محنت اور امید کامیابی کی بنیاد

 

 

خورشید ریشی
کپواڑہ ، کشمیر

زندگی میں ہر انسان آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ترقی کی منازل طے کرے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور زندگی کے کسی نہ کسی شعبے میں اپنا ایک منفرد مقام بنائے۔ لیکن صرف خواہش کر لینے سے منزلیں حاصل نہیں ہوتیں۔ خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے عزم، مسلسل محنت، وقت کی قدر اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ پر بھروسہ ضروری ہے۔ محنت انسان کو منزل کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ خود اعتمادی اسے راستے کی مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔

کسان ہو یا طالب علم، مزدور ہو یا ملازم، تاجر ہو یا کھلاڑی، زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ انسان کے لئے محنت کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ دنیا میں کوئی بھی بڑا مقام محض قسمت کے سہارے حاصل نہیں ہوتا۔ کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے طویل جدوجہد، بے شمار قربانیاں، ناکامیوں کا سامنا اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے مسلسل کوشش موجود ہوتی ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال اہم ہے: کیا صرف محنت کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔
محنت کے ساتھ خود اعتمادی بھی ضروری ہے۔ انسان کے اندر یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکتا ہے۔ جب کوئی نوجوان کسی منزل کا تعین کرے تو اسے یہ سوچ کر خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کہ "اگر میں یہ کام شروع کروں گا تو کیا مجھے کامیابی ملے گی؟ اگر میں ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا؟ لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟
یہی وسوسے اکثر انسان کے قدم روک دیتے ہیں۔

کامیابی کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں پیدا ہونے والے ان خدشات اور وسوسوں کو شکست دے۔ اسے اپنے آپ سے کہنا چاہیے: "ہاں، میں یہ کر سکتا ہوں۔ میں محنت کروں گا، اپنی غلطیوں سے سیکھوں گا اور جب تک منزل حاصل نہیں کر لیتا، کوشش جاری رکھوں گا۔
زندگی میں کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ پر اعتماد ضروری ہے۔ اگر انسان آغاز ہی اس خوف کے ساتھ کرے کہ شاید وہ کامیاب نہ ہو سکے تو اس کے اندر کی صلاحیتیں بھی دب جاتی ہیں۔ احساسِ کمتری انسان کو اپنی قابلیت پر شک کرنے پر مجبور کرتا ہے اور یہی شک کئی مرتبہ کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اس لئے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔ اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر نہ سمجھیں۔ ہر انسان کے اندر قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور رکھی ہے۔ ضرورت صرف اسے پہچاننے اور نکھارنے کی ہے۔ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر مایوس ہونے کے بجائے اس سے حوصلہ حاصل کرنا چاہیے۔ اگر کوئی دوسرا انسان اپنی محنت سے آگے بڑھ سکتا ہے تو آپ بھی اپنی محنت، لگن اور خود اعتمادی کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
آج ہمارے نوجوان کھیل کے میدانوں میں جس جوش و جذبے کے ساتھ اپنا پسینہ بہا رہے ہیں، ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے نام کو نمایاں کرنے کے لئے دن رات محنت کر رہے ہیں، وہ قابلِ تحسین ہے۔ لیکن یہی جذبہ، یہی لگن اور یہی محنت انہیں اپنی تعلیم اور مستقبل کے لئے بھی دکھانے کی ضرورت ہے۔ ہر نوجوان کو اپنے لئے ایک واضح ٹارگٹ مقرر کرنا چاہیے کہ اسے زندگی میں کیا حاصل کرنا ہے اور کس شعبے میں آگے بڑھنا ہے۔
منزل کا تعین کرنے کے بعد راستے کی مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ راستہ کٹھن ہو سکتا ہے، حالات سازگار نہ ہوں، وسائل محدود ہوں، ناکامیاں سامنے آئیں، لیکن انسان کو اپنے ارادے پر یقین برقرار رکھنا چاہیے۔ کیونکہ کامیابی اکثر انہی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو مشکلات کے باوجود آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
ہمارے سامنے ایسی لاکھوں مثالیں موجود ہیں جہاں لوگوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت اور عزم کے بل پر دنیا میں اپنا مقام بنایا۔ جب بہت سے لوگ اپنے نرم و ملائم بستروں پر آرام کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت کوئی نوجوان اپنی کتابیں کھولے اپنے مستقبل کی بنیاد مضبوط کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی کھلاڑی میدان میں پسینہ بہا رہا ہوتا ہے، کوئی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مصروف ہوتا ہے اور کوئی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے علم میں اضافہ کر رہا ہوتا ہے۔

یہی فرق بالآخر کامیاب اور ناکام انسان کے درمیان لکیر کھینچ دیتا ہے۔
کامیابی کبھی بھی آسانی سے انسان کے دروازے پر دستک نہیں دیتی۔ اس کے لئے وقت دینا پڑتا ہے، آرام و آسائش کو قربان کرنا پڑتا ہے، کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے، اپنی کمزوریوں کو دور کرنا پڑتا ہے اور بار بار کی ناکامیوں کے باوجود دوبارہ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
خاص طور پر آج کے نوجوانوں کے لئے وقت کی قدر کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے لئے ایک مناسب ٹائم ٹیبل مرتب کریں۔ وقت زندگی کا وہ سرمایہ ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتا۔ جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں، وہی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے زیادہ مواقع پیدا کرتے ہیں۔

آج کا دور مقابلے کا دور ہے۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایسے میں صرف خواہش کافی نہیں، بلکہ اپنے آپ کو مسلسل بہتر بنانا ضروری ہے۔ جو نوجوان سیکھنے کے عمل کو جاری رکھے گا، اپنی صلاحیتوں کو نکھارے گا، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کرے گا اور اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائے گا، وہ آنے والے کل میں دوسروں سے آگے نکل سکتا ہے۔
دنیا میں کامیاب ہونے والے لوگوں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی کامیابی کی قیمت مسلسل محنت سے ادا کی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس ابتدا میں وسائل نہیں تھے، سہولیات نہیں تھیں اور شاید راستے بھی واضح نہیں تھے، لیکن ایک چیز ان کے پاس ضرور تھی: اپنے آپ پر یقین۔
یہ یقین ہی انسان کو وہاں لے جاتا ہے جہاں عام سوچ کا انسان پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر پاتا۔
درحقیقت، کامیابی کا سفر انسان کے ذہن سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ذہن میں شکست کا تصور پہلے ہی گھر کر جائے تو قدم آگے بڑھنے سے پہلے ہی رک جاتے ہیں۔ لیکن اگر دل میں یہ یقین ہو کہ "میں کوشش کروں گا، میں سیکھوں گا، میں اپنی غلطیوں کو درست کروں گا اور میں ہار نہیں مانوں گا” تو یہی سوچ انسان کے اندر ایک نئی طاقت پیدا کرتی ہے۔
اس لئے کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے سے پہلے اپنے دل سے خوف کو نکالنا ہوگا۔ یہ نہیں سوچنا کہ لوگ کیا کہیں گے، یہ نہیں سوچنا کہ شاید میں کامیاب نہ ہو سکوں۔ پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔ کیونکہ اکثر انسان منزل سے نہیں بلکہ منزل تک پہنچنے کے راستے کے خوف سے ہارتا ہے۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ناکامی انسان کی قابلیت کا آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ناکامی ہمیں وہ سبق سکھاتی ہے جو کامیابی نہیں سکھا سکتی۔ اصل ناکامی کوشش چھوڑ دینا ہے۔ جو شخص گرتا ہے اور دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہ دراصل شکست خوردہ نہیں بلکہ کامیابی کے سفر میں ایک قدم اور آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔
ہمارے نوجوان اگر اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں، احساسِ کمتری کو اپنے قریب نہ آنے دیں، دل میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو شکست دیں، اپنے لئے واضح ٹارگٹ مقرر کریں اور پھر اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے مسلسل محنت کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔
والدین کے خواب، اساتذہ کی امیدیں اور نوجوانوں کے اپنے خواب اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں جب خوابوں کے ساتھ عمل بھی شامل ہو۔ صرف یہ سوچنا کہ "مجھے کامیاب ہونا ہے” کافی نہیں؛ اس کے ساتھ یہ یقین بھی ضروری ہے کہ "میں کامیاب ہو سکتا ہوں” اور پھر اس یقین کو اپنی محنت سے سچ ثابت کرنا ہوگا۔
آخرکار کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو حالات سے شکست نہیں مانتے، ناکامیوں سے گھبراتے نہیں، دوسروں سے اپنا موازنہ کرکے احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتے اور اپنے اندر کی آواز پر یقین رکھتے ہیں۔

محنت راستہ بناتی ہے، خود اعتمادی قدم بڑھانے کا حوصلہ دیتی ہے، وقت کی قدر منزل کو قریب لاتی ہے اور ثابت قدمی انسان کو منزل تک پہنچا دیتی ہے۔
لہٰذا اگر نوجوان واقعی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، اپنے والدین کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں اپنا ایک باوقار مقام بنانا چاہتے ہیں تو انہیں آج ہی اپنے دل سے خوف اور وسوسوں کو نکالنا ہوگا۔ اپنے آپ پر بھروسہ کرنا ہوگا، اپنی منزل کا تعین کرنا ہوگا اور پھر پوری لگن، اخلاص اور محنت کے ساتھ اس منزل کی طرف بڑھتے رہنا ہوگا۔
کیونکہ جس دن انسان اپنے آپ پر یقین کرنا سیکھ لیتا ہے، اسی دن کامیابی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین میٹنگ

جنگ نیوز وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی...

بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر ہیگ ٹریبونل کا فیصلہ مسترد کردیا

جنگ نیوز بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے...

امریکہ میں اتحاد کا پیغام، ہندوستان میں اس کا عملی امتحان!*

    تحریر: مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ آر ایس ایس کے...

کیا یونیورسٹیاں انسان بنا رہی ہیں یا صرف ملازمین تیار کر رہی ہیں؟

ڈاکٹر ریاض احمد  اعلیٰ تعلیم کو طلبہ کو روزگار کے...

تازہ ترین خبریں

وزیر اعظم مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مابین میٹنگ

جنگ نیوز وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو ایرانی...

بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر ہیگ ٹریبونل کا فیصلہ مسترد کردیا

جنگ نیوز بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے...

امریکہ میں اتحاد کا پیغام، ہندوستان میں اس کا عملی امتحان!*

    تحریر: مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ آر ایس ایس کے...

کیا یونیورسٹیاں انسان بنا رہی ہیں یا صرف ملازمین تیار کر رہی ہیں؟

ڈاکٹر ریاض احمد  اعلیٰ تعلیم کو طلبہ کو روزگار کے...

محنت اور امید کامیابی کی بنیاد

 

 

خورشید ریشی
کپواڑہ ، کشمیر

زندگی میں ہر انسان آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ترقی کی منازل طے کرے، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور زندگی کے کسی نہ کسی شعبے میں اپنا ایک منفرد مقام بنائے۔ لیکن صرف خواہش کر لینے سے منزلیں حاصل نہیں ہوتیں۔ خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے عزم، مسلسل محنت، وقت کی قدر اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ پر بھروسہ ضروری ہے۔ محنت انسان کو منزل کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ خود اعتمادی اسے راستے کی مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔

کسان ہو یا طالب علم، مزدور ہو یا ملازم، تاجر ہو یا کھلاڑی، زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ انسان کے لئے محنت کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔ دنیا میں کوئی بھی بڑا مقام محض قسمت کے سہارے حاصل نہیں ہوتا۔ کامیاب لوگوں کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے طویل جدوجہد، بے شمار قربانیاں، ناکامیوں کا سامنا اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے مسلسل کوشش موجود ہوتی ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال اہم ہے: کیا صرف محنت کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔
محنت کے ساتھ خود اعتمادی بھی ضروری ہے۔ انسان کے اندر یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکتا ہے۔ جب کوئی نوجوان کسی منزل کا تعین کرے تو اسے یہ سوچ کر خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کہ "اگر میں یہ کام شروع کروں گا تو کیا مجھے کامیابی ملے گی؟ اگر میں ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا؟ لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟
یہی وسوسے اکثر انسان کے قدم روک دیتے ہیں۔

کامیابی کی پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں پیدا ہونے والے ان خدشات اور وسوسوں کو شکست دے۔ اسے اپنے آپ سے کہنا چاہیے: "ہاں، میں یہ کر سکتا ہوں۔ میں محنت کروں گا، اپنی غلطیوں سے سیکھوں گا اور جب تک منزل حاصل نہیں کر لیتا، کوشش جاری رکھوں گا۔
زندگی میں کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنے آپ پر اعتماد ضروری ہے۔ اگر انسان آغاز ہی اس خوف کے ساتھ کرے کہ شاید وہ کامیاب نہ ہو سکے تو اس کے اندر کی صلاحیتیں بھی دب جاتی ہیں۔ احساسِ کمتری انسان کو اپنی قابلیت پر شک کرنے پر مجبور کرتا ہے اور یہی شک کئی مرتبہ کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اس لئے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔ اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر نہ سمجھیں۔ ہر انسان کے اندر قدرت نے کوئی نہ کوئی صلاحیت ضرور رکھی ہے۔ ضرورت صرف اسے پہچاننے اور نکھارنے کی ہے۔ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر مایوس ہونے کے بجائے اس سے حوصلہ حاصل کرنا چاہیے۔ اگر کوئی دوسرا انسان اپنی محنت سے آگے بڑھ سکتا ہے تو آپ بھی اپنی محنت، لگن اور خود اعتمادی کے ذریعے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
آج ہمارے نوجوان کھیل کے میدانوں میں جس جوش و جذبے کے ساتھ اپنا پسینہ بہا رہے ہیں، ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے نام کو نمایاں کرنے کے لئے دن رات محنت کر رہے ہیں، وہ قابلِ تحسین ہے۔ لیکن یہی جذبہ، یہی لگن اور یہی محنت انہیں اپنی تعلیم اور مستقبل کے لئے بھی دکھانے کی ضرورت ہے۔ ہر نوجوان کو اپنے لئے ایک واضح ٹارگٹ مقرر کرنا چاہیے کہ اسے زندگی میں کیا حاصل کرنا ہے اور کس شعبے میں آگے بڑھنا ہے۔
منزل کا تعین کرنے کے بعد راستے کی مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ راستہ کٹھن ہو سکتا ہے، حالات سازگار نہ ہوں، وسائل محدود ہوں، ناکامیاں سامنے آئیں، لیکن انسان کو اپنے ارادے پر یقین برقرار رکھنا چاہیے۔ کیونکہ کامیابی اکثر انہی لوگوں کے قدم چومتی ہے جو مشکلات کے باوجود آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
ہمارے سامنے ایسی لاکھوں مثالیں موجود ہیں جہاں لوگوں نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت اور عزم کے بل پر دنیا میں اپنا مقام بنایا۔ جب بہت سے لوگ اپنے نرم و ملائم بستروں پر آرام کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت کوئی نوجوان اپنی کتابیں کھولے اپنے مستقبل کی بنیاد مضبوط کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی کھلاڑی میدان میں پسینہ بہا رہا ہوتا ہے، کوئی اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مصروف ہوتا ہے اور کوئی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے علم میں اضافہ کر رہا ہوتا ہے۔

یہی فرق بالآخر کامیاب اور ناکام انسان کے درمیان لکیر کھینچ دیتا ہے۔
کامیابی کبھی بھی آسانی سے انسان کے دروازے پر دستک نہیں دیتی۔ اس کے لئے وقت دینا پڑتا ہے، آرام و آسائش کو قربان کرنا پڑتا ہے، کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے، اپنی کمزوریوں کو دور کرنا پڑتا ہے اور بار بار کی ناکامیوں کے باوجود دوبارہ کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
خاص طور پر آج کے نوجوانوں کے لئے وقت کی قدر کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے لئے ایک مناسب ٹائم ٹیبل مرتب کریں۔ وقت زندگی کا وہ سرمایہ ہے جو ایک بار ہاتھ سے نکل جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتا۔ جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں، وہی اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے زیادہ مواقع پیدا کرتے ہیں۔

آج کا دور مقابلے کا دور ہے۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایسے میں صرف خواہش کافی نہیں، بلکہ اپنے آپ کو مسلسل بہتر بنانا ضروری ہے۔ جو نوجوان سیکھنے کے عمل کو جاری رکھے گا، اپنی صلاحیتوں کو نکھارے گا، ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کرے گا اور اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائے گا، وہ آنے والے کل میں دوسروں سے آگے نکل سکتا ہے۔
دنیا میں کامیاب ہونے والے لوگوں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی کامیابی کی قیمت مسلسل محنت سے ادا کی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس ابتدا میں وسائل نہیں تھے، سہولیات نہیں تھیں اور شاید راستے بھی واضح نہیں تھے، لیکن ایک چیز ان کے پاس ضرور تھی: اپنے آپ پر یقین۔
یہ یقین ہی انسان کو وہاں لے جاتا ہے جہاں عام سوچ کا انسان پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر پاتا۔
درحقیقت، کامیابی کا سفر انسان کے ذہن سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ذہن میں شکست کا تصور پہلے ہی گھر کر جائے تو قدم آگے بڑھنے سے پہلے ہی رک جاتے ہیں۔ لیکن اگر دل میں یہ یقین ہو کہ "میں کوشش کروں گا، میں سیکھوں گا، میں اپنی غلطیوں کو درست کروں گا اور میں ہار نہیں مانوں گا” تو یہی سوچ انسان کے اندر ایک نئی طاقت پیدا کرتی ہے۔
اس لئے کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے سے پہلے اپنے دل سے خوف کو نکالنا ہوگا۔ یہ نہیں سوچنا کہ لوگ کیا کہیں گے، یہ نہیں سوچنا کہ شاید میں کامیاب نہ ہو سکوں۔ پہلا قدم اٹھانا ہوگا۔ کیونکہ اکثر انسان منزل سے نہیں بلکہ منزل تک پہنچنے کے راستے کے خوف سے ہارتا ہے۔

یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ناکامی انسان کی قابلیت کا آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ناکامی ہمیں وہ سبق سکھاتی ہے جو کامیابی نہیں سکھا سکتی۔ اصل ناکامی کوشش چھوڑ دینا ہے۔ جو شخص گرتا ہے اور دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہ دراصل شکست خوردہ نہیں بلکہ کامیابی کے سفر میں ایک قدم اور آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔
ہمارے نوجوان اگر اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں، احساسِ کمتری کو اپنے قریب نہ آنے دیں، دل میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو شکست دیں، اپنے لئے واضح ٹارگٹ مقرر کریں اور پھر اس ٹارگٹ کے حصول کے لئے مسلسل محنت کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔
والدین کے خواب، اساتذہ کی امیدیں اور نوجوانوں کے اپنے خواب اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں جب خوابوں کے ساتھ عمل بھی شامل ہو۔ صرف یہ سوچنا کہ "مجھے کامیاب ہونا ہے” کافی نہیں؛ اس کے ساتھ یہ یقین بھی ضروری ہے کہ "میں کامیاب ہو سکتا ہوں” اور پھر اس یقین کو اپنی محنت سے سچ ثابت کرنا ہوگا۔
آخرکار کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو حالات سے شکست نہیں مانتے، ناکامیوں سے گھبراتے نہیں، دوسروں سے اپنا موازنہ کرکے احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتے اور اپنے اندر کی آواز پر یقین رکھتے ہیں۔

محنت راستہ بناتی ہے، خود اعتمادی قدم بڑھانے کا حوصلہ دیتی ہے، وقت کی قدر منزل کو قریب لاتی ہے اور ثابت قدمی انسان کو منزل تک پہنچا دیتی ہے۔
لہٰذا اگر نوجوان واقعی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں، اپنے والدین کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں اپنا ایک باوقار مقام بنانا چاہتے ہیں تو انہیں آج ہی اپنے دل سے خوف اور وسوسوں کو نکالنا ہوگا۔ اپنے آپ پر بھروسہ کرنا ہوگا، اپنی منزل کا تعین کرنا ہوگا اور پھر پوری لگن، اخلاص اور محنت کے ساتھ اس منزل کی طرف بڑھتے رہنا ہوگا۔
کیونکہ جس دن انسان اپنے آپ پر یقین کرنا سیکھ لیتا ہے، اسی دن کامیابی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں