
سرفرازاحمد
پچھلے دنوں حیدرآباد کے علاقے شمس آباد کے قریب بہادر گوڑہ گاؤں میں مجوزہ بلیٹ ٹرین ہب کے لئے 650 ایکڑ اراضی کی باڑبندی کے دوران پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ کیا ترقیاتی منصوبوں کو مقامی لوگوں کے حقوق اور معاشی تحفظ کو نظرانداز کرکے آگے بڑھایا جا سکتا ہے؟ ترقی ہر ریاست کی ضرورت ہے، لیکن اگر اس کی قیمت کسانوں کے روزگار اور سماجی استحکام کی صورت میں ادا کی جائے تو ایسی ترقی اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے حیدرآباد کو پونے، چنئی اور بنگلور سے جوڑنے والی بلیٹ ٹرین راہداری مستقبل کے انفراسٹرکچر منصوبوں کا اہم حصہ ہے۔ اسی منصوبے کے تحت شمس آباد کے راجیو گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب بلیٹ ٹرین ہب قائم کرنے کی تجویز ہے۔ ایسے منصوبے سرمایہ کاری، روزگار اور اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ کرتے ہیں، مگر ان کی کامیابی متاثرہ آبادی کے اعتماد پر منحصر ہوتی ہے۔
بہادر گوڑہ کے کسانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے پاس زمین کی ملکیت کے سرکاری کاغذات نہیں، لیکن وہ کئی دہائیوں سے اس زمین پر کاشتکاری کر رہے ہیں اور یہی ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے، جبکہ سرکاری ادارے اسے سرکاری زمین قرار دے رہے ہیں۔ قانونی تنازع اپنی جگہ اہم ہے، مگر ان خاندانوں کا مستقبل بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جو برسوں سے اس زمین پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ متاثرہ کسانوں کو منصفانہ معاوضہ، متبادل زمین یا مناسب بازآبادکاری کا جامع پیکیج فراہم کرے۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں زمین کے ریکارڈ کو جدید اور شفاف بنانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے تاکہ ملکیت اور استعمال سے متعلق تنازعات کا خاتمہ ہو سکے۔
کسانوں کے دیگر مسائل بھی سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، فصلوں کا نقصان، قرضوں کا بوجھ اور غیر یقینی موسمی حالات کسانوں کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی سے ملک میں ہر سال 10 ہزار سے زائد کسان خودکشی کر رہے ہیں۔ 2024 میں بھی 10546 کسانوں کی خودکشی کے واقعات سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق قرض، فصلوں کی تباہی اور ناکافی مالی معاونت اس کی بنیادی وجوہات ہیں، جبکہ چھوٹے اور متوسط کسان سخت شرائط کے باعث حکومتی اسکیموں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔
سوال یہ ہے کہ جب ہر سال اتنی بڑی تعداد میں کسان اپنی جانیں گنوا رہے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے مؤثر اور فوری اقدامات کرے؟ کئی ریاستوں میں آج بھی کسان اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ کسان آندولن کے دوران 700 سے زائد کسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
حکومت نے کسانوں سے فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (MSP) کی قانونی ضمانت اور آمدنی دوگنی کرنے جیسے وعدے کیے تھے، لیکن کسان تنظیموں کے مطابق یہ مطالبات اب بھی تشنۂ تکمیل ہیں۔ اگرچہ حکومت ایم ایس پی میں اضافہ، پی ایم کسان سمان ندھی اور زرعی بجٹ میں اضافے کا دعویٰ کرتی ہے، تاہم زمینی سطح پر کسانوں کی مشکلات برقرار ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق خودکشی ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے اور اس کی روک تھام کے لئے قومی سطح پر مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہے۔ معاشی دباؤ، بے روزگاری اور ذہنی مسائل کے باعث دنیا بھر میں خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ صرف حکومتی اقدامات ہی نہیں بلکہ سماجی اداروں، تعلیمی مراکز اور عوام کو بھی شعور بیدار کرنے اور ذہنی معاونت کے نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے اور اس کا تحفظ ہر فرد، معاشرے اور حکومت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کسانوں سمیت معاشی مشکلات کا شکار طبقات کو بروقت سہارا فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ورنہ خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات ہمارے اجتماعی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان بنے رہیں گے۔
(مضمون نگار معروف صحافی، کالم نویس اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)


