محرم الحرام 2026:وزیراعلیٰ نے اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اِنتظامات کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک
سری نگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں محرم الحرام 2026 کے احسن اور پُر اَمن اِنعقاد کے لئے کئے جارہے اِنتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزرأ سکینہ اِیتو، جاوید رانا، جاوید احمد ڈار (بذریعہ ورچیول موڈ)اور ستیش شرما، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ممبران اسمبلی تنویر صادق (زڈی بل)، علی محمد ڈار (چاڈورہ)، آغا منتظر مہدی (بڈگام)، ڈاکٹر شفیع احمد وانی (بیروہ)، جاوید ریاض بیدار (پٹن)، ہلال اکبر لون (سونہ واری)، شمیم فردوس (حبہ کدل) اور سلمان ساگر (حضرت بل) نے شرکت کی۔
صدرآل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے عمران رضا انصاری، مختلف شیعہ تنظیموں کے نمائندوں، علماء کرام، سول سوسائٹی کے اراکین اور کمیونٹی رہنما ئوںنے بھی میٹنگ میں شمولیت اِختیار کی۔
اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اشونی کمار،ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیاحت آشیش چندر ورما، صوبائی کمشنروں، تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں، اِنتظامی سیکرٹریوں، محکموں کے سربراہان اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ سری نگر سے باہر کے افسران نے بذریعہ ورچیول موڈ میٹنگ میں حصہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے شرکأسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے اِنتظامات کئی ماہ سے جاری ہیں اور آج کی میٹنگ اَب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور باقی رہ جانے والی ضروریات کی نشاندہی کے لئے منعقد کی گئی ہے۔
اُنہوں نے کہا،’’محرم الحرام کی تیاری آج سے شروع نہیں ہوئی ہیں، ضلعی، صوبائی اور محکمانہ سطح پر پہلے ہی وسیع پیمانے پر کام کیا جا چکا ہے۔ یہ میٹنگ ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اِجتماعی طور پر اِنتظامات کا جائزہ لیں، مکمل کئے گئے کاموں کا جائزہ لیں اور جو کچھ رہ گیا ہے اسے وقت پر مکمل کیا جائے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنروں، کمیونٹی نمائندوں، منتخب عوامی نمائندوں اور مختلف محکموں کے افسران نے نچلی سطح پر پہلے ہی تفصیلی مشاورت کی ہے۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ حکومت تمام اِنتظامات کو مربوط اور مؤثر انداز میں یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔
اُنہوں نے کہا،’’ہر برس کی طرح حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی کہ محرم الحرام کے ایام کے دوران کوئی کمی نہ رہے اورلوگوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔‘‘
میٹنگ میںبجلی کی بلا تعطل فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے عوامی نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے محکمہ بجلی کو ہدایت دی کہ تمام بڑے اِجتماعی مقامات اور جلوسوں کے راستوں پر مستقل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے متبادل انتظامات جیسے جنریٹر، بیٹری اِنورٹر سسٹم اور سولر لائٹنگ کے مؤثر اِستعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور بڑے اجتماعی مقامات پر جنریٹر نصب کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ بجلی کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے۔وزیراعلیٰ نے بیک اپ کے مناسب اِنتظامات کی ضرورت پر زور دیا جن میں جنریٹرز، بیٹری،انورٹر سسٹم اور آپریشنل سولر لائٹنگ کی تنصیبات شامل ہیں۔ اُنہوں نے بڑے اجتماعی مقامات پر جنریٹر نصب کرنے کی ہدایت دِی تاکہ بجلی کی فراہمی میں کوئی رُکاوٹ نہ آئے۔اُنہوںپینے کے صاف پانی کی فراہمی کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ جل شکتی کو ہدایت دی کہ تمام متاثرہ علاقوں میں صاف اور محفوظ پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے ایام کے دوران تعینات پانی کے ٹینکروں کے ذریعے صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے اور جہاں ٹینکروں کی آمدورفت مشکل ہو یا بڑے اجتماعات متوقع ہوں وہاں مستقل واٹر ڈسٹری بیوشن پوائنٹس قائم کئے جائیں۔وزیر اعلیٰ نے صفائی ستھرائی کے اِنتظامات کا بھی جائزہ لیا اور شہری بلدیاتی اداروں کو ہدایت دی کہ امام بارگاہوں، جلوسوں کے راستوں اور بڑے اجتماعی مقامات کے ارد گرد صفائی کے کاموں کو تیز کریں۔اُنہوں نے ضرورت کے مطابق اضافی عملہ تعینات کرنے اور پورے محرم الحرام کے دوران صفائی خدمات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے بلدیاتی اداروں اور محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے درمیان قریبی تال میل  رکھنے اور ہائی پریشر واٹر گاڑیوں کے ذریعے سڑکوں کو دھونے اور صفائی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے صحت سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ صحت و طبی تعلیم کو ہدایت دی کہ مناسب تعداد میں طبی عملہ، ایمبولینسیز، کریٹیکل کیئر ایمبولینسیز، ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں اور میڈیکل کیمپ اہم مقامات پر تعینات کئے جائیں۔وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ محرم الحرام کے دوران یہ تمام اِنتظامات مکمل طور پر فعال رہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔اُنہوںنے ٹریفک مینجمنٹ پلان کا بھی جائزہ لیا اور ٹریفک پولیس و سول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ جلوسوں کی روانی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مسافروں، سیاحوں اور عام شہریوں کو کم سے کم مشکلات پیش آئیں۔ اُنہوں نے اہم چوراہوں اور اجتماعی مقامات پر ٹریفک عملے کی مؤثر تعیناتی کی ہدایت دی۔وزیراعلیٰ نے سڑکوں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کو ہدایت دی کہ جلوسوں کے راستوں اور بڑے اجتماعی مقامات پر سڑکوں کی مرمت اور گڑھوں کو بھرنے کا کام فوری طور پر مکمل کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ حالات میں میکڈیمائزیشن کے کام کو سپلائی چین سے متعلق مشکلات کا سامنا ہے، تاہم جہاں فوری طور پر مکمل میکڈیمائزیشن ممکن نہ ہو وہاں سڑکوں کو ہموار اور محفوظ بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے محرم الحرام اِنتظامات کے لئے نامزد نوڈل افسران کی جوابدہی اور عوامی رسائی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور ہدایت دی کہ تمام نوڈل افسران عوام کے لئے ہر وقت دستیاب رہیں اور شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں۔
اُنہوں نے انتظامات کی مانیٹرنگ اور کوآرڈی نیشن کو مضبوط بنانے کے لئے اعلان کیا کہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک خصوصی مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے گا جو محرم الحرام اِنتظامات کی مسلسل نگرانی کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ نامزد افسران مختلف محکموں کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گے اور عوامی شکایات کی نگرانی کریں گے۔
دوران میٹنگ وزیر اعلیٰ نے شرکأ کو یقین دلایا کہ حکومت محرم الحرام سے متعلق انتظامات اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے اگلے بجٹ میں مختص رقم پر غور کرے گی تاکہ محکمے پیشگی تیاریوں کو مؤثر انداز میں مکمل کر سکیں اور جموں و کشمیر میں محرم الحرام کے انعقاد کو مزید منظم بنایا جا سکے۔
اِس سے قبل متعدد اراکین اسمبلی، شیعہ تنظیموں کے نمائندوں، علمائے کرام، سول سوسائٹی کے ارکان اور کمیونٹی رہنماؤں نے بجلی، پینے کے پانی، سڑکوں، صفائی، صحت کی سہولیات اور دیگر عوامی خدمات سے متعلق مسائل کو اُجاگر کیا۔
میٹنگ میں کشمیر اور جموں کے صوبائی کمشنروں نے اپنے اپنے صوبوں میں جا رہے اِنتظامات پر تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔
ٍ پرزنٹیشن میں بڑے اجتماعی تقریبات اور جلوسوں، کمیونٹی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے مشاورت، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری، ضلعی اور محکمانہ سطح کے نوڈل افسران کی تعیناتی،ضلع ترقیاتی کمشنرو ںاور سینئر افسران کے فیلڈ معائینے، سیکورٹی اور ٹریفک منصوبے، پارکنگ مقامات کی نشاندہی، ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے اور ایمبولینسوں کی تعیناتی سمیت صحت کی تیاریوں، بلدیاتی انتظامات، سڑکوں کی مرمت، بجلی اور پانی کی فراہمی، شیعہ اکثریتی علاقوں میں راشن اور ضروری اشیأ کی پیشگی فراہمی، رسوئی گیس اور ایندھن کی دستیابی، حساس مقامات پر فائر ٹینڈروں کی تعیناتی اور ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے جامع منصوبوں کا احاطہ کیا گیا۔
میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ محرم الحرام 2026 کے پرامن اور احسن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے وسیع پیمانے پر فیلڈ دورے، عوامی رسائی پروگرام اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری کی سرگرمیاں پہلے ہی جاری ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

بچوں کو کھیل کھیل میں اردو سکھانے والی کتاب "الفاظ کی دنیا "

احمد حاطب صدیقی سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

بچوں کو کھیل کھیل میں اردو سکھانے والی کتاب "الفاظ کی دنیا "

احمد حاطب صدیقی سچ پوچھیے تو یہ دنیا الفاظ کی...

محرم الحرام 2026:وزیراعلیٰ نے اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اِنتظامات کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک
سری نگر/ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر میں محرم الحرام 2026 کے احسن اور پُر اَمن اِنعقاد کے لئے کئے جارہے اِنتظامات کا جائزہ لیا گیا۔
میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزرأ سکینہ اِیتو، جاوید رانا، جاوید احمد ڈار (بذریعہ ورچیول موڈ)اور ستیش شرما، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ممبران اسمبلی تنویر صادق (زڈی بل)، علی محمد ڈار (چاڈورہ)، آغا منتظر مہدی (بڈگام)، ڈاکٹر شفیع احمد وانی (بیروہ)، جاوید ریاض بیدار (پٹن)، ہلال اکبر لون (سونہ واری)، شمیم فردوس (حبہ کدل) اور سلمان ساگر (حضرت بل) نے شرکت کی۔
صدرآل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے عمران رضا انصاری، مختلف شیعہ تنظیموں کے نمائندوں، علماء کرام، سول سوسائٹی کے اراکین اور کمیونٹی رہنما ئوںنے بھی میٹنگ میں شمولیت اِختیار کی۔
اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اشونی کمار،ایڈیشنل چیف سیکرٹری سیاحت آشیش چندر ورما، صوبائی کمشنروں، تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں، اِنتظامی سیکرٹریوں، محکموں کے سربراہان اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ سری نگر سے باہر کے افسران نے بذریعہ ورچیول موڈ میٹنگ میں حصہ لیا۔
وزیر اعلیٰ نے شرکأسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے اِنتظامات کئی ماہ سے جاری ہیں اور آج کی میٹنگ اَب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور باقی رہ جانے والی ضروریات کی نشاندہی کے لئے منعقد کی گئی ہے۔
اُنہوں نے کہا،’’محرم الحرام کی تیاری آج سے شروع نہیں ہوئی ہیں، ضلعی، صوبائی اور محکمانہ سطح پر پہلے ہی وسیع پیمانے پر کام کیا جا چکا ہے۔ یہ میٹنگ ہمیں موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اِجتماعی طور پر اِنتظامات کا جائزہ لیں، مکمل کئے گئے کاموں کا جائزہ لیں اور جو کچھ رہ گیا ہے اسے وقت پر مکمل کیا جائے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنروں، کمیونٹی نمائندوں، منتخب عوامی نمائندوں اور مختلف محکموں کے افسران نے نچلی سطح پر پہلے ہی تفصیلی مشاورت کی ہے۔ اُنہوں نے یقین دِلایا کہ حکومت تمام اِنتظامات کو مربوط اور مؤثر انداز میں یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔
اُنہوں نے کہا،’’ہر برس کی طرح حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی کہ محرم الحرام کے ایام کے دوران کوئی کمی نہ رہے اورلوگوں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔‘‘
میٹنگ میںبجلی کی بلا تعطل فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے عوامی نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے محکمہ بجلی کو ہدایت دی کہ تمام بڑے اِجتماعی مقامات اور جلوسوں کے راستوں پر مستقل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے متبادل انتظامات جیسے جنریٹر، بیٹری اِنورٹر سسٹم اور سولر لائٹنگ کے مؤثر اِستعمال کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور بڑے اجتماعی مقامات پر جنریٹر نصب کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ بجلی کی فراہمی میں کوئی خلل نہ آئے۔وزیراعلیٰ نے بیک اپ کے مناسب اِنتظامات کی ضرورت پر زور دیا جن میں جنریٹرز، بیٹری،انورٹر سسٹم اور آپریشنل سولر لائٹنگ کی تنصیبات شامل ہیں۔ اُنہوں نے بڑے اجتماعی مقامات پر جنریٹر نصب کرنے کی ہدایت دِی تاکہ بجلی کی فراہمی میں کوئی رُکاوٹ نہ آئے۔اُنہوںپینے کے صاف پانی کی فراہمی کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ جل شکتی کو ہدایت دی کہ تمام متاثرہ علاقوں میں صاف اور محفوظ پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے ایام کے دوران تعینات پانی کے ٹینکروں کے ذریعے صاف پینے کا پانی فراہم کیا جائے اور جہاں ٹینکروں کی آمدورفت مشکل ہو یا بڑے اجتماعات متوقع ہوں وہاں مستقل واٹر ڈسٹری بیوشن پوائنٹس قائم کئے جائیں۔وزیر اعلیٰ نے صفائی ستھرائی کے اِنتظامات کا بھی جائزہ لیا اور شہری بلدیاتی اداروں کو ہدایت دی کہ امام بارگاہوں، جلوسوں کے راستوں اور بڑے اجتماعی مقامات کے ارد گرد صفائی کے کاموں کو تیز کریں۔اُنہوں نے ضرورت کے مطابق اضافی عملہ تعینات کرنے اور پورے محرم الحرام کے دوران صفائی خدمات جاری رکھنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے بلدیاتی اداروں اور محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے درمیان قریبی تال میل  رکھنے اور ہائی پریشر واٹر گاڑیوں کے ذریعے سڑکوں کو دھونے اور صفائی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے صحت سے متعلق تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ صحت و طبی تعلیم کو ہدایت دی کہ مناسب تعداد میں طبی عملہ، ایمبولینسیز، کریٹیکل کیئر ایمبولینسیز، ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں اور میڈیکل کیمپ اہم مقامات پر تعینات کئے جائیں۔وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ محرم الحرام کے دوران یہ تمام اِنتظامات مکمل طور پر فعال رہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر بروقت طبی امداد فراہم کی جا سکے۔اُنہوںنے ٹریفک مینجمنٹ پلان کا بھی جائزہ لیا اور ٹریفک پولیس و سول انتظامیہ کو ہدایت دی کہ جلوسوں کی روانی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مسافروں، سیاحوں اور عام شہریوں کو کم سے کم مشکلات پیش آئیں۔ اُنہوں نے اہم چوراہوں اور اجتماعی مقامات پر ٹریفک عملے کی مؤثر تعیناتی کی ہدایت دی۔وزیراعلیٰ نے سڑکوں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) کو ہدایت دی کہ جلوسوں کے راستوں اور بڑے اجتماعی مقامات پر سڑکوں کی مرمت اور گڑھوں کو بھرنے کا کام فوری طور پر مکمل کیا جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ موجودہ حالات میں میکڈیمائزیشن کے کام کو سپلائی چین سے متعلق مشکلات کا سامنا ہے، تاہم جہاں فوری طور پر مکمل میکڈیمائزیشن ممکن نہ ہو وہاں سڑکوں کو ہموار اور محفوظ بنایا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے محرم الحرام اِنتظامات کے لئے نامزد نوڈل افسران کی جوابدہی اور عوامی رسائی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور ہدایت دی کہ تمام نوڈل افسران عوام کے لئے ہر وقت دستیاب رہیں اور شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں۔
اُنہوں نے انتظامات کی مانیٹرنگ اور کوآرڈی نیشن کو مضبوط بنانے کے لئے اعلان کیا کہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک خصوصی مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے گا جو محرم الحرام اِنتظامات کی مسلسل نگرانی کرے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ نامزد افسران مختلف محکموں کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیں گے اور عوامی شکایات کی نگرانی کریں گے۔
دوران میٹنگ وزیر اعلیٰ نے شرکأ کو یقین دلایا کہ حکومت محرم الحرام سے متعلق انتظامات اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے اگلے بجٹ میں مختص رقم پر غور کرے گی تاکہ محکمے پیشگی تیاریوں کو مؤثر انداز میں مکمل کر سکیں اور جموں و کشمیر میں محرم الحرام کے انعقاد کو مزید منظم بنایا جا سکے۔
اِس سے قبل متعدد اراکین اسمبلی، شیعہ تنظیموں کے نمائندوں، علمائے کرام، سول سوسائٹی کے ارکان اور کمیونٹی رہنماؤں نے بجلی، پینے کے پانی، سڑکوں، صفائی، صحت کی سہولیات اور دیگر عوامی خدمات سے متعلق مسائل کو اُجاگر کیا۔
میٹنگ میں کشمیر اور جموں کے صوبائی کمشنروں نے اپنے اپنے صوبوں میں جا رہے اِنتظامات پر تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔
ٍ پرزنٹیشن میں بڑے اجتماعی تقریبات اور جلوسوں، کمیونٹی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے مشاورت، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری، ضلعی اور محکمانہ سطح کے نوڈل افسران کی تعیناتی،ضلع ترقیاتی کمشنرو ںاور سینئر افسران کے فیلڈ معائینے، سیکورٹی اور ٹریفک منصوبے، پارکنگ مقامات کی نشاندہی، ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے اور ایمبولینسوں کی تعیناتی سمیت صحت کی تیاریوں، بلدیاتی انتظامات، سڑکوں کی مرمت، بجلی اور پانی کی فراہمی، شیعہ اکثریتی علاقوں میں راشن اور ضروری اشیأ کی پیشگی فراہمی، رسوئی گیس اور ایندھن کی دستیابی، حساس مقامات پر فائر ٹینڈروں کی تعیناتی اور ایمرجنسی حالات سے نمٹنے کے جامع منصوبوں کا احاطہ کیا گیا۔
میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ محرم الحرام 2026 کے پرامن اور احسن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے وسیع پیمانے پر فیلڈ دورے، عوامی رسائی پروگرام اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری کی سرگرمیاں پہلے ہی جاری ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں