
عنایت قادری
15 اگست محض تقویم کا ایک دن نہیں، بلکہ آزادی، جمہوریت اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ تاہم کشمیر کے تناظر میں اس دن کی بدلتی ہوئی تصویر گزشتہ چند برسوں میں ایک نمایاں سماجی تبدیلی کی عکاس ہے۔ وہ وادی جہاں قومی ایام کے موقع پر بندشوں، ہڑتالوں، سڑکوں کی ویرانی اور مواصلاتی پابندیوں کا خدشہ معمول سمجھا جاتا تھا، آج وہاں یومِ آزادی کے رنگ کہیں زیادہ پُرامن، پُرجوش اور معمول کے مطابق دکھائی دیتے ہیں۔
کبھی 15 اگست اور 26 جنوری کی آمد سے قبل کشمیر میں ایک غیر یقینی کیفیت پیدا ہوجاتی تھی۔ بازار بند رہنے، ٹریفک محدود ہونے، انٹرنیٹ یا مواصلاتی خدمات متاثر ہونے اور سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کی خبریں عوامی زندگی پر گہرا اثر ڈالتی تھیں۔ قومی تہوار خوشی کے بجائے احتیاط اور اندیشے کے ماحول میں منائے جاتے تھے۔ اس فضا میں عام شہری کی ترجیح جشن نہیں بلکہ معمول کی زندگی برقرار رکھنا ہوتی تھی۔
آج منظرنامہ خاصا مختلف دکھائی دیتا ہے۔ قومی تہواروں کے موقع پر بازار کھلے رہتے ہیں، سڑکوں پر معمول کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور شہری پرچم کشائی کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی زندگی میں وہ خوف اور بے یقینی نمایاں نہیں جو ماضی میں ان مواقع کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔
کشمیر میں اس تبدیلی کو صرف انتظامی اقدامات کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ یہ ایک وسیع تر سماجی تبدیلی بھی ہے۔ نوجوان نسل قومی تقریبات کو کھیلوں، ثقافتی پروگراموں، تعلیمی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے انداز میں منا رہی ہے۔ ترنگا اب محض سرکاری عمارتوں تک محدود منظر نہیں بلکہ کئی مقامات پر عوامی سطح پر بھی جشن اور قومی وابستگی کی علامت کے طور پر نظر آتا ہے۔
انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رابطے نے بھی اس تبدیلی کو نمایاں کیا ہے۔ ماضی میں قومی ایام کے دوران انٹرنیٹ کی معطلی کا خدشہ خود ایک خبر بن جاتا تھا۔ آج عام حالات میں شہری قومی تقریبات کی تصاویر، پیغامات اور ویڈیوز بلا خوف و رکاوٹ اپنے عزیزوں اور دنیا کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔ یہ معمول کی بحالی شہری زندگی میں اعتماد کے احساس کو تقویت دیتی ہے۔
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو سکیورٹی کے تصور میں بھی نظر آتا ہے۔ کسی بھی قومی تقریب کے لئے حفاظتی انتظامات ناگزیر ہیں، خصوصاً ایسے خطے میں جہاں ماضی میں تشدد اور دہشت گردی نے گہرے زخم چھوڑے ہیں۔ تاہم مؤثر سکیورٹی وہی ہے جو شہریوں کی روزمرہ زندگی کو کم سے کم متاثر کرتے ہوئے انہیں محفوظ ماحول فراہم کرے۔ کشمیر میں قومی تقریبات کا نسبتاً پُرسکون اور معمول کے مطابق انعقاد اسی سمت میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
یقیناً یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کشمیر کے تمام مسائل ختم ہوچکے ہیں یا ہر سطح پر معمول کی زندگی مکمل طور پر بحال ہوچکی ہے۔ خطے کو اب بھی سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز درپیش ہیں۔ لیکن تبدیلی کے نمایاں اشاروں کو نظرانداز کرنا بھی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ معاشرے میں امن کا احساس اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب عام آدمی اپنی روزمرہ زندگی میں اس کے اثرات محسوس کرے۔
آج کا کشمیر ایک ایسی تصویر پیش کررہا ہے جہاں قومی تہوار کا مطلب صرف سکیورٹی کا سخت حصار نہیں بلکہ عوامی شرکت، تقریبات، اسکولوں کی سرگرمیاں، بازاروں کی رونق اور جشن کا ماحول بھی ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی شاید یہی ہے کہ خوف پس منظر میں چلا گیا ہے اور جشن نے اس کی جگہ لے لی ہے۔
یومِ آزادی ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ آزادی صرف سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں؛ یہ امن، ترقی، قانون کی حکمرانی، مواقع، اظہار اور ایک محفوظ شہری زندگی کا نام بھی ہے۔ کشمیر کے لئے سب سے خوش آئند منظر وہی ہوگا جہاں ہر قومی دن عام دن کی طرح پُرامن ہو، مگر اس میں جشن کا رنگ مزید گہرا ہو۔
15 اگست 2026 کا پیغام بھی یہی ہونا چاہیے کہ کشمیر میں خوف کی جگہ اعتماد، بندشوں کی جگہ معمول، خاموشی کی جگہ سرگرمی اور بے یقینی کی جگہ امید نے لے لی ہے۔ یہ سفر ابھی جاری ہے، اور اسے پائیدار بنانے کی ذمہ داری حکومت، اداروں، سیاسی قیادت اور سب سے بڑھ کر عوام—سب کی مشترکہ ہے۔
جب وادی کے گلی کوچوں میں ترنگا لہراتا ہے، بچے آزادی کے نغمے گاتے ہیں اور شہری اپنے معمولات کے ساتھ قومی جشن میں شریک ہوتے ہیں تو یہ محض ایک تقریب نہیں ہوتی؛ یہ اس بدلتے ہوئے کشمیر کی تصویر ہوتی ہے جو امن، استحکام اور بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ یومِ آزادی کا حقیقی جشن تبھی ہے جب آزادی کا احساس خوف سے بڑا اور امید مایوسی سے زیادہ طاقتور ہو۔


