پیغامِ کربلا سے مہکا سرینگر:کشمیر کی مرکزی جامع مسجد کے باہر شیعہ سنی نوجوانوں کی مشترکہ خدمت

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے کربلا کے حقیقی پیغام کو زندہ کر دیا۔ نوہٹہ میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے رضاکار، خصوصاً شیعہ اور سنی نوجوان، ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر راہگیروں اور زائرین میں پانی اور مشروبات تقسیم کرتے نظر آئے۔ یہ خدمت حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی یاد میں انجام دی گئی، مگر اس کا پیغام فرقوں اور مسلکوں سے کہیں وسیع تھا۔
جامع مسجد کے احاطے اور اطراف میں موجود فضا عقیدت، احترام اور بھائی چارے کے جذبات سے سرشار تھی۔ پانی کا ہر گلاس اور مشروب کا ہر گھونٹ کربلا کے اس عظیم درس کی یاد دلا رہا تھا جس میں ایثار، صبر، حق گوئی اور انسانیت کی خدمت کو سب سے بلند مقام حاصل ہے۔
اس انسان دوست اقدام میں انجمن اوقاف جامع مسجد کے عہدیداران نے بھی شرکت کی، جس سے اس سرگرمی کو مزید تقویت ملی۔ ان کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ محرم صرف غم اور یاد کا مہینہ نہیں بلکہ امت کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔
رضاکاروں کا کہنا تھا کہ امام حسینؓ کی قربانی کسی ایک طبقے یا مسلک کی میراث نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ ان کے مطابق کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق، انصاف اور انسان دوستی کے لئے ہر حال میں کھڑا ہونا چاہیے۔
ایک رضاکار مبشر نے کہا کہ ’’کربلا کا پیغام تمام انسانوں کے لئے ہے۔ یہ ہمیں سچائی، عدل، صبر اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ ہماری یہ معمولی سی خدمت دراصل انہی عظیم اقدار کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
ایک اور شریکِ خدمت نے کہا کہ یہ اقدام کشمیر کی اُس قدیم روایت کا تسلسل ہے جس میں مختلف مسالک اور طبقات باہمی احترام اور بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق محرم نہ صرف یادِ شہدائے کربلا کا مہینہ ہے بلکہ دلوں کو جوڑنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا بھی ایک موقع ہے۔
جامع مسجد کے باہر جمع ہونے والے افراد نے اس منظر کو کشمیر کی گنگا جمنی تہذیب اور سماجی یکجہتی کی خوبصورت مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں محبت، رواداری اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتے ہیں اور نئی نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کربلا کا اصل سبق نفرت نہیں بلکہ انسانیت، انصاف اور اتحاد ہے۔
محرم کے پہلے دن جامع مسجد کے باہر پیش آنے والا یہ دل آویز منظر اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ امام حسینؓ کی قربانی آج بھی لوگوں کو جوڑنے، خدمتِ خلق کا جذبہ بیدار کرنے اور انسانیت کے مشترکہ رشتے کو مضبوط بنانے کی قوت رکھتی ہے۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میں انسان ہوں یا کارڈوں کا پلندہ؟

  ڈاکٹر محفوظ عالم      مصنوعی ذہانت کے اس...

ماحولیات: شعور سے عمل تک کا سفر

  مہرالنساء قریشی ہندوارہ ، کشمیر اللہ تعالیٰ نے انسان کو...

18 جون سیر و تفریح کا بین الاقوامی دن

  عنایت ﷲ ننھے اب تک ہم ہندوستانی صرف انگریزی کیلنڈر...

دہشت گردی سے روابط رکھنےپر محکمہ بجلی کا ملازم برطرف

جنگ نیوز ڈیسک جموں و کشمیر حکومت نے جنوبی کشمیر...

اقتدار کے لئے اصولوں کا سودا نہیں کریں گے:عمر عبداللہ

جنگ نیوز ڈیسک وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب...

تازہ ترین خبریں

میں انسان ہوں یا کارڈوں کا پلندہ؟

  ڈاکٹر محفوظ عالم      مصنوعی ذہانت کے اس...

ماحولیات: شعور سے عمل تک کا سفر

  مہرالنساء قریشی ہندوارہ ، کشمیر اللہ تعالیٰ نے انسان کو...

18 جون سیر و تفریح کا بین الاقوامی دن

  عنایت ﷲ ننھے اب تک ہم ہندوستانی صرف انگریزی کیلنڈر...

دہشت گردی سے روابط رکھنےپر محکمہ بجلی کا ملازم برطرف

جنگ نیوز ڈیسک جموں و کشمیر حکومت نے جنوبی کشمیر...

اقتدار کے لئے اصولوں کا سودا نہیں کریں گے:عمر عبداللہ

جنگ نیوز ڈیسک وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب...

پیغامِ کربلا سے مہکا سرینگر:کشمیر کی مرکزی جامع مسجد کے باہر شیعہ سنی نوجوانوں کی مشترکہ خدمت

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر/ محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کے باہر ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے کربلا کے حقیقی پیغام کو زندہ کر دیا۔ نوہٹہ میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے رضاکار، خصوصاً شیعہ اور سنی نوجوان، ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر راہگیروں اور زائرین میں پانی اور مشروبات تقسیم کرتے نظر آئے۔ یہ خدمت حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی یاد میں انجام دی گئی، مگر اس کا پیغام فرقوں اور مسلکوں سے کہیں وسیع تھا۔
جامع مسجد کے احاطے اور اطراف میں موجود فضا عقیدت، احترام اور بھائی چارے کے جذبات سے سرشار تھی۔ پانی کا ہر گلاس اور مشروب کا ہر گھونٹ کربلا کے اس عظیم درس کی یاد دلا رہا تھا جس میں ایثار، صبر، حق گوئی اور انسانیت کی خدمت کو سب سے بلند مقام حاصل ہے۔
اس انسان دوست اقدام میں انجمن اوقاف جامع مسجد کے عہدیداران نے بھی شرکت کی، جس سے اس سرگرمی کو مزید تقویت ملی۔ ان کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ محرم صرف غم اور یاد کا مہینہ نہیں بلکہ امت کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔
رضاکاروں کا کہنا تھا کہ امام حسینؓ کی قربانی کسی ایک طبقے یا مسلک کی میراث نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ ان کے مطابق کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق، انصاف اور انسان دوستی کے لئے ہر حال میں کھڑا ہونا چاہیے۔
ایک رضاکار مبشر نے کہا کہ ’’کربلا کا پیغام تمام انسانوں کے لئے ہے۔ یہ ہمیں سچائی، عدل، صبر اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ ہماری یہ معمولی سی خدمت دراصل انہی عظیم اقدار کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
ایک اور شریکِ خدمت نے کہا کہ یہ اقدام کشمیر کی اُس قدیم روایت کا تسلسل ہے جس میں مختلف مسالک اور طبقات باہمی احترام اور بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔ ان کے مطابق محرم نہ صرف یادِ شہدائے کربلا کا مہینہ ہے بلکہ دلوں کو جوڑنے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا بھی ایک موقع ہے۔
جامع مسجد کے باہر جمع ہونے والے افراد نے اس منظر کو کشمیر کی گنگا جمنی تہذیب اور سماجی یکجہتی کی خوبصورت مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں محبت، رواداری اور باہمی اعتماد کو فروغ دیتے ہیں اور نئی نسل کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کربلا کا اصل سبق نفرت نہیں بلکہ انسانیت، انصاف اور اتحاد ہے۔
محرم کے پہلے دن جامع مسجد کے باہر پیش آنے والا یہ دل آویز منظر اس حقیقت کی یاد دہانی تھا کہ امام حسینؓ کی قربانی آج بھی لوگوں کو جوڑنے، خدمتِ خلق کا جذبہ بیدار کرنے اور انسانیت کے مشترکہ رشتے کو مضبوط بنانے کی قوت رکھتی ہے۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں