نیوز ڈیسک
سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جنتَر منتَر میں دیے گئے اپنے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے غیر ارادی طور پر زبان پھسل گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا اور وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔
وائس آف انڈیا کے مطابق پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جنتَر منتَر میں دیے گئے اپنے متنازع بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی زبان کی غیر ارادی لغزش تھی اور وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں سمجھا گیا، حالانکہ وہ کچھ اور کہنا چاہتی تھیں۔انہوں نے کہا، "مجھے بہانہ بنتا ہے” کہنا تھا، لیکن میری زبان سے صرف "بنتا ہے” نکل گیا۔ اس غیر ارادی غلطی پر میں معذرت خواہ ہوں۔ان کا یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ان کے جنتَر منتَر والے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے جوڑنے کے بجائے انہیں معذرت کرنی چاہیے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کا مقصد کبھی بھی عوامی جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ان سے توقعات وابستہ ہیں اور اگر ان کے بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو انہیں اس پر افسوس ہے۔ ان کے مطابق جنتَر منتَر میں کشمیری طلبہ کی دعوت پر شرکت کے دوران انہوں نے متعدد صحافیوں سے گفتگو کی تھی، تاہم بعض سیاسی جماعتوں نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑا مسئلہ بنا دیا۔انہوں نے جموں و کشمیر میں شورش کے برسوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی میں ایسے کئی خاندانوں کی مدد کرتی رہی ہیں جن کے عزیز مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے تھے۔محبوبہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں اخوان گروپوں کو کھلی چھوٹ دی گئی تھی۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عمر عبداللہ، جب حکومت ہند میں وزیر مملکت برائے خارجہ تھے، تو وہ بین الاقوامی برادری کو یہ بتایا کرتے تھے کہ کشمیر میں شورش کی وجہ سے ان کے والد بے بس ہیں۔محبوبہ مفتی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ سابق کانگریس رہنما سیتارام کیسری سے انہیں "ملک مخالف” قرار دیا کرتے تھے۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپنے عزم پر قائم ہیں، تاہم جنتَر منتَر میں استعمال ہونے والے الفاظ غیر ارادی تھے اور اسی لئے وہ اس پر معذرت پیش کرتی ہیں۔
محبوبہ کا بیان وضاحت ، معافی نہیں: عمر عبداللہ
جنگ نیوز
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ PDP صدر محبوبہ مفتی کا حالیہ بیان معافی نہیں بلکہ وضاحت اور اظہارِ افسوس تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ روز تک ویڈیو کو AI سے تیار شدہ قرار دینے والوں کو بھی اب عوام سے اظہارِ افسوس کرنا چاہیے۔
سری نگر کے امر سنگھ کالج میں میگا جاب فیئر کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ ’’اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو‘‘ تو اسے معافی نہیں کہا جا سکتا، بلکہ یہ صرف اظہارِ افسوس ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال ان لوگوں سے ہے جنہوں نے مسلسل پانچ دن تک یہ دعویٰ کیا کہ متنازع ویڈیو AI سے تیار کی گئی ہے، جبکہ اب خود محبوبہ مفتی نے تسلیم کر لیا ہے کہ بیان انہی کا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے PDP کے ایک رکن اسمبلی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی صدر نے خود AI کے دعوے کی تردید کر دی ہے، اس لئے غلط معلومات پھیلانے والوں کو بھی کم از کم اظہارِ افسوس کرنا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے PDP کی جانب سے 5 اگست کو احتجاج کے اعلان پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس جماعت نے جموں و کشمیر میں BJP کو اقتدار تک پہنچایا، وہ آج احتجاج کی سیاست کر رہی ہے۔


