انسانی شاکلہ

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

انسانی شاکلہ کے بنیادی معنی انسان کی فطرت، عادات، مزاج، طرزِ عمل اور شخصیت کے اس مخصوص سانچے کے ہیں جو موروثی عوامل اور ماحول کے اثرات سے تشکیل پاتا ہے۔ مذہبی اور سائنسی حوالوں سے اس تصور کی مختلف تشریحات ملتی ہیں۔
قرآنِ مجید میں سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 84 میں یہ لفظ آیا ہے۔ یہاں ’’شاکلہ‘‘ سے مراد انسان کا ذہنی رویہ، مزاج، افتادِ طبع اور وہ مخصوص ڈھانچہ ہے جس کے تحت انسان سوچتا اور عمل کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے شاکلہ کے معنی طور طریقے، طرزِ عمل، روش، اندرونی خصلت، عادت اور فطری رجحان کے ہیں۔
انسان کا شاکلہ اس کے بنیادی فطری مزاج سے تعلق رکھتا ہے، لیکن پیدائش کے بعد انسان جس ماحول میں پرورش پاتا ہے، اس کے اثرات بھی اس کی شخصیت اور مزاج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یوں ہر انسان کی شخصیت کا جو مخصوص ہیولا یا سانچہ بنتا ہے، وہی اس کے شاکلہ کی صورت اختیار کرتا ہے۔

مثلاً، کوئی شخص نیکی یا برائی کے لئے جو بھی محنت اور کوشش کرتا ہے، وہ اپنے شاکلہ اور اپنی فطری و شخصی ساخت کے دائرے میں رہ کر ہی کرتا ہے۔ گویا انسان کا شاکلہ اس کے طرزِ فکر اور دائرۂ عمل کی نوعیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنی طبیعت، صلاحیتوں، رجحانات اور حالات کے مطابق عمل کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر انسان کی حقیقت اور اس کی خصوصیات سے بخوبی واقف ہے۔
انگریزی میں ایک محاورہ ہے: “One cannot grow out of his skin”، یعنی انسان اپنی بنیادی فطرت اور ساخت سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکتا۔ مثال کے طور پر کوئی شخص جتنی بھی تبدیلی یا ترقی کی کوشش کرے، اس کی شخصیت اور فطری ساخت ایک بنیادی کردار ادا کرتی رہتی ہے۔
سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 84 میں شاکلہ کا ذکر ہر انسان کی شخصیت کے مخصوص سانچے کے مفہوم میں ملتا ہے۔ اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح کسی دھات کو پگھلا کر ایک مخصوص سانچے میں ڈالا جائے تو وہ اسی سانچے کی شکل اختیار کر لیتی ہے، اسی طرح انسان کی شخصیت بھی مختلف عوامل کے نتیجے میں ایک مخصوص ساخت اور مزاج اختیار کرتی ہے۔
انسانی شخصیت کے اس مخصوص سانچے کی تشکیل میں موروثی عوامل، یعنی Genes، اور خارجی ماحول دونوں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر انسان کی اپنی الگ خصوصیات، صلاحیتیں اور رجحانات ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ہر فرد کی ان خصوصیات سے بخوبی واقف ہے۔
یہ انسانی شاکلہ سے متعلق وہ بنیادی جانکاری اور فہم ہے جو میں نے قرآنِ مجید اور سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے سے اخذ کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکولوں کے دروازوں پر صحت کا پہرہ

جموں و کشمیر کےانتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میںJUNK...

چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی: کشمیر سپر لیگ سیزن 2 تیار

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ خیبر سیمنٹ کشمیر سپر لیگ...

سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں تین روزہ قومی کھیل مہم کا آغاز

جنگ نیوز ڈیسک قومی مہم "کھیلے گا بھارت، جیتے گا...

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے شعبۂ جسمانی تعلیم نے فٹ بال مقابلہ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک گاندربل/سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUKashmir) کے شعبۂ...

NITسری نگر میں قومی یومِ کھیل کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی...

تازہ ترین خبریں

اسکولوں کے دروازوں پر صحت کا پہرہ

جموں و کشمیر کےانتظامیہ کی جانب سے اسکولوں میںJUNK...

چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی: کشمیر سپر لیگ سیزن 2 تیار

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ خیبر سیمنٹ کشمیر سپر لیگ...

سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں تین روزہ قومی کھیل مہم کا آغاز

جنگ نیوز ڈیسک قومی مہم "کھیلے گا بھارت، جیتے گا...

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے شعبۂ جسمانی تعلیم نے فٹ بال مقابلہ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک گاندربل/سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUKashmir) کے شعبۂ...

NITسری نگر میں قومی یومِ کھیل کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی...

انسانی شاکلہ

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

انسانی شاکلہ کے بنیادی معنی انسان کی فطرت، عادات، مزاج، طرزِ عمل اور شخصیت کے اس مخصوص سانچے کے ہیں جو موروثی عوامل اور ماحول کے اثرات سے تشکیل پاتا ہے۔ مذہبی اور سائنسی حوالوں سے اس تصور کی مختلف تشریحات ملتی ہیں۔
قرآنِ مجید میں سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 84 میں یہ لفظ آیا ہے۔ یہاں ’’شاکلہ‘‘ سے مراد انسان کا ذہنی رویہ، مزاج، افتادِ طبع اور وہ مخصوص ڈھانچہ ہے جس کے تحت انسان سوچتا اور عمل کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے شاکلہ کے معنی طور طریقے، طرزِ عمل، روش، اندرونی خصلت، عادت اور فطری رجحان کے ہیں۔
انسان کا شاکلہ اس کے بنیادی فطری مزاج سے تعلق رکھتا ہے، لیکن پیدائش کے بعد انسان جس ماحول میں پرورش پاتا ہے، اس کے اثرات بھی اس کی شخصیت اور مزاج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یوں ہر انسان کی شخصیت کا جو مخصوص ہیولا یا سانچہ بنتا ہے، وہی اس کے شاکلہ کی صورت اختیار کرتا ہے۔

مثلاً، کوئی شخص نیکی یا برائی کے لئے جو بھی محنت اور کوشش کرتا ہے، وہ اپنے شاکلہ اور اپنی فطری و شخصی ساخت کے دائرے میں رہ کر ہی کرتا ہے۔ گویا انسان کا شاکلہ اس کے طرزِ فکر اور دائرۂ عمل کی نوعیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنی طبیعت، صلاحیتوں، رجحانات اور حالات کے مطابق عمل کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر انسان کی حقیقت اور اس کی خصوصیات سے بخوبی واقف ہے۔
انگریزی میں ایک محاورہ ہے: “One cannot grow out of his skin”، یعنی انسان اپنی بنیادی فطرت اور ساخت سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکتا۔ مثال کے طور پر کوئی شخص جتنی بھی تبدیلی یا ترقی کی کوشش کرے، اس کی شخصیت اور فطری ساخت ایک بنیادی کردار ادا کرتی رہتی ہے۔
سورۂ بنی اسرائیل کی آیت 84 میں شاکلہ کا ذکر ہر انسان کی شخصیت کے مخصوص سانچے کے مفہوم میں ملتا ہے۔ اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح کسی دھات کو پگھلا کر ایک مخصوص سانچے میں ڈالا جائے تو وہ اسی سانچے کی شکل اختیار کر لیتی ہے، اسی طرح انسان کی شخصیت بھی مختلف عوامل کے نتیجے میں ایک مخصوص ساخت اور مزاج اختیار کرتی ہے۔
انسانی شخصیت کے اس مخصوص سانچے کی تشکیل میں موروثی عوامل، یعنی Genes، اور خارجی ماحول دونوں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر انسان کی اپنی الگ خصوصیات، صلاحیتیں اور رجحانات ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ہر فرد کی ان خصوصیات سے بخوبی واقف ہے۔
یہ انسانی شاکلہ سے متعلق وہ بنیادی جانکاری اور فہم ہے جو میں نے قرآنِ مجید اور سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے سے اخذ کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں