
ریاض فردوسی
نظامِ انصاف کو ایک "Hospital” کی طرح ہونا چاہیے،جہاں ہر مریض کا علاج بغیر کسی امتیاز کے جلد از جلد ہو،لیکن اگر ہسپتال میں ڈاکٹر ہی کم ہوں اور دوائیاں بھی مہنگی ہوں،تو مریض ہسپتال کے دروازے پر ہی دم توڑ دیتا ہے۔یہی حال عدالتوں کا ہے،جہاں سستے اور فوری انصاف کی عدم دستیابی کی وجہ سے عام آدمی کا حق ضائع ہو رہا ہے۔
انصاف کا مطلب کسی بھی معاملے میں غیر جانبداری سے فیصلہ کرنا اور حقدار کو اس کا حق دینا ہے۔اس کا بنیادی مقصد معاشرے میں برابری لانا اور توازن قائم رکھنا ہے۔اسلام میں بھی عدل و انصاف کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ہر انسان کو ترقی اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملیں۔قانون کی نظر میں امیر،غریب،طاقتور اور کمزور سب قانون کے سامنے برابر ہوں۔انصاف کا الٹ ظلم اور ناانصافی ہے۔
عدالتوں میں انصاف کا دم توڑنا ایک ایسا المیہ ہے،جو بنیادی حقوق اور انسانی معاشرے کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔اس صورتحال کو سمجھنے کے لئے چند اہم حقائق اور ان کی وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں۔
1)تاخیر سے ملنے والا انصاف،ناانصافی کے مترادف ہےعدالتی نظام میں مقدمات کا سالوں تک لٹک جانا ایک عام مسئلہ ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ ججز کی کمی اور مقدمات کا حد سے زیادہ بوجھ ہے۔جب لوگوں کو بروقت فیصلہ نہیں ملتا،تو ان کا عدالتی نظام سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
2)طویل قید اور بنیادی حقوق کا سلب ہوناغریب اور بے وسیلہ لوگ اکثر بہترین وکلاء کی خدمات حاصل نہیں کر پاتے۔اس وجہ سے وہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے یا معمولی الزامات کے تحت سالہا سال جیل میں قید کاٹتے ہیں۔انہیں ضمانت تک نہیں ملتی،جو کہ بنیادی انسانی حقوق کے بر عکس ہے۔
3)انصاف کا حصول اتنا مہنگا ہو چکا ہےکہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔کورٹ فیس،وکلاء کی بھاری فیسیں،اور دیگر اخراجات ایک عام انسان کی کمر توڑ دیتے ہیں۔امیر اور بااثر افراد اس کا فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو قانون سے بالاتر ثابت کر لیتے ہیں۔
4)قانون کا دوہرا معیارعموماً دیکھا گیا ہےکہ طاقتور اور بااثر افراد کے لئے قانون کے راستے نرم جبکہ کمزور اور عام آدمی کے لئے کٹھن ہوتے ہیں۔طاقتور مجرم اکثر سزاؤں سے بچ نکلتے ہیں،جس سے معاشرے میں مایوسی پھیلتی ہے۔
5)سیاسی اور انتظامی دباؤ فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے،کبھی کبھار عدالتی فیصلوں پر سیاسی دباؤ یا اثر و رسوخ چھایا ہوتا ہے۔اس سے ججوں کی آزادی اور غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے،اور عام عوام کا عدلیہ پر اعتماد دم توڑنے لگتا ہے۔انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار ہے۔جب عدالتوں سے فیصلے ملنے میں سالوں لگ جاتے ہیں،تو مظلوم کا عدالتی نظام پر اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔اگر کسی کو حق برسوں بعد ملے،تو اس کا سارا مزہ ختم ہو جاتا ہے۔کیس لڑنے میں بہت زیادہ وکیل کی فیس لگتی ہے۔تاریخ پر جاتے جاتے انسان کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔عدالتوں میں لاکھوں کیسز پہلے سے چل رہے ہوتے ہیں،جس سے نئے کیسز پیچھے رہ جاتے ہیں۔
پرانے قوانین اور عدالتی نظام بہت سست ہیں۔سب سے اہم ججوں کی کمی ہے۔آبادی کے لحاظ سے ججوں کی تعداد بہت کم ہے۔
اگر آپ کسی کو ادھار پیسے دیں یا اپنے حقوق کے لئے اس سے کہیں اور وہ نا دیں نا پیسے واپس نہ کرے،پھر آپ کورٹ جائیں۔اگر فیصلہ 10 سال بعد آئے،تو اس پیسے اور وقت کی قیمت آدھی بھی نہیں رہے گی۔یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی آپ سے پانی چھین کر پیاس مرنے کے بعد دے۔مظلوم کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لئے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور ججوں کی تعداد بڑھانا بہت ضروری ہے۔
عام طور پر عدل اور انصاف کو ایک ہی معنی میں سمجھا جاتا ہے،لیکن گہرائی میں ان کے درمیان بنیادی اور فلسفیانہ فرق پایا جاتا ہے۔
عدل کا مطلب ہے "حق دار کو اس کا حق دینا یا چیز کو اس کی مناسب جگہ پر رکھنا”،
جبکہ انصاف کا لغوی مطلب ہے "نصف (آدھا) کرنا یا برابری قائم کرنا”۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ تم سے پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ جب ان کے چھوٹے (طبقے کے لوگ) جرم کرتے تو اُنہیں سزا دی جاتی اور جب ان کے بڑے (طبقے کے لوگ) جرائم کرتے تو اُنہیں چھوڑ دیا جاتا۔جہاں جہاں انسانوں کے اس مقدس ترین طبقے کو اقتدار میسر آیا تو انہوں نے انسانوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کیا اور ظلم و جور سے انسانی معاشروں کو پاک صاف کرتے چلے گئے۔خاص طورپر محسنِ انسانیت ﷺ نے جس معاشرے کی بنیاد رکھی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قیادت میں اس کو تشکیل دیااور عوام اور خواص کے لئے مشعل راہ بنے۔
اسلامی معاشرے کا خاصہ ہی سماجی عدل و انصاف پر قائم اور دائم ہے۔
نماز کے اندر پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر جگہ ملتی ہے،کسی سید صاحب،شیخ صاحب،انصاری صاحب یا خان صاحب،وزیر اعظم صاحب،ملک صاحب یا پیر صاحب وغیرہ کے لئے کسی طرح کی مراعات نہیں ہے،بس جو پہلے آئے گا وہ مقرب و معزز جگہ پر مقام پائے گا اور جو دیر سے پہنچے گاوہ پچھلی صفوں میں کھڑا ہوگا۔اسی طرح روزے میں بھی معاشرے کے سب طبقات اور تمام افراد کے لئے ایک ہی وقت پر روزہ شروع ہوتاہے(اہل تشیعہ کے اختلاف سے الگ ہو کر) اور ایک ہی وقت پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔عدلِ اجتماعی کی ایک اور تاریخ ساز اور عہد آفریں مثال مناسکِ حج ہیں،جن میں صدہا سالوں سے ایک بڑے کے گھر میں سب چھوٹے کلیۃ معاشرتی عدل کے پیمانوں کے مطابق مراسم عبودیت ادا کرتے ہیں۔سیاست کے میدان میں محض اہلیت کی بنیاد پر سب طبقات کے سب افراد کے لئے کل مناصب کے دروازے کھلے ہیں۔معیشت کے میدان میں
حرام و حلال سب کے لئے برابر ہیں،معاشرت کے میدان میں صرف(قانون الہیہ کی روشنی میں) تقویٰ ہی معیارِ عزت و توقیر ہے۔وغیرہ وغیرہ
حالات مکہ میں کس قدر پریشان کن رہے،ظلم و ستم کے پہاڑ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب پر توڑے جارہے تھے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شہید ہو رہے تھے،خود آپ ﷺ کی ذات گرامی ظلم و بربریت کے زد میں تھی،لیکن جب ایک مسافر تاجر اور ایک بچے کا حق دلانے کے لئے،ان کو عدل و انصاف دلانے کے لئے آنحضرت ﷺ خود ابو جہل جیسے ظالم و جابر کے گھر پر گیے اور ان کو ان کاحق دلوایا،عدل و انصاف قائم کیا۔جس معاشرے میں عدل و انصاف ہوتا ہے وہاں امن و امان قائم ہوتا ہے۔لوگ ڈر اور خوف کے بغیر اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال آپ ﷺ کی سیرت طیبہ ہے۔
آپ ﷺ نے قانون کی بالادستی قائم کی اور فرمایا کہ اگر آپ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی(معاذ اللہ صد بار معاذ اللہ) تو اسے بھی سزا ملتی(او کما قال ﷺ)
یہودیوں نے انبیاء علیہم السلام جیسی ہستیوں کے بھی قتل سے دریغ نہ کیاتو باقی عدل و انصاف کے تقاضے وہ کہاں سے پورے کریں گے؟فلسطین میں لاکھوں بچوں کو بے دریغ وحشیانہ انداز سے قتل کیا،عیسائیوں کے کسی فرقے کا پوپ آج تک ایشیا یا افریقہ سے نہیں آیا،حالانکہ اس مذہب کے اکثریتی پیروکار ان دونوں براعظموں سے تعلق رکھتے ہیں اور صلیبی جنگوں وسقوطِ قرطبہ سے آج تک دامنِ صلیب انسانی خون خاص طور سے خون مسلم سے رنگارنگ ہے۔آج بھی بے دریغ عیسائی دنیا مسلمانوں کا دن و رات قتل عام کر رہی ہے۔ہندوؤں نے چار ذاتوں کی آڑ میں سماجی انصاف کو ذبح کر دیا،غریب اور نادار ہندوؤں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے،ان کو جینے کے حق تک سے محروم کر دیا،بدھوں پر اتنا ظلم کیا کہ وہ یہاں سے ہجرت کرگیے،لگاتار ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کیا،ان کی بچیوں کے ساتھ وحشیانہ انداز سے زنا کیا،دور حاضر میں منی پور اس کی اہم مثال ہے۔ایک بہن کو بنا کپڑے ننگا گھمایا گیا،انسانیت شرمسار ہوئ،ہزاروں بہنوں کے عصمت کے دامن کو تار تار کیا۔
اب ہندو شدت پسند مسلمانوں پر ظلم کر رہے ہیں،ان کا مقصد ہے بدھوں کی طرح مسلمانوں کو اس ملک سے بھگا دینا۔اس لئے مسلسل مساجد اور مدارس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔بدھوں نے برما میں سینکڑوں نہیں،ہزارہا مسلمان عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کا قتلِ عام کیا اور ان کی بستیاں اور املاک نذرِ آتش کیں اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں تک کو نیست و نابود کرکے سماجی انصاف کا قلع قمع کر دیا۔تب بھی تعجب خیز بات ہے کہ مسلمان ہی ظالم،مسلمان ہی دہشت گرد،مسلمان ہی انسانیت کا دشمن،مسلمان ہی امن کا مخالف،مسلمان ہی زناکار و بدکار۔۔؟
تعجب ہے


