جنگ فیچر ڈیسک
اسلامی سالِ نو کے آغاز کے موقع پر منگل کے روز خانۂ کعبہ کو نیا غلافِ کعبہ (کسوہ) پہنایا گیا۔ یہ صدیوں پر محیط ایک عظیم روایت کا تسلسل ہے جو دینی تقدس کے ساتھ ساتھ اسلامی ہنرمندی اور فنِ دستکاری کے اعلیٰ ترین نمونوں کی بھی آئینہ دار ہے۔
یکم محرم الحرام 1448 ہجری کو مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں غلافِ کعبہ کی تبدیلی کی یہ بابرکت تقریب حرمین شریفین کے امور کے نگران اداروں کی نگرانی میں انجام پائی۔
نیا غلافِ کعبہ تقریباً ایک سال کی مسلسل محنت کے بعد تیار کیا گیا۔ اس کی تیاری میں 150 سعودی ماہرین، ہنرمندوں اور فنکاروں نے حصہ لیا، جنہوں نے مجمع الملک عبدالعزیز لکسوة الکعبہ المشرفة میں بنائی، رنگائی، کشیدہ کاری اور مختلف فنی مراحل مکمل کیے۔ اس غلاف میں ریشم کے 47 پٹ استعمال کیے گئے ہیں، جن پر قرآنی آیات کو چاندی کے تاروں سے کشیدہ کیا گیا ہے، جبکہ ان تاروں پر 24 قیراط سونے کی ملمع کاری کی گئی ہے۔
تقریباً 1410 کلوگرام وزنی اس غلاف میں 825 کلوگرام خالص قدرتی ریشم استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ چاندی اور سونے سے ملمع شدہ دھاگوں کے ذریعے قرآنی خطاطی اور نفیس تزئینی نقوش تیار کیے گئے ہیں، جو اس کے حسن و جلال میں اضافہ کرتے ہیں۔
سالانہ تبدیلی کے انتظامات پیر کی شام ہی شروع ہوگئے تھے، جب سابقہ غلاف اور اس کے کشیدہ اجزا، بشمول بابِ کعبہ کے پردے، کو احتیاط سے اتارا گیا۔ بعد ازاں ماہر فنی ٹیموں نے ایک منظم اور مربوط کارروائی کے ذریعے نیا غلاف نصب کیا۔
غلافِ کعبہ کی تیاری کئی مراحل سے گزرتی ہے، جن میں ریشم کی تیاری، بنائی، طباعت، کشیدہ کاری، جوڑ بندی اور حتمی جانچ شامل ہیں۔ ان تمام مراحل کی تکمیل کے بعد تیار شدہ غلاف مسجد الحرام منتقل کیا جاتا ہے۔
دینی اور روحانی اہمیت کے علاوہ غلافِ کعبہ اسلامی فن و ثقافت کے عظیم ترین ورثوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس پر آیاتِ قرآنی کو نہایت دلکش اور نفیس عربی خطاطی میں نقش کیا جاتا ہے، جو اسلام کے مقدس ترین مقام کی تزئین و تعظیم سے وابستہ ایک درخشاں اور دیرینہ روایت کی نمائندگی کرتا ہے۔


