امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کی تصاویر اور مناظر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق، امریکہ ایران کی پوری اعلیٰ قیادت کو "ایک ہی حملے” میں نشانہ بنا سکتا تھا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ اس صورت میں مذاکرات کی گنجائش ختم ہو جاتی. امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "وہ سب ایک ہی جگہ موجود تھے۔ ہم انہیں ایک ہی حملے میں ختم کر سکتے تھے، لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا کیونکہ پھر ہمارے پاس بات چیت کے لیے کوئی فریق باقی نہ رہتا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ خامنہ ای کے جنازے میں ایرانی عوام کے جذباتی ردِعمل نے انہیں حیران کیا۔ ان کا کہنا تھا، "میں سمجھتا تھا کہ ایرانی عوام سابق رہبرِ اعلیٰ کو پسند نہیں کرتے، لیکن انہیں روتے دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔” تاہم انہوں نے یہ بھی کہا، "ممکن ہے یہ آنسو حقیقی نہ ہوں.
واضح رہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے پہلے روز آیت اللہ علی خامنہ ای امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے.
نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے: ٹرمپ
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے جو کہ نیٹو سربراہی اجلاس سے واپسی کے بعد اگلے ہفتے ہو سکتی ہے۔ "ہم بہت اچھی طرح سے ملتے ہیں۔ تاہم وہ [نیتن یاہو] جانتے ہیں کہ باس کون ہے۔” ٹرمپ نے ایکسیوس کے ساتھ ایک مختصر ٹیلیفونک انٹرویو میں اپنا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی۔
رپورٹ کے مطابق، مجوزہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان فروری میں ایران جنگ سے قبل وائٹ ہاؤس کے سیٹویشن روم میں ہونے والی ملاقات کے بعد یہ پہلی ملاقات ہو گی، جہاں نیتن یاہو نے ایران کے خلاف مشترکہ جنگ کا منصوبہ پیش کیا تھا۔
دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ نیتن یاہو نے جمعہ کے روز ٹرمپ کو فون کیا اور انہیں امریکہ کی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر مبارکباد دی۔ "اپنی گفتگو کے دوران، نیتن یاہو نے کہا کہ امریکہ عالمی آزادی کا ضامن ہے، اور اسرائیل امریکہ کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ نے جلد ہی امریکہ میں ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔” نیتن یاہو کے دفتر نے بھی اس کی تصدیق کی۔


