جنگ نیوز
اننت ناگ میں پولیس ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کے دہشت گردانہ حملے میں جاں بحق ہونے کے بعد پوری وادی میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
سیکورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 3500 سے زائد مشتبہ OGWs (اوور گراؤنڈ ورکرز) اور دہشت گردوں کے مبینہ معاونین کو پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وادی کے تمام اضلاع میں ناکہ بندی، تلاشی، گاڑیوں کی چیکنگ، نگرانی اور محاصرہ و تلاشی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ CRPF کے سری نگر سیکٹر نے بھی ایک بیان میں عوام سے چوکنا رہنے اور سیکورٹی فورسز سے تعاون کی اپیل کی ہے۔
ادھر جاری کارروائی کے دوران حکام نے اننت ناگ ضلع میں مبینہ LeT (لشکرِ طیبہ) جنگجو عادل احمد ٹھوکر ساکن گوری، بیجبہاڑہ اور ہارون گنائی ساکن حسن پورہ کے خاندانی مکانات کو منہدم کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی دہشت گردی کے نیٹ ورک اور اس کے مبینہ معاون ڈھانچے کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔ گھروں کی مسماری اور اجتماعی گرفتاریاں دہشت گردی کا حل نہیں
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے منسوب مکانات کی مسماری اور اجتماعی گرفتاریاں دہشت گردی کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ نہیں، بلکہ اس سے عوام میں دوریاں پیدا ہوں گی، جبکہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی عوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔


