اسمارٹ سٹی یا جواب دہی کا امتحان؟

چند گھنٹوں کی بارش نے ایک بار پھر سری نگر کے اسمارٹ سٹی منصوبے کی حقیقت عوام کے سامنے آشکار کر دی۔ لال چوک، راجباغ، ڈل گیٹ، بمنہ، صورہ، خانیار، عیدگاہ اور دیگر علاقوں میں سڑکیں زیرآب آگئیں، ٹریفک مفلوج ہوگئی اور شہری شدید مشکلات سے دوچار رہے۔
اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے صرف سڑکیں تعمیر کیں، نکاسیٔ آب ان کے دائرۂ کار میں شامل نہیں تھی۔ یہ وضاحت اپنی جگہ، مگر عوام کے لئے سڑک اور ڈرینیج الگ الگ منصوبے نہیں بلکہ ایک ہی بنیادی سہولت ہیں۔ اگر سڑکیں چند گھنٹوں کی بارش بھی برداشت نہ کر سکیں تو ایسے منصوبے پر اٹھنے والے سوالات فطری ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ اسمارٹ سٹی منصوبہ ان کے دورِ حکومت میںعمل میں نہیںآیا، لیکن موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو جواب دے اور مسائل کا مستقل حل نکالے، نہ کہ صرف ذمہ داریوں کی نشاندہی کرے۔
اس لئے ضروری ہے کہ حکومت ایک آزاد اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے جو اسمارٹ سٹی منصوبے پر خرچ ہونے والے 792 کروڑ روپے کا مکمل آڈٹ کرے۔ عوام کو جاننے کا حق ہے کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی، کیا کام ہوئے اور بار بار کی بارش کے باوجود شہر آج بھی پانی میں کیوں ڈوب جاتا ہے۔
عوام کو بہانوں کی نہیں، جواب دہی، شفافیت اور پائیدار ترقی کی ضرورت ہے۔ یہی ایک حقیقی اسمارٹ سٹی کی پہچان ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

اسمارٹ سٹی یا جواب دہی کا امتحان؟

چند گھنٹوں کی بارش نے ایک بار پھر سری نگر کے اسمارٹ سٹی منصوبے کی حقیقت عوام کے سامنے آشکار کر دی۔ لال چوک، راجباغ، ڈل گیٹ، بمنہ، صورہ، خانیار، عیدگاہ اور دیگر علاقوں میں سڑکیں زیرآب آگئیں، ٹریفک مفلوج ہوگئی اور شہری شدید مشکلات سے دوچار رہے۔
اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے صرف سڑکیں تعمیر کیں، نکاسیٔ آب ان کے دائرۂ کار میں شامل نہیں تھی۔ یہ وضاحت اپنی جگہ، مگر عوام کے لئے سڑک اور ڈرینیج الگ الگ منصوبے نہیں بلکہ ایک ہی بنیادی سہولت ہیں۔ اگر سڑکیں چند گھنٹوں کی بارش بھی برداشت نہ کر سکیں تو ایسے منصوبے پر اٹھنے والے سوالات فطری ہیں۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ اسمارٹ سٹی منصوبہ ان کے دورِ حکومت میںعمل میں نہیںآیا، لیکن موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو جواب دے اور مسائل کا مستقل حل نکالے، نہ کہ صرف ذمہ داریوں کی نشاندہی کرے۔
اس لئے ضروری ہے کہ حکومت ایک آزاد اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے جو اسمارٹ سٹی منصوبے پر خرچ ہونے والے 792 کروڑ روپے کا مکمل آڈٹ کرے۔ عوام کو جاننے کا حق ہے کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی، کیا کام ہوئے اور بار بار کی بارش کے باوجود شہر آج بھی پانی میں کیوں ڈوب جاتا ہے۔
عوام کو بہانوں کی نہیں، جواب دہی، شفافیت اور پائیدار ترقی کی ضرورت ہے۔ یہی ایک حقیقی اسمارٹ سٹی کی پہچان ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں