دہر میں اِسمِ محمدؐ سے اُجالاکر دے

 

فہیم اختر

ربیع الاول کا چاند طلوع ہوتے ہی مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ فضائیں درود و سلام سے مہکنے لگتی ہیں، محفلیں سجتی ہیں، نعتوں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور ہر طرف رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ سے محبت کا اظہار نظر آتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اس نسبت کو اپنے اپنے انداز میں یاد کرتے ہیں۔ کہیں محافلِ میلاد منعقد ہوتی ہیں، کہیں سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات اور کہیں جلوس و چراغاں کے ذریعے عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مگر یہ موقع صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ اپنے دل سے یہ سوال کرنے کا بھی ہے کہ جس ہستی سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، کیا ہماری زندگی میں ان کی تعلیمات کی کوئی جھلک موجود ہے؟
میرے نزدیک رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اسلام محض چند احکام کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، جو انسان کو عبادت کے ساتھ دیانت دار، رحم دل، صابر، معاف کرنے والا اور ذمہ دار انسان بننے کی تربیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ رسول ﷺ آج بھی اتنی ہی متعلقہ ہے جتنی چودہ سو برس پہلے تھی۔
حضرت محمد ﷺ کی شخصیت انسانی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جس میں عقل و حکمت، رحمت و شفقت، عدل و انصاف، صبر و برداشت اور اعلیٰ اخلاق یکجا نظر آتے ہیں۔ آپ ﷺ نے انسان کو بتایا کہ زندگی محض خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، امتحان اور امانت ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے انسان کو اخلاق کی بلندی اور عقل و شعور کے استعمال کا راستہ دکھایا۔
اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں قبائلی تعصبات، بت پرستی، طاقت کا غرور اور کمزوروں پر ظلم عام تھا۔ ایسے ماحول میں رسولِ اکرم ﷺ نے ایک سادہ مگر انقلابی پیغام دیا: اللہ ایک ہے، انسان برابر ہیں اور زندگی ذمہ داری کا نام ہے۔ یہ صرف عقیدے کی تبدیلی نہیں بلکہ انسانی کردار کی تعمیر کا آغاز تھا۔
آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں ترقی کے باوجود انسان تنہائی، خود غرضی، مادہ پرستی اور بے اعتمادی کا شکار ہے۔ دولت بڑھ رہی ہے مگر دل سکڑ رہے ہیں۔ رابطے بڑھ گئے ہیں مگر تعلقات کمزور ہو رہے ہیں۔ ایسے میں سیرتِ رسول ﷺ ہمیں رحمت، محبت، صبر، ایثار، عفو و درگزر اور حسنِ سلوک کی طرف بلاتی ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے انسانی تعلقات میں اخلاق کو بنیادی اہمیت دی۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ کسی انسان کی عظمت اس کی دولت، منصب یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے متعین ہوتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں شکایت بہت اور شکر کم ہے۔ ہم دوسروں کی غلطیاں فوراً دیکھ لیتے ہیں لیکن ان کی نیکیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی عفو و درگزر کا غیر معمولی سبق دیتی ہے۔ طائف کا واقعہ سیرتِ نبوی ﷺ کا ایسا باب ہے جسے یاد کرتے ہوئے دل بے اختیار جھک جاتا ہے۔ اہلِ طائف نے دعوت قبول کرنے کے بجائے آپ ﷺ پر پتھر برسائے، آپ زخمی ہوئے، لیکن آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے رحمت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سمجھ آتا ہے کہ محبت صرف دعویٰ نہیں بلکہ اپنے ردِعمل میں ظاہر ہوتی ہے۔
جو شخص ہمیں تکلیف دے، اسے معاف کر دینا آسان نہیں۔ جو ہمارے خلاف بولے، اس کے لئے خیر چاہنا بھی آسان نہیں۔ لیکن رسولِ اکرم ﷺ نے ہمیں یہی مشکل مگر عظیم راستہ دکھایا۔ آج اگر ہم میلادِ رسول ﷺ منا رہے ہیں تو ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: کیا ہمارے اخلاق میں بھی رحمتِ محمدی ﷺ کی کوئی جھلک ہے؟ کیا ہم والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں، پڑوسیوں کا خیال رکھتے ہیں، ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں اور اختلاف رکھنے والوں کو بھی احترام دیتے ہیں؟
یہ سوالات کسی ایک دن کے نہیں بلکہ پوری زندگی کے سوالات ہیں۔
اسلام نے علم کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ قرآن کا پہلا پیغام ہی ’’اقرأ‘‘ یعنی پڑھنے کا حکم ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام انسان کو علم، غوروفکر اور شعور کی طرف بلاتا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو اپنی تہذیبی اور مذہبی تاریخ سے واقف کرانے کے ساتھ علم، تحقیق اور سوچنے کی آزادی بھی دینی چاہیے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں ایک ایسا انسان بنانے کی دعوت دیتی ہے جو عبادت گزار بھی ہو اور ذمہ دار شہری بھی، علم دوست بھی ہو اور رحم دل بھی، اپنے حقوق سے واقف بھی ہو اور دوسروں کے حقوق کا محافظ بھی۔
آج ہم مسلمانوں کے مسائل کا ذکر بہت کرتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ مسلمان دنیا میں کمزور کیوں ہیں، ہمارے درمیان اختلافات کیوں ہیں اور ہم علمی و معاشی میدان میں پیچھے کیوں ہیں۔ لیکن شاید ہمیں ایک اور سوال بھی پوچھنا چاہیے: کیا ہم نے اپنی زندگی میں رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کو واقعی جگہ دی ہے؟
اگر ہم نماز پڑھتے ہیں مگر جھوٹ بولتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں مگر دوسروں کا حق کھاتے ہیں، نعت پڑھتے ہیں مگر کسی انسان کی عزت پامال کرتے ہیں، میلاد مناتے ہیں مگر دل میں نفرت رکھتے ہیں، تو ہمیں اپنے عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی محبت کا تقاضا صرف زبان سے درود پڑھنا نہیں بلکہ آپ ﷺ کی پسندیدہ صفات کو اپنی شخصیت میں پیدا کرنا بھی ہے۔ سچائی، امانت، عدل، رحم، سخاوت، صبر، شکر، عفو، حسنِ اخلاق اور انسانوں کے ساتھ محبت، یہی وہ چراغ ہیں جو سیرتِ رسول ﷺ ہمارے ہاتھ میں دیتی ہے، اور شاید آج کی دنیا کو انہی چراغوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لئے نہیں آئے تھے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں پوری انسانیت کے لئے خیر، رحمت اور رہنمائی موجود ہے۔ اسی لئے سیرتِ رسول ﷺ ہر اس انسان کے لئے اہم ہے جو ایک بہتر، عادل اور پُرامن معاشرے کا خواب دیکھتا ہے۔
میلادِ رسول ﷺ اگر ہمیں محبت سکھاتا ہے تو وہ محبت عمل بھی مانگتی ہے۔ اگر ہمیں درود پڑھنا آتا ہے تو ہمیں دروغ سے بھی بچنا ہوگا۔ اگر ہمیں نعت پڑھنا آتا ہے تو ہمیں نفرت سے بھی بچنا ہوگا۔ اگر ہمیں رسولِ اکرم ﷺ سے محبت ہے تو ہمیں ان کے اخلاق کو بھی اپنی زندگی میں جگہ دینی ہوگی۔ تب ہی میلاد کا چراغ ہمارے گھروں سے نکل کر ہمارے کردار اور معاشرے کو روشن کرسکے گا۔
آج ربیع الاول کے اس مبارک موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت کو صرف کتابوں میں نہیں بلکہ اپنے کردار میں زندہ رکھیں گے۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، کمزور کا سہارا بنیں گے، اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے، علم حاصل کریں گے، سچ بولیں گے اور معاف کرنا سیکھیں گے۔
علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
قوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اِسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
آئیے! اس ربیع الاول میں ہم صرف اپنے گھروں کو چراغاں نہ کریں بلکہ اپنے کردار کو بھی روشن کریں۔ صرف محفلیں نہ سجائیں، اپنے دل بھی سجائیں۔ صرف نعتیں نہ پڑھیں، سیرت کو بھی پڑھیں۔ اور صرف محبت کا اظہار نہ کریں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا عمل بنا دیں۔
کیونکہ جب سیرتِ محمد ﷺ ہمارے کردار میں اترے گی، تب ہی واقعی دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا ہوگا۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

تازہ ترین خبریں

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

اسماعیل شیخ احمد اسلامی تعاون تنظیم کے نئے سیکریٹری جنرل منتخب

جناب اسماعیل ولد شیخ احمد نے سیکریٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا اور سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل جناب حسین ابراہیم طہٰ کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالیں۔

5.1 شدت کا زلزلہ

  چین کے سیچوان میں جمعہ کو 5.1 شدت کے...

سرینگر میں ٹریفک جام سے نجات کے لئے بڑے سڑک منصوبوں کا جائزہ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 27 اگست: ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشول...

اسکولوں کے 50 میٹر کے دائرے میں غیر صحت بخش خوراک کی فروخت ممنوع

جنگ نیوز سرینگر/ محکمہ خوراک و ادویات انتظامیہ (FDA) جموں...

دہر میں اِسمِ محمدؐ سے اُجالاکر دے

 

فہیم اختر

ربیع الاول کا چاند طلوع ہوتے ہی مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ فضائیں درود و سلام سے مہکنے لگتی ہیں، محفلیں سجتی ہیں، نعتوں کی صدائیں بلند ہوتی ہیں اور ہر طرف رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ سے محبت کا اظہار نظر آتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ دنیا میں تشریف لائے۔
دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان اس نسبت کو اپنے اپنے انداز میں یاد کرتے ہیں۔ کہیں محافلِ میلاد منعقد ہوتی ہیں، کہیں سیرت النبی ﷺ کے اجتماعات اور کہیں جلوس و چراغاں کے ذریعے عقیدت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مگر یہ موقع صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ اپنے دل سے یہ سوال کرنے کا بھی ہے کہ جس ہستی سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، کیا ہماری زندگی میں ان کی تعلیمات کی کوئی جھلک موجود ہے؟
میرے نزدیک رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار یہ ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اسلام محض چند احکام کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے، جو انسان کو عبادت کے ساتھ دیانت دار، رحم دل، صابر، معاف کرنے والا اور ذمہ دار انسان بننے کی تربیت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ رسول ﷺ آج بھی اتنی ہی متعلقہ ہے جتنی چودہ سو برس پہلے تھی۔
حضرت محمد ﷺ کی شخصیت انسانی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جس میں عقل و حکمت، رحمت و شفقت، عدل و انصاف، صبر و برداشت اور اعلیٰ اخلاق یکجا نظر آتے ہیں۔ آپ ﷺ نے انسان کو بتایا کہ زندگی محض خواہشات کی تکمیل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، امتحان اور امانت ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے انسان کو اخلاق کی بلندی اور عقل و شعور کے استعمال کا راستہ دکھایا۔
اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں قبائلی تعصبات، بت پرستی، طاقت کا غرور اور کمزوروں پر ظلم عام تھا۔ ایسے ماحول میں رسولِ اکرم ﷺ نے ایک سادہ مگر انقلابی پیغام دیا: اللہ ایک ہے، انسان برابر ہیں اور زندگی ذمہ داری کا نام ہے۔ یہ صرف عقیدے کی تبدیلی نہیں بلکہ انسانی کردار کی تعمیر کا آغاز تھا۔
آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں، وہاں ترقی کے باوجود انسان تنہائی، خود غرضی، مادہ پرستی اور بے اعتمادی کا شکار ہے۔ دولت بڑھ رہی ہے مگر دل سکڑ رہے ہیں۔ رابطے بڑھ گئے ہیں مگر تعلقات کمزور ہو رہے ہیں۔ ایسے میں سیرتِ رسول ﷺ ہمیں رحمت، محبت، صبر، ایثار، عفو و درگزر اور حسنِ سلوک کی طرف بلاتی ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے انسانی تعلقات میں اخلاق کو بنیادی اہمیت دی۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ کسی انسان کی عظمت اس کی دولت، منصب یا شہرت سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے متعین ہوتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں شکایت بہت اور شکر کم ہے۔ ہم دوسروں کی غلطیاں فوراً دیکھ لیتے ہیں لیکن ان کی نیکیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی عفو و درگزر کا غیر معمولی سبق دیتی ہے۔ طائف کا واقعہ سیرتِ نبوی ﷺ کا ایسا باب ہے جسے یاد کرتے ہوئے دل بے اختیار جھک جاتا ہے۔ اہلِ طائف نے دعوت قبول کرنے کے بجائے آپ ﷺ پر پتھر برسائے، آپ زخمی ہوئے، لیکن آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے رحمت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سمجھ آتا ہے کہ محبت صرف دعویٰ نہیں بلکہ اپنے ردِعمل میں ظاہر ہوتی ہے۔
جو شخص ہمیں تکلیف دے، اسے معاف کر دینا آسان نہیں۔ جو ہمارے خلاف بولے، اس کے لئے خیر چاہنا بھی آسان نہیں۔ لیکن رسولِ اکرم ﷺ نے ہمیں یہی مشکل مگر عظیم راستہ دکھایا۔ آج اگر ہم میلادِ رسول ﷺ منا رہے ہیں تو ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: کیا ہمارے اخلاق میں بھی رحمتِ محمدی ﷺ کی کوئی جھلک ہے؟ کیا ہم والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں، پڑوسیوں کا خیال رکھتے ہیں، ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں اور اختلاف رکھنے والوں کو بھی احترام دیتے ہیں؟
یہ سوالات کسی ایک دن کے نہیں بلکہ پوری زندگی کے سوالات ہیں۔
اسلام نے علم کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ قرآن کا پہلا پیغام ہی ’’اقرأ‘‘ یعنی پڑھنے کا حکم ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اسلام انسان کو علم، غوروفکر اور شعور کی طرف بلاتا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو اپنی تہذیبی اور مذہبی تاریخ سے واقف کرانے کے ساتھ علم، تحقیق اور سوچنے کی آزادی بھی دینی چاہیے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں ایک ایسا انسان بنانے کی دعوت دیتی ہے جو عبادت گزار بھی ہو اور ذمہ دار شہری بھی، علم دوست بھی ہو اور رحم دل بھی، اپنے حقوق سے واقف بھی ہو اور دوسروں کے حقوق کا محافظ بھی۔
آج ہم مسلمانوں کے مسائل کا ذکر بہت کرتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ مسلمان دنیا میں کمزور کیوں ہیں، ہمارے درمیان اختلافات کیوں ہیں اور ہم علمی و معاشی میدان میں پیچھے کیوں ہیں۔ لیکن شاید ہمیں ایک اور سوال بھی پوچھنا چاہیے: کیا ہم نے اپنی زندگی میں رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کو واقعی جگہ دی ہے؟
اگر ہم نماز پڑھتے ہیں مگر جھوٹ بولتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں مگر دوسروں کا حق کھاتے ہیں، نعت پڑھتے ہیں مگر کسی انسان کی عزت پامال کرتے ہیں، میلاد مناتے ہیں مگر دل میں نفرت رکھتے ہیں، تو ہمیں اپنے عمل پر ضرور غور کرنا چاہیے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی محبت کا تقاضا صرف زبان سے درود پڑھنا نہیں بلکہ آپ ﷺ کی پسندیدہ صفات کو اپنی شخصیت میں پیدا کرنا بھی ہے۔ سچائی، امانت، عدل، رحم، سخاوت، صبر، شکر، عفو، حسنِ اخلاق اور انسانوں کے ساتھ محبت، یہی وہ چراغ ہیں جو سیرتِ رسول ﷺ ہمارے ہاتھ میں دیتی ہے، اور شاید آج کی دنیا کو انہی چراغوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ کسی ایک قوم، علاقے یا زمانے کے لئے نہیں آئے تھے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں پوری انسانیت کے لئے خیر، رحمت اور رہنمائی موجود ہے۔ اسی لئے سیرتِ رسول ﷺ ہر اس انسان کے لئے اہم ہے جو ایک بہتر، عادل اور پُرامن معاشرے کا خواب دیکھتا ہے۔
میلادِ رسول ﷺ اگر ہمیں محبت سکھاتا ہے تو وہ محبت عمل بھی مانگتی ہے۔ اگر ہمیں درود پڑھنا آتا ہے تو ہمیں دروغ سے بھی بچنا ہوگا۔ اگر ہمیں نعت پڑھنا آتا ہے تو ہمیں نفرت سے بھی بچنا ہوگا۔ اگر ہمیں رسولِ اکرم ﷺ سے محبت ہے تو ہمیں ان کے اخلاق کو بھی اپنی زندگی میں جگہ دینی ہوگی۔ تب ہی میلاد کا چراغ ہمارے گھروں سے نکل کر ہمارے کردار اور معاشرے کو روشن کرسکے گا۔
آج ربیع الاول کے اس مبارک موقع پر ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت کو صرف کتابوں میں نہیں بلکہ اپنے کردار میں زندہ رکھیں گے۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیں گے، کمزور کا سہارا بنیں گے، اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑیں گے، علم حاصل کریں گے، سچ بولیں گے اور معاف کرنا سیکھیں گے۔
علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو کس خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
قوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اِسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
آئیے! اس ربیع الاول میں ہم صرف اپنے گھروں کو چراغاں نہ کریں بلکہ اپنے کردار کو بھی روشن کریں۔ صرف محفلیں نہ سجائیں، اپنے دل بھی سجائیں۔ صرف نعتیں نہ پڑھیں، سیرت کو بھی پڑھیں۔ اور صرف محبت کا اظہار نہ کریں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا عمل بنا دیں۔
کیونکہ جب سیرتِ محمد ﷺ ہمارے کردار میں اترے گی، تب ہی واقعی دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا ہوگا۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں