
افتخار احمد قادری
زمین کے ہر خطے، قبیلے، قوم اور مذہب کے ماننے والوں میں باضمیر، غیرت مند اور پاکباز سپوتوں کی ایک تعداد ہر عہد میں موجود رہی ہے جنہوں نے اعلٰی انسانی اصولوں کی سربلندی اور دفاع کے لئے حتٰی المقدور قربانیاں پیش کرنے سے کبھی احتراز نہیں کیا اور نہ ہی انہیں حق و صداقت کے ابدی پیغام کو پہنچانے میں کوئی طاقت پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکی۔ صداقت و شجاعت کے اس کاروان کا امام و رہبر، راکب دوش خیر الانام ﷺ امام عالی مقام حضرت سیدنا امام حسین رضی الله عنہ کی ذاتِ ستودہ صفات ہے۔ نواسہ رسول ﷺ حضرت سیدنا امام حسین رضی الله عنہ کی لازوال قربانی اور حق و باطل کا معرکہ کربلا تاریخ انسانی کا وہ ناقابل فراموش واقعہ ہے جسے کوئی بھی صاحب شعور انسان نظر انداز نہیں کرسکتا۔ بعض اہل علم کے مطابق شعر اور شاعر کا لفظ بھی شعور سے مشتق ہے لہذٰا! جو جتنا باشعور ہوگا اس کے اشعار میں اتنی ہی گہرائی اور وسعت ہوگی۔ علامہ اقبال بھی عصر حاضر کے وہ عظیم شاعر ہیں جن کی شاعری عقل و شعور اور بلندی افکار و تخیل سے مزین ہے لہذٰا یہ ناممکن ہے کہ علامہ اقبال جیسی حساس شخصیت واقعہ کربلا کو نظر انداز کرے۔ پس مشرق کے بلند پایہ شاعر، مفکر اور عاشق رسول ﷺ اور اہلبیت، علامہ اقبال جیسی شخصیت کے فکر و فن میں واقعہ کربلا کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیئے تھی جو کہ ہے۔ اگرچہ اقبال نے مختلف نظموں اور غزلوں میں فرزند زہرا، حماسہ ساز کربلا، شہدائے کربلا کے امام کی جاں سپاری اور قربانی کا ذکر کیا ہے تاہم ‘’رموز بے خودی’’ میں اشعار کا ایک تسلسل ‘’در معنیٰ حریت اسلامیہ و سر حادثہ کربلا’’ کے عنوان کے تحت قلمبند کیا ہے۔ واقعہ کربلا بیان کرنے سے پہلے توحید کی آفاقی حقیقت کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ جو شخص ذات باری کے ساتھ اپنا عہد و پیمان قائم کرتا ہے اس کی گردن ہر دوسرے معبود کی پرستش سے آزاد ہو جاتی ہے۔ یعنی جو لوگ توحید خالص کے ماننے اور اس پر ثابت قدمی دکھاتے ہیں وہ نمرودوں، فرعونوں اور یزیدوں کے سامنے کبھی نہیں جھکتے:
ہر کہ پیماں با ہو الموجود بست
گردنش از بندِ ہر معبود رست
اقبال کے نظامِ فکر میں درجنوں موضوعات کو اہمیت حاصل ہے ان موضوعات میں عشق و عقل کا موضوع بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے نزدیک عشق ایمان کی پختگی، محبت کی استواری، یقین کی فراوانی اور اپنے مقصد کے ساتھ گہری وابستگی کا نام ہے۔ عشق جنون ہے جو عاشق کو نتائج سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ عشق کے مقابلے میں ایک دوسری طاقت عقل ہے۔ اقبال عقل کی عظمت و افادیت اور ضرورت سے منکر نہیں لیکن عقل کی ایک قسم کو عیار سمجھتے ہیں جو سو بھیس بدل لیتی ہے۔ اس کا کام خود پسندی، انانیت، انکار، تردد، تشکیک، ہوس رانی اور کثرتِ نعمت کی جستجو ہے۔ یہ عموماً ہوس، لالچ، مادیت، محبت دنیا اور عیش و عشرت پر انسان کو آمادہ کرتی ہے۔ یہ عقل کی شکل آدمی کو ظالم و جابر و غاصب اور سفاک بنا دیتی ہے۔ عقل کی دوسری صورت میں غور و فکر، تدبر، حکمت اور مسائل سے آگہی ہے۔ اقبال کے نزدیک جب عقل حرص و ہوس کے دائرے میں رہ کر فعال ہوتی ہے تو انسانی وجود کی قبائے شرافت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے اور انسان نوع انسانی کا صیاد بن جاتا ہے اور جب یہی عقل، عشق کے جذبات سے سرشار ہو جاتی ہے تو انسان نسلِ انسانی کا محافظ اور خیرخواہ ثابت ہوتا ہے۔ اقبال نے عشق کی مدحت یوں کی ہے۔
مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرام
عشق و عقل کا موازنہ عالمانہ اور فلسفیانہ انداز میں کرنے کے بعد واقعہ کربلا کے بارے میں فرماتے ہیں کیا تونے سنا ہے کہ میدانِ کربلا میں عشق نے ہوس پرور عقل کے ساتھ کیسے نبرد آزمائی کی۔ یہاں حسین علیہ السلام عشق کی علامت ہیں اور یزید ہوس پرور عقل کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔
آن شنیدیستی کہ ہنگام نبرد
عشق باعقل ہوس پرورچہ کرد
سانحہ کربلا کی شاعرانہ اور عاشقانہ تفسیر سے پہلے امام حسین کی مدح میں رطب اللسان ہوتے ہیں۔ وہ عاشقوں کا امام، فاطمہ کا فرزند، رسول اکرام ﷺ کے باغ کا سروِ آزاد ہے۔
آں امام عاشقاں پسر بتول
سرو آزادی زبستان رسول
امام حسین وہ ہستی ہیں جن کے لئے جناب خاتم المرسلین ﷺ کے دوش مبارک بطورِ سواری پیش ہواکرتے تھے۔
بہر آں شہزادہ خیر العمل
دوش ختم المرسلین نعم الجمل
عشق غیور ان کے خون سے باغیرت ہے۔ کربلا کے واقعہ سے اس موضوع میں حسن اور رعنائی پیدا ہو گئی ہے۔
سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی ایں مصرع از مضمون او
اس امت میں اس امام عالی مقام کی وہی حیثیت ہے جو قرآن میں سورہ اخلاص کی ہے۔ جیسےہی سورہ قرآن کی تعلیمات کا نچوڑ اور سلالہ ہے ایسے ہی امام حسین کی ذات بھی تعلیمات اسلام کا سلالہ ہے۔ سورہ اخلاص میں توحید پیش کی گئی ہے جو کہ قرآنی تعلیمات کا مرکزی نکتہ ہے اسی طرح امام حسین کو بھی امت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
درمیانِ امت آں کیواں جناب
ہمچو حرفِ قل ھو الله در کتاب
واقعہ کربلا کی تاریخی حقیقت اور اس کے تاریخ امت پر اثرات کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی روز ازل سے جاری ہے۔ اس کشمکش میں مجاہدین کی قوت بازو سے حق کا غلبہ ہوتا ہے اور باطل شکست و نامرادی سے دو چار۔ اس کی ایک مثال حضرت موسیٰ دعوتِ حق کے راستے پر گامزن ہیں اور یہ عمل فرعون کو کافی گراں گذر رہا ہے، وہ موسیٰ اور اس کے پیرو کاروں کو راہِ حق سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، یہاں پر اسی موسیٰ کا وارث حسین ؑیزید کے اقتدار سے متصادم ہو کر اپنی، اپنے اصحاب اور اہل خانہ کی جان کی بازی لگا رہا ہے۔ بظاہر امام حسین ؑخاک و خون میں لت پت ہو گئے، ان کے جسم اقدس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے، ان کا سرِ مقدس کربلا سے دمشق لے جایا گیا، ان پر فرات کا پانی بند کردیا گیا۔ اقبال ؒ فرماتے ہیں کہ جب خلافت کا تعلق قرآن سے منقطع ہو گیا اور مسلمانوں کے نظام میں حریت فکر و نظر باقی نہ رہی تو اس وقت امام حسین اس طرح اٹھے جیسے جانب قبلہ سے گھنگھور گھٹا اٹھتی ہے یہ بادل وہاں سے اٹھا کربلا کی زمین پر برسا اور اسے لالہ زار بنا دیا۔
چوں خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
حریت راز ہر اندر کام ریخت
اگر ان کے سامنے اقتدار، اختیار اور سلطنت غرض و غایت ہوتی تو وہ فقط بہتر افراد کی جماعت کے ساتھ یزیدی سلطنت کی طرف رخ نہ کرتے۔ ساتھیوں کی تعداد کے اعتبار سے ہی دیکھیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مخالفین کا لشکر لاتعداد تھا لیکن آپ کے ساتھ صرف بہتر نفوس تھے یہاں علامہ نے یزداں کے عدد کا حوالہ دیا ہے۔
دشمناں چو ریگ صحرا لا تعد
دوستان او بہ یزداں ہم عدد
اقبال کی نظر میں امام حسین حق و صداقت کا وہ میزان ہیں جو ہر دور میں حق و باطل کی کسوٹی ہیں تاریخ میں ملتا ہے کہ جب یزید نے مدینہ منورہ کے والی ولید اور مروان کے ذریعے امام حسین سے بیعت کا مطالبہ کیا تو آپ نے ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایا جو حریت پسندی کے لیے ہمیشہ نصب العین بنا رہے گا آپ نے فرمایا تھا: مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ علامہ اقبال نے اسی مفہوم کو ایک اور شعر میں یوں ادا کیا ہے۔
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آمد پدید
علامہ اقبال واقعہ کربلا کو اسلام کی بقا کا ضامن قرار دیتے ہیں اور بے ساختہ بول اٹھتے ہیں۔
بزندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
علامہ اقبال امام حسین کو ظلم و استبداد کے خلاف ایک مثالی کردار بنا کر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ نے قیامت تک ظلم و استبداد کے راستے بند کر دیئے اور اپنے خون کی سیرابی سے رہگزاروں کو چمنستان بنا دیا۔
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چنین ایجاد کرد
اقبال کے نزدیک حسین کا عزم و استقلال پہاڑوں کی مانند مضبوط اور استوار تھا اور وہ اپنی تلوار کو دینِ حق کی عزت و بقاء کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے باطل قوتوں کے خلاف انکار کی شمشیر نیام سے باہر نکالی اور طاغوتی طاقتوں کی رگوں سے خون بہا دیا۔ ان کے مقدس خون نے ایک خوابیدہ ملت کو نئی گرمی اور بیداری عطا کی اور صحرائے کربلا پر الا الله کا نقش ثبت کرکے ہماری نجات کا سر نامہ تحریر کیا۔ علامہ اقبال کی شاعری میں امام حسین اور کربلا ،ظلم و ستم کے خلاف استقامت اور اسلام کے حقیقی رہبر کی نشان دہی کا ایک استعارہ ہے۔ وہ کربلا اور امام عالی مقام کو حق و وحدت کا معیار اور حق و باطل کا میزان قرار دیتے ہیں ان کی حق شناس آنکھ کربلا کے واقعہ کو ایک تاریخی واقعہ کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ وہ امام حسین کی صدائے احتجاج اور ان کی لازوال قربانی کو اسلام کی بقا اور حیات قرار دیتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ ہمارے وجود کی جنبش ان کی ذات سے قائم ہے۔ مسلمانوں کی کئی سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں بنی امیہ کی سلطنت دمشق میں ہو یا اندلس میں، بنی عباس کی کئی صدیوں پر محیط حکومت اپنے بھرپور عروج کے بعد ختم ہوگئی لیکن داستان کربلا ابھی تک زندہ ہے۔ ہمارے تار حیات میں پوشیدہ نغمے اسی مضراب سے بیدار ہوتے ہیں امام حسین نے تکبیر کی جو آواز بلند کی تھی اس سے ہمارے ایمانوں میں تازگی پیدا ہو جاتی ہے۔ علامہ اقبال جہاں واقعہ کربلا کے حماسی اور انقلابی پہلو کو انتہائی خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہیں وہاں کربلا کے لق و دق صحرا میں نواسہ رسول کی مظلومیت آپ کو بے تاب کر دیتی ہے۔ غم حسین میں اپنے گریے اور آہ و زاری کی طرف اشارے کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
رونے والا ہوں شہید کربلا کے غم میں
کیا در مقصد نہ دیں گے ساقی کوثر مجھے
الله کے رسول ﷺ نے فرمایا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ اس حدیث کے سامنے آنے کے بعد لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ رسول خدا ﷺ کی ذات سے امام حسین کا وجود تو ممکن ہے کیونکہ وہ آپ ﷺ کے نواسے ہیں لیکن رسول خدا ﷺ کا امام حسین سے ہونا کیا معنیٰ رکھتا ہے؟ چونکہ رسول آخر الزماں ﷺ حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ہیں اور اگر حضرت اسماعیل، حضرت ابراہیم کے ہاتھوں قربان ہو جاتے تو رسول اکرم ﷺ کا وجود مبارک بھی نہ ہوتا۔ جب الله تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی قربانی کو ذبح عظیم کے بدلے ایک دنبے کی قربانی میں تبدیل کردیا تو جس ذبح عظیم کا ذکر قرآن میں آیا ہے: اور ہم نے ایک عظیم قربانی سے اس کا فدیہ دیا۔ وہ امام حسین کی قربانی ہے لہذٰا امام حسین نے حضرت اسماعیل کی جگہ پر اپنی قربانی پیش کی اور یوں حضرت اسماعیل قربان ہونے سے محفوظ رہے اور آپ کی نسل رسول خدا ﷺ تک پہنچی۔ علامہ اقبال ایک اور مقام پر اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
الله الله بای بسم الله پدر
معنیٰ فی ذبح عظیم آمد پسر
اقبال ایک اور مقام پر امام حسینؑ کو مخاطب کرکے کہتے ہیں:
سر ابراہیم و اسماعیل بود
یعنی آن اجمال را تفضیل بود
علامہ محمد اقبال امت مسلمہ کو بیدار کرنے کے لیے کردار حسینی انجام دینے کی طرف متوجہ کر رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ امت کی تمام تر مشکلات کا حل کردار شبیری ادا کرنے میں مضمر ہے۔
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری


