
مظہر حسنین
آج دنیا میں ہر لمحہ اربوں تصاویر، ویڈیو، تحقیقی مقالے، سرکاری دستاویز، طبی ریکارڈ، مالیاتی مواد او رمصنوعی ذہانت سے متعلق ڈیٹا تخلیق ہورہاہے۔ اس بے پناہ معلومات کو محفوظ رکھنے کے لئے دنیا بھر میں ہزاروں ڈیٹا سنٹر قائم کیے جاچکے ہیں۔ان مراکز کو چلانے کے لئے نہ ہی زیادہ توانائی کی ضرورت ہے او رنہ بڑے بجٹ کی۔سائنسداں اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا کوئی ایسا قدرتی نظام موجود ہے جو کم جگہ میں زیادہ معلومات محفوظ رکھ سکے؟ حیرت انگیز طور پر اس سوال کا جوب خود قدرت نے اربوں سال پہلے فراہم کردیاتھا۔ ان کو ڈی این اے کہاجاتاہے۔
ڈی این اے محض ایک حیاتیاتی سالمہ نہیں بلکہ زندگی کا بنیادی ذخیرہ معلومات ہے۔زمین پرموجود ہر جاندار کی ساخت، افزائش، خصوصیات اور ارتقائی تاریخ اسی کے اندر محفوظ ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ قدرت گزشتہ تقریباً ساڑھے تین ارب برس سے ڈی این اے کومعلومات محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کررہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جدید سائنس اس قدرتی نظام سے سبق حاصل کرتے ہوئے اسے مستقبل کے ڈیٹا اسٹوریج کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اگر یہ ٹکنالوجی مکمل طور پر کامیاب ہوجاتی ہے تو ممکن ہے آنے والے برسوں میں ہماری لائبریری، قومی آرکائیوز، سائنسی ریکارڈ او ر تاریخی دستاویزات ہارڈ ڈرائیوزکی بجائے چند ملی گرام مصنوعی ڈی این اے میں محفوظ ہوں۔
روایتی کمپیوٹر نظام بائنری زبان پر کام کرتے ہیں، جہاں معلومات صرف دو علامتوں،یعنی 0اور 1 کی صورت میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس ڈی این اے چار بنیادی نائٹروجن کیمبادیات یعنی ایڈینین (A)،تھا ئمین (T)، گوانین (G) اور سائٹوسین(C) پرمشتمل ہوتاہے۔ یہی چار حرف مل کر بے شمار معلومات محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جہاں روایتی نظام میں ایک مقام پرصرف ایک بٹ محفوظ کیا جاسکتاہے،وہاں ڈی این اے اس سے کہیں زیادہ معلومات اپنے اندر سموسکتاہے۔یہی سبب ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ معلومات ہے۔اگر ہم انسانی جسم ہی کو دیکھیں تو اس حقیقت کااندازہ لگایا جاسکتاہے۔ انسانی جسم کے تقریباً ہر خلئے کے مرکزے میں موجود ڈی این اے میں پورے انسان کی جینیاتی معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگر اسی اصول کو ڈیجیٹل معلومات کیلئے استعمال کیا جائے تو چند گرام ڈی این اے میں پوری دنیا کے ڈیٹا کومحفوظ کرناممکن ہوسکتا ہے۔
ڈی این اے اسٹوریج کی ایک اورغیر معمولی خوبی اس کو طویل پائیداری ہے۔ موجودہ وقت میں استعمال ہونے والی ہارڈڈرائیوز،سی ڈیز،ڈی وی ڈیز یا میگنیٹک ٹیپس کی حیات محدود ہوتی ہے۔ چند برسوں یا زیادہ سے زیادہ چند دہائیوں بعد ان میں محفوظ معلومات کے ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتاہے۔ اس کے برعکس آثارِ قدیمہ کے ماہرین لاکھوں سال پرانے جانداروں کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ اگر چہ ایسے نمونے غیر معمولی حالات میں محفوظ رہتے ہیں، لیکن اس سے یہ ثابت ضرور ہوتاہے کہ مناسب ماحول میں ڈی این اے ہزاروں بلکہ لاکھوں برس تک معلومات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ حالانکہ ڈی این اے میں معلومات محفوظ کرنا آسان بھی نہیں ہے۔ اس کے لئے سب سے پہلے کمپیوٹر میں موجود معلومات کو بائنری کو ڈ یعنی صفر اور ایک میں تبدیل کیا جاتاہے۔ اس کے بعد ایک مخصوص الگور تھم ان صفر اور ایک کو ڈی این اے کے چار اجزا ء ایڈینین،تھائمین، گوانین اور سائٹوسین میں تبدیل کرتاہے۔ اس عمل کو اینکوڈنگ (Encoding) کہا جاتا ہے۔اسی مرحلے میں اضافی معلومات بھی شامل کی جاتی ہیں تاکہ بعد میں اگر کوئی خامی آجائے تو اسے درست کیا جاسکے۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ تحریر یا سنتھیسز کاہوتاہے۔ جس میں کمپیوٹر سے حاصل شدہ ترتیب کے مطابق مصنوعی ڈی این اے تیار کیاجاتاہے۔ اس مقصد کے لئے روایتی کیمیائی طریقوں کے علاوہ اب اِنزائم پرمبنی ماحول دوست طریقے بھی سامنے آرہے ہیں۔ دونوں طریقوں سے تیار ہونے والا مصنوعی ڈی این اے اسے ظاہری طور پر قدرتی ڈی این اے سے مختلف نہیں ہوتا، لیکن اس کے اندر جینیاتی معلومات کی بجائے ڈیجیٹل معلومات محفوظ ہوتی ہیں۔ تیسرے مرحلے میں اس مصنوعی ڈی این اے کو محفوظ کیا جاتاہے۔ اگر اسے نمی،حرارت اور آکسیجن سے بچا کر رکھا جائے تو اس کی عمر غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ آج کل سائنس دان شیشے کے باریک ذرات،سلیکا ویفرز اور دیگر جدید مادّوں میں ڈی این اے محفوظ کرنے کے طریقوں پربھی تحقیق کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس کی حفاظت مزید مؤثر ہوسکے۔
جب محفوظ شدہ معلومات دوبارہ درکار ہوں تو ریڈنگ کامرحلہ شروع ہوتاہے۔ اس میں جدید ڈی این اے کو مرتب کرکے مشینوں کے ذریعہ مصنوعی ڈی این اے کی ترتیب معلوم کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ڈی این کوڈنگ کے عمل میں یہی ترتیب دوبارہ کمپیوٹر کی زبان ہائنری (صفر اورایک) میں تبدیل کی جاتی ہے اوراصل فائل بحال کر لی جاتی ہے۔ اس پورے عمل میں ایر ر کریکشن کوڈ ز نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں تاکہ اگر کسی حرف میں تبدیلی، کمی یا زیادتی ہوجائے تو معلومات ضائع نہ ہونے پائیں۔اگرچہ یہ ٹکنالوجی انتہائی امید افزاہے، لیکن اس کے ساتھ کئی سائنسی او رتکنیکی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔مصنوعی ڈی این اے تیا ر کرتے وقت بعض ایسی ترتیب سے بچنا ضروری ہوتاہے جو سالمے کو غیر مستحکم بنادیں یا اس کے اندر ثانوی ساخت پیدا کردیں۔ اسی طرح ایک ہی حرف کی طویل تکرار ترتیب میں غلطیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ گوانین اور سائٹو سین کا تناسب بھی متوازن رکھنا ضروری ہے تاکہ سالمہ مضبوط رہے۔
اس ٹکنالوجی کا ایک اہم مگر کم زیر ابحث پہلو بایو سائبر سیکورٹی بھی ہے۔ چند برس قبل محققین نے یہ ثابت کیا تھاکہ مصنوعی ڈی این اے میں ایسا کوڈ شامل کیا جاسکتاہے جو ترتیب کے دوران کمپیوٹر سسٹم میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر نقصان پہنچا سکے۔اگر چہ اس قسم کے حملے ابھی عملی سطح پر عام نہیں ہیں، لیکن جیسے جیسے ڈی این اے ڈیٹا اسٹوریج کااستعمال بڑھے گا ویسے ویسے اس کے لئے مضبوط حفاظتی نظام بھی ناگریز ہوتے جائیں گے۔ اس لئے سائنس دان اس با ت پر زور دے رہے ہیں کہ ڈی این اے اسٹوریج کے عالمی معیار میں بایو سائبر سیکورٹی کو بنیادی حیثیت دی جائے۔اسی طرح ایک اوراہم تجویز یہ ہے کہ مصنوعی ڈی این اے میں ایسی شناختی علامتیں یا مخصوص نشان والے اجزاء شامل کیے جائیں جو مستقبل کی نسلوں کو بتاسکیں کہ یہ قدرتی جینیاتی مادہ نہیں بلکہ معلومات محفوظ رکھنے کیلئے تیار کیا گیا سالمہ ہے۔اگر ہزاروں برس بعد انسان ڈی این اے ڈیٹا اسٹوریج کی موجودہ ٹکنالوجی کو بھول بھی جائے تو یہ شناختی نشانات اسے دوبارہ اس راز تک پہنچنے میں مدد دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ مینا ڈیٹا کو بھی اسی سالمے میں محفوظ کرنے کی سفارش کی جارہی ہے تاکہ معلومات پڑھنے کاطریقہ بھی خود اسی کے اندر موجود رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈی این اے ڈیٹا اسٹوریج ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے او راس کی لاگت بھی نسبتاً زیادہ ہے، لیکن جس رفتار سے تحقیق آگے بڑھ رہی ہے اس سے اندازہ ہوتاہے کہ آئندہ چند دہائیوں میں یہ ٹکنالوجی معلومات محفوظ رکھنے کے عالمی نظام میں بنیادی تبدیلی لاسکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، خلائی تحقیق،
بشکریہ : نیو ایج اسلام


