اساتذہ کو پڑھانے دیجیے

جموں و کشمیر ٹیچرز فورم کے زیرِ اہتمام حالیہ دنوں سرینگر میں منعقدہ ایک روزہ تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اہم بات کہی کہ متعدد ذمہ داریاں صرف اساتذہ کے کندھوں پر ڈال دینا ناانصافی ہوگی۔ یہ بات سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سرکاری اساتذہ کو تدریس کے علاوہ متعدد ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ انتخابی ڈیوٹی، مردم شماری، مختلف سروے، انتظامی امور اور دیگر سرکاری سرگرمیوں میں اکثر اساتذہ کی خدمات لی جاتی ہیں۔ بعض ذمہ داریاں یقیناً ناگزیر ہوسکتی ہیں، لیکن جب ان کا سلسلہ بڑھتا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر تدریسی عمل پر پڑتا ہے۔
تاہم، اس بحث کے ساتھ ایک اہم سوال بھی اٹھتا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں میں تربیت یافتہ اور قابل اساتذہ موجود ہیں تو پھر بہت سے والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے کے بجائے نجی اسکولوں کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف غیر تدریسی ذمہ داریوں کے بوجھ میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار، جوابدہی، بنیادی سہولیات، طلبہ کی کارکردگی اور عوامی اعتماد جیسے معاملات کا بھی ایمانداری سے جائزہ لینا ہوگا۔
اساتذہ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اکیلے پورے تعلیمی نظام اور معاشرے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائیں۔ بچوں کی تعلیم اور مستقبل کی تعمیر میں والدین، حکومت، انتظامیہ اور معاشرے سب کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس کے باوجود استاد تعلیمی عمل کا بنیادی ستون ہے۔ اگر اسے مسلسل کلاس روم سے باہر کی ذمہ داریوں میں الجھایا جائے گا تو اس کا نقصان براہِ راست طلبہ کی تعلیم کو ہوگا۔
ایک استاد کی اصل جگہ کلاس روم ہے۔ اسکولوں اور اساتذہ کو ہر انتظامی کام کے لئے افرادی قوت کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر واقعی جموں و کشمیر کا مستقبل اس کے بچوں میں پوشیدہ ہے تو پھر اساتذہ کو وہ ماحول اور آزادی فراہم کرنا ہوگی جس میں وہ اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی قوم کے مستقبل کو تعلیم دینا، پوری توجہ کے ساتھ انجام دے سکیں۔ اساتذہ کو پڑھانے دیجیے، کیونکہ ایک مضبوط قوم کی بنیاد ایک مضبوط کلاس روم سے ہی رکھی جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

اساتذہ کو پڑھانے دیجیے

جموں و کشمیر ٹیچرز فورم کے زیرِ اہتمام حالیہ دنوں سرینگر میں منعقدہ ایک روزہ تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اہم بات کہی کہ متعدد ذمہ داریاں صرف اساتذہ کے کندھوں پر ڈال دینا ناانصافی ہوگی۔ یہ بات سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سرکاری اساتذہ کو تدریس کے علاوہ متعدد ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ انتخابی ڈیوٹی، مردم شماری، مختلف سروے، انتظامی امور اور دیگر سرکاری سرگرمیوں میں اکثر اساتذہ کی خدمات لی جاتی ہیں۔ بعض ذمہ داریاں یقیناً ناگزیر ہوسکتی ہیں، لیکن جب ان کا سلسلہ بڑھتا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر تدریسی عمل پر پڑتا ہے۔
تاہم، اس بحث کے ساتھ ایک اہم سوال بھی اٹھتا ہے۔ اگر سرکاری اسکولوں میں تربیت یافتہ اور قابل اساتذہ موجود ہیں تو پھر بہت سے والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانے کے بجائے نجی اسکولوں کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف غیر تدریسی ذمہ داریوں کے بوجھ میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے معیار، جوابدہی، بنیادی سہولیات، طلبہ کی کارکردگی اور عوامی اعتماد جیسے معاملات کا بھی ایمانداری سے جائزہ لینا ہوگا۔
اساتذہ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اکیلے پورے تعلیمی نظام اور معاشرے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائیں۔ بچوں کی تعلیم اور مستقبل کی تعمیر میں والدین، حکومت، انتظامیہ اور معاشرے سب کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس کے باوجود استاد تعلیمی عمل کا بنیادی ستون ہے۔ اگر اسے مسلسل کلاس روم سے باہر کی ذمہ داریوں میں الجھایا جائے گا تو اس کا نقصان براہِ راست طلبہ کی تعلیم کو ہوگا۔
ایک استاد کی اصل جگہ کلاس روم ہے۔ اسکولوں اور اساتذہ کو ہر انتظامی کام کے لئے افرادی قوت کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر واقعی جموں و کشمیر کا مستقبل اس کے بچوں میں پوشیدہ ہے تو پھر اساتذہ کو وہ ماحول اور آزادی فراہم کرنا ہوگی جس میں وہ اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی قوم کے مستقبل کو تعلیم دینا، پوری توجہ کے ساتھ انجام دے سکیں۔ اساتذہ کو پڑھانے دیجیے، کیونکہ ایک مضبوط قوم کی بنیاد ایک مضبوط کلاس روم سے ہی رکھی جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں