کہانی کائنات کی …قرآن کی زبانی سنئے

ابونصر فاروق
ان آیات کوتفہیم القرآن میںتفسیر کے حوالے سے پڑھ کر یہ سمجھنا ہے کہ اللہ نے کائنات کب کس طرح بنائی  ؟  اس کے بنانے کا مقصد کیا تھا۔ انسان کو کیوں پیدا کیا۔اُس کی پیدائش کا مقصد کیا ہے  ؟   دنیا میں انسان کس حیثیت سے اور کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے  ؟  اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ہر نسل کے لئے ایک نبی کیوں بھیجا اور اس طرح لاکھوںانبیا ء کیوں آئے  ؟  آخری نبی حضرت محمدﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔قیامت تک کی قوموں کے لئے نبی کی ضرورت کس کو پوری کرنی ہے  ؟  رسول اللہﷺ نے خطبہ حج میں یہ بات کیوں کہی تھی  ؟  ’’آگاہ رہو کہ میں نے بات پہنچا دی اور تم لوگوں سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو اب بتاؤ کہ تم کیا کہو گے  ؟  لوگوں نے پکار کر کہا ،ہم لوگ گواہی دیتے ہیں کہ آپﷺنے پیغام پہنچا دیا، امت کو نصیحت کرنے کا حق ادا کر دیا اور امانت الٰہی کو ہم تک پہنچا دیا۔ یہ سن کر آپﷺنے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے فرمایا،اے اللہ تو خود بھی گواہ رہیو! یہ بات آپﷺنے تین بار فرمائی۔ ‘‘(مسلم)
اور یہ کہ’’میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں ،جسے تم مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، وہ ہے اللہ کی کتاب۔‘‘ (مسلم)حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیںکہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے تم ضرور نیک باتوں کا حکم دیتے رہنا اور بری باتوں سے روکتے رہنا ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب مسلط کر دے گا پھر تم دعا کروگے مگر تمہاری دعا قبول نہیں ہو گی۔ (ترمذی)
(01) قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔(القلم:۱)
(02) اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیاجب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا،تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے ۔ اب اگر اے محمدﷺتم کہتے ہو کہ لوگو مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤگے تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔(ہود:۷)
(03) اور ہم نے اس آسمان اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، محض کھیل اور تماشے کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ (۱۶) اگر ہم اس کا ارادہ کرتے اور ہم کو ایسا کھیل مقصود ہوتا تو ہم اپنے پاس سے کوئی چیز بنا لیتے۔(۱۷) سچ تو یہ ہے کہ ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کی بھیجا نکال دیتا ہے اور وہ مغلوب ہوجاتا ہے۔ (انبیاء:۱۶تا۱۸)
(04) کیا وہ لوگ جنہوںنے(نبی ﷺکی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہے، غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور پانی سے ہر چیز پیدا کی،کیا وہ ہماری خلاقی کو نہیں مانتے  ؟ (۳۰)اور اسی نے رات کی اور دن کی اور سورج کی اور چاند کی تخلیق کی ہے،سب کے سب اپنے دائرے میں گردش کر رہے ہیں۔(انبیاء:۳۰تا۳۳)
(05) حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر تخت سلطنت پر جلوہ گر ہو کر کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔کوئی شفاعت و سفارش کرنے والا نہیں الا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے،یہی اللہ تمہارا رب ہے لہذا تم اسی کی عبادت کرو ،پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤگے۔(۳) اُسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بیشک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے، اُن کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پئیں اور دردناک سزا بھگتیں، اُس انکار حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔(۴)وہی ہے جس نے سورج کو اجیالا بنایااور چا ند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اس سے برسوںاور تاریخوں کے حساب معلوم کرو۔اللہ نے یہ سب برحق ہی پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے ان کے لئے جوعلم رکھتے ہیں۔(۵) یقینارات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہے،نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لئے جو(غلط بینی و غلط روی سے)بچنا چاہتے ہیں۔(یونس:۳تا۶)
(06) اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے۔(۱۴)تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے،بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔(۱۵)یہ ہماری کارفرمائی ہے کہ آسما ن میں ہم نے بہت مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوںکے لئے (ستاروں سے ) آراستہ کیا(۱۶) اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا۔کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا۔ (الحجر:۱۴ت۱۷)
(07) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہواجو اس وقت محض دھواں تھا۔ اس نے آسمان اور زمین سے کہا وجود میں آ جاؤ،خود تم چاہو یا نہ چاہو، دونوں نے کہا ہم آ گئے فرماں برداروں کی طرح۔ (حم سجدہ:۱۱)
(08) اچھا انتظار کرو اس دن کا جب آسمان صریح دھواں لئے ہوئے آئے گا ۔(۱۰) اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا۔(دخان:۱۰/۱۱)
(09) رہے وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہوگا تو وہ یقینااس سے دور رکھے جائیں گے۔(۱۰۱) اُس کی سرسراہٹ تک نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ اپنی من چاہی چیزوں کے درمیان رہیں گے۔(۱۰۲)وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔ (وہ کہیں گے)یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔(۱۰۳)جس روز ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے کاغذ کو لپیٹ لیا جاتا ہے اورہم دوبارہ پیدا کریں گے جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، ہمارے ذمے یہ وعدہ رہا،اور ہم ایسا کر کے رہیں گے۔ (۱۰۴)اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔(۱۰۵) اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزاروں کے لئے۔(انبیاء:۱۰۱تا۱۰۶)
(10) پاک ہے وہ جس نے ہمارے لئے ان چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میںلانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔(۱۳)اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔(زخرف:۱۳/۱۴)
(11) اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھا یے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیااور فرمایا،اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا)تو ذرا ا ن چیزوں کے نام بتاؤ۔ (۳۱)اُنہوں نے عرض کیا، نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا آپ نے ہم کو دیا ہے۔حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔(۳۲)پھر اللہ نے آدم سے کہا ، تم ان چیزوں کے نام بتاؤ۔جب اُس نے اُن کو سب کے نام بتا دیے تو اللہ نے فرمایا، میں نے تم سے کہا نہ تھاکہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو،وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اُسے بھی میں جانتا ہوں۔(۳۳)پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگ جھک جاؤ، تو سب جھک گئے مگر ابلیس نے انکا ر کیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔(۳۴)پھر ہم نے آدم سے کہا تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بہ فراغت جو چاہو کھاؤ پیو، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ، ورنہ ظالموں میں شمار ہوگے۔(۳۵)آخر کار شیطان نے اُن دونوں کو اُس درخت کی ترغیب دے کرہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور اُنہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے۔(۳۶)اُس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی،جس کو اُس کے رب نے قبول کر لیا، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے(۳۷) ہم نے حکم دیا تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہوگا(۳۸)اور جو لوگ اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔(البقرہ:۳۱تا۳۹)
(12) اور اے نبی ان لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں،انہوں نے کہا ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ہم اس پر گواہی دیتے ہیں،یہ ہم نے اس لئے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے۔(اعراف:۱۷۲)
(13) انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے۔(۱۹) جب اس پر مصیبت آتی ہے توگھبرا اٹھتا ہے۔(۲۰)اور جب اسے خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔(۲۱) مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں)جو نماز پڑھنے والے ہیں۔(۲۲)جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔(۲۳)  جن کے مالوں میںسائل اور محروم کا۔(۲۴)   ایک حق ہے۔(معارج:۱۹/۲۵)
(14) لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیااور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایااور ان دونوں سے بہت مرد عورت د نیا میں پھیلا دیے۔اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔ (النساء:۱)
(15) میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سواکسی کام کے لئے پیدا نہیںکیا کہ وہ میری بندگی کریں۔(۵۶) میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اورنہ یہ چاہتاہوںکہ وہ مجھے کھلائیں۔(۵۷) اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست۔(ذاریات:۵۶تا۵۶۸)
(16) اب ان سے پوچھو،ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں،ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔(صافات:۱۱)
(17) ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔(۷۲)اس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوںاور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوںکو سزادے اور مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے۔اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔(احزاب:۷۲،۷۳)
(18) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقینا بڑا کام ہے ۔، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔(مومن:۵۷)
(19) (جواب ملے گا)یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف تم کو بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور جب اس کے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے، اب فیصلہ اللہ بزرگ وبرتر کے ہاتھ میں ہے۔ (۱۲)(پس اے رجوع کرنے والو) اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لئے خالص کر کے،چاہے تمہارا یہ عمل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاؤ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو۔اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیاجاتا ہے۔یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے تاکہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ، اور اس لئے کہ تم حقیقت کو سمجھو۔(۶۷)وہی ہے زندگی دینے والا، او روہی موت دینے والا ہے۔وہ جس بات کا بھی فیصلہ کر دیتا ہے،بس ایک حکم دیتا ہے کہ ہو جائے اور وہ ہوجاتی ہے۔ (مومن:۱۲تا۱۴…۶۷/۶۸)
(20) لوگو اگرتمہیں زندگی بعد موت کے بارے میںکچھ شک ہے توتمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے،پھر نطفے سے ،پھر خون کے لوتھڑے سے،پھر گوشت کی بوٹی سے، جوشکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی (یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں )تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموںمیں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تم کوایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں( پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی تک پہنچو۔اور تم میں سے کوئی پہلے واپس بلا لیا جاتا ہے، اور کوئی بدترین عمرکی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔اورتم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے پھر جہاں ہم نے اس پر منہ برسایاکہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی۔(۵)یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے،اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔(حج:۵/۶)
(21) یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں ۔(۳۸)ان کو ہم نے بر حق پیدا کیا ہیمگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (دخان:۳۸،۳۹)
(22) وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں، چھ دنوں میں پیدا کیا اور اُس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا،اُس کے سو انہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اُس کے آگے سفارشکرنے والا،پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤگے  ؟(۴)وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔(۵)جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی،اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی، پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کاہے۔(۷) پھر اُس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح ہے۔(۸)پھر اُس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں، اور دل دیے۔تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔(السجدہ :۴تا۹)
(23) درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اپنے تخت پر جلوہ فرما ہوا، جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اورپھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے، جس نے سورج اور چاند تارے پیدا کئے۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں۔خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کاامر ہے۔بڑا با برکت ہے اللہ،سارے جہانوں کا مالک اور پروردگار۔(۵۴) اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے،یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(۵۵)زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے،اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ،یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں کے قریب ہے۔(اعراف:۵۴ تا ۵۶)
(24) نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔(۱)جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تا کہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔(الملک:۱/۲)
(25) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟(۲) حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون؟ (۳)اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کر رہے ہیں، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے،بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں۔(۴)جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو(اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ)اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔(۵) جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا اپنے ہی بھلے کے لئے کرے گا، اللہ یقینا دنیا جہان والوں سے بے نیاز ہے۔(عنکبوت:۲،۳)
(26) اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔انہیں خوش خبری دے دو (۱۵۵ )ان حالات میںجو لوگ صبر کریں اورجب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں،ہم اللہ ہی کے ہیں اوراللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔(۱۵۶ )ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اورایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔(البقرہ:۱۵۵،۱۵۶)
(27) مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوںکی آزمائشیں پیش آ کر رہیں گی،ا ور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پرقائم رہو، تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔(آل عمران:۱۸۶)
(28) اور اس نے آپ سے قبل کسی بشر کو ایسا نہیں بنایا جو ہمیشہ زندہ رہے، کیاآپ اپنے رب کے پاس چلے جائیں تو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔(۳۴)ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے،اور ہم نے تمہاری آزمائش کے لئے خیر کو اور شر کو فتنہ بنایا ہے اور ہماری ہی طرف تم سب کو لوٹ کر آنا ہے۔ (انبیاء:۳۴تا۳۶)
(29) اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے،اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے۔اے محمدﷺہم نے تم کولوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے۔(النساء:۷۹)
(30) عذاب کے لئے جلدی نہ مچاؤ،اللہ اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے اور تمہارے رب کا ایک دن تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کا ہوتا ہے۔ (حج:۴۷)
(31) اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔(۳) ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔(معارج:۳/۴)
(32) وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اوراُس کی ایک تقدیر مقرر کی۔( فرقان:۲)
(33) پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔(۴۳)اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان وزمین میں ہیں۔کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو،حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔(بنی اسرائیل: ۴۳،۴۴)
(34) پھر جب ایک مرتبہ صور میں پھونک مار دی جائے گی۔(۱۳)اور زمین اورپہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔(۱۴)اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا۔(۱۵) اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی۔(۱۶)فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے۔اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔(۱۷) وہ دن ہوگا جب تم پیش کئے جاؤگے، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا۔(۱۸) اُس وقت جس کا نامۂ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا لودیکھو، پڑھو میرا نامۂ اعمال ۔ (۱۹)میں سمجھتا تھا کہ ضرور مجھے اپنا نامۂ اعمال ملنے والا ہے۔(۲۰) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔ (حاقہ:۱۳/۲۰)
(35) تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے۔اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا۔ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنادیا۔(۴۵)  پھر جیسے جیسے سورج اٹھتا جاتاہے   ہم اس سایہ کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں(۴۶)و ر وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے لباس اور نیند کو سکون موت اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا۔(فرقان:۴۵تا۴۷)
(36) یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور(دن کو)اپنے رب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔(قصص:۷۳)
(37) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں  وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں،ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے با خبر ہے۔(۴۱(آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔(۴۲) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے،پھر اُس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اُسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے،پھر تم دیکھتے ہو کہ اُس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں۔اوروہ آسمان سے اُن پہاڑوں کی بدولت جو اُس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے ،پھر جسے چاہتا ہے اُس کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اُس سے بچا لیتا ہے۔اُس کی بجلی کی چمک آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔ (نور:۴۱/۴۳)
(38) دیکھو ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تا کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے۔ (بنی اسرائیل:۱۲)
(39) جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔(۲) اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا  ہو ۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لئے وہ کافی ہے, اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔(طلاق:۲/۳)
(40) اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے،یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میںایک متاع قلیل کے سوا کچھ نہیں۔(۲۶) ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (اس نبی کی دعوت کو )مان لیا ہے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے، خبردار رہو اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہواکرتا ہے۔(رعد:۲۶/۲۷)
(41) جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لئے ہیںا ن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے، کاش یہ لوگ علم رکھتے۔(۴۱) یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اورحکیم ہے۔(۴۲)یہ مثالیں ہم لوگو ں کو سمجھانے کے لئے دیتے ہیں، مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔( عنکبوت:۴۱تا۴۳)
(42) کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے،اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔(۶۰)اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے،یقینا اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔( عنکبوت:۶۰تا۶۲)
(43) جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اُن کے لئے دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پسند بنا دی گئی ہے۔ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ رہا دنیا کا رزق تو اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے بے حساب دے۔(۲۱۲)ابتدا میں سب ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے)پھر اللہ نے نبی بھیجے جو سیدھی راہ چلنے پر بشارت دینے والے اور ٹیڑھی راہ اپنانے پراُس کے برے نتیجوںسے ڈرانے والے تھے اور کتاب بر حق نازل کی،تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے اُن کا فیصلہ کرے … (اور اختلافات پیدا ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق نہیں بتایا گیا تھا…نہیں)اختلاف اُن لوگوں نے کیا جن کو علم دیا جا چکا تھا۔اُنہوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعدصرف اس لئے مختلف طریقے نکالے کہ وہ  زیادتی کرنا چاہتے تھے۔(۲۱۳) کیا تم سمجھتے ہو ایسے ہی جنت میں چلے جاؤگے  ؟  ابھی تو تمہارے پاس وہ حالت آئی ہی نہیں جو پہلے کے لوگوں پر گزر چکی ہے۔مصیبت اور تکلیف یعنی مفلسی اور بیماری ان سے چپک گئی اور وہ ہلا مارے گئے یہـاں تک کہ ان کے رسول اور ان کے ساتھی اہل ایمان بول اٹھے کہـاں ہے اللہ کی مدد  ؟  سن لو اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔ (البقرہ:۲۱۲تا۲۱۴)
(44) کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کاچاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے۔یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔(۳۷)پس (اے مومنو) رشتہ دا ر کو اس کا حق دو اور مسکین و مسافر کو (ا س کا حق) یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔(الروم:۳۷/۳۸)
(45) بتاؤ آخر تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے، سچ یہ ہے کہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔(۲۰)کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمن اپنا رزق روک لے  ؟  در اصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اڑیٔے ہوئے ہیں۔(الملک:۲۰/۲۱)
(46) اُس نے عرض کیا اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو رات دن پکارا۔(۵)مگر میری پکار پر اُن کے بھاگنے میں ہی اضافہ ہوا۔(۶)اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تو اُنہیں معاف کر دے، اُنہوں نے کانوں میںانگلیاں ٹھونس لیں اوراپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے او ر اپنی چال پر اڑ گئے اور بڑا گھمنڈ کیا۔(۷) پھر میں نے اُن کو ہانکے پکارے دعوت دی۔(۸) پھر میں نے کھلم کھلا بھی اُنہیں تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔(۹) میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔(۱۰)وہ تم پرآسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔(۱۱) تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دے گا۔(۱۲)تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے لئے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے۔ (۱۳) حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ (نوح:۱۰/۱۴)
(47) زمین میں چلنے والا کوئی جاندر ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہواور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ وہ کہاں رہتا اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے،سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے ۔ (ہود:۶)
(48) تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔(۶۰)وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو اور دن کو روشن کیا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔(مومن:۶۱)
ۃضظژ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں 40 سالہ شخص کی گھر سے لاش برآمد، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

سرینگر۔ حکام کے مطابق جمعرات کے روز سری نگر کے...

روس کا یوکرین پر 280 ڈرونز اور 70 سے زیادہ میزائلوں سے بڑا حملہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں 40 سالہ شخص کی گھر سے لاش برآمد، پولیس نے تحقیقات شروع کر دی

سرینگر۔ حکام کے مطابق جمعرات کے روز سری نگر کے...

روس کا یوکرین پر 280 ڈرونز اور 70 سے زیادہ میزائلوں سے بڑا حملہ

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے جمعرات کے روز...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

کہانی کائنات کی …قرآن کی زبانی سنئے

ابونصر فاروق
ان آیات کوتفہیم القرآن میںتفسیر کے حوالے سے پڑھ کر یہ سمجھنا ہے کہ اللہ نے کائنات کب کس طرح بنائی  ؟  اس کے بنانے کا مقصد کیا تھا۔ انسان کو کیوں پیدا کیا۔اُس کی پیدائش کا مقصد کیا ہے  ؟   دنیا میں انسان کس حیثیت سے اور کس کام کے لئے بھیجا گیا ہے  ؟  اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ہر نسل کے لئے ایک نبی کیوں بھیجا اور اس طرح لاکھوںانبیا ء کیوں آئے  ؟  آخری نبی حضرت محمدﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔قیامت تک کی قوموں کے لئے نبی کی ضرورت کس کو پوری کرنی ہے  ؟  رسول اللہﷺ نے خطبہ حج میں یہ بات کیوں کہی تھی  ؟  ’’آگاہ رہو کہ میں نے بات پہنچا دی اور تم لوگوں سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو اب بتاؤ کہ تم کیا کہو گے  ؟  لوگوں نے پکار کر کہا ،ہم لوگ گواہی دیتے ہیں کہ آپﷺنے پیغام پہنچا دیا، امت کو نصیحت کرنے کا حق ادا کر دیا اور امانت الٰہی کو ہم تک پہنچا دیا۔ یہ سن کر آپﷺنے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے فرمایا،اے اللہ تو خود بھی گواہ رہیو! یہ بات آپﷺنے تین بار فرمائی۔ ‘‘(مسلم)
اور یہ کہ’’میں تمہارے درمیان وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں ،جسے تم مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، وہ ہے اللہ کی کتاب۔‘‘ (مسلم)حضرت حذیفہ ؓ روایت کرتے ہیںکہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے تم ضرور نیک باتوں کا حکم دیتے رہنا اور بری باتوں سے روکتے رہنا ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب مسلط کر دے گا پھر تم دعا کروگے مگر تمہاری دعا قبول نہیں ہو گی۔ (ترمذی)
(01) قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔(القلم:۱)
(02) اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیاجب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا،تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے ۔ اب اگر اے محمدﷺتم کہتے ہو کہ لوگو مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤگے تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔(ہود:۷)
(03) اور ہم نے اس آسمان اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، محض کھیل اور تماشے کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ (۱۶) اگر ہم اس کا ارادہ کرتے اور ہم کو ایسا کھیل مقصود ہوتا تو ہم اپنے پاس سے کوئی چیز بنا لیتے۔(۱۷) سچ تو یہ ہے کہ ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کی بھیجا نکال دیتا ہے اور وہ مغلوب ہوجاتا ہے۔ (انبیاء:۱۶تا۱۸)
(04) کیا وہ لوگ جنہوںنے(نبی ﷺکی بات ماننے سے) انکار کر دیا ہے، غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور پانی سے ہر چیز پیدا کی،کیا وہ ہماری خلاقی کو نہیں مانتے  ؟ (۳۰)اور اسی نے رات کی اور دن کی اور سورج کی اور چاند کی تخلیق کی ہے،سب کے سب اپنے دائرے میں گردش کر رہے ہیں۔(انبیاء:۳۰تا۳۳)
(05) حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر تخت سلطنت پر جلوہ گر ہو کر کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔کوئی شفاعت و سفارش کرنے والا نہیں الا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے،یہی اللہ تمہارا رب ہے لہذا تم اسی کی عبادت کرو ،پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤگے۔(۳) اُسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بیشک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے، اُن کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پئیں اور دردناک سزا بھگتیں، اُس انکار حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔(۴)وہی ہے جس نے سورج کو اجیالا بنایااور چا ند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اس سے برسوںاور تاریخوں کے حساب معلوم کرو۔اللہ نے یہ سب برحق ہی پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے ان کے لئے جوعلم رکھتے ہیں۔(۵) یقینارات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہے،نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لئے جو(غلط بینی و غلط روی سے)بچنا چاہتے ہیں۔(یونس:۳تا۶)
(06) اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دھاڑے اس میں چڑھنے بھی لگتے۔(۱۴)تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکہ ہو رہا ہے،بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔(۱۵)یہ ہماری کارفرمائی ہے کہ آسما ن میں ہم نے بہت مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوںکے لئے (ستاروں سے ) آراستہ کیا(۱۶) اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا۔کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا۔ (الحجر:۱۴ت۱۷)
(07) پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہواجو اس وقت محض دھواں تھا۔ اس نے آسمان اور زمین سے کہا وجود میں آ جاؤ،خود تم چاہو یا نہ چاہو، دونوں نے کہا ہم آ گئے فرماں برداروں کی طرح۔ (حم سجدہ:۱۱)
(08) اچھا انتظار کرو اس دن کا جب آسمان صریح دھواں لئے ہوئے آئے گا ۔(۱۰) اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا۔(دخان:۱۰/۱۱)
(09) رہے وہ لوگ جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہوگا تو وہ یقینااس سے دور رکھے جائیں گے۔(۱۰۱) اُس کی سرسراہٹ تک نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ اپنی من چاہی چیزوں کے درمیان رہیں گے۔(۱۰۲)وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔ (وہ کہیں گے)یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔(۱۰۳)جس روز ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے کاغذ کو لپیٹ لیا جاتا ہے اورہم دوبارہ پیدا کریں گے جس طرح پہلے پیدا کیا تھا، ہمارے ذمے یہ وعدہ رہا،اور ہم ایسا کر کے رہیں گے۔ (۱۰۴)اور زبور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔(۱۰۵) اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزاروں کے لئے۔(انبیاء:۱۰۱تا۱۰۶)
(10) پاک ہے وہ جس نے ہمارے لئے ان چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میںلانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔(۱۳)اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔(زخرف:۱۳/۱۴)
(11) اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھا یے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیااور فرمایا،اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا)تو ذرا ا ن چیزوں کے نام بتاؤ۔ (۳۱)اُنہوں نے عرض کیا، نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا آپ نے ہم کو دیا ہے۔حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔(۳۲)پھر اللہ نے آدم سے کہا ، تم ان چیزوں کے نام بتاؤ۔جب اُس نے اُن کو سب کے نام بتا دیے تو اللہ نے فرمایا، میں نے تم سے کہا نہ تھاکہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو،وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اُسے بھی میں جانتا ہوں۔(۳۳)پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگ جھک جاؤ، تو سب جھک گئے مگر ابلیس نے انکا ر کیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔(۳۴)پھر ہم نے آدم سے کہا تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بہ فراغت جو چاہو کھاؤ پیو، مگر اس درخت کے قریب نہ جانا ، ورنہ ظالموں میں شمار ہوگے۔(۳۵)آخر کار شیطان نے اُن دونوں کو اُس درخت کی ترغیب دے کرہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور اُنہیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے۔(۳۶)اُس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی،جس کو اُس کے رب نے قبول کر لیا، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے(۳۷) ہم نے حکم دیا تم سب یہاں سے اتر جاؤ، پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہوگا(۳۸)اور جو لوگ اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔(البقرہ:۳۱تا۳۹)
(12) اور اے نبی ان لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں،انہوں نے کہا ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ہم اس پر گواہی دیتے ہیں،یہ ہم نے اس لئے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے۔(اعراف:۱۷۲)
(13) انسان تھڑدلا پیدا کیا گیا ہے۔(۱۹) جب اس پر مصیبت آتی ہے توگھبرا اٹھتا ہے۔(۲۰)اور جب اسے خوش حالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔(۲۱) مگر وہ لوگ (اس عیب سے بچے ہوئے ہیں)جو نماز پڑھنے والے ہیں۔(۲۲)جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں۔(۲۳)  جن کے مالوں میںسائل اور محروم کا۔(۲۴)   ایک حق ہے۔(معارج:۱۹/۲۵)
(14) لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیااور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایااور ان دونوں سے بہت مرد عورت د نیا میں پھیلا دیے۔اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے۔ (النساء:۱)
(15) میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سواکسی کام کے لئے پیدا نہیںکیا کہ وہ میری بندگی کریں۔(۵۶) میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اورنہ یہ چاہتاہوںکہ وہ مجھے کھلائیں۔(۵۷) اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست۔(ذاریات:۵۶تا۵۶۸)
(16) اب ان سے پوچھو،ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں،ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔(صافات:۱۱)
(17) ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔(۷۲)اس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوںاور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوںکو سزادے اور مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے۔اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔(احزاب:۷۲،۷۳)
(18) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسان کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقینا بڑا کام ہے ۔، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔(مومن:۵۷)
(19) (جواب ملے گا)یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف تم کو بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور جب اس کے ساتھ دوسروں کو ملایا جاتا تو تم مان لیتے، اب فیصلہ اللہ بزرگ وبرتر کے ہاتھ میں ہے۔ (۱۲)(پس اے رجوع کرنے والو) اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لئے خالص کر کے،چاہے تمہارا یہ عمل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاؤ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بڑھاپے کو پہنچو۔اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیاجاتا ہے۔یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے تاکہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جاؤ، اور اس لئے کہ تم حقیقت کو سمجھو۔(۶۷)وہی ہے زندگی دینے والا، او روہی موت دینے والا ہے۔وہ جس بات کا بھی فیصلہ کر دیتا ہے،بس ایک حکم دیتا ہے کہ ہو جائے اور وہ ہوجاتی ہے۔ (مومن:۱۲تا۱۴…۶۷/۶۸)
(20) لوگو اگرتمہیں زندگی بعد موت کے بارے میںکچھ شک ہے توتمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے،پھر نطفے سے ،پھر خون کے لوتھڑے سے،پھر گوشت کی بوٹی سے، جوشکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی (یہ ہم اس لئے بتا رہے ہیں )تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ہم جس نطفے کو چاہتے ہیں ایک وقت خاص تک رحموںمیں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تم کوایک بچے کی صورت میں نکال لاتے ہیں( پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تاکہ تم اپنی جوانی تک پہنچو۔اور تم میں سے کوئی پہلے واپس بلا لیا جاتا ہے، اور کوئی بدترین عمرکی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔اورتم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے پھر جہاں ہم نے اس پر منہ برسایاکہ یکایک وہ پھبک اٹھی اور پھول گئی اور اس نے ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کر دی۔(۵)یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے،اور وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۔(حج:۵/۶)
(21) یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں ۔(۳۸)ان کو ہم نے بر حق پیدا کیا ہیمگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ (دخان:۳۸،۳۹)
(22) وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں، چھ دنوں میں پیدا کیا اور اُس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا،اُس کے سو انہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اُس کے آگے سفارشکرنے والا،پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤگے  ؟(۴)وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔(۵)جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی،اس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی، پھر اس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کاہے۔(۷) پھر اُس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح ہے۔(۸)پھر اُس کو نک سک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں، اور دل دیے۔تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔(السجدہ :۴تا۹)
(23) درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اپنے تخت پر جلوہ فرما ہوا، جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اورپھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے، جس نے سورج اور چاند تارے پیدا کئے۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں۔خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کاامر ہے۔بڑا با برکت ہے اللہ،سارے جہانوں کا مالک اور پروردگار۔(۵۴) اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے،یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(۵۵)زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے،اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ،یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں کے قریب ہے۔(اعراف:۵۴ تا ۵۶)
(24) نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔(۱)جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تا کہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔(الملک:۱/۲)
(25) کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟(۲) حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون؟ (۳)اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کر رہے ہیں، یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے،بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں۔(۴)جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو(اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ)اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔(۵) جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا اپنے ہی بھلے کے لئے کرے گا، اللہ یقینا دنیا جہان والوں سے بے نیاز ہے۔(عنکبوت:۲،۳)
(26) اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے۔انہیں خوش خبری دے دو (۱۵۵ )ان حالات میںجو لوگ صبر کریں اورجب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں،ہم اللہ ہی کے ہیں اوراللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔(۱۵۶ )ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اورایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔(البقرہ:۱۵۵،۱۵۶)
(27) مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوںکی آزمائشیں پیش آ کر رہیں گی،ا ور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پرقائم رہو، تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔(آل عمران:۱۸۶)
(28) اور اس نے آپ سے قبل کسی بشر کو ایسا نہیں بنایا جو ہمیشہ زندہ رہے، کیاآپ اپنے رب کے پاس چلے جائیں تو یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔(۳۴)ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے،اور ہم نے تمہاری آزمائش کے لئے خیر کو اور شر کو فتنہ بنایا ہے اور ہماری ہی طرف تم سب کو لوٹ کر آنا ہے۔ (انبیاء:۳۴تا۳۶)
(29) اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے،اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے۔اے محمدﷺہم نے تم کولوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے۔(النساء:۷۹)
(30) عذاب کے لئے جلدی نہ مچاؤ،اللہ اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے اور تمہارے رب کا ایک دن تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کا ہوتا ہے۔ (حج:۴۷)
(31) اُس خدا کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔(۳) ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔(معارج:۳/۴)
(32) وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اوراُس کی ایک تقدیر مقرر کی۔( فرقان:۲)
(33) پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔(۴۳)اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان وزمین میں ہیں۔کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو،حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔(بنی اسرائیل: ۴۳،۴۴)
(34) پھر جب ایک مرتبہ صور میں پھونک مار دی جائے گی۔(۱۳)اور زمین اورپہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔(۱۴)اس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا۔(۱۵) اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی۔(۱۶)فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے۔اور آٹھ فرشتے اس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔(۱۷) وہ دن ہوگا جب تم پیش کئے جاؤگے، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا۔(۱۸) اُس وقت جس کا نامۂ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا لودیکھو، پڑھو میرا نامۂ اعمال ۔ (۱۹)میں سمجھتا تھا کہ ضرور مجھے اپنا نامۂ اعمال ملنے والا ہے۔(۲۰) پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔ (حاقہ:۱۳/۲۰)
(35) تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے۔اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا۔ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنادیا۔(۴۵)  پھر جیسے جیسے سورج اٹھتا جاتاہے   ہم اس سایہ کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں(۴۶)و ر وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے لباس اور نیند کو سکون موت اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا۔(فرقان:۴۵تا۴۷)
(36) یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور(دن کو)اپنے رب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔(قصص:۷۳)
(37) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں  وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اڑ رہے ہیں،ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے با خبر ہے۔(۴۱(آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔(۴۲) کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے،پھر اُس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اُسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے،پھر تم دیکھتے ہو کہ اُس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں۔اوروہ آسمان سے اُن پہاڑوں کی بدولت جو اُس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے ،پھر جسے چاہتا ہے اُس کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اُس سے بچا لیتا ہے۔اُس کی بجلی کی چمک آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔ (نور:۴۱/۴۳)
(38) دیکھو ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تا کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے۔ (بنی اسرائیل:۱۲)
(39) جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا۔(۲) اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا  ہو ۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لئے وہ کافی ہے, اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔(طلاق:۲/۳)
(40) اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے،یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میںایک متاع قلیل کے سوا کچھ نہیں۔(۲۶) ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (اس نبی کی دعوت کو )مان لیا ہے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے، خبردار رہو اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہواکرتا ہے۔(رعد:۲۶/۲۷)
(41) جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لئے ہیںا ن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے، کاش یہ لوگ علم رکھتے۔(۴۱) یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اورحکیم ہے۔(۴۲)یہ مثالیں ہم لوگو ں کو سمجھانے کے لئے دیتے ہیں، مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔( عنکبوت:۴۱تا۴۳)
(42) کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے،اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔(۶۰)اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے،یقینا اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔( عنکبوت:۶۰تا۶۲)
(43) جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے اُن کے لئے دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پسند بنا دی گئی ہے۔ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ رہا دنیا کا رزق تو اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے بے حساب دے۔(۲۱۲)ابتدا میں سب ایک ہی طریقے پر تھے (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے)پھر اللہ نے نبی بھیجے جو سیدھی راہ چلنے پر بشارت دینے والے اور ٹیڑھی راہ اپنانے پراُس کے برے نتیجوںسے ڈرانے والے تھے اور کتاب بر حق نازل کی،تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے اُن کا فیصلہ کرے … (اور اختلافات پیدا ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتدا میں لوگوں کو حق نہیں بتایا گیا تھا…نہیں)اختلاف اُن لوگوں نے کیا جن کو علم دیا جا چکا تھا۔اُنہوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعدصرف اس لئے مختلف طریقے نکالے کہ وہ  زیادتی کرنا چاہتے تھے۔(۲۱۳) کیا تم سمجھتے ہو ایسے ہی جنت میں چلے جاؤگے  ؟  ابھی تو تمہارے پاس وہ حالت آئی ہی نہیں جو پہلے کے لوگوں پر گزر چکی ہے۔مصیبت اور تکلیف یعنی مفلسی اور بیماری ان سے چپک گئی اور وہ ہلا مارے گئے یہـاں تک کہ ان کے رسول اور ان کے ساتھی اہل ایمان بول اٹھے کہـاں ہے اللہ کی مدد  ؟  سن لو اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔ (البقرہ:۲۱۲تا۲۱۴)
(44) کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کاچاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے۔یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔(۳۷)پس (اے مومنو) رشتہ دا ر کو اس کا حق دو اور مسکین و مسافر کو (ا س کا حق) یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔(الروم:۳۷/۳۸)
(45) بتاؤ آخر تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے، سچ یہ ہے کہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔(۲۰)کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمن اپنا رزق روک لے  ؟  در اصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پر اڑیٔے ہوئے ہیں۔(الملک:۲۰/۲۱)
(46) اُس نے عرض کیا اے میرے رب، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو رات دن پکارا۔(۵)مگر میری پکار پر اُن کے بھاگنے میں ہی اضافہ ہوا۔(۶)اور جب بھی میں نے اُن کو بلایا تاکہ تو اُنہیں معاف کر دے، اُنہوں نے کانوں میںانگلیاں ٹھونس لیں اوراپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے او ر اپنی چال پر اڑ گئے اور بڑا گھمنڈ کیا۔(۷) پھر میں نے اُن کو ہانکے پکارے دعوت دی۔(۸) پھر میں نے کھلم کھلا بھی اُنہیں تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔(۹) میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔(۱۰)وہ تم پرآسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔(۱۱) تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دے گا۔(۱۲)تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے لئے کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے۔ (۱۳) حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ (نوح:۱۰/۱۴)
(47) زمین میں چلنے والا کوئی جاندر ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہواور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ وہ کہاں رہتا اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے،سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے ۔ (ہود:۶)
(48) تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔(۶۰)وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو اور دن کو روشن کیا۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔(مومن:۶۱)
ۃضظژ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں