جنگ نیوز
سرینگر/ قائد حزب اختلاف اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یو ٹی) بنانے کے بعد امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور خوف، تشدد اور خونریزی کا دور بڑی حد تک ختم ہو چکا ہے۔
سرینگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ ماضی میں جب امن و امان منتخب حکومتوں کے دائرہ اختیار میں تھا، اس وقت تشدد، ہلاکتوں اور بدامنی کے واقعات عام تھے، جبکہ آج صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی تنظیم نو اور وزارت داخلہ کے تحت امن و امان کے انتظام کے بعد نوجوان خوف کے ماحول سے باہر آئے ہیں اور حالات پہلے کے مقابلے میں کافی بہتر ہوئے ہیں۔
سنیل شرما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت جموں و کشمیر کی ترقی کے لئے فراخدلانہ انداز میں مالی معاونت فراہم کر رہی ہے اور پورے خطے میں بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔
کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ برادری کشمیر کی شناخت اور ورثے کا لازمی حصہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت ان کی بازآبادکاری اور جائیدادوں کی واپسی کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ مرکز جموں و کشمیر میں پائیدار امن، استحکام اور معمول کی صورتحال کے قیام کے بعد ہی ریاستی درجے کی بحالی سے متعلق کوئی فیصلہ کرے گا۔
انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اندرونی تضادات کا شکار ہے اور وقت کے ساتھ خود ہی کمزور ہو جائے گی۔


