ایران نے منگل کے روز مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر کئی بیلسٹک میزائل داغے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اسے ‘اچانک حملہ’ بتاتے ہوئے کہا کہ ان تمام میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری ایک پوسٹ میں سینٹکام نے کہا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام نے پاسداران انقلاب کی طرف سے داغی گئی تمام میزائلوں کو کامیابی سے فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
پوسٹ میں لکھا کہ ‘آج شام 5:45 بجے پاسداران انقلاب نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی افواج پر اچانک حملہ کرنے کی کوشش میں کئی بیلسٹک میزائل داغے۔ تمام ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے انٹرسیپٹ کر دیا گیا۔
اسی دوران امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایکسیوس’ نے رپورٹ کیا کہ ایران نے منگل کو اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر کئی بیلسٹک میزائل فائر کیے۔ گذشتہ جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سفارتی حل کے لیے تہران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد، اس علاقے میں کسی امریکی بیس پر ایران کا یہ پہلا حملہ تھا۔
اس حملے کے بعد خلیجی ممالک کی حکومتوں نے اردن پر کیے گئے ان حملوں کی سخت مذمت کی۔ کویت اور قطر دونوں نے اردن کی حدود کو نشانہ بنا کر کیے گئے ایرانی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ کویت کی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو اردن کی خودمختاری، علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی اور خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے ایک براہِ راست خطرہ قرار دیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیے گئے ایک سرکاری بیان میں کویت کی وزارتِ خارجہ نے لکھا کہ ‘وزارت، برادر ملک اردن کے ساتھ کویت کی مکمل یکجہتی، اس کے ساتھ کھڑے ہونے اور اس کی سکیورٹی، خودمختاری اور اس کے عوام کے تحفظ کے لیے اس کی طرف سے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے۔’
وہیں قطر نے بھی برادر ملک کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی پر زور دیا، اور ملک کے دفاع کے لیے اردن کی قیادت کی طرف سے نافذ کیے گئے تمام سکیورٹی اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا۔ پوسٹ میں لکھا کہ ‘قطر برادر ملک اردن کو ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے نشانہ بنانے والے بار بار کے حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے، جو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس کی سکیورٹی و استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔’
یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی میزبانی کے چند گھنٹوں بعد ہوئے، جہاں انہوں نے خاص طور پر ایران کے معاملے پر اعلیٰ سطح کی بات چیت کی۔ اس سے قبل دن میں، ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی وارننگ دی تھی۔


