جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر / میرواعظِ کشمیر اور صدر انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں تاریخی جامع مسجد میں جاری مرمتی اور تحفظاتی کاموں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مرمتی کام کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ کام جامع مسجد کی تاریخی، مذہبی اور تعمیراتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی احتیاط، معیار اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جائے۔
اجلاس میں حالیہ بارشوں کے بعد سرینگر، بالخصوص تاریخی جامع مسجد اور نوہٹہ کے اطراف پیدا ہونے والی آبی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اوقاف کے جنرل سیکرٹری حاجی الطاف احمد نے میرواعظ کو جامع مسجد کے ارد گرد نکاسیٔ آب کے نظام کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد کے اطراف موجود ڈرینیج بڑی حد تک ناکارہ ہو چکا ہے، متعدد مقامات پر بند پڑا ہے اور گہرے ڈرینیج نظام سے اس کا مناسب اتصال بھی موجود نہیں ہے۔
اوقاف کے اراکین نے مزید بتایا کہ نوہٹہ کے اطراف سے بارش کا پانی جامع مسجد کے ڈرینیج نظام کی طرف آتا ہے، جس کے نتیجے میں بارش کے دوران مسجد کے اطراف پانی جمع ہو جاتا ہے۔ اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اس مسئلے کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو بار بار پانی جمع ہونے سے اس تاریخی ورثے کو بتدریج نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس مسئلے کو پہلے بھی متعلقہ محکموں کے ساتھ متعدد تحریری مراسلات کے ذریعے اٹھایا جا چکا ہے، جن میں نکاسیٔ آب کے نظام کی صفائی، بحالی اور گہرے ڈرینیج نظام سے مناسب ربط قائم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ جامع مسجد سرینگر کشمیر کے اہم ترین مذہبی، تاریخی اور تعمیراتی ورثوں میں شمار ہوتی ہے اور صدیوں سے یہاں کے عوام کی مذہبی، سماجی اور تہذیبی زندگی کا مرکز رہی ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جامع مسجد اور اس کے اطراف کے تاریخی ماحول کے تحفظ کے لئے بروقت دیکھ بھال، مؤثر تحفظاتی اقدامات اور مناسب شہری منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
اوقاف نے میرواعظ کو جامع مسجد کے اطراف میں تعمیراتی خلاف ورزیوں اور غیر مجاز تعمیرات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئی چار سے پانچ کثیر منزلہ عمارتوں اور شاپنگ کمپلیکسوں نے جامع مسجد کے تاریخی ماحول، روایتی حسن اور اطراف کی شناخت کو متاثر کیا ہے۔
اراکین نے بتایا کہ اس معاملے کو بھی متعلقہ حکام کے نوٹس میں پہلے ہی لایا جا چکا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ان خلاف ورزیوں کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر قانون کے مطابق سنجیدگی سے کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جامع مسجد کے اطراف آئندہ کسی بھی غیر مجاز تعمیر کی ہرگز اجازت نہ دی جائے۔
میرواعظ نے اوقاف کے عملے کو ہدایت دی کہ وہ ان دونوں معاملات کو جلد از جلد متعلقہ محکموں اور حکام کے ساتھ اٹھائیں اور مربوط انداز میں ان کی پیروی کریں تاکہ نکاسیٔ آب کے نظام کو بحال کیا جا سکے، جامع مسجد کو آئندہ پانی جمع ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے تاریخی تشخص اور اطراف کے ورثے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


