اسلامی عبادت گاہیں اور ہماری ذمہ داریاں

 

محسن رضا ضیائی پونے 
ملک میں گزشتہ چند برسوں سے اسلامی عبادت گاہوں پر وقتاً فوقتاً انہدامی کارروائیاں انجام دی جاتی رہی ہیں، لیکن اِن دنوں اس میں بہت زیادہ شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں کمزور جواز فراہم کرکے مساجد کو منہدم کیے جانے کی خبروں سے مسلم طبقے میں تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
جب سے زعفرانی حکومت ملک میں برسرِ اقتدار آئی ہے، نہ ہی مسلمانوں کے سروں پر چھت باقی رہ رہے ہیں اور نہ ہی ان کی مساجد و مدارس، جن کو غیر قانونی تعمیرات بتا کرزمیں بوس کیا جا رہا ہے۔اب تک سیکڑوں مدارس و مساجد ملبے کا ڈھیر ہوچکے ہیں اور کتنے ہی مسلمانوں کے گھروں اور ان کی جائیدادوں کو تعصب و نفرت کا نشانہ بناکر بلڈوزر کے حوالے کردیا گیا ہے۔اخباری رپورٹس کے مطابق کئی غیر تسلیم شدہ مدارس کو بھی یا تو سیل کردیا گیا ہے یا پھر انہیں منہدم کردیا گیا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے بلکہ ملک کے ایک بڑے طبقے میں عدمِ تحفظ کے احساس کو بھی بڑھا رہی ہے۔
۲۰۲۶ء میں جن مساجد کو بلڈوزر کاروائی کا حصہ بنایا گیا ہے، ان کی مختصر فہرست اور معلومات یہاں پیش کی جارہی ہے۔
(۱) ۵ ؍جنوری۲۰۲۶ ء کو اسمولی، سنبھل (اتر پردیش)حاجی پور؍سلیم پور سالار گاؤں میں واقع مدینہ مسجد اور ایک دوسری مسجد کو سرکاری زمین پر تعمیر شدہ قرار دے کر انہدامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ساتھ ہی ایک مدرسہ بھی منہدم کیا گیا۔
(۲) ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۶ء سیتاپور (اتر پردیش)سید حضرت عمر فاروق مسجد کو تالاب اور قبرستان کی سرکاری زمین پر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے منہدم کیا۔
(۳) ۲۰؍ مئی ۲۰۲۶ء غریب نگر، باندرہ ایسٹ، ممبئی (مہاراشٹر)ویسٹرن ریلوے کی انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران دو مساجد منہدم کی گئیں۔اس کارروائی کے دوران احتجاج اور جھڑپوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
(۴) ۳؍ جون ۲۰۲۶ء کاشی ریلوے اسٹیشن، وارانسی (اتر پردیش)ازغیب شہید مزار کے ساتھ واقع مسجد کو ریلوے زمین کے تنازع اور عدالتی حکم کے بعد منہدم کیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق زمین ریلوے کی ملکیت تھی جب کہ مقامی مسلمانوں نے مسجد کو تاریخی قرار دیا۔
مذکورہ بالا اعداد و شمار کے مطابق حالیہ کاروائی میں ۶؍ مساجد کو شہید کردیا گیا۔یہ صرف ایک مختصر روداد ہے، اس کے علاوہ بھی کئی مساجد و مدارس اور مزاراتِ مقدسہ ہیں، جو تعصب کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
ابھی حال ہی میں پونے کے پمپری چنچوڑ علاقے میں بھی کچھ مساجد کو وجہ بتاؤ نوٹس (Show cause Notice) جاری کیا گیا ہے۔ ان پر بھی انہدامی کاروائی کے بادل منڈلا رہے جائے۔ اگر یہی حالات رہیں تو پھر مساجد، مدارس اور مقابر کے لیے یہ ملک بہت تنگ ہوجائے گا، جہاں ان کے نشانات تک باقی نہیں رہیں گے۔ یہ ایک ایسا حساس مسئلہ ہے، جس پر علما، وکلا، دانشوران اور سیاسی و سماجی اشخاص کو بیٹھ کر کوئی سنجیدہ اور ٹھوس حل نکالنا چاہیے، ورنہ تو حالات بے حد خراب ہوجائیں گے، جن پر قابو پانا بہت مشکل ہوجائے گا۔
اگر اِس پورے معاملے کو حقیقت کی روشنی میں دیکھیں تو اس میں ہمارے لوگوں کی بھی کوتاہیاں اور غیر ذمہ داریاں شامل ہیں، جو وقت رہتے دستاویزات درست نہیں رکھتے ہیں اور پھر جب فرمانِ شاہی آ پہنچتا ہے تو در بدر بھٹکتے ہیں، جہاں بچاؤ کا کوئی راستہ نکلتا نظر نہیں آتا ہے۔اگر قبل از وقت مساجد، مدارس اور مزارات کے کاغذات بنوا لیے یا درست کرلیے جائیں یا پھر جو مشکلات پیش آرہی ہیں، انہیں دور کرلیا جائیں تو با آسانی اِس طرح کے حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ لیکن عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے۔اس کا ایک خاص سبب یہ ہے کہ بعض مقامات پر انتظامی امور ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہیں، جو قانونی و انتظامی معاملات اور دین و شریعت کے احکام و مسائل سے نابلد ہیں۔ جب ایسے نااہل اور جاہل قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں ذمہ داریاں ہوں گی تو پھر تباکن نتائج کا ظاہر ہونا فطری بات ہے۔ اس طرح کے نا عاقبت اندیشوں کی وجہ سے اب تک کئی مقدس تعمیرات ہاتھ سے نکل چکی ہیں،جن کے صرف نام باقی رہ گئے ہیں۔
لہٰذا ابھی بھی وقت ہے کہ اسلامی تعمیرات کی حفاظت وسلامتی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ان کے تحفظات کو یقینی بنایا جائے۔یاد رکھیں کہ اگر آج اِن عبادت گاہوں، درس گاہوں اور قبر گاہوں کو منہدم ہونے سے نہیں بچایا گیا تو پھر پورے ملک میں ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر علاقے کی مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کا نمبر آئے گا، اُس وقت سوائے افسوس کے کوئی چارۂ کار نہ ہوگا۔
ہمیں تو اس بات کا بھی شدید اندیشہ لاحق ہے کہ بڑے شہروں میں، جہاں مساجد کو منہدم کیا جا رہا ہے، خصوصاً ممبئی اور پونے جیسے گنجان آباد علاقوں میں دوبارہ مسجد کے لیے زمین حاصل کرنا نہایت دشوار امر ہوگا۔ اگر کہیں زمین دستیاب بھی ہو جائے تو اس کی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ ہوں گے اور پھر تعمیرِ مسجد کے لیے بھی خطیر رقم درکار ہوگی، جو عام مسلمانوں کی استطاعت سے کہیں بڑھ کر ہے۔
گویا اس صورتِ حال کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مرتبہ کسی مسجد کو شہید کر دیا گیا تو ممکن ہے کہ ان علاقوں میں دوبارہ مسجد تعمیر نہ ہو سکے۔ اس کے نتیجے میں وہاں کے مسلمانوں کی دینی و مذہبی زندگی اورآنے والی نسلوں کے ایمان و عقیدے پر نہایت گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اِس حوالے سے یہاں چند تجاوزات و نکات پیش کیے جارہے ہیں، جن پر عمل در آمد کرکے در پیش مسائل و حالات کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
(۱) زمین کے کاغذات، رجسٹری، وقف نامہ، ٹرسٹ دستاویزات، نقشے، ٹیکس ریکارڈ اور دیگر ثبوت منظم انداز میں جمع کیے جائیں۔
(۲) جن زمینوںکے کاغذات نہیں ہیں، فوری طور پر اس کے لیے تگ و دو شروع کردے ۔ اگر وقف کی جائیداد ہے تو اسٹیٹ وقف بورڈ میں اور اگر غیر وقف ہے تو چیریٹی کمشنر یا رجسٹرار آف سوسائٹیز کے دفتر سے رجوع کیا جائے اور ہر ممکن طریقے سے کاغذات بنوائے جائیں۔
(۳) اگر کسی کے کاغذات اور ریکارڈ بنے ہیں، لیکن ان کی کاپیاں پاس میں موجود نہیں ہیں تو وہ اپنے علاقے کے رجسٹریشن آفس سے رجوع کرے اور اس جگہ کے تمام سرکاری ریکارڈ حاصل کرے۔
(۴) جن کے دستاویزات درست نہیں ہیں، وہ مذکورہ بالا جگہوں سے درست کروائے جائیں۔
(۵) تمام سرکاری ریکارڈ اپ ڈیٹ رکھے جائیں۔
(۶) بہت سے مقامات ایسے ہیں، جن کے ٹیکس ادا نہیں کیے گئے ہیں اور ابھی تک آڈیٹ بھی نہیں کرایا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اولِ فرصت ٹیکس ادا کیا جائے اور جو ذرائع آمدنی ہے، اس کا آڈیٹ بھی کرایا جائے۔
(۷) بعض مساجد کے متعلق سروے میں یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی اجازت کے بغیر اُن کی تعمیرات کا رقبہ بڑھا دیا گیا ہے خاص طور سے ایک منزلہ تھا تو دو یا تین منزلہ کی عمارت میں تبدیل کردیا گیا ہے، جو مقامی میونسپل کارپوریشن اتھارٹی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا اِس پربھی توجہ دینے اور اس کا مکمل حل نکالنے کی ضرورت ہے۔
(۸) کسی ماہرِ قانون اور ایمان دار وکیل کو ہائر کیا جائے اور مسلسل اس کے ربط میں رہ کر اُس جگہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
(۹) مساجد سے ہونے والے مہنگے مہنگے پروگرام پر فوری قدغن لگایا جائے اور اس سے بچنے والی رقوم کو مسجد کے رکارڈ کو مزید مستحکم کرنے پر لگایا جائے۔
(۱۰) مساجد کے ٹرسٹ یا کمیٹی کا رجسٹریشن ہونا لازمی ہے۔ اگر نہیں ہے تو فوری کرایا جائے۔ کوشش یہ کی جائے کہ علاقے کے باشعور اور خواندہ افراد کو ٹرسٹ یا کمیٹی میں شامل کیا جائے، جو وقت و حالات کو سمجھتے ہوئے مساجد کے انتظامی و سرکاری امور کو بہتر اور منظم انداز میں چلائیں۔
یہاں ہم نے دس اہم تجاویز و تدابیر پیش کیں، ممکن ہے کہ اُن پر غور وفکر کیا جائے اور انہیں روبۂ عمل لاکر مساجد کو منہدم ہونے یا اس کے خدشات سے بچایا جاسکے۔
موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عبادت گاہوں کا تحفظ صرف جذبات اور احتجاج سے ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لیے دستاویزات کی موجودگی و درستگی، قانونی چارہ جوئی، شفاف کمیٹی اور دور اندیش مسلم قیادت ناگزیر ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وقت کا یہ شدید تقاضا بھی ہےکہ آج کے ہوش ربا حالات میں ایک جامع اور مستحکم منصوبہ بندی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی یا انتظامی پیچیدگی کا مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کیا جاسکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

اسلامی عبادت گاہیں اور ہماری ذمہ داریاں

 

محسن رضا ضیائی پونے 
ملک میں گزشتہ چند برسوں سے اسلامی عبادت گاہوں پر وقتاً فوقتاً انہدامی کارروائیاں انجام دی جاتی رہی ہیں، لیکن اِن دنوں اس میں بہت زیادہ شدت دیکھنے میں آرہی ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں کمزور جواز فراہم کرکے مساجد کو منہدم کیے جانے کی خبروں سے مسلم طبقے میں تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
جب سے زعفرانی حکومت ملک میں برسرِ اقتدار آئی ہے، نہ ہی مسلمانوں کے سروں پر چھت باقی رہ رہے ہیں اور نہ ہی ان کی مساجد و مدارس، جن کو غیر قانونی تعمیرات بتا کرزمیں بوس کیا جا رہا ہے۔اب تک سیکڑوں مدارس و مساجد ملبے کا ڈھیر ہوچکے ہیں اور کتنے ہی مسلمانوں کے گھروں اور ان کی جائیدادوں کو تعصب و نفرت کا نشانہ بناکر بلڈوزر کے حوالے کردیا گیا ہے۔اخباری رپورٹس کے مطابق کئی غیر تسلیم شدہ مدارس کو بھی یا تو سیل کردیا گیا ہے یا پھر انہیں منہدم کردیا گیا ہے۔یہ صورتحال نہ صرف مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے بلکہ ملک کے ایک بڑے طبقے میں عدمِ تحفظ کے احساس کو بھی بڑھا رہی ہے۔
۲۰۲۶ء میں جن مساجد کو بلڈوزر کاروائی کا حصہ بنایا گیا ہے، ان کی مختصر فہرست اور معلومات یہاں پیش کی جارہی ہے۔
(۱) ۵ ؍جنوری۲۰۲۶ ء کو اسمولی، سنبھل (اتر پردیش)حاجی پور؍سلیم پور سالار گاؤں میں واقع مدینہ مسجد اور ایک دوسری مسجد کو سرکاری زمین پر تعمیر شدہ قرار دے کر انہدامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ساتھ ہی ایک مدرسہ بھی منہدم کیا گیا۔
(۲) ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۶ء سیتاپور (اتر پردیش)سید حضرت عمر فاروق مسجد کو تالاب اور قبرستان کی سرکاری زمین پر تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے منہدم کیا۔
(۳) ۲۰؍ مئی ۲۰۲۶ء غریب نگر، باندرہ ایسٹ، ممبئی (مہاراشٹر)ویسٹرن ریلوے کی انسدادِ تجاوزات مہم کے دوران دو مساجد منہدم کی گئیں۔اس کارروائی کے دوران احتجاج اور جھڑپوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
(۴) ۳؍ جون ۲۰۲۶ء کاشی ریلوے اسٹیشن، وارانسی (اتر پردیش)ازغیب شہید مزار کے ساتھ واقع مسجد کو ریلوے زمین کے تنازع اور عدالتی حکم کے بعد منہدم کیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق زمین ریلوے کی ملکیت تھی جب کہ مقامی مسلمانوں نے مسجد کو تاریخی قرار دیا۔
مذکورہ بالا اعداد و شمار کے مطابق حالیہ کاروائی میں ۶؍ مساجد کو شہید کردیا گیا۔یہ صرف ایک مختصر روداد ہے، اس کے علاوہ بھی کئی مساجد و مدارس اور مزاراتِ مقدسہ ہیں، جو تعصب کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔
ابھی حال ہی میں پونے کے پمپری چنچوڑ علاقے میں بھی کچھ مساجد کو وجہ بتاؤ نوٹس (Show cause Notice) جاری کیا گیا ہے۔ ان پر بھی انہدامی کاروائی کے بادل منڈلا رہے جائے۔ اگر یہی حالات رہیں تو پھر مساجد، مدارس اور مقابر کے لیے یہ ملک بہت تنگ ہوجائے گا، جہاں ان کے نشانات تک باقی نہیں رہیں گے۔ یہ ایک ایسا حساس مسئلہ ہے، جس پر علما، وکلا، دانشوران اور سیاسی و سماجی اشخاص کو بیٹھ کر کوئی سنجیدہ اور ٹھوس حل نکالنا چاہیے، ورنہ تو حالات بے حد خراب ہوجائیں گے، جن پر قابو پانا بہت مشکل ہوجائے گا۔
اگر اِس پورے معاملے کو حقیقت کی روشنی میں دیکھیں تو اس میں ہمارے لوگوں کی بھی کوتاہیاں اور غیر ذمہ داریاں شامل ہیں، جو وقت رہتے دستاویزات درست نہیں رکھتے ہیں اور پھر جب فرمانِ شاہی آ پہنچتا ہے تو در بدر بھٹکتے ہیں، جہاں بچاؤ کا کوئی راستہ نکلتا نظر نہیں آتا ہے۔اگر قبل از وقت مساجد، مدارس اور مزارات کے کاغذات بنوا لیے یا درست کرلیے جائیں یا پھر جو مشکلات پیش آرہی ہیں، انہیں دور کرلیا جائیں تو با آسانی اِس طرح کے حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ لیکن عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے۔اس کا ایک خاص سبب یہ ہے کہ بعض مقامات پر انتظامی امور ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہیں، جو قانونی و انتظامی معاملات اور دین و شریعت کے احکام و مسائل سے نابلد ہیں۔ جب ایسے نااہل اور جاہل قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں ذمہ داریاں ہوں گی تو پھر تباکن نتائج کا ظاہر ہونا فطری بات ہے۔ اس طرح کے نا عاقبت اندیشوں کی وجہ سے اب تک کئی مقدس تعمیرات ہاتھ سے نکل چکی ہیں،جن کے صرف نام باقی رہ گئے ہیں۔
لہٰذا ابھی بھی وقت ہے کہ اسلامی تعمیرات کی حفاظت وسلامتی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور ان کے تحفظات کو یقینی بنایا جائے۔یاد رکھیں کہ اگر آج اِن عبادت گاہوں، درس گاہوں اور قبر گاہوں کو منہدم ہونے سے نہیں بچایا گیا تو پھر پورے ملک میں ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر علاقے کی مسجد، مدرسہ اور خانقاہ کا نمبر آئے گا، اُس وقت سوائے افسوس کے کوئی چارۂ کار نہ ہوگا۔
ہمیں تو اس بات کا بھی شدید اندیشہ لاحق ہے کہ بڑے شہروں میں، جہاں مساجد کو منہدم کیا جا رہا ہے، خصوصاً ممبئی اور پونے جیسے گنجان آباد علاقوں میں دوبارہ مسجد کے لیے زمین حاصل کرنا نہایت دشوار امر ہوگا۔ اگر کہیں زمین دستیاب بھی ہو جائے تو اس کی خریداری پر کروڑوں روپے خرچ ہوں گے اور پھر تعمیرِ مسجد کے لیے بھی خطیر رقم درکار ہوگی، جو عام مسلمانوں کی استطاعت سے کہیں بڑھ کر ہے۔
گویا اس صورتِ حال کا واضح مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مرتبہ کسی مسجد کو شہید کر دیا گیا تو ممکن ہے کہ ان علاقوں میں دوبارہ مسجد تعمیر نہ ہو سکے۔ اس کے نتیجے میں وہاں کے مسلمانوں کی دینی و مذہبی زندگی اورآنے والی نسلوں کے ایمان و عقیدے پر نہایت گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اِس حوالے سے یہاں چند تجاوزات و نکات پیش کیے جارہے ہیں، جن پر عمل در آمد کرکے در پیش مسائل و حالات کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
(۱) زمین کے کاغذات، رجسٹری، وقف نامہ، ٹرسٹ دستاویزات، نقشے، ٹیکس ریکارڈ اور دیگر ثبوت منظم انداز میں جمع کیے جائیں۔
(۲) جن زمینوںکے کاغذات نہیں ہیں، فوری طور پر اس کے لیے تگ و دو شروع کردے ۔ اگر وقف کی جائیداد ہے تو اسٹیٹ وقف بورڈ میں اور اگر غیر وقف ہے تو چیریٹی کمشنر یا رجسٹرار آف سوسائٹیز کے دفتر سے رجوع کیا جائے اور ہر ممکن طریقے سے کاغذات بنوائے جائیں۔
(۳) اگر کسی کے کاغذات اور ریکارڈ بنے ہیں، لیکن ان کی کاپیاں پاس میں موجود نہیں ہیں تو وہ اپنے علاقے کے رجسٹریشن آفس سے رجوع کرے اور اس جگہ کے تمام سرکاری ریکارڈ حاصل کرے۔
(۴) جن کے دستاویزات درست نہیں ہیں، وہ مذکورہ بالا جگہوں سے درست کروائے جائیں۔
(۵) تمام سرکاری ریکارڈ اپ ڈیٹ رکھے جائیں۔
(۶) بہت سے مقامات ایسے ہیں، جن کے ٹیکس ادا نہیں کیے گئے ہیں اور ابھی تک آڈیٹ بھی نہیں کرایا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اولِ فرصت ٹیکس ادا کیا جائے اور جو ذرائع آمدنی ہے، اس کا آڈیٹ بھی کرایا جائے۔
(۷) بعض مساجد کے متعلق سروے میں یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی اجازت کے بغیر اُن کی تعمیرات کا رقبہ بڑھا دیا گیا ہے خاص طور سے ایک منزلہ تھا تو دو یا تین منزلہ کی عمارت میں تبدیل کردیا گیا ہے، جو مقامی میونسپل کارپوریشن اتھارٹی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا اِس پربھی توجہ دینے اور اس کا مکمل حل نکالنے کی ضرورت ہے۔
(۸) کسی ماہرِ قانون اور ایمان دار وکیل کو ہائر کیا جائے اور مسلسل اس کے ربط میں رہ کر اُس جگہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
(۹) مساجد سے ہونے والے مہنگے مہنگے پروگرام پر فوری قدغن لگایا جائے اور اس سے بچنے والی رقوم کو مسجد کے رکارڈ کو مزید مستحکم کرنے پر لگایا جائے۔
(۱۰) مساجد کے ٹرسٹ یا کمیٹی کا رجسٹریشن ہونا لازمی ہے۔ اگر نہیں ہے تو فوری کرایا جائے۔ کوشش یہ کی جائے کہ علاقے کے باشعور اور خواندہ افراد کو ٹرسٹ یا کمیٹی میں شامل کیا جائے، جو وقت و حالات کو سمجھتے ہوئے مساجد کے انتظامی و سرکاری امور کو بہتر اور منظم انداز میں چلائیں۔
یہاں ہم نے دس اہم تجاویز و تدابیر پیش کیں، ممکن ہے کہ اُن پر غور وفکر کیا جائے اور انہیں روبۂ عمل لاکر مساجد کو منہدم ہونے یا اس کے خدشات سے بچایا جاسکے۔
موجودہ حالات کے تناظر میں مسلمانوں کو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عبادت گاہوں کا تحفظ صرف جذبات اور احتجاج سے ممکن نہیں ہے بلکہ اس کے لیے دستاویزات کی موجودگی و درستگی، قانونی چارہ جوئی، شفاف کمیٹی اور دور اندیش مسلم قیادت ناگزیر ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وقت کا یہ شدید تقاضا بھی ہےکہ آج کے ہوش ربا حالات میں ایک جامع اور مستحکم منصوبہ بندی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی یا انتظامی پیچیدگی کا مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کیا جاسکے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں