اصل سوال ریاستی درجہ ہے، دعوت نامے نہیں

نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے INDIA اتحاد کے قائدین سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبےکیلئے احتجاج میں شرکت کی دعوت نے ایک بحث کو جنم دیا ہے۔سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کن رہنماؤں کو مدعو کیا گیا اورکچھ کو نظر انداز کیا گیا۔ بعض سیاسی شخصیات نے کھلے عام افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں دعوت نہیں دی گئی۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور ریاستی درجہ کے خاتمے کے عمل میں مختلف سیاسی قوتوں کا براہِ راست یا بالواسطہ کردار رہا ہے۔ اگر آج انہی میں سے بعض عناصر کو احتجاج میں مدعو کیا گیا ہے تو اس پر سوال اٹھانا ہر شہری اور ہر سیاسی مبصر کا حق ہے۔ کسی بھی عوامی تحریک کی اخلاقی ساکھ اس وقت متاثر ہوتی ہے جب اس کے اسٹیج پر وہ چہرے بھی دکھائی دیں جن پر عوامی حقوق کی پامالی میں شریک ہونے کا الزام ہو۔
لیکن دوسری طرف ایک اور سوال بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جو لوگ صرف اس بنیاد پر احتجاج کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ فلاں رہنما کو دعوت کیوں نہیں دی گئی، کیا وہ یہ بتانے کی بھی ہمت رکھتے ہیں کہ کن افراد کو دعوت نہیں دی جانی چاہیے تھی؟ اگر کسی کے نزدیک احتجاج کی ساکھ متاثر ہوئی ہے تو اسے صرف غیر مدعو افراد کی فہرست گنوانے کے بجائے ان شخصیات کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے جن کی موجودگی اس جدوجہد کے مقصد سے متصادم ہے۔
محض یہ کہنا کہ فلاں کو نہیں بلایا گیا، ایک ادھوری تنقید ہے۔ مکمل دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ ناقدین واضح کریں کہ کون لوگ ریاستی درجہ کے خاتمے، آئینی حقوق کی کمزوری یا عوامی اعتماد کے ٹوٹنے کے ذمہ دار رہے ہیں، اور پھر یہ بھی کہیں کہ انہیں احتجاجی پلیٹ فارم پر جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ اگر یہ جرات موجود نہیں تو پھر صرف دعوت ناموں پر واویلا کرنا سیاسی اصول پسندی نہیں بلکہ محض عوامی توجہ حاصل کرنے کی ایک مشق محسوس ہوتی ہے۔
ریاستی درجہ کی بحالی کوئی جماعتی مسئلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے کروڑوں عوام کے سیاسی وقار، وفاقی ڈھانچے اور آئینی حقوق کا سوال ہے۔ ایسے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو اپنی انا، جماعتی مفادات اور وقتی تشہیر سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔ دعوت ناموں پر سیاست کرنا آسان ہے، لیکن سچائی کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ پورا سچ بولے۔ صرف یہ کہنا کہ فلاں رہنما کو مدعو نہیں کیا گیا، کافی نہیں۔ یہ بھی بتانا ہوگا کہ کن لوگوں کو مدعو کرنا اس جدوجہد کے مقصد کے خلاف تھا۔ بصورت دیگر، یہ تمام شور محض سیاسی تشہیر، وقتی سرخیوں اور منافقانہ سیاست کے سوا کچھ نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

اصل سوال ریاستی درجہ ہے، دعوت نامے نہیں

نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے INDIA اتحاد کے قائدین سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبےکیلئے احتجاج میں شرکت کی دعوت نے ایک بحث کو جنم دیا ہے۔سوشل میڈیا پر گزشتہ چند دنوں سے یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کن رہنماؤں کو مدعو کیا گیا اورکچھ کو نظر انداز کیا گیا۔ بعض سیاسی شخصیات نے کھلے عام افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں دعوت نہیں دی گئی۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت اور ریاستی درجہ کے خاتمے کے عمل میں مختلف سیاسی قوتوں کا براہِ راست یا بالواسطہ کردار رہا ہے۔ اگر آج انہی میں سے بعض عناصر کو احتجاج میں مدعو کیا گیا ہے تو اس پر سوال اٹھانا ہر شہری اور ہر سیاسی مبصر کا حق ہے۔ کسی بھی عوامی تحریک کی اخلاقی ساکھ اس وقت متاثر ہوتی ہے جب اس کے اسٹیج پر وہ چہرے بھی دکھائی دیں جن پر عوامی حقوق کی پامالی میں شریک ہونے کا الزام ہو۔
لیکن دوسری طرف ایک اور سوال بھی اتنا ہی اہم ہے۔ جو لوگ صرف اس بنیاد پر احتجاج کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ فلاں رہنما کو دعوت کیوں نہیں دی گئی، کیا وہ یہ بتانے کی بھی ہمت رکھتے ہیں کہ کن افراد کو دعوت نہیں دی جانی چاہیے تھی؟ اگر کسی کے نزدیک احتجاج کی ساکھ متاثر ہوئی ہے تو اسے صرف غیر مدعو افراد کی فہرست گنوانے کے بجائے ان شخصیات کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے جن کی موجودگی اس جدوجہد کے مقصد سے متصادم ہے۔
محض یہ کہنا کہ فلاں کو نہیں بلایا گیا، ایک ادھوری تنقید ہے۔ مکمل دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ ناقدین واضح کریں کہ کون لوگ ریاستی درجہ کے خاتمے، آئینی حقوق کی کمزوری یا عوامی اعتماد کے ٹوٹنے کے ذمہ دار رہے ہیں، اور پھر یہ بھی کہیں کہ انہیں احتجاجی پلیٹ فارم پر جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ اگر یہ جرات موجود نہیں تو پھر صرف دعوت ناموں پر واویلا کرنا سیاسی اصول پسندی نہیں بلکہ محض عوامی توجہ حاصل کرنے کی ایک مشق محسوس ہوتی ہے۔
ریاستی درجہ کی بحالی کوئی جماعتی مسئلہ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے کروڑوں عوام کے سیاسی وقار، وفاقی ڈھانچے اور آئینی حقوق کا سوال ہے۔ ایسے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو اپنی انا، جماعتی مفادات اور وقتی تشہیر سے بالاتر ہو کر سوچنا چاہیے۔ دعوت ناموں پر سیاست کرنا آسان ہے، لیکن سچائی کا تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ پورا سچ بولے۔ صرف یہ کہنا کہ فلاں رہنما کو مدعو نہیں کیا گیا، کافی نہیں۔ یہ بھی بتانا ہوگا کہ کن لوگوں کو مدعو کرنا اس جدوجہد کے مقصد کے خلاف تھا۔ بصورت دیگر، یہ تمام شور محض سیاسی تشہیر، وقتی سرخیوں اور منافقانہ سیاست کے سوا کچھ نہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں