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھے۔
ہمیں اپنی بچیوں کو خوف میں نہیں، اعتماد میں بڑا کرنا ہے۔
ہمیں اپنے بیٹوں کو صرف دنیا میں کامیاب نہیں، آخرت میں سرخرو ہونے والا انسان بنانا ہے۔
اور ہمیں اپنے اسکولوں کو صرف تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ علم، کردار، قرآن، سیرت، تاریخ، اخلاق اور انسانیت کے مراکز بنانا ہے۔
میری بچی!
کاش تم ایک دن ہم سے یہ نہ پوچھو:
کیا میں محفوظ ہوں؟”
بلکہ ہم اتنا محفوظ، پاکیزہ اور ذمہ دار معاشرہ بنا سکیں کہ تمہیں یہ سوال پوچھنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
کاش تمہاری ماں تمہیں اسکول بھیجتے ہوئے صرف یہ کہے:
جاؤ میری بچی، اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔ تم علم حاصل کرو، آگے بڑھو، اپنے خواب پورے کرو؛ تمہارے والدین تمہارے ساتھ ہیں، تمہارے استاد تمہارے محافظ اور رہنما ہیں، ہمارے علماء تمہاری تربیت کے لئے کھڑے ہیں، اور ہمارا معاشرہ تمہاری عزت کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔”
یہی وہ معاشرہ ہے جس کی ہمیں دوبارہ تعمیر کرنی ہے۔
کیونکہ ہماری بچیاں صرف ہمارے گھروں کی عزت نہیں، ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اور امانت میں خیانت صرف ایک فرد کی ناکامی نہیں، پورے معاشرے کے ضمیر کی شکست ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں