
عادل فراز
ہندوستان میں تعلیمی صورتِ حال ناگفتہ بہ ہے۔ نیٹ جیسے امتحانات کے پرچے لیک ہونا کوئی بڑی بات نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کو سرمایہ داروں تک محدود کیا جا رہا ہے۔ اگر غریب اور متوسط طبقہ بچوں کو اسکول ہی نہیں بھیج پائے گا تو وہ نیٹ جیسے امتحانات کی سطح تک کیسے پہنچیں گے؟ اس سے زیادہ تشویش ناک معاملہ سرکاری اسکولوں کا تیزی سے بند یا کم ہونا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں تعلیم عوام کا بنیادی حق ہے اور پسماندہ طبقات کے لئے ریاست خود اس کا بندوبست کرتی ہے، مگر ہمارے یہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔
نجی اسکولوں کا تیزی سے کھلنا اور سرکاری اسکولوں کا بند ہونا ظاہر کرتا ہے کہ تعلیم تجارت میں بدل چکی ہے۔ یونیفارم اور کتابوں کی خرید و فروخت تک کمیشن خوری کا بازار گرم ہے۔ اکثر ابتدائی اسکولوں کی صورتِ حال بدتر ہے۔ کہیں اساتذہ ہیں تو بچے نہیں، اور کہیں بچے ہیں تو اساتذہ کا اتا پتا نہیں۔ تعلیم غیر معیاری ہونے کی وجہ سے والدین بھی اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھانے کو ترجیح نہیں دیتے۔ چونکہ تعلیم کو تجارت بنانے میں سرکاریں بھی شامل ہیں، اس لئے سرکاری اسکولوں کی طرف توجہ مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔
ہندوستان میں کئی دہائیوں تک اسکولی تعلیم کی پالیسی کا بنیادی مقصد محلہ جاتی اسکولوں کا قیام تھا، تاکہ بچے گھر کے قریب تعلیم حاصل کر سکیں، تاہم اب صورتِ حال بدل رہی ہے۔ چونکہ تعلیم مشترکہ فہرست (Concurrent List) میں شامل ہے، اس لئے کئی ریاستوں نے اسکولوں کو بند کرنے یا ضم کرنے کی پالیسیاں اختیار کی ہیں، جس سے بچوں کی تعلیم تک رسائی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔
اتر پردیش میں یوگی سرکار مدرسوں کو بند کرکے وہاں عصری تعلیم کے مراکز قائم کرنے کی خواہش مند ہے، جب کہ پہلے سے موجود سرکاری اسکولوں کی حالت اچھی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب موجودہ سرکاری اسکولوں کو بہتر نہیں کیا جا سکا اور والدین اپنے بچوں کو وہاں پڑھانے کے لئے تیار نہیں، تو مدرسوں کو سرکاری اسکولوں میں بدل کر سرکار کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟
نیتی آیوگ کی تعلیمی رپورٹ کے تناظر میں کانگریس نے بھی تعلیمی صورتِ حال پر سوال اٹھائے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں 94 ہزار سرکاری اسکول بند ہوئے، جب کہ غیر سرکاری اسکولوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلے کا فیصد گھٹا اور نجی اسکولوں میں بڑھا ہے۔ دیہی علاقوں میں بچوں کی تعداد گھٹنے سے تعلیمی وسائل بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ریاستوں نے چھوٹے اور کم سہولیات والے اسکولوں کو بڑے اسکولوں میں ضم کیا ہے، جس سے سرکاروں کو یہ کہنے کا جواز مل گیا کہ اسکول بند نہیں بلکہ ضم ہوئے ہیں۔
راجیہ سبھا میں مارچ 2026 میں دیے گئے ایک جواب کے مطابق 2023-22 سے 2025-24کے درمیان سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد62.13کروڑ سے کم ہو کر 16.12کروڑ رہ گئی، جب کہ نجی اسکولوں میں یہ تعداد42:8کروڑ سے بڑھ کر59.9کروڑ ہو گئی۔ اس کے برعکس اساتذہ کی تعداد 2014-15 میں تقریباً 90 لاکھ سے بڑھ کر 2024-25 میں ایک کروڑ سے زیادہ ہو گئی۔ اس کے باوجود بعض دیہی علاقوں میں اسکول ایک استاد اور بہت کم بچوں کے دم پر چل رہے ہیں۔
لوک سبھا میں 3 اگست 2026 کو وزارتِ تعلیم کے جواب میں واضح کیا گیا کہ اسکول کھولنے، بند کرنے اور Rationalisation کا اختیار متعلقہ ریاستی اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی حکومتوں کے پاس ہے، کیونکہ تعلیم Concurrent List میں ہے۔ حکومت نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال میں اٹھارہ ہزار سات سو ستائیس اسکول بند ہوئے، تاہم وزارتِ تعلیم نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں سے کتنے اسکول طلبہ کی کمی کے باعث بند ہوئے۔
نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق 2015-14سے 2025-24تک تقریباً 94000 اسکول کم ہوئے۔ میگھالیہ میں 1742، تلنگانہ میں 9611، آندھرا پردیش میں 4461، مدھیہ پردیش میں 1043، کرناٹک میں 615، مغربی بنگال میں 587، راجستھان میں 473 اور مہاراشٹر میں 357 سرکاری ابتدائی اسکول کم ہوئے۔ ہماچل پردیش میں 259 اور آسام میں 209 اسکولوں کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اتر پردیش میں گزشتہ دو سال میں 69 اسکول کم ہوئے۔ بہار اور چھتیس گڑھ میں اسکولوں کی تعداد میں معمولی اضافہ ہوا، جب کہ جموں و کشمیر، پڈوچیری اور انڈمان و نکوبار جزائر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
مذکورہ اعداد و شمار سے ہندوستان میں تعلیمی نظام کی بدتر صورتِ حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود طلبہ تعلیمی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہندوستان کا اصل مسئلہ نیٹ پیپر کا لیک ہونا نہیں، بلکہ تعلیمی نظام پر مافیاؤں کا تسلط ہے۔ جین زی جب تک اس حقیقت کو نہیں سمجھے گی، مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ احتجاج کا مقصد وزیرِ تعلیم کے استعفے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تعلیمی نظام میں شفافیت کا مطالبہ پوری قوت سے اٹھانا چاہیے۔ جب تک بنیادی تعلیمی مشکلات کا حل نہیں ہوگا، نیٹ پیپر لیک جیسے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے۔
دوسرے یہ کہ اس وقت تعلیم اور تعلیمی نصاب آر ایس ایس کے ایجنڈے کے مطابق ہے۔ سنگھ تعلیم یافتہ سماج کے بجائے اپنے تربیت یافتہ افراد کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے، جس کے لئے اس کا اپنا تعلیمی ڈھانچہ بھی موجود ہے۔ نصاب میں تبدیلی اسی بڑے ہدف کی طرف پیش قدمی ہے۔ اگر جین زی آر ایس ایس کے مقصد کو سمجھنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو بہتر مستقبل اور تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے۔
جنتر منتر پر ہوئے طلبہ کے احتجاج میں ایسے طلبہ کو بھی آر ایس ایس کے خلاف بات کرتے ہوئے سنا گیا، جن کے گھروں میں آر ایس ایس کے ارکان موجود ہیں۔ جین زی کی یہی بیداری سنگھ کے لئے تشویش کا باعث بنی ہے۔ اسی بنا پر موہن بھاگوت نے جین زی تحریک کی حمایت کرکے انہیں خود سے قریب کرنے کی کوشش کی تھی، مگر اس بار حالات مختلف ہیں۔ جین زی کی بیداری اور شفافیت کے مطالبوں نے سرکار اور سنگھ کو پریشان کر دیا ہے۔
جین زی کا خوف سرکار میں بھی نظر آ رہا ہے اور سنگھ میں بھی۔ دیکھتے ہیں کہ کیا موہن بھاگوت اور وزیرِ اعظم مودی جین زی کی اس بیداری پر مسلط ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ ان کی راہ میں راہل گاندھی بھی کھڑے ہیں، جو جین زی تحریک کو اپنے حق میں موڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بہرحال! آگے آگے دیکھیے، ہوتا ہے کیا!


