فیس بک: عوامی نمائندگی کا نیا پتہ

عوامی نمائندگی شاید اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ کچھ معزز اراکین اسمبلی سوشل میڈیا پر عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے مسائل اور سوالات کمنٹسComments میں لکھیں تاکہ انہیں اسمبلی میں اٹھایا جا سکے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند اور جدید طریقہ محسوس ہو سکتا ہے۔ آخر کار، سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچنا آسان ہے اور لوگوں کو براہِ راست اپنے نمائندوں سے رابطے کا موقع بھی ملتا ہے۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا اور زیادہ پریشان کن پہلو بھی ہے: کیا ایک منتخب اراکین اسمبلی کو واقعی اپنے حلقے کے مسائل جاننے کے لئے Facebook کے کمنٹ سیکشن کا انتظار کرنا چاہیے؟
ایکMLA کا بنیادی فرض صرف اسمبلی میں تقریر کرنا نہیں بلکہ اپنے حلقۂ انتخاب کے لوگوں کے درمیان رہنا، ان سے ملنا اور ان کی روزمرہ مشکلات کو سمجھنا بھی ہے۔ خراب سڑکیں، بے روزگاری، صحت کی سہولیات کی کمی، تعلیمی مسائل، بجلی اور پانی کی دشواریاں۔یہ وہ مسائل نہیں جن کے بارے میں کسی عوامی نمائندے کو Facebook پر یاد دہانی کی ضرورت ہونی چاہیے۔ یہ مسائل زمین پر موجود ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر نہیں۔
یہ درست ہے کہ عوامی نمائندوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے اور عوام کی شکایات سننے کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن سوشل میڈیا عوام سے رابطے کا ایک اضافی ذریعہ ہونا چاہیے، عوامی نمائندگی کا بنیادی متبادل نہیں۔ ہر شہری Facebook استعمال نہیں کرتا۔ ہر شخص کے پاس اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی سہولت بھی نہیں۔ اور بہت سے لوگ اپنے مسائل کمنٹ سیکشن میں لکھنے کے بجائے چاہتے ہیں کہ ان کا منتخب نمائندہ خود ان کے علاقے میں آ کر حالات کا جائزہ لے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کسی گاؤں کی سڑک ٹوٹی ہوئی ہے، اسپتال میں ڈاکٹر موجود نہیں، اسکول میں اساتذہ کی کمی ہے یا نوجوان روزگار کے لئے دربدر پھر رہے ہیں، تو کیا یہ مسائل صرف اس وقت حقیقی بنیں گے جب کوئی انہیں Facebook پر پوسٹ کرے گا؟
شاید اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ووٹ ڈالنے سے پہلے ہر شہری کے لئے Facebook اکاؤنٹ رکھنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ بظاہر اب عوامی نمائندے کو اپنے حلقے کی خبر بھی اسی صورت میں مل سکتی ہے!
طنز اپنی جگہ، لیکن معاملہ سنجیدہ ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کے دن عوام کے پاس جانے کا نام نہیں۔ عوامی نمائندگی کا مطلب مسلسل رابطہ، زمینی موجودگی، جواب دہی اور لوگوں کے مسائل سے واقفیت ہے۔ ایک ایم ایل اے کو اپنے دفتر، دوروں، عوامی ملاقاتوں اور مقامی سطح کے نظام کے ذریعے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے حلقے میں کیا ہو رہا ہے۔عوام کو اپنے مسائل یاد دلانے کے لئے Facebook پر جانا پڑے، اس سے پہلے بہتر ہے کہ ان کے نمائندے خود عوام کے درمیان جائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

فیس بک: عوامی نمائندگی کا نیا پتہ

عوامی نمائندگی شاید اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ کچھ معزز اراکین اسمبلی سوشل میڈیا پر عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے مسائل اور سوالات کمنٹسComments میں لکھیں تاکہ انہیں اسمبلی میں اٹھایا جا سکے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند اور جدید طریقہ محسوس ہو سکتا ہے۔ آخر کار، سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچنا آسان ہے اور لوگوں کو براہِ راست اپنے نمائندوں سے رابطے کا موقع بھی ملتا ہے۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا اور زیادہ پریشان کن پہلو بھی ہے: کیا ایک منتخب اراکین اسمبلی کو واقعی اپنے حلقے کے مسائل جاننے کے لئے Facebook کے کمنٹ سیکشن کا انتظار کرنا چاہیے؟
ایکMLA کا بنیادی فرض صرف اسمبلی میں تقریر کرنا نہیں بلکہ اپنے حلقۂ انتخاب کے لوگوں کے درمیان رہنا، ان سے ملنا اور ان کی روزمرہ مشکلات کو سمجھنا بھی ہے۔ خراب سڑکیں، بے روزگاری، صحت کی سہولیات کی کمی، تعلیمی مسائل، بجلی اور پانی کی دشواریاں۔یہ وہ مسائل نہیں جن کے بارے میں کسی عوامی نمائندے کو Facebook پر یاد دہانی کی ضرورت ہونی چاہیے۔ یہ مسائل زمین پر موجود ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر نہیں۔
یہ درست ہے کہ عوامی نمائندوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے اور عوام کی شکایات سننے کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن سوشل میڈیا عوام سے رابطے کا ایک اضافی ذریعہ ہونا چاہیے، عوامی نمائندگی کا بنیادی متبادل نہیں۔ ہر شہری Facebook استعمال نہیں کرتا۔ ہر شخص کے پاس اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی سہولت بھی نہیں۔ اور بہت سے لوگ اپنے مسائل کمنٹ سیکشن میں لکھنے کے بجائے چاہتے ہیں کہ ان کا منتخب نمائندہ خود ان کے علاقے میں آ کر حالات کا جائزہ لے۔
سوال یہ ہے کہ اگر کسی گاؤں کی سڑک ٹوٹی ہوئی ہے، اسپتال میں ڈاکٹر موجود نہیں، اسکول میں اساتذہ کی کمی ہے یا نوجوان روزگار کے لئے دربدر پھر رہے ہیں، تو کیا یہ مسائل صرف اس وقت حقیقی بنیں گے جب کوئی انہیں Facebook پر پوسٹ کرے گا؟
شاید اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ووٹ ڈالنے سے پہلے ہر شہری کے لئے Facebook اکاؤنٹ رکھنا لازمی قرار دے دیا جائے، کیونکہ بظاہر اب عوامی نمائندے کو اپنے حلقے کی خبر بھی اسی صورت میں مل سکتی ہے!
طنز اپنی جگہ، لیکن معاملہ سنجیدہ ہے۔ جمہوریت صرف انتخابات کے دن عوام کے پاس جانے کا نام نہیں۔ عوامی نمائندگی کا مطلب مسلسل رابطہ، زمینی موجودگی، جواب دہی اور لوگوں کے مسائل سے واقفیت ہے۔ ایک ایم ایل اے کو اپنے دفتر، دوروں، عوامی ملاقاتوں اور مقامی سطح کے نظام کے ذریعے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے حلقے میں کیا ہو رہا ہے۔عوام کو اپنے مسائل یاد دلانے کے لئے Facebook پر جانا پڑے، اس سے پہلے بہتر ہے کہ ان کے نمائندے خود عوام کے درمیان جائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں