
طفیل مگسی
ہماری تخلیق کا سوال صدیوں سے انسان کی فکر کو جنبش دیتا رہا ہے، اور ہر دور میں مختلف عقلی، فلسفیانہ اور روحانی جوابات سامنے آئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا نے ہمیں محض ایک کھیل یا بلاوجہ پیدا نہیں کیا، بلکہ اس تخلیق کے پیچھے گہرے مقاصد پوشیدہ ہیں جو ہماری عقل کی حدوں کو چھوتے ہیں۔
ہماری تخلیق کے سوال پر، جب ہم عقلی غور کرتے ہیں تو چار بنیادی فلسفیانہ جوابات سامنے آتے ہیں۔۔ پہلا یہ کہ خدا نے ہمیں اپنی صفاتِ جمال و جلال کے ظہور کے لئے پیدا کیا،، ہم اس کا آئینہ ہیں جس میں اس کی رحمت، علم اور قدرت جھلکتی ہے۔
دوسرا یہ کہ تخلیق کی اصل وجہ محبت اور شناسائی ہے، جیسا کہ صوفیاء کہتے ہیں کہ خدا ایک پوشیدہ خزانہ تھا اور اس نے چاہا کہ پہچانا جائے، چنانچہ اس نے ہمیں اپنی محبت کے ادراک کے لئے پیدا کیا۔ تیسرا یہ کہ یہ دنیا امتحان اور اخلاقی ترقی کا میدان ہے، جہاں آزاد مرضی کے ذریعے ہم اچھائی اور برائی کے درمیان انتخاب کرتے ہوئے روحانی طور پر بلند ہوتے ہیں۔۔ چوتھا یہ کہ تخلیق کا ایک علمی اور تجرباتی پہلو بھی ہے،،، ہم دکھ اور سکھ، خوبی اور خامی کے ذریعے وہ کچھ سمجھتے ہیں جو محض تصور سے ممکن نہیں، گویا ہم خدا کے تجرباتی علم کا ذریعہ ہیں۔ ان چاروں نکات کا مرکز محبت ہے، اور یہ سب صرف ایک باشعور، آزاد اور ذمہ دار وجود میں ممکن ہیں۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر صرف انسان مقصود تھے، تو بے شعور مخلوقات جیسے پتھر، درخت، جانور، ستارے کیوں پیدا کیے گئے؟ کیا یہ سب بیکار نہیں؟؟؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ بے شعور اشیاء ہمارے وجود کا لازمی نظام تشکیل دیتی ہیں۔ جس طرح ایک گھر کی دیواریں اور چھت خود مقصد نہیں ہوتیں بلکہ ان کے بغیر کمرہ ادھورا رہتا ہے، اسی طرح یہ کائنات انسان کے لئے ایک پس منظر اور تجربہ گاہ ہے۔ پانی، ہوا، گریویٹی، روشنی، وغیرہ وغیرہ، یہ سب کچھ بے شعور ہیں مگر ان کے بغیر کوئی شعوری زندگی ممکن نہیں۔۔۔ مزید یہ کہ ان بے حس اشیاء میں خدا کی صفاتِ جمال کا اظہار ہوتا ہے، پھولوں کی ہم آہنگی، پہاڑوں کی عظمت، کہکشاؤں کا نظام، یہ سب اس کی قدرت اور حسن کی نشانیاں ہیں، چاہے وہ خود محبت یا اخلاق کا تجربہ نہ کرسکین۔
لیکن سب سے گہرا اور تکلیف دہ سوال وہ ہے جو بیماریوں اور تکالیف کے حوالے سے اٹھتا ہے۔ اگر خدا نے ہمیں محبت اور ترقی کے لئے بنایا، تو وہ بیماریاں کیوں ہیں؟؟ کیا وہ ہمیں بیماری سے پاک نہیں بنا سکتا تھا؟؟؟ اور اگر صبر، شکر، ہمدردی اور خدمت جیسی خوبیاں بیماری کے بغیر بھی ممکن ہیں، تو پھر بیماریوں کا وجود بے معنی نہیں؟ یہ بہت ہی عقلی اور جائز اعتراض ہے۔
اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ بیماریاں اس نظامِ اسباب کا حصہ ہیں جسے ہم طبیعی قوانین کہتے ہیں۔ خدا نے دنیا کو اسباب کے پابند بنایا تاکہ اس میں پیشین گوئی، سائنس، تعلیم اور ذمہ داری ممکن ہو۔ اگر ہر تکلیف کو معجزاتی طور پر ہٹا دیا جاتا، تو کوئی بھی اپنے اعمال کے نتائج سے نہیں ڈرتا،،، بدکاری، لاپروائی، ناپاکی کے کوئی نقصانات نہ ہوتے۔ آزاد مرضی کا تصور اسی وقت معنی رکھتا ہے جب ہمارے اعمال کے فطری نتائج ہوں۔ آگ جلائے گی، زہر مارے گا، اور جراثیم بیماری پھیلائیں گے،، یہ قانونیت ہی تو ہے جو دنیا کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اگرچہ صبر اور ہمدردی بیماری کے بغیر بھی ممکن ہیں، لیکن بیماری ان خوبیوں کو شدت اور گہرائی عطا کرتی ہے۔ صحت مند شخص کی ہمدردی اور بسترِ مرگ پر بیٹھنے والے کی خدمت میں زمین و مند شخص کی ہمدردی اور بسترِ مرگ پر بیٹھنے والے کی خدمت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جب انسان شدید تکلیف میں ہوتا ہے، تو اس کے صبر کا معیار بلند ہو جاتا ہے، اور جب کوئی دوسرا اس کا خیال رکھتا ہے تو وہ ہمدردی اپنے اوج پر پہنچتی ہے۔۔۔ یوں بیماریاں انسانی اخلاق کی وہ بلندیاں تخلیق کرتی ہیں جو کسی اور صورت میں ممکن نہ تھیں۔
تیسرا اور شاید سب سے اہم جواب وہ ہے جو آخرت کے تصور سے جڑا ہے۔۔ اگر یہی دنیا سب کچھ ہوتی، تو بے گناہ بچوں کا کینسر، زلزلوں میں مرنے والے مظلوم، اور برسوں بیماری میں تڑپنے والے نیک لوگ، یا کسی کے ہاتھوں قتل مظلوم، یہ سب ناقابلِ حل المیہ ہوتے۔ لیکن جب ہم ایک اور جہانِ جزا و سزا کو مانیں، جہاں ہر آنسو کا حساب، ہر درد کا معاوضہ، اور ہر صبر کا اجر ملے گا، تو یہ تکالیف ایک محدود وقتی قسط بن جاتی ہیں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً تمام الٰہی مذاہب میں آخرت کا تصور موجود ہے،،، کیونکہ اس کے بغیر دنیا میں شر اور تکلیف کا وجود خدا کی عدل و رحمت کے خلاف ہو جاتا ہے۔
مزید یہ کہ بہت سے فلسفیوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ دنیا ’تمام ممکنہ جہانوں میں بہترین‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں تکلیف نہیں، بلکہ یہ کہ اگر خدا کسی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کرتا تو کوئی اور بڑی خرابی یا کمی پیدا ہو جاتی جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ مثلاً اگر بیماریاں بالکل نہ ہوتیں، تو موت کا تصور کمزور ہو جاتا، انسان لافانیت کا وہم پال لیتا، اور پھر نہ کوئی عاجزی ہوتی، نہ شکر، نہ تحقیق و ترقی کا جذبہ۔ اسی طرح اگر ہر ظلم کا فوری بدلہ مل جاتا، تو آزاد مرضی ختم ہو جاتی اور اخلاق کا کوئی امتحان نہ رہتا۔
اب کچھ لوگ یہ اعتراض اٹھا سکتے ہیں کہ کیا خدا بچوں کو بے وجہ بیماری دے سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم پوری حقیقت نہیں جانتے۔ ہماری عقل محدود ہے، جیسے ایک فلم کا ایک منظر دیکھ کر ہم پوری کہانی نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ بچہ جو قلیل مدت میں بیمار رہا، اس نے اپنے والدین کو صبر اور ہمدردی کے وہ اسباق دیے جو ان کی زندگی بدل دیں، اور خود اس بچے کو آخرت میں اعلیٰ ترین مقامات ملیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بیماریوں
ایک اور اعتراض یہ ہے کہ کیا خدا پہلے سے نہیں جانتا تھا کہ کون کیا کرے گا؟؟ پھر امتحان کی کیا ضرورت؟ اس کا جواب یہ ہے کہ علم اور عمل میں فرق ہے۔ خدا کا علم ہمارے مستقبل کے اعمال کو مجبور نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ اگر ہمیں آزاد چھوڑا جائے تو ہم کیا کریں گے، لیکن وہ خود ہمارے لئے نہیں کرتا۔ امتحان اس لئے ہے کہ ہم اپنی آزاد مرضی سے جو کچھ کرتے ہیں، وہ ہماری اپنی حقیقت بن جائے۔ ایک استاد جانتا ہے کہ شاید فلاں طالب علم فیل ہو گا، پھر بھی وہ اسے امتحان میں بٹھاتا ہے تاکہ وہ خود اپنی صلاحیت کا ثبوت دے۔
بہت سے لوگ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ جانوروں کا دکھ کیوں؟ اگر خدا رحیم ہے تو وہ جنگل میں ایک ہرن کو شیر کے دانت میں کیوں مارتا ہے؟؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جانوروں کا نظام اخلاقی امتحان کے لئے نہیں بلکہ ایک مادی توازن کے لئے ہے۔..
جانوروں کو آخرت میں جزا و سزا کا تصور مختلف مذاہب میں مختلف ہے، لیکن زیادہ تر فلسفی یہ کہتے ہیں کہ ان کا دکھ بھی اسی قانونِ اسباب کا حصہ ہے، اور وہ اپنی فطرت کے مطابق بے گناہ ہوتے ہیں.. ان پر کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں، اور خدا کی عدل ان کے ساتھ بھی کسی نہ کسی شکل میں انصاف کرے گی۔
مذہبی نقطہء نظر سے اللہ تعالیٰ کہتا ہے "ہم نے انسانوں اور جن کو صرف اس لئے پیدا کیا تا کہ وہ مجھے پہچان سکے”
اس کی تشریح میں بھی وہی پہلا والا نکتہ ہے یعنی کہ "وہ میری محبت کو پہچان سکے”
اپنے محدود علم یہی لکھا ہے شاید اور بھی کوئی وجوہات ہو، لیکن اگر ایک شخص ہماری تخلیق کو خدا کا تخلیق بتاتا ہے اور اگر خدا مانتا ہے تو اس کیلئے یہ اعلان "ہم نے انسان اور جن کو اس لئے پیدا کیا تا کہ وہ مجھے (یعنی میری محبت) پہچان سکے” کافی ہے۔


