جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو سوشل میڈیا پر پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس پر مشتمل ویڈیوز کی تشہیر روکنے سے متعلق مفادِ عامہ کی درخواست (PIL) مسترد کر دی۔
جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس الوک آرادھے پر مشتمل بنچ نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت براہ راست رجوع نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ایسے معاملات میں دائر کی جانے والی درخواستیں بظاہر غیر ضروری سنسنی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے مذہبی شخصیات کے خلاف توہین آمیز مواد کی روک تھام کے لیے رہنما اصول وضع کرنے، مبینہ ویڈیوز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کی ہدایت دینے کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اس مقصد کے لیے موجودہ قوانین اور انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز، 2009 کے تحت مناسب قانونی ذرائع پہلے سے دستیاب ہیں۔
یاد رہے کہ جون میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران انفلوئنسر نازیہ الٰہی خان کے مبینہ ریمارکس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے اس معاملے میں فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزار کو معمول کے قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔


