
ساحلؔ عرفان شفیع
میری زندگی ’ نثر ‘ کی مانند مگر ’شاعرانہ‘ مزاج رکھتا ہوں
مجھے کل پہ بھروسہ نہیں اپنی زندگی میں ’آج ‘ رکھتا ہوں
مجھے وعدوں پر اعتبار نہیں ،کرتا ہوں نہ کرنے دیتا ہوں
میں نے سیکھی ہے پابندی فقط ، اپنے قول کی لاج رکھتا ہوں
مجھے کسی سے کوئی غرض نہیں ، نہ سہاروں کی توقع ہے
دکھ جھیلنا عادت ہے میری ، ہر روگ کا علاج رکھتا ہوں
مجھے خود پہ یقین بہت کرتا ہوں ، کرتے آیا ہوں
میری بستی جنگل کی مانند ، جہاں میں شیر کا راج رکھتا ہوں
میں موجوں سے ڈرتا نہیں ساحلؔ ہوں ،اندر ساگر ہے
رکھ کے ساتھ اتنی بڑی دنیا کیا یہ معمولی کاج رکھتا ہوں


