
پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل
مرکزی وزیرِ مملکت
پنچایتی راج
کچھ لمحات محض کسی سنگِ میل کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ایک طویل سفر کو روشن کر دیتے ہیں۔ پنچایتی راج کی چار پہل کاریوں کا باوقار قومی ای۔گورننس ایوارڈز 2026 کے لئے منتخب ہونا بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ ہے۔ یہ اعزاز کسی ایک دفتر یا ادارے کا نہیں، بلکہ ہر گرام پنچایت اور ہر اُس شہری کا ہے جس نے ڈیجیٹل طور پر بااختیار دیہی بھارت کے خواب پر یقین کیا۔ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے بھارت کی پنچایتیں اعتماد، ٹیکنالوجی اور ترقی کی ایک نئی داستان رقم کر رہی ہیں۔
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں اچھی حکمرانی کے بارہ انقلابی برس مکمل ہونے کے موقع پر یہ اعزاز ایک بامعنی سنگِ میل ہے، جو اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پنچایتی راج ادارے محض سرکاری منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے اداروں سے آگے بڑھ کر اب حکمرانی کے تیسرے درجے کی خوداعتماد، باصلاحیت اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ تنظیموں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
محکمۂ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات کی جانب سے قائم کیے گئے قومی ای۔گورننس اعزازات، ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی میں بہترین کارکردگی کا اعلیٰ ترین قومی معیار سمجھے جاتے ہیں۔ اس سال 7 مختلف زمروں میں مجموعی طور پر 17 منصوبوں کو اعزازات سے نوازا گیا، جن میں سے 4 منصوبے پنچایتی راج کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کامیابی گزشتہ 12 برسوں کے دوران نچلی سطح پر اختراعات کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں کا فطری نتیجہ ہے۔
پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس، جو وزارتِ پنچایتی راج کا ایک نمایاں نظام ہے اور گرام پنچایتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، اعداد و شمار کے تجزیے کے ذریعے ڈیجیٹل تبدیلی کے زمرے میں طلائی تمغے کا مستحق قرار پایا ہے۔ اس کے آغاز سے پہلے ڈھائی لاکھ سے زائد گرام پنچایتوں کی کارکردگی جانچنے کے لئے کوئی معیاری اور اعداد و شمار پر مبنی نظام موجود نہیں تھا۔ آج یہ انڈیکس اعداد و شمار، کارکردگی، اعزازات اور عوامی شمولیت کو باہم جوڑتے ہوئے ایک شفاف اور مؤثر نظامِ بازخورد فراہم کرتا ہے۔
اسی طرح 2 گرام پنچایتوں کی براہِ راست کامیابی بھی نہایت حوصلہ افزا ہے۔ مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کی کاڈے پور گرام پنچایت نے نچلی سطح کی اختراعی پہل کاریوں کے زمرے میں طلائی اعزاز حاصل کیا۔ اس نے مصنوعی ذہانت اور بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا ڈیجیٹل نظام قائم کیا ہے، جس کے ذریعے 1,300 سے زائد خدمات آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔
اسی طرح تریپورہ کے مغربی تریپورہ ضلع کی بجوئے نگر گرام پنچایت نے چاندی کا ایوارڈ حاصل کیا، جہاں پنچایت کی اپنی آمدنی میں تقریباً 194 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تمام خواتین کو مکمل ڈیجیٹل خواندگی حاصل ہو چکی ہے۔ مزید برآں، مہاراشٹر کے نندوربار ضلع پریشد کے محکمۂ صحت نے ای۔آروگیہ دھمنی منصوبے کے ذریعے ضلعی سطح کی پہل کاریوں کے زمرے میں طلائی ایوارڈ حاصل کیا، جس کے ذریعے دور دراز قبائلی علاقوں میں معیاری صحت کی خدمات تک رسائی کو مؤثر انداز میں مضبوط بنایا گیا ہے۔
یہ تمام اعزازات مل کر ایک اہم حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ای۔گورننس میں عمدگی اب صرف ریاستی دارالحکومتوں یا ضلعی ہیڈکوارٹروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب یہ ہمارے دیہات اور گرام سبھاؤں میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ اس سال 30 ریاستوں کی 65.1 لاکھ سے زائد گرام پنچایتوں نے اس عمل میں حصہ لیا، جو اس ادارہ جاتی اعتماد کا مظہر ہے، جسے ہم نے گزشتہ برسوں میں مشترکہ کوششوں سے پروان چڑھایا ہے۔
یہ کامیابیاں اتفاقاً حاصل نہیں ہوئیں۔ گزشتہ 12 برسوں کے دوران وزارتِ پنچایتی راج نے مسلسل پنچایتوں کو جدید اور مؤثر وسائل سے آراستہ کیا ہے۔ ای۔گرام سوراج پلیٹ فارم کے ذریعے 59.2 لاکھ سے زائد گرام پنچایتوں میں منصوبہ بندی، بجٹ سازی اور مالی ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی مالیاتی نظم و نسق کے نظام (پی ایف ایم ایس) کے ذریعے 16.3 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کے آن لائن مالی لین دین انجام دیے جا چکے ہیں۔
مصنوعی ذہانت سے مزین سبھا سار پلیٹ فارم، جو بھارت کی 23 زبانوں میں دستیاب ہے، 35.1 لاکھ سے زائد گرام پنچایتوں کے لئے چند ہی منٹوں میں گرام سبھا کی کارروائی کی روداد تیار کر دیتا ہے۔ اسی طرح میری پنچایت ایپ، جسے ایک کروڑ سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے، دیہی ترقی سے متعلق معلومات براہِ راست شہریوں کی دسترس میں فراہم کرتی ہے۔
ان پیش رفتوں کے ساتھ ساتھ سوامتو اسکیم کے تحت 30.3 لاکھ دیہات میں ڈرون سروے مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ جون 2026 کے وسط تک 94.1 لاکھ دیہات کے لئے 19.3 کروڑ جائیداد کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس اقدام سے دیہی خاندانوں کے حقوقِ ملکیت کو مضبوطی ملی ہے اور انہیں قرض و مالی سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہوئی ہے۔
اسی طرح پندرہویں مالیاتی کمیشن کے تحت دیہی مقامی اداروں کو 82.2 لاکھ کروڑ روپے کی گرانٹس جاری کی گئیں، جو اب تک کا سب سے زیادہ اجرا ہے۔ مزید برآں، سولہویں مالیاتی کمیشن نے 2026 سے 2031 کے عرصے کے لئے 35.4 لاکھ کروڑ روپے کی گرانٹس کی سفارش کی ہے، جو سابقہ رقم کے مقابلے میں تقریباً 84 فیصد زیادہ ہے۔
اس ویژن کو مزید آگے بڑھانے کے لئے وزارت نے ’’سیوا سے سمردھی: پنچایت کی قیادت میں عوامی خدمات کی فراہمی‘‘ کے عنوان سے علاقائی ورکشاپوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان ورکشاپوں میں پنچایتی نمائندوں، ضلعی افسران اور مختلف شعبوں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا رہا ہے تاکہ صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور دیگر شعبوں میں عوامی ضروریات پر مبنی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
یہ ورکشاپس کامیاب مقامی نمونوں کو پیش کرنے اور مختلف ریاستوں کے درمیان باہمی تجربات کے تبادلے کے ذریعے اس ویژن کو براہِ راست نچلی سطح تک پہنچا رہی ہیں۔ ان ماڈلز کو دیگر علاقوں میں اپنانے کے امکانات نہایت وسیع ہیں اور ملک بھر کی پنچایتیں ایک دوسرے سے اور قومی ای۔گورننس ایوارڈز 2026 سے سرفراز اداروں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے اپنے دیہات میں خدمت کے ذریعے خوشحالی لانے کے لئے ان کامیاب نمونوں کو اختیار کرنے کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ اچھی حکمرانی وہی ہے جو شہریوں کی زندگی کو آسان بنائے۔ شفاف اور ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ نظاموں کے ذریعے آسان طرزِ زندگی کو یقینی بنانا ہی کسی حکومت کے عزم، صلاحیت اور عوامی خدمت کے جذبے کا حقیقی پیمانہ ہے۔ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ جو دوسروں کو عزت دیتا ہے، وہ خود بھی عزت پاتا ہے۔ مرکزی حکومت نے پنچایتوں کو جدید ڈیجیٹل وسائل سے آراستہ کرکے اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے لئے اس باوقار قومی پلیٹ فارم پر نمایاں مقام حاصل کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔
جیسے جیسے بھارت 2047 تک وِکست بھارت (ترقی یافتہ بھارت) کے ہدف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، بااختیار پنچایتوں کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔ دیہی بھارت میں تقریباً 90 کروڑ شہری آباد ہیں اور ہماری پنچایتی راج تنظیموں کی مضبوطی ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ اجتماعی ترقی کی رفتار کتنی تیز ہوگی۔ وِکست پنچایت، وِکست بھارت سے الگ کوئی تصور نہیں، بلکہ اسی کی مضبوط بنیاد ہے۔
یہ 4 قومی اعزازات محض کامیابی کی علامت نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھنے والے سفر کے سنگِ میل ہیں۔ یہ ہر اُس سرپنچ، پنچایت سکریٹری اور خاتون عوامی نمائندہ کے لئے حوصلہ افزائی کا پیغام ہیں، جو دیہی سطح پر عوامی خدمت میں مصروف ہیں، کہ ان کی محنت کو دیکھا بھی جا رہا ہے اور قومی سطح پر سراہا بھی جا رہا ہے۔ گزشتہ 12 برسوں کی مستقل اور منظم کوششوں نے ایسا سازگار ماحول پیدا کیا ہے، جس میں اس نوع کی غیر معمولی کامیابیاں ممکن ہو سکی ہیں۔
قومی ای۔گورننس ایوارڈز 2026 میں حاصل ہونے والی قومی شناخت سے لے کر ملک بھر میں ’’سیوا سے سمردھی‘‘ ورکشاپوں کی بڑھتی ہوئی تحریک تک، یہ تمام کامیابیاں اس حقیقت کی توثیق کرتی ہیں کہ ای۔گورننس نے واقعی دیہی بھارت میں اپنی مضبوط جڑیں جما لی ہیں اور وِکست پنچایت کے ذریعے وِکست بھارت کی تعمیر کا سفر ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید قوت اور وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔


