رجحان

جنگ نیوز

سری نگر/جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران دسویں جماعت سے اعلیٰ ثانوی سطح تک طلبہ کی منتقلی کی شرح میں 20 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو ملک میں دوسری بڑی گراوٹ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں یہ شرح38.93فیصد تھی جو 2024 میں کم ہو کر 9.72فیصد رہ گئی۔ صرف اروناچل پردیش میں اس سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مالی مشکلات، کم عمری میں روزگار کی طرف رجحان اور سماجی دباؤ کو اس گراوٹ کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دسویں جماعت کے بعد طلبہ کو تعلیمی نظام میں برقرار رکھنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، جس کے لئے مسلسل حکومتی اور ادارہ جاتی معاونت کی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس جموں و کشمیر میں 17 فیصد سے زائد طلبہ نے ابتدائی سطح پر جبکہ تقریباً 12 فیصد طلبہ نے اعلیٰ ثانوی سطح پر تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی۔
تاہم تعلیمی شعبے میں بعض مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران تقریباً 46 ہزار اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام سے جوڑا گیا، جبکہ 2024-25 میں2.87 فیصد اسکولوں میں بجلی کی فراہمی مکمل کی گئی، جسے تعلیمی ڈھانچے میں بہتری کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی

جنگ نیوز امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی...

غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا

بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی...

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

تازہ ترین خبریں

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بڑی کامیابی

جنگ نیوز امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی...

غیر ملکی سرمایہ کاری کا انخلا

بھارتی اسٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی...

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

رجحان

جنگ نیوز

سری نگر/جموں و کشمیر میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران دسویں جماعت سے اعلیٰ ثانوی سطح تک طلبہ کی منتقلی کی شرح میں 20 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو ملک میں دوسری بڑی گراوٹ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014 میں یہ شرح38.93فیصد تھی جو 2024 میں کم ہو کر 9.72فیصد رہ گئی۔ صرف اروناچل پردیش میں اس سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ میں مالی مشکلات، کم عمری میں روزگار کی طرف رجحان اور سماجی دباؤ کو اس گراوٹ کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دسویں جماعت کے بعد طلبہ کو تعلیمی نظام میں برقرار رکھنا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، جس کے لئے مسلسل حکومتی اور ادارہ جاتی معاونت کی ضرورت ہے۔ گزشتہ برس جموں و کشمیر میں 17 فیصد سے زائد طلبہ نے ابتدائی سطح پر جبکہ تقریباً 12 فیصد طلبہ نے اعلیٰ ثانوی سطح پر تعلیم ادھوری چھوڑ دی تھی۔
تاہم تعلیمی شعبے میں بعض مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہیں۔ گزشتہ تعلیمی سال کے دوران تقریباً 46 ہزار اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام سے جوڑا گیا، جبکہ 2024-25 میں2.87 فیصد اسکولوں میں بجلی کی فراہمی مکمل کی گئی، جسے تعلیمی ڈھانچے میں بہتری کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں