محبت رسول ﷺ عمل کا تقاضا کرتا ہے

آج محسن انسانیت، رحمت للعالمین حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت کی نسبت سے دنیا بھر میں عقیدت و محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ محافل منعقد ہو رہی ہیں، درود و سلام کی صدائیں بلند ہیں اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو یاد کیا جا رہا ہے۔ یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ اس دن کو مخصوص انداز میں منانا درست ہے یا نہیں۔ تاہم اس اختلاف سے بالاتر ایک بنیادی سوال ہم سب کے سامنے ضرور ہے: ہم رسول اکرم ﷺ کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں کس حد تک اپناتے ہیں؟
محبت کا اصل معیار صرف الفاظ، نعروں یا جذباتی اظہار میں نہیں بلکہ عمل میں پوشیدہ ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں سچائی، دیانت، انصاف، رحم، برداشت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں انسانیت، مساوات اور اخلاق کی بنیاد رکھی جہاں طاقت، تعصب اور ناانصافی عام تھی۔
آج دنیا ترقی کے باوجود بے شمار اخلاقی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ نفرت بڑھ رہی ہے، برداشت کم ہو رہی ہے اور اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں سیرت نبوی ﷺ صرف مذہبی عقیدت کا موضوع نہیں بلکہ ایک بہتر معاشرے کی رہنمائی بھی ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے: کیا ہم سچ بولتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم کمزور اور ضرورت مند کے لئے آسانی پیدا کرتے ہیں؟ کیا ہم والدین، پڑوسیوں اور اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں؟ اور کیا ہم غصے کے وقت بھی اپنے اخلاق کو قائم رکھتے ہیں؟
اگر ہم عبادت تو کرتے ہیں مگر معاملات میں دیانت نہیں رکھتے، محبت رسول ﷺ کا اظہار تو کرتے ہیں مگر دوسروں کی عزت پامال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ محبت رسول ﷺ کا تقاضا صرف زبان سے محبت کا اظہار نہیں بلکہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں جگہ دینا بھی ہے۔
ولادت رسول ﷺ کی نسبت سے اگر ہم خوشی مناتے ہیں تو اس خوشی کا سب سے خوبصورت اظہار یہی ہے کہ ہم سیرت محمدی ﷺ کو اپنے کردار میں زندہ کریں۔ سچائی کو اپنائیں، ظلم سے بچیں، کمزوروں کا سہارا بنیں، اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں اور انسانوں کے لئے آسانی اور رحمت کا ذریعہ بنیں۔
بحث یہ ہو سکتی ہے کہ اس دن کو کس انداز میں منایا جائے یا منایا بھی جائے یا نہیں، لیکن اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل ہماری ذمہ داری ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے محبت کا کتنا اظہار کیا، بلکہ یہ ہے کہ ہماری زندگی میں سیرت محمدی ﷺ کتنی نظر آتی ہے۔رسول اکرم ﷺ کی سیرت کو صرف یاد نہ کریں، اسے اپنے کردار میں زندہ کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

محبت رسول ﷺ عمل کا تقاضا کرتا ہے

آج محسن انسانیت، رحمت للعالمین حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت کی نسبت سے دنیا بھر میں عقیدت و محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ محافل منعقد ہو رہی ہیں، درود و سلام کی صدائیں بلند ہیں اور سیرت طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو یاد کیا جا رہا ہے۔ یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ اس دن کو مخصوص انداز میں منانا درست ہے یا نہیں۔ تاہم اس اختلاف سے بالاتر ایک بنیادی سوال ہم سب کے سامنے ضرور ہے: ہم رسول اکرم ﷺ کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں کس حد تک اپناتے ہیں؟
محبت کا اصل معیار صرف الفاظ، نعروں یا جذباتی اظہار میں نہیں بلکہ عمل میں پوشیدہ ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی سیرت ہمیں سچائی، دیانت، انصاف، رحم، برداشت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں انسانیت، مساوات اور اخلاق کی بنیاد رکھی جہاں طاقت، تعصب اور ناانصافی عام تھی۔
آج دنیا ترقی کے باوجود بے شمار اخلاقی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے۔ نفرت بڑھ رہی ہے، برداشت کم ہو رہی ہے اور اختلاف دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں سیرت نبوی ﷺ صرف مذہبی عقیدت کا موضوع نہیں بلکہ ایک بہتر معاشرے کی رہنمائی بھی ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے: کیا ہم سچ بولتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم کمزور اور ضرورت مند کے لئے آسانی پیدا کرتے ہیں؟ کیا ہم والدین، پڑوسیوں اور اپنے سے اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں؟ اور کیا ہم غصے کے وقت بھی اپنے اخلاق کو قائم رکھتے ہیں؟
اگر ہم عبادت تو کرتے ہیں مگر معاملات میں دیانت نہیں رکھتے، محبت رسول ﷺ کا اظہار تو کرتے ہیں مگر دوسروں کی عزت پامال کرتے ہیں، تو ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ محبت رسول ﷺ کا تقاضا صرف زبان سے محبت کا اظہار نہیں بلکہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں جگہ دینا بھی ہے۔
ولادت رسول ﷺ کی نسبت سے اگر ہم خوشی مناتے ہیں تو اس خوشی کا سب سے خوبصورت اظہار یہی ہے کہ ہم سیرت محمدی ﷺ کو اپنے کردار میں زندہ کریں۔ سچائی کو اپنائیں، ظلم سے بچیں، کمزوروں کا سہارا بنیں، اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں اور انسانوں کے لئے آسانی اور رحمت کا ذریعہ بنیں۔
بحث یہ ہو سکتی ہے کہ اس دن کو کس انداز میں منایا جائے یا منایا بھی جائے یا نہیں، لیکن اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہونا چاہیے کہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل ہماری ذمہ داری ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے محبت کا کتنا اظہار کیا، بلکہ یہ ہے کہ ہماری زندگی میں سیرت محمدی ﷺ کتنی نظر آتی ہے۔رسول اکرم ﷺ کی سیرت کو صرف یاد نہ کریں، اسے اپنے کردار میں زندہ کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں