
پروفیسر مشتاق احمد
ربیع الاول کا مہینہ آتے ہی عالمِ اسلام کے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ فضاؤں میں درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، مساجد اور گھروں میں محافلِ میلاد منعقد ہوتی ہیں، سیرتِ طیبہ کے تذکرے ہوتے ہیں اور مسلمان اپنے محبوبِ حقیقی، حضرت محمد مصطفیٰ کی ولادتِ باسعادت کی خوشی مناتے ہیں۔ عید میلاد النبی محض ایک مذہبی تقریب یا ایک تاریخی واقعے کی یاد نہیں، بلکہ یہ اس عظیم انسانی انقلاب کی یاد دہانی ہے جس نے عرب کے ایک منتشر معاشرے کو اخلاق، عدل، علم، مساوات اور انسانیت کی بنیاد پر ایک نئی تہذیب عطا کی۔
حضرت محمد ؐ کی بعثت ایسے زمانے میں ہوئی جب عرب معاشرہ قبائلی عصبیت، جہالت، ظلم، معاشرتی نابرابری اور اخلاقی انتشار کا شکار تھا۔ طاقتور کمزور کو کچل دیتا تھا، عورت کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا، غلامی ایک عام رسم تھی، خون کا بدلہ نسلوں تک چلتا تھا اور معمولی قبائلی اختلافات بڑی جنگوں کا سبب بن جاتے تھے۔ ایسے ماحول میں رسول اکرم ؐ نے انسان کو انسان کی حیثیت سے عزت دی اور یہ اعلان کیا کہ فضیلت کا معیار نسل، رنگ، زبان، قبیلہ یا دولت نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار ہے۔یہی وجہ ہے کہ میلاد النبی ؐ کا اصل پیغام چراغاں سے زیادہ کردار کی روشنی ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں اور گلیوں کو روشن کریں مگر اپنے دلوں میں نفرت، تعصب، حسد اور انتقام کے اندھیرے باقی رہیں تو میلاد کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ حضور اکرم ؐ کی محبت کا سب سے خوب صورت اظہار یہ ہے کہ ہماری زندگی میں آپ کے اخلاق کا عکس دکھائی دے۔
قرآن مجید نے رسول اکرم ؐ کی شخصیت کو اخلاقِ عظیم کا پیکر قرار دیا۔ آپ ؐ نے صرف عبادات کی تعلیم نہیں دی بلکہ انسان کو انسان کے ساتھ حسنِ سلوک کا طریقہ بھی سکھایا۔ یتیم کی خبرگیری، مسکین کی مدد، پڑوسی کے حقوق، مسافر کا احترام، غلاموں کے ساتھ حسنِ سلوک، عورتوں کے حقوق، بچوں سے محبت، بوڑھوں کا احترام اور مخالفین کے ساتھ بھی انصاف۔یہ سب سیرتِ نبوی ؐ کے روشن ابواب ہیں۔آج ہماری دنیا کو اگر کسی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ یہی اخلاقی شعور ہے۔ سائنس نے انسان کو بے مثال مادی قوت عطا کردی ہے، ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کردیا ہے، مصنوعی ذہانت سے لے کر خلائی تحقیق تک انسان نے حیرت انگیز ترقی کی ہے، لیکن اس ترقی کے باوجود انسان کے اندر نفرت، تشدد، جنگ اور عدم برداشت کے رجحانات ختم نہیں ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے علم تو حاصل کرلیا، مگر کیا ہم نے انسانیت بھی حاصل کی؟سیرتِ نبوی ؐ اس سوال کا جواب فراہم کرتی ہے۔
رسول اللہؐ نے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جس میں قانون کی نظر میں انسانوں کے درمیان امتیاز کی گنجائش کم سے کم ہوتی گئی۔ مدینہ منورہ میں مختلف مذہبی اور قبائلی گروہوں کے ساتھ جو اجتماعی معاہدہ وجود میں آیا، وہ اس بات کی علامت تھا کہ ایک مہذب معاشرہ باہمی احترام، ذمہ داری اور انصاف کی بنیاد پر قائم ہوسکتا ہے۔ آج جب دنیا مذہبی اور تہذیبی کشمکش سے دوچار ہے، سیرتِ نبوی ؐ ہمیں مکالمے، رواداری اور اجتماعی ذمہ داری کا راستہ دکھاتی ہے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ حضور اکرم ؐ کی محبت صرف جذبات کا نام نہیں۔ محبت اگر عمل سے خالی ہو تو وہ محض دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے۔ ہم رسول اللہ ؐ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اپنے معاملات، تجارت، سیاست، تعلیم، عدالت، معاشرت اور روزمرہ زندگی میں آپ ؐ کی تعلیمات کو جگہ دینا ہوگی۔ایک تاجر اگر ناپ تول میں کمی کرتا ہے، ملاوٹ کرتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے، مگر میلاد کی محفل میں عقیدت کے نعرے لگاتا ہے تو اسے اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ ایک صاحبِ اختیار اگر کمزور کے حق کو پامال کرتا ہے مگر زبان سے سیرتِ رسول ؐ کا ذکر کرتا ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ رسول اللہؐ کی سیرت کا تقاضا کیا ہے۔ ایک استاد اگر اپنے شاگردوں کے ساتھ شفقت نہیں کرتا، ایک طالب علم اگر علم کے ساتھ دیانت نہیں برتتا، ایک شہری اگر اپنے پڑوسی کے حقوق کا خیال نہیں رکھتا تو میلاد کے حقیقی پیغام پر غور کرنا ضروری ہے۔
رسول اکرمؐ کی زندگی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ معاشرے کی اصلاح اوپر سے نہیں بلکہ انسان کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ مکہ میں آپؐ نے پہلے انسان کے عقیدے، فکر اور کردار کو بدلا، پھر یہی بدلا ہوا انسان ایک نئے معاشرے کی تعمیر کا ذریعہ بنا۔ اس لئے آج بھی اگر ہم ایک بہتر ہندوستان، بہتر معاشرہ اور بہتر دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں انسان کے کردار کی تعمیر پر توجہ دینا ہوگی۔ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک میں میلاد النبی ؐ کا پیغام مزید اہم ہوجاتا ہے۔ یہاں صدیوں سے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہماری اجتماعی زندگی کی خوب صورتی اسی میں ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے۔ رسول اکرمؐ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اختلاف انسانوں کے درمیان دشمنی کا لازمی سبب نہیں۔ انصاف، رحم، حسنِ سلوک اور انسانی وقار ایسے اصول ہیں جو ہر معاشرے کو جوڑ سکتے ہیں۔
آج سوشل میڈیا کے دور میں نفرت پھیلانا پہلے سے کہیں آسان ہوگیا ہے۔ ایک جھوٹی خبر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ کسی فرد، مذہب یا برادری کے خلاف نفرت انگیز پیغام معاشرے میں زہر گھول سکتا ہے۔ ایسے وقت میں سیرتِ رسول ؐ ہمیں زبان اور قلم کی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ مسلمان کا اخلاق یہ ہونا چاہیے کہ وہ خبر کو پھیلانے سے پہلے اس کی صداقت جانچے، کسی کی عزت کو مجروح نہ کرے اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے۔میلاد النبی ؐ کا ایک اہم پیغام رحمت بھی ہے۔ قرآن نے رسول اللہ ؐ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت قرار دیا۔ اس لئے آپؐ کی امت کی شناخت بھی رحمت، شفقت اور خیر خواہی سے ہونی چاہیے۔ ہمارے اردگرد اگر کوئی بھوکا ہے تو اس کے لئے کھانا، کوئی بیمار ہے تو اس کی عیادت، کوئی غریب ہے تو اس کی مدد، کوئی پریشان ہے تو اس کی دل جوئی۔یہ سب سیرتِ نبوی ؐ کی عملی ترجمانی ہے۔ہمیں میلاد کی تقریبات کو بھی اسی وسیع تر مقصد سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ محافلِ میلاد یقیناً محبت اور عقیدت کے اظہار کا ذریعہ ہیں، لیکن ان کے ساتھ اگر تعلیمی، سماجی اور فلاحی سرگرمیوں کو بھی وابستہ کیا جائے تو ان کی معنویت مزید بڑھ سکتی ہے۔ غریب طلبہ کے لئے کتابیں فراہم کی جائیں، ضرورت مند خاندانوں کی مدد کی جائے، اسپتالوں میں مریضوں کی خبرگیری کی جائے، شجرکاری کی جائے، صفائی مہم چلائی جائے اور نوجوانوں کو سیرتِ رسول ؐ کے اخلاقی اور انسانی پہلوؤں سے روشناس کرایا جائے۔ اس طرح میلاد ایک دن کی تقریب نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کی تحریک بن سکتا ہے۔خاص طور پر نوجوان نسل کے لئے سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ آج کے نوجوان کے سامنے بے شمار فکری سوالات ہیں۔ وہ مذہب، سائنس، جدیدیت، آزادی، اخلاق اور سماجی انصاف کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ اگر ہم اسے صرف جذباتی وابستگی دیں گے اور علمی بنیاد فراہم نہیں کریں گے تو اس کے سوالات کا جواب دوسرے ذرائع سے ملے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیرتِ طیبہ کو جدید علمی اسلوب میں نوجوانوں کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ وہ رسول اکرمؐ کو صرف ایک تاریخی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ ایک عظیم اخلاقی رہنما، معلم، مصلح، قائد اور انسان دوست کی حیثیت سے بھی سمجھ سکیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی سیرتِ نبویؐ ہمارے لئے روشن مثال ہے۔ وحی کا آغاز ہی ’’اقرا‘‘ یعنی پڑھنے کے حکم سے ہوا۔ اس سے علم کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ آج اگر مسلم معاشرہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہنا نہیں چاہتا تو اسے تعلیم، تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی اور تنقیدی فکر کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔ میلاد النبیؐ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم اور اخلاق دونوں ساتھ ہوں تو انسانیت ترقی کرتی ہے۔حضور اکرمؐ کی سیرت میں عورت کے احترام اور حقوق کا تصور بھی نہایت اہم ہے۔ جس معاشرے میں عورت کو کمتر سمجھا جاتا تھا، وہاں آپؐ نے عورت کو عزت، وراثت، تعلیم اور معاشرتی وقار کے حقوق عطا کیے۔ آج میلاد کے موقع پر ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہمارے اپنے معاشروں میں عورتوں کے ساتھ ہمارا رویہ کس حد تک سیرتِ نبویؐ سے ہم آہنگ ہے۔اسی طرح بچوں کے ساتھ آپؐ کی محبت ہمارے لئے ایک روشن نمونہ ہے۔ آپؐ بچوں کو سلام کرتے، ان سے شفقت سے پیش آتے اور ان کے جذبات کا احترام کرتے تھے۔ آج جب بچوں پر تعلیمی اور نفسیاتی دباؤ بڑھ رہا ہے، والدین اور اساتذہ کو سیرتِ نبویؐ سے تربیت کے ایسے اصول اخذ کرنے چاہئیں جو بچے کو خوف نہیں بلکہ اعتماد دیں۔
غرض کہ میلاد النبیؐ کا اصل تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اندر معافی اور برداشت کا جذبہ پیدا کریں۔ رسول اللہؐ نے ذاتی انتقام کے مواقع پر بھی عفو و درگزر کی مثالیں قائم کیں۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ ؐ کا طرزِ عمل تاریخِ انسانیت میں عفو و رحمت کی بے مثال مثال ہے۔ آج ہمارے گھروں، اداروں اور معاشرے میں معمولی اختلافات دشمنی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اگر ہم سیرتِ نبویؐ کے اس پہلو کو اپنا لیں تو بہت سے ذاتی اور اجتماعی تنازعات ختم ہوسکتے ہیں۔عید میلاد النبی ؐ دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم نے رسول اکرم ؐ کی تعلیمات سے کیا حاصل کیا؟ کیا ہماری گفتگو میں شائستگی آئی؟ کیا ہمارے معاملات میں دیانت آئی؟ کیا ہمارے دل میں غریب کے لئے درد پیدا ہوا؟ کیا ہم نے اپنے پڑوسی کے حقوق ادا کیے؟ کیا ہم نے اختلاف رکھنے والے انسان کے لئے بھی انصاف کا دامن نہیں چھوڑا؟ اگر ان سوالات کے جوابات مثبت ہیں تو سمجھنا چاہیے کہ میلاد ہمارے لئے واقعی باعثِ اصلاح بنا ہے۔میلاد کی خوشی منانا اپنی جگہ ایک روحانی مسرت ہے، مگر اس خوشی کی سب سے بلند صورت یہی ہے کہ ہم حضور اکرم ؐ کی سیرت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ درود و سلام کے ساتھ اگر ہمارے کردار میں بھی درود کی خوشبو آجائے، محفل کے ساتھ اگر ہمارے عمل میں بھی محبت پیدا ہوجائے، چراغاں کے ساتھ اگر ہمارے دل بھی روشن ہوجائیں اور نعت کے ساتھ اگر ہمارے اخلاق بھی خوب صورت ہوجائیں تو یہی میلاد کا حقیقی ثمر ہے۔آج دنیا کو ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو مذہب کے نام پر نفرت نہیں بلکہ محبت بانٹیں، اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں، طاقت کو ظلم کے لئے استعمال نہ کریں، علم کو تکبر کا ذریعہ نہ بنائیں اور دولت کو محروم انسانوں سے بے نیازی کا سبب نہ بنائیں۔ رسول اکرم ؐ کی سیرت ہمیں ایسے ہی انسان کی تعمیر کا راستہ دکھاتی ہے۔
۱۲؍ربیع الاول ہمیں ہر سال یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا محاسبہ کریں۔ یہ صرف جشن کا موسم نہیں، تجدیدِ عہد کا موسم بھی ہے۔ ہم عہد کریں کہ ہم جھوٹ سے بچیں گے، ناانصافی سے دور رہیں گے، کمزور کا ساتھ دیں گے، والدین کا احترام کریں گے، پڑوسی کے حقوق ادا کریں گے، علم حاصل کریں گے، اختلاف میں شائستگی برقرار رکھیں گے اور انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں گے۔رسول اللہ ؐ کی ولادتِ باسعادت نے تاریخ کے ایک مخصوص دور کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ایک اخلاقی پیغام دیا تھا۔ آج چودہ صدیوں بعد بھی اس پیغام کی روشنی اتنی ہی روشن ہے۔ دنیا بدل گئی، زمانے بدل گئے، ذرائع بدل گئے، مگر انسان کے بنیادی مسائل۔نفرت، ظلم، ناانصافی، خود غرضی اور اخلاقی بحران—آج بھی موجود ہیں۔ اس لئے سیرتِ محمدی ؐ آج بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی کل تھی۔آئیے، اس عید میلاد النبی ؐ پر ہم صرف یہ نہ کہیں کہ ہم رسول اللہ ؐ سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اپنی زندگی کو اس محبت کا ثبوت بنائیں۔ ہمارے الفاظ میں سچائی، ہمارے معاملات میں دیانت، ہمارے رویے میں نرمی، ہمارے دل میں رحمت، ہمارے معاشرے میں انصاف اور ہماری نگاہ میں ہر انسان کا
٭٭


