
ڈاکٹر محفوظ عالم
مصنوعی ذہانت کے اس سنہری دور میں انسان اپنی شناخت کے ایسے بحران میں مبتلا ہے کہ بعض اوقات اسے خود بھی یقین نہیں آتا کہ وہ انسان ہے یا مختلف محکموں کے جاری کردہ کارڈوں کا چلتا پھرتا مجموعہ۔ ایک طرف اطلاعات کی بمباری جاری ہے اور دوسری طرف ہر قدم پر اپنی شناخت ثابت کرنے کا امتحان۔ ایسا لگتا ہے کہ آج کل سانس لینے کے لئے بھی کسی نہ کسی کارڈ کی ضرورت پڑ جائے گی۔
آج کارڈوں کی ایسی بہار آئی ہوئی ہے کہ انسان کم اور پرس زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ، پین کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ، کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، ہیلتھ کارڈ، آیوشمان کارڈ، راشن کارڈ، جاب کارڈ، ممبرشپ کارڈ، وزیٹنگ کارڈ، ڈرائیونگ کارڈ، گیٹ کارڈ، مہمان کارڈ، سینیئر سٹیزن کارڈ، اور نہ جانے کتنے کارڈ!
ان کارڈوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے انسان کی کمر کمان بن چکی ہے۔ بعض کارڈ تو ایسے ہیں جن کے ساتھ پاس ورڈ، او ٹی پی اور سیکیورٹی سوالات بھی مفت ملتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ پاس ورڈ بھول جائیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اپنی کوئی اوقات ہی نہیں۔
اب تو گھروں کے دروازے بھی انسانوں سے زیادہ بااختیار ہو گئے ہیں۔ مالک مکان خود باہر کھڑا رہ جاتا ہے اور دروازہ پوچھتا ہے: ’’پہلے اپنی شناخت ثابت کیجیے، پھر اندر جانے کی بات ہوگی۔‘‘
ایک زمانہ تھا جب مہمان اچانک آ جاتا تھا اور گھر میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی تھی۔ کوے کی کائیں کائیں کو لوگ مہمان کی آمد کا پیش خیمہ سمجھتے تھے۔ آج اگر کوئی مہمان بغیر اطلاع آ جائے تو گھر والے اس طرح چونک جاتے ہیں جیسے کسی نے ان کے وائی فائی کا پاس ورڈ پوچھ لیا ہو۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی نے زندگی آسان ضرور بنائی ہے مگر انسان کو کچھ بےحس بھی کر دیا ہے۔ پہلے لوگ حادثہ دیکھ کر زخمی کو اسپتال پہنچاتے تھے، اب پہلے موبائل نکالتے ہیں، ویڈیو بناتے ہیں اور پھر کیپشن لکھتے ہیں: ’’دیکھیے! انسانیت کس قدر گر چکی ہے۔‘‘
بچہ جب مادرِ شکم سے اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے اس کا سامنا کارڈوں کی دنیا سے ہوتا ہے۔ ابھی آنکھیں پوری طرح کھلی بھی نہیں ہوتیں کہ اس کا برتھ سرٹیفکیٹ تیار ہو جاتا ہے۔ اس کے فوراً بعد ویکسینیشن کارڈ اس کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔ بچپن کی معصومیت ابھی برقرار ہوتی ہے کہ اسے آدھار کارڈ کے حصول کی دوڑ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
آدھار کارڈ بننے کی دیر ہوتی ہے کہ وہ اسکول میں داخلے کی قطار میں کھڑا نظر آتا ہے، جہاں ایک نیا شناختی کارڈ اس کے گلے کا ہار بن جاتا ہے۔ پھر جیسے ہی اٹھارہ برس کی عمر کو پہنچتا ہے، ووٹر شناختی کارڈ اس کا منتظر ہوتا ہے۔ اگر یہ کارڈ موجود نہ ہو تو گویا اس کی شہریت ہی مشکوک قرار پانے لگتی ہے۔
خدشہ ہے کہ مستقبل میں فرقہ واریت بھی کارڈوں کی شکل اختیار نہ کر لے۔ ممکن ہے کسی دن ’’جنتی کارڈ‘‘ اور ’’دوزخی کارڈ‘‘ جاری ہونے لگیں۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھیں: ’’بھائی صاحب! آپ کا کارڈ کس رنگ کا ہے؟‘‘ اور جنت کے دروازے پر بائیومیٹرک مشین نصب ہو تاکہ کوئی غلطی سے اندر نہ چلا جائے۔
انسان جتنا ترقی کر رہا ہے اتنا ہی اپنے گرد دیواریں بلند کرتا جا رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پوری زمین اس کا گھر تھی، آج اپنے ہی شہر میں اسے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ واقعی وہی شخص ہے جو وہ خود کو بتاتا ہے۔
ہمارے ملک کی بڑی آبادی ناخواندگی اور غربت کے مسائل سے دوچار ہے۔ اسے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرنا مشکل ہے، مگر اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کارڈوں، پاس ورڈوں، او ٹی پی اور آن لائن پورٹلوں کی بھول بھلیاں میں بھی کامیابی سے راستہ نکال لے۔
یہاں تک کہ بعد مرنے کے بھی یہ کارڈ کام آتے ہیں۔ ان کارڈوں کے ذریعے ہی قبرستان میں جگہ دی جاتی ہے اور مرنے کی سند جاری ہوتی ہے۔ یہ کارڈ وراثت کے معاملات بھی حل کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔
لہٰذا اگر جیب میں پیسے نہ ہوں تو زیادہ پریشان نہ ہوں، مگر شناختی کارڈ ضرور رکھیے۔ اس دور میں بھوکا رہنا شاید قابلِ معافی ہو، لیکن بے کارڈ رہنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ بلکہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی انسان کی روح سے پوچھا جائے گا: ’’براہِ کرم اپنا کارڈ دکھائیے، ورنہ اگلے کاؤنٹر پر تشریف لے جائیے!‘‘


