آزاد بھارت کے مشعل بردار

 

سی پی رادھا کرشنن
نائب صدرجمہوریہ ہند

بھارت کے 80ویں یوم آزادی کی تقریبات کے اس عظیم الشان موقع پر ، میں ہر بھارت واسی کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں ان تمام مجاہدین آزادی کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ، جنہوں نے بھارت کی آزادی کے حصول کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔
گزشتہ ہفتے انڈمان و نکوبار جزائر کے اپنے دورے کے دوران ، مجھے ’ ہر گھر ترنگا مہم‘ کے تحت ، قومی پرچم کو لہرانے اور عظیم محب وطن نیتاجی سبھاش چندر بوس جی کے ذریعے ترنگا لہرانے کے تاریخی واقعے کو یاد کرتے ہوئے ، انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میرے لئے یہ ایک انتہائی جذباتی اور یادگار تجربہ رہا کہ میں ، اسی مقدس سرزمین پر کھڑا تھا ، جہاں نیتا جی کی آزاد ہند فوج نے 30 دسمبر 1943 ء کو بھارتی سرزمین پر پہلی مرتبہ ترنگا لہرایا تھا۔ اس موقع پر مجھے نیتاجی سبھاش چندر بوس جی کا ستمبر ، 1939 ء میں مدورائی کا دورہ بھی یاد آیا، جہاں وہ پاسومپون متھو راما لنگا تھیور جی کی دعوت پر تشریف لائے تھے۔ یہ تاریخی موقع خطے کے بے شمار محب وطن افراد کے لئے تحریک اور حوصلے کا باعث بنا تھا۔
ایک اور نہایت متاثر کن لمحہ قومی یادگار سیلولر جیل کا میرا دورہ تھا، جہاں مادروطن بھارت کے عظیم سپوتوں، جناب ویر ساورکر جی، جناب یوگیندر شکلا جی، جناب بٹوکیشور دت جی، جناب سچندر ناتھ سانیال جی اور دیگر کئی مجاہدین آزادی کو نوآبادیاتی فورسز نے قید کرکے تنہائی میں رکھا تھا۔ آج بھی اس قومی یادگار کی دیواریں ، ان بہادر سپوتوں کی شجاعت، مصائب اور عظیم قربانیوں کی داستانیں سناتی محسوس ہوتی ہیں، جنہوں نے بھارت کی آزادی اور وقار کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ اس دورے نے ، مجھے ان تمام مشعل برداروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ مضمون تحریر کرنے کی تحریک دی، جنہوں نے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں حب الوطنی کی شمع کو روشن کیا اور ملک کو آزادی کی منزل کی طرف گامزن کیا۔

مجھے 9 اگست کو انڈمان جزائر میں ’ ہر گھر ترنگا ‘ مہم کا آغاز کرنے پر بے حد خوشی ہوئی، جب ہم ’ بھارت چھوڑو تحریک‘ کی یاد منا رہے تھے۔ 1942 ء میں بابائے قوم ، راشٹر پتا مہاتما گاندھی جی نے ’ بھارت چھوڑو تحریک‘ شروع کی اور قوم کو ایک ولولہ انگیز ’’ کرو یا مرو‘‘ کا نعرہ دیا ۔ اس پکار کے نتیجے میں پورے ملک میں آزادی حاصل کرنے کی ایک زبردست تڑپ پیدا ہوگئی۔
آج ہم اس نسل کی بدولت، جس نے اپنے دور کی نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا، آزادی کی فضا میں سانس لینے اور ایک جمہوری نظام کے تحت آئینی حقوق کے ساتھ زندگی گزارنے کی نعمت سے مالا مال ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے لاکھوں بہادر مجاہدین آزادی نے غیر معمولی عزم اور قربانی کے جذبے کے ساتھ جدو جہد کی اور ان میں سے بے شمار مجاہدین آزادی نے مادروطن بھارت کو آزاد دیکھنے کے لئے اپنی قیمتی جانیں قربان کر دیں۔
مجاہدین آزادی کا رنگا رنگ کارواں
مجاہدین آزادی خواہ شمال میں کشمیر سے تعلق رکھتے ہوں یا جنوب میں تمل ناڈو سے؛ مغرب میں گجرات سے ہوں یا مشرق میں آسام سے، ہر خطے، طبقے، عمر اور جنس سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ایک مشترکہ مقصد ، مادر وطن بھارت کی آزادی کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کی ۔

جنگ آزادی کی پہلی جدو جہد کے دوران ، مزاحمت کی لازوال علامت بننے والی جھانسی کی رانی لکشمی بائی جی کی بہادری، منگل پانڈے جی کی شجاعت اور بال گنگادھر تلک جی کی وہ بے خوف للکار، جس نے یہ اعلان کرکے پوری قوم میں بیداری پیدا کردی کہ ’’ سوراج میرا پیدائشی حق ہے اور میں اسے حاصل کرکے رہوں گا‘‘ ، آزادی کی جانب بڑھتے ہوئے سفر کو مسلسل تقویت دیتی رہی۔ وی او چدمبرم پلئی نے ، بھارت کی پہلی مقامی بحری کمپنی قائم کرکے نوآبادیاتی معاشی تسلط کو چیلنج کیا اور ثابت کیا کہ آزادی کی جدوجہد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی بلکہ تجارت اور معیشت کے میدان میں بھی لڑی گئی۔ بھگت سنگھ جی، راج گرو جی اور سکھ دیو جی کے انقلابی جذبے نے نسلوں کو آزادی کی خاطر قربانی دینے کی ترغیب دی، جبکہ رانی گائیڈن لیو جی کے ناقابلِ شکست حوصلے نے شمال مشرق میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی شمع روشن رکھی۔ آسام میں کم عمر کنک لتا بروا جی نے بے مثال شجاعت کے ساتھ قومی پرچم تھامے ہوئے ’ بھارت چھوڑو ‘ تحریک کی قیادت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔ بھگوان برسا منڈا جی اور کئی دیگر قبائلی رہنماؤں نے بھی نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف تاریخی مزاحمت کی قیادت کی۔ تاریخ کے صفحات ایسی بے شمار داستانوں سے بھرے پڑے ہیں ، جو ثابت قدمی، بہادری اور عزم کی مثالیں پیش کرتی ہیں۔ یہ تمام داستانیں مل کر شجاعت اور قربانی کا ایک شاندار رنگا رنگ کارواں تشکیل دیتی ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بھارت کی آزادی بے شمار جانبازوں کے اجتماعی عزم اور جدو جہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی، جن کی وراثت آج بھی نسلوں کو مسلسل تحریک اور حوصلہ فراہم کر رہی ہے۔

تحریک آزادی میں ترو پور
اس یوم آزادی کے موقع پر ، میں ترو پور کمارن کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، جو عام طور پر ’ کوڈی کاتھا کمارن‘ ( پرچم کے محافظ کمارن) کے نام سے مشہور ہیں۔ انہیں یہ اعزاز اس وقت حاصل ہوا ، جب انہوں نے آزادی کی جدو جہد کے دوران ، ترو پور، جو میرا آبائی مقام ہے، میں اپنی جان قربان کردی، لیکن موت کے سامنے بھی قومی پرچم کو زمین پر گرنے نہیں دیا۔
کمارن کے دل میں کم عمری ہی سے حب الوطنی کی شمع روشن تھی۔ ’’ سوراج ہمارا پیدائشی حق ہے‘‘ کے نعرے سے متاثر ہوکر ، وہ آزادی کی جدو جہد میں شامل ہوگئے۔ مہاتما گاندھی کے نظریات سے گہری وابستگی رکھتے ہوئے کمارن نے عوام، بالخصوص نوجوانوں میں قوم پرستی کا جذبہ بیدار کرنے کے لئے ’’ دیش بندھو یوتھ ایسوسی ایشن‘‘ قائم کی۔ کمارن کا پختہ یقین تھا کہ حقیقی آزادی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے ، جب عوام نوآبادیاتی حکمرانی کی ناانصافیوں سے باخبر ہوں اور ان کے خلاف مزاحمت کرنے کی جرأت اور واضح سوچ پیدا کریں۔ گاندھیائی نظریات کے تحت ، سماجی اصلاح کے لئے پُر عزم کمارن نے شراب نوشی پر پابندی کی بھرپور حمایت کی اور اسے سماجی و قومی احیا کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ اسی مقصد کے تحت ، انہوں نے تاڑی کی دکانوں کے باہر احتجاج اور پُرامن دھرنوں میں حصہ لیا، عوام کو شراب سے دور رہنے اور بھارت کی آزادی کی وسیع تر جدو جہد کے لئے ضبط نفس اختیار کرنے کی ترغیب دی۔
کمارن نے سول نافرمانی تحریک کے دوران 10 جنوری ، 1932 ء کو ایک جلوس کی قیادت کی۔ ہاتھ میں قومی پرچم تھامے اور چند بہادر ساتھیوں کے ہمراہ ، جب وہ آگے بڑھ رہے تھے تو ترو پور کی سڑکوں پر ’ وندے ماترم‘ کے ولولہ انگیز نعرے گونج رہے تھے۔ نوآبادیاتی حکمرانوں کی فوج نے جلوس پر حملہ کردیا۔ کمارن کی زبان پر ’ وندے ماترم‘ کا نعرہ تھا اور قومی پرچم ان کے جسم سے مضبوطی سے لپٹا ہوا تھا۔ حملے میں ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور انہوں نے قوم کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔ موت کے وقت ان کی عمر محض 27 برس تھی۔

جب میں ترو پور کمارن کی عمر لکھ رہا ہوں تو مجھے مادر وطن بھارت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے کئی دیگر نوجوانوں کی یاد آ رہی ہے۔ ان میں بھگت سنگھ (23 سال)، سکھ دیو (23 سال)، راج گرو (22 سال)، خودی رام بوس (18 سال)، کنک لتا بروا (18 سال)، اننت لکشمن کانہیرے (19 سال)، وانچی ناتھن (25 سال) اور بہت سے دوسرے نوجوان شامل ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی قربان کرکے بھارت کی تحریک آزادی کی تاریخ کے صفحات میں اپنے نام ہمیشہ کے لئے امر کر دیے۔
میں ، معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی اس پہل کی ستائش کرتا ہوں، جس کے ذریعے ملک کی تحریک آزادی کے ان گمنام جانبازوں کو نمایاں مقام دیا جا رہا ہے ، جنہیں طویل عرصے تک وہ پہچان نہیں مل سکی ، جس کے وہ مستحق تھے۔ میں ، ان تمام معروف اور غیر معروف مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
اس تاریخی موقع پر، آئیے ہم اپنی مادر وطن کے تئیں اپنے عزم پر غور کریں اور اسے ایک بار پھر مضبوط کریں۔ آئیے، اس امرت کال میں 2047 ء تک وِکست بھارت کی تعمیر کے لئے خود کو وقف کریں اور اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مل کر کام کریں۔ یہی ان بہادر سپوتوں کے لئے سب سے موزوں خراج عقیدت ہوگا، جنہوں نے غیر متزلزل حوصلے کے ساتھ جدو جہد کی اور ہماری آزادی کے حصول کے لئے اپنی جانیں قربان کردیں۔
جے ہند !
مادروطن بھارت زندہ باد !

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نیپال کے سیلاب اور خاموش کشمیر

جب نیپال کے تباہ کن سیلاب کی تصاویر سوشل...

17 سالہ لڑکا ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق

سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چڈورہ کے...

ہسپتال میں نوجوان کی موت پر احتجاج، آپریشن تھیٹر سیل

​اسلام آباد (اننت ناگ)، 30 اگست کولگام سے تعلق رکھنے...

امریکی حملے کے بعد IRGC کا اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

  ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کا کہنا...

ایف ڈی اے جموں و کشمیر نے نباتاتی چربی کی ملاوٹ پر گھی کے 10 بیچز پر پابندی عائد کر دی

  سرینگر، 30 اگست: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)...

تازہ ترین خبریں

نیپال کے سیلاب اور خاموش کشمیر

جب نیپال کے تباہ کن سیلاب کی تصاویر سوشل...

17 سالہ لڑکا ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق

سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چڈورہ کے...

ہسپتال میں نوجوان کی موت پر احتجاج، آپریشن تھیٹر سیل

​اسلام آباد (اننت ناگ)، 30 اگست کولگام سے تعلق رکھنے...

امریکی حملے کے بعد IRGC کا اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

  ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کا کہنا...

ایف ڈی اے جموں و کشمیر نے نباتاتی چربی کی ملاوٹ پر گھی کے 10 بیچز پر پابندی عائد کر دی

  سرینگر، 30 اگست: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)...

آزاد بھارت کے مشعل بردار

 

سی پی رادھا کرشنن
نائب صدرجمہوریہ ہند

بھارت کے 80ویں یوم آزادی کی تقریبات کے اس عظیم الشان موقع پر ، میں ہر بھارت واسی کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میں ان تمام مجاہدین آزادی کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ، جنہوں نے بھارت کی آزادی کے حصول کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔
گزشتہ ہفتے انڈمان و نکوبار جزائر کے اپنے دورے کے دوران ، مجھے ’ ہر گھر ترنگا مہم‘ کے تحت ، قومی پرچم کو لہرانے اور عظیم محب وطن نیتاجی سبھاش چندر بوس جی کے ذریعے ترنگا لہرانے کے تاریخی واقعے کو یاد کرتے ہوئے ، انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میرے لئے یہ ایک انتہائی جذباتی اور یادگار تجربہ رہا کہ میں ، اسی مقدس سرزمین پر کھڑا تھا ، جہاں نیتا جی کی آزاد ہند فوج نے 30 دسمبر 1943 ء کو بھارتی سرزمین پر پہلی مرتبہ ترنگا لہرایا تھا۔ اس موقع پر مجھے نیتاجی سبھاش چندر بوس جی کا ستمبر ، 1939 ء میں مدورائی کا دورہ بھی یاد آیا، جہاں وہ پاسومپون متھو راما لنگا تھیور جی کی دعوت پر تشریف لائے تھے۔ یہ تاریخی موقع خطے کے بے شمار محب وطن افراد کے لئے تحریک اور حوصلے کا باعث بنا تھا۔
ایک اور نہایت متاثر کن لمحہ قومی یادگار سیلولر جیل کا میرا دورہ تھا، جہاں مادروطن بھارت کے عظیم سپوتوں، جناب ویر ساورکر جی، جناب یوگیندر شکلا جی، جناب بٹوکیشور دت جی، جناب سچندر ناتھ سانیال جی اور دیگر کئی مجاہدین آزادی کو نوآبادیاتی فورسز نے قید کرکے تنہائی میں رکھا تھا۔ آج بھی اس قومی یادگار کی دیواریں ، ان بہادر سپوتوں کی شجاعت، مصائب اور عظیم قربانیوں کی داستانیں سناتی محسوس ہوتی ہیں، جنہوں نے بھارت کی آزادی اور وقار کے لئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ اس دورے نے ، مجھے ان تمام مشعل برداروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ مضمون تحریر کرنے کی تحریک دی، جنہوں نے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں حب الوطنی کی شمع کو روشن کیا اور ملک کو آزادی کی منزل کی طرف گامزن کیا۔

مجھے 9 اگست کو انڈمان جزائر میں ’ ہر گھر ترنگا ‘ مہم کا آغاز کرنے پر بے حد خوشی ہوئی، جب ہم ’ بھارت چھوڑو تحریک‘ کی یاد منا رہے تھے۔ 1942 ء میں بابائے قوم ، راشٹر پتا مہاتما گاندھی جی نے ’ بھارت چھوڑو تحریک‘ شروع کی اور قوم کو ایک ولولہ انگیز ’’ کرو یا مرو‘‘ کا نعرہ دیا ۔ اس پکار کے نتیجے میں پورے ملک میں آزادی حاصل کرنے کی ایک زبردست تڑپ پیدا ہوگئی۔
آج ہم اس نسل کی بدولت، جس نے اپنے دور کی نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا، آزادی کی فضا میں سانس لینے اور ایک جمہوری نظام کے تحت آئینی حقوق کے ساتھ زندگی گزارنے کی نعمت سے مالا مال ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے لاکھوں بہادر مجاہدین آزادی نے غیر معمولی عزم اور قربانی کے جذبے کے ساتھ جدو جہد کی اور ان میں سے بے شمار مجاہدین آزادی نے مادروطن بھارت کو آزاد دیکھنے کے لئے اپنی قیمتی جانیں قربان کر دیں۔
مجاہدین آزادی کا رنگا رنگ کارواں
مجاہدین آزادی خواہ شمال میں کشمیر سے تعلق رکھتے ہوں یا جنوب میں تمل ناڈو سے؛ مغرب میں گجرات سے ہوں یا مشرق میں آسام سے، ہر خطے، طبقے، عمر اور جنس سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ایک مشترکہ مقصد ، مادر وطن بھارت کی آزادی کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کی ۔

جنگ آزادی کی پہلی جدو جہد کے دوران ، مزاحمت کی لازوال علامت بننے والی جھانسی کی رانی لکشمی بائی جی کی بہادری، منگل پانڈے جی کی شجاعت اور بال گنگادھر تلک جی کی وہ بے خوف للکار، جس نے یہ اعلان کرکے پوری قوم میں بیداری پیدا کردی کہ ’’ سوراج میرا پیدائشی حق ہے اور میں اسے حاصل کرکے رہوں گا‘‘ ، آزادی کی جانب بڑھتے ہوئے سفر کو مسلسل تقویت دیتی رہی۔ وی او چدمبرم پلئی نے ، بھارت کی پہلی مقامی بحری کمپنی قائم کرکے نوآبادیاتی معاشی تسلط کو چیلنج کیا اور ثابت کیا کہ آزادی کی جدوجہد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی بلکہ تجارت اور معیشت کے میدان میں بھی لڑی گئی۔ بھگت سنگھ جی، راج گرو جی اور سکھ دیو جی کے انقلابی جذبے نے نسلوں کو آزادی کی خاطر قربانی دینے کی ترغیب دی، جبکہ رانی گائیڈن لیو جی کے ناقابلِ شکست حوصلے نے شمال مشرق میں برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی شمع روشن رکھی۔ آسام میں کم عمر کنک لتا بروا جی نے بے مثال شجاعت کے ساتھ قومی پرچم تھامے ہوئے ’ بھارت چھوڑو ‘ تحریک کی قیادت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔ بھگوان برسا منڈا جی اور کئی دیگر قبائلی رہنماؤں نے بھی نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف تاریخی مزاحمت کی قیادت کی۔ تاریخ کے صفحات ایسی بے شمار داستانوں سے بھرے پڑے ہیں ، جو ثابت قدمی، بہادری اور عزم کی مثالیں پیش کرتی ہیں۔ یہ تمام داستانیں مل کر شجاعت اور قربانی کا ایک شاندار رنگا رنگ کارواں تشکیل دیتی ہیں اور ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ بھارت کی آزادی بے شمار جانبازوں کے اجتماعی عزم اور جدو جہد کے نتیجے میں حاصل ہوئی، جن کی وراثت آج بھی نسلوں کو مسلسل تحریک اور حوصلہ فراہم کر رہی ہے۔

تحریک آزادی میں ترو پور
اس یوم آزادی کے موقع پر ، میں ترو پور کمارن کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں، جو عام طور پر ’ کوڈی کاتھا کمارن‘ ( پرچم کے محافظ کمارن) کے نام سے مشہور ہیں۔ انہیں یہ اعزاز اس وقت حاصل ہوا ، جب انہوں نے آزادی کی جدو جہد کے دوران ، ترو پور، جو میرا آبائی مقام ہے، میں اپنی جان قربان کردی، لیکن موت کے سامنے بھی قومی پرچم کو زمین پر گرنے نہیں دیا۔
کمارن کے دل میں کم عمری ہی سے حب الوطنی کی شمع روشن تھی۔ ’’ سوراج ہمارا پیدائشی حق ہے‘‘ کے نعرے سے متاثر ہوکر ، وہ آزادی کی جدو جہد میں شامل ہوگئے۔ مہاتما گاندھی کے نظریات سے گہری وابستگی رکھتے ہوئے کمارن نے عوام، بالخصوص نوجوانوں میں قوم پرستی کا جذبہ بیدار کرنے کے لئے ’’ دیش بندھو یوتھ ایسوسی ایشن‘‘ قائم کی۔ کمارن کا پختہ یقین تھا کہ حقیقی آزادی اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے ، جب عوام نوآبادیاتی حکمرانی کی ناانصافیوں سے باخبر ہوں اور ان کے خلاف مزاحمت کرنے کی جرأت اور واضح سوچ پیدا کریں۔ گاندھیائی نظریات کے تحت ، سماجی اصلاح کے لئے پُر عزم کمارن نے شراب نوشی پر پابندی کی بھرپور حمایت کی اور اسے سماجی و قومی احیا کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ اسی مقصد کے تحت ، انہوں نے تاڑی کی دکانوں کے باہر احتجاج اور پُرامن دھرنوں میں حصہ لیا، عوام کو شراب سے دور رہنے اور بھارت کی آزادی کی وسیع تر جدو جہد کے لئے ضبط نفس اختیار کرنے کی ترغیب دی۔
کمارن نے سول نافرمانی تحریک کے دوران 10 جنوری ، 1932 ء کو ایک جلوس کی قیادت کی۔ ہاتھ میں قومی پرچم تھامے اور چند بہادر ساتھیوں کے ہمراہ ، جب وہ آگے بڑھ رہے تھے تو ترو پور کی سڑکوں پر ’ وندے ماترم‘ کے ولولہ انگیز نعرے گونج رہے تھے۔ نوآبادیاتی حکمرانوں کی فوج نے جلوس پر حملہ کردیا۔ کمارن کی زبان پر ’ وندے ماترم‘ کا نعرہ تھا اور قومی پرچم ان کے جسم سے مضبوطی سے لپٹا ہوا تھا۔ حملے میں ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور انہوں نے قوم کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔ موت کے وقت ان کی عمر محض 27 برس تھی۔

جب میں ترو پور کمارن کی عمر لکھ رہا ہوں تو مجھے مادر وطن بھارت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے کئی دیگر نوجوانوں کی یاد آ رہی ہے۔ ان میں بھگت سنگھ (23 سال)، سکھ دیو (23 سال)، راج گرو (22 سال)، خودی رام بوس (18 سال)، کنک لتا بروا (18 سال)، اننت لکشمن کانہیرے (19 سال)، وانچی ناتھن (25 سال) اور بہت سے دوسرے نوجوان شامل ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی قربان کرکے بھارت کی تحریک آزادی کی تاریخ کے صفحات میں اپنے نام ہمیشہ کے لئے امر کر دیے۔
میں ، معزز وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی اس پہل کی ستائش کرتا ہوں، جس کے ذریعے ملک کی تحریک آزادی کے ان گمنام جانبازوں کو نمایاں مقام دیا جا رہا ہے ، جنہیں طویل عرصے تک وہ پہچان نہیں مل سکی ، جس کے وہ مستحق تھے۔ میں ، ان تمام معروف اور غیر معروف مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
اس تاریخی موقع پر، آئیے ہم اپنی مادر وطن کے تئیں اپنے عزم پر غور کریں اور اسے ایک بار پھر مضبوط کریں۔ آئیے، اس امرت کال میں 2047 ء تک وِکست بھارت کی تعمیر کے لئے خود کو وقف کریں اور اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مل کر کام کریں۔ یہی ان بہادر سپوتوں کے لئے سب سے موزوں خراج عقیدت ہوگا، جنہوں نے غیر متزلزل حوصلے کے ساتھ جدو جہد کی اور ہماری آزادی کے حصول کے لئے اپنی جانیں قربان کردیں۔
جے ہند !
مادروطن بھارت زندہ باد !

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں