دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

 

مسعود محبوب خان

دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں جو الفاظ سے زیادہ انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ ایک باپ اپنی فوت شدہ بیٹی کو کندھوں پر اٹھائے اس لئے بس میں بیٹھنے پر مجبور ہو کہ ایمبولینس کا کرایہ ادا نہیں کر سکتا، یا ایک بوڑھا شوہر اپنی مرحومہ اہلیہ کو وہیل چیئر پر بس اسٹاپ تک لے جانے کا ارادہ کرے تاکہ لوگ انہیں صرف سویا ہوا سمجھیں—یہ محض واقعات نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ثبت ایسے سوال ہیں جن کا جواب ہم سب کو دینا ہے۔ غربت کو اکثر صرف روزگار، آمدنی اور وسائل کی کمی سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ غربت انسان کی شخصیت، اس کے اعتماد، اس کی نفسیات اور اس کے خاندانی نظام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ایک باپ اپنی اولاد کا علاج نہ کرا سکے، ایک ماں اپنے بچّوں کو دو وقت کی روٹی نہ دے سکے یا ایک بزرگ علاج کے اخراجات کے خوف سے بیماری چھپاتا پھرے، تو یہ صرف انفرادی المیہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی ناکامی بن جاتا ہے۔

غربت انسان سے صرف آسائشیں نہیں چھینتی، بلکہ بسا اوقات اس کی مسکراہٹ، اس کا سکون، اس کا اعتماد اور اس کی عزّتِ نفس بھی چھین لیتی ہے۔ کتنے ہی والدین اپنے بچّوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکنے کی وجہ سے اندر ہی اندر کرب میں مبتلا رہتے ہیں۔ کتنی ہی مائیں اپنی بھوک چھپا کر اپنے بچّوں کو کھانا کھلا دیتی ہیں، اور کتنے ہی بزرگ اپنی بیماری برداشت کرتے رہتے ہیں تاکہ اولاد پر بوجھ نہ بنیں۔ ایسے مواقع پر انسانیت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ ہمدردی صرف افسوس کے چند الفاظ کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے دکھ کو کم کرنے کی عملی کوشش کا نام ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک تسلی، ایک مالی تعاون، ایک بیمار کی عیادت، ایک ضرورت مند کی خاموش مدد یا کسی مجبور انسان کی عزّتِ نفس کو مجروح کیے بغیر اس کا ہاتھ تھام لینا، یہی وہ اعمال ہیں جو معاشروں کو زندہ رکھتے ہیں۔
اسلام نے غربت کے خاتمے کے لئے محض ہمدردی کی تلقین نہیں کی بلکہ ایک مکمل معاشرتی نظام عطا کیا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات، عشر، کفارات، وقف، وراثت کی منصفانہ تقسیم اور صلہ رحمی جیسے احکام اسی مقصد کے لئے ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ رہے اور معاشرے کا ہر فرد عزّت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ اسلام ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں کسی ضرورت مند کو سوال کرنے کی نوبت نہ آئے، بلکہ اس کی ضرورت اس کے اظہار سے پہلے پوری کر دی جائے۔ اسلام نے بھی ہمیں یہی سبق دیا ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔ قرآنِ مجید بار بار یتیموں، مسکینوں، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، جب کہ رسول اللّٰہﷺ نے ضرورت مندوں کی کفالت، بیماروں کی عیادت اور پریشان حال لوگوں کی مدد کو عظیم عبادت قرار دیا۔

رسول اللّٰہﷺ کی پوری زندگی انسان دوستی، رحم دلی اور غریب پروری کا عملی نمونہ ہے۔ آپﷺ یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے، بیواؤں کی خبرگیری کرتے، قرض داروں کی مدد فرماتے اور صحابۂ کرامؓ کو تلقین کرتے کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور مصیبت زدہ کی دل جوئی کرو۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جنہوں نے مدینہ کی ریاست کو ایک ایسا مثالی معاشرہ بنا دیا جہاں ایثار، مواسات اور باہمی تعاون زندگی کا شعار بن گئے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذمّہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر صاحبِ استطاعت فرد اپنے وسائل کا ایک حصّہ مستحقین کے لئے مخصوص کرے، ہر محلہ ضرورت مند خاندانوں کی خاموش کفالت کا نظام قائم کرے، مساجد، مدارس، سماجی تنظیمیں اور مخیر حضرات علاج، تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ معاشرے کی حقیقی تعمیر حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی احساسِ ذمّہ داری سے بھی ہوتی ہے۔

ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے پاس دینے کے لئے بہت زیادہ ہونا ضروری ہے۔ بسا اوقات ایک معمولی سا تعاون، ایک خلوص بھرا جملہ یا بروقت مدد کسی انسان کی زندگی بدل سکتی ہے۔ معاشرے کی حقیقی طاقت بلند عمارتوں یا بڑی شاہراہوں میں نہیں، بلکہ اس جذبۂ ایثار میں پوشیدہ ہے جس کے تحت خوش حال لوگ کمزور اور محروم افراد کا سہارا بنتے ہیں۔ ہم عہد کریں کہ اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں سے بے خبر نہیں رہیں گے۔ ان کی عزّتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے حتیٰ المقدور ان کی مدد کریں گے، اپنے وسائل میں سے ان کا حصّہ نکالیں گے، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کریں گے جہاں کوئی باپ اپنی بیٹی کی میت کندھوں پر اٹھا کر سفر کرنے پر مجبور نہ ہو، کوئی بوڑھا اپنی شریکِ حیات کو وہیل چیئر پر بس اسٹاپ تک لے جانے کی بے بسی محسوس نہ کرے، اور کوئی انسان صرف غربت کی وجہ سے اپنی عزّت اور امید سے محروم نہ ہو۔

ذرا اپنے دل سے پوچھیے! کیا ہمارے آس پاس کوئی ایسا خاندان تو نہیں جو فاقوں پر مجبور ہو؟ کیا کوئی بچّہ صرف فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم تو نہیں؟ کیا کوئی مریض دوا نہ ہونے کے باعث تکلیف سہہ رہا ہے؟ اگر ایسا ہے اور ہم اپنی استطاعت کے باوجود بے خبر ہیں تو ہمیں اپنے رویّوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے، کیونکہ اسلام صرف عبادات کا نہیں بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی دین ہے۔ یاد رکھیے! معاشرے کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس میں کتنے امیر بستے ہیں، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس میں کوئی غریب کتنا باوقار، محفوظ اور باعزّت زندگی گزار سکتا ہے۔
آئیے! آج ہی یہ عہد کریں کہ ہم اپنے معاشرے میں امید کے چراغ روشن کریں گے۔ کسی یتیم کی کفالت، کسی طالب علم کی تعلیم، کسی مریض کے علاج، کسی بیوہ کی مدد یا کسی بے روزگار کو روزگار فراہم کرنے میں اپنا حصّہ ضرور ڈالیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے معمولی سے تعاون سے کسی گھر میں خوشی لوٹ آئے، کسی ماں کی دعا ہمارے نصیب بدل دے اور کسی مجبور انسان کی آنکھوں کے آنسو ہمارے لئے آخرت کی نجات کا ذریعہ بن جائیں۔ انسانیت کا حسن صرف بڑے کارناموں میں نہیں، بلکہ ان چھوٹے چھوٹے اعمال میں پوشیدہ ہے جو کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے دیں۔ یہی اعمال ایک مہذب، باوقار اور رحم دل معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں، اور یہی وہ راستہ ہے جس کی تعلیم قرآنِ حکیم اور اسوۂ رسول اللّٰہﷺ ہمیں دیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

تازہ ترین خبریں

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

 

مسعود محبوب خان

دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں جو الفاظ سے زیادہ انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ ایک باپ اپنی فوت شدہ بیٹی کو کندھوں پر اٹھائے اس لئے بس میں بیٹھنے پر مجبور ہو کہ ایمبولینس کا کرایہ ادا نہیں کر سکتا، یا ایک بوڑھا شوہر اپنی مرحومہ اہلیہ کو وہیل چیئر پر بس اسٹاپ تک لے جانے کا ارادہ کرے تاکہ لوگ انہیں صرف سویا ہوا سمجھیں—یہ محض واقعات نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ثبت ایسے سوال ہیں جن کا جواب ہم سب کو دینا ہے۔ غربت کو اکثر صرف روزگار، آمدنی اور وسائل کی کمی سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ غربت انسان کی شخصیت، اس کے اعتماد، اس کی نفسیات اور اس کے خاندانی نظام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ایک باپ اپنی اولاد کا علاج نہ کرا سکے، ایک ماں اپنے بچّوں کو دو وقت کی روٹی نہ دے سکے یا ایک بزرگ علاج کے اخراجات کے خوف سے بیماری چھپاتا پھرے، تو یہ صرف انفرادی المیہ نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی ناکامی بن جاتا ہے۔

غربت انسان سے صرف آسائشیں نہیں چھینتی، بلکہ بسا اوقات اس کی مسکراہٹ، اس کا سکون، اس کا اعتماد اور اس کی عزّتِ نفس بھی چھین لیتی ہے۔ کتنے ہی والدین اپنے بچّوں کی تعلیم، علاج اور بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکنے کی وجہ سے اندر ہی اندر کرب میں مبتلا رہتے ہیں۔ کتنی ہی مائیں اپنی بھوک چھپا کر اپنے بچّوں کو کھانا کھلا دیتی ہیں، اور کتنے ہی بزرگ اپنی بیماری برداشت کرتے رہتے ہیں تاکہ اولاد پر بوجھ نہ بنیں۔ ایسے مواقع پر انسانیت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ ہمدردی صرف افسوس کے چند الفاظ کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کے دکھ کو کم کرنے کی عملی کوشش کا نام ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک تسلی، ایک مالی تعاون، ایک بیمار کی عیادت، ایک ضرورت مند کی خاموش مدد یا کسی مجبور انسان کی عزّتِ نفس کو مجروح کیے بغیر اس کا ہاتھ تھام لینا، یہی وہ اعمال ہیں جو معاشروں کو زندہ رکھتے ہیں۔
اسلام نے غربت کے خاتمے کے لئے محض ہمدردی کی تلقین نہیں کی بلکہ ایک مکمل معاشرتی نظام عطا کیا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات، عشر، کفارات، وقف، وراثت کی منصفانہ تقسیم اور صلہ رحمی جیسے احکام اسی مقصد کے لئے ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ رہے اور معاشرے کا ہر فرد عزّت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ اسلام ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں کسی ضرورت مند کو سوال کرنے کی نوبت نہ آئے، بلکہ اس کی ضرورت اس کے اظہار سے پہلے پوری کر دی جائے۔ اسلام نے بھی ہمیں یہی سبق دیا ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔ قرآنِ مجید بار بار یتیموں، مسکینوں، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، جب کہ رسول اللّٰہﷺ نے ضرورت مندوں کی کفالت، بیماروں کی عیادت اور پریشان حال لوگوں کی مدد کو عظیم عبادت قرار دیا۔

رسول اللّٰہﷺ کی پوری زندگی انسان دوستی، رحم دلی اور غریب پروری کا عملی نمونہ ہے۔ آپﷺ یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے، بیواؤں کی خبرگیری کرتے، قرض داروں کی مدد فرماتے اور صحابۂ کرامؓ کو تلقین کرتے کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور مصیبت زدہ کی دل جوئی کرو۔ یہی وہ تعلیمات ہیں جنہوں نے مدینہ کی ریاست کو ایک ایسا مثالی معاشرہ بنا دیا جہاں ایثار، مواسات اور باہمی تعاون زندگی کا شعار بن گئے۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذمّہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر صاحبِ استطاعت فرد اپنے وسائل کا ایک حصّہ مستحقین کے لئے مخصوص کرے، ہر محلہ ضرورت مند خاندانوں کی خاموش کفالت کا نظام قائم کرے، مساجد، مدارس، سماجی تنظیمیں اور مخیر حضرات علاج، تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ معاشرے کی حقیقی تعمیر حکومت کے ساتھ ساتھ عوامی احساسِ ذمّہ داری سے بھی ہوتی ہے۔

ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہمارے پاس دینے کے لئے بہت زیادہ ہونا ضروری ہے۔ بسا اوقات ایک معمولی سا تعاون، ایک خلوص بھرا جملہ یا بروقت مدد کسی انسان کی زندگی بدل سکتی ہے۔ معاشرے کی حقیقی طاقت بلند عمارتوں یا بڑی شاہراہوں میں نہیں، بلکہ اس جذبۂ ایثار میں پوشیدہ ہے جس کے تحت خوش حال لوگ کمزور اور محروم افراد کا سہارا بنتے ہیں۔ ہم عہد کریں کہ اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں سے بے خبر نہیں رہیں گے۔ ان کی عزّتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے حتیٰ المقدور ان کی مدد کریں گے، اپنے وسائل میں سے ان کا حصّہ نکالیں گے، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کریں گے جہاں کوئی باپ اپنی بیٹی کی میت کندھوں پر اٹھا کر سفر کرنے پر مجبور نہ ہو، کوئی بوڑھا اپنی شریکِ حیات کو وہیل چیئر پر بس اسٹاپ تک لے جانے کی بے بسی محسوس نہ کرے، اور کوئی انسان صرف غربت کی وجہ سے اپنی عزّت اور امید سے محروم نہ ہو۔

ذرا اپنے دل سے پوچھیے! کیا ہمارے آس پاس کوئی ایسا خاندان تو نہیں جو فاقوں پر مجبور ہو؟ کیا کوئی بچّہ صرف فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم تو نہیں؟ کیا کوئی مریض دوا نہ ہونے کے باعث تکلیف سہہ رہا ہے؟ اگر ایسا ہے اور ہم اپنی استطاعت کے باوجود بے خبر ہیں تو ہمیں اپنے رویّوں پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے، کیونکہ اسلام صرف عبادات کا نہیں بلکہ حقوق العباد کی ادائیگی کا بھی دین ہے۔ یاد رکھیے! معاشرے کی عظمت اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس میں کتنے امیر بستے ہیں، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس میں کوئی غریب کتنا باوقار، محفوظ اور باعزّت زندگی گزار سکتا ہے۔
آئیے! آج ہی یہ عہد کریں کہ ہم اپنے معاشرے میں امید کے چراغ روشن کریں گے۔ کسی یتیم کی کفالت، کسی طالب علم کی تعلیم، کسی مریض کے علاج، کسی بیوہ کی مدد یا کسی بے روزگار کو روزگار فراہم کرنے میں اپنا حصّہ ضرور ڈالیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے معمولی سے تعاون سے کسی گھر میں خوشی لوٹ آئے، کسی ماں کی دعا ہمارے نصیب بدل دے اور کسی مجبور انسان کی آنکھوں کے آنسو ہمارے لئے آخرت کی نجات کا ذریعہ بن جائیں۔ انسانیت کا حسن صرف بڑے کارناموں میں نہیں، بلکہ ان چھوٹے چھوٹے اعمال میں پوشیدہ ہے جو کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا دے دیں۔ یہی اعمال ایک مہذب، باوقار اور رحم دل معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں، اور یہی وہ راستہ ہے جس کی تعلیم قرآنِ حکیم اور اسوۂ رسول اللّٰہﷺ ہمیں دیتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں