مکہ سے ہندوستان تک اسلام کا سفر عروج، زوال اور تجدید عظمت کی داستان

خامہ بکف محمد پالن پوری

دنیا کی تاریخ میں بہت سی تحریکیں اٹھیں، بہت سے نظریات پیدا ہوئے، بے شمار سلطنتیں وجود میں آئیں اور مٹ بھی گئیں لیکن تاریخ کے افق پر ایک حقیقت ایسی بھی طلوع ہوئی ہے جس کی مثال نہ اس سے پہلے ملتی ہے اور نہ اس کے بعد اور وہ ہے حقیقت اسلام۔۔۔۔۔اسلام نہ تو کسی بادشاہ کی سلطنت سازی کا منصوبہ تھا اور نہ ہی کسی فلسفی کے ذہنی تخیلات کا نتیجہ تھا بلکہ یہ ربِ کائنات کی جانب سے انسانیت کے لئے آخری ہدایت تھی جس کا آغاز اس وقت ہوا جب دنیا ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انسان اپنے خالق کو بھول چکا تھا، طاقت ہی حق کا معیار بن گئی تھی، اخلاقی قدریں پامال ہو چکی تھیں، عورت کی عزت محفوظ نہ تھی، کمزوروں کے لئے کوئی پناہ نہ تھی اور انسانیت اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی تھی ایسے میں عرب کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان واقع مکۃ المکرمہ میں ایک ایسا چراغ روشن ہوا جس کی روشنی نے نہ صرف جزیرۂ عرب بلکہ تین براعظموں کو منور کر دیا۔ غارِ حراء میں نازل ہونے والی پہلی وحی نے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک فرد کی تبدیلی سے شروع ہونے والا انقلاب تھا لیکن اس کا دائرہ پوری انسانیت تک پھیلنے والا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سال تک مکہ کی گلیوں میں توحید کا پیغام سنایا۔ طعن و تشنیع برداشت کی، پتھر کھائے، بائیکاٹ سہا، اپنے جاں نثار صحابہ کو ظلم سہتے دیکھا مگر دعوت کے چراغ کو بجھنے نہ دیا۔ یہی وہ بیج تھا جو بعد میں ایک تناور درخت بننے والا تھا۔۔۔

ہجرتِ مدینہ اسلامی تاریخ کا پہلا عظیم موڑ تھا۔ یہاں اسلام ایک مکمل معاشرہ اور ریاست بن کر ابھرا۔ چند سالوں کے اندر وہ قوم جو کل تک منتشر قبائل میں بٹی ہوئی تھی ایک امت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت عرب کا بیشتر حصہ اسلام کے پرچم تلے آ چکا تھا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسلام کا سفر یہاں رکا نہیں بلکہ پھیلاؤ بڑھتا ہی چلا گیا۔۔۔۔

خلفائے راشدین کے دور میں اسلام عرب کے صحراؤں سے نکل کر شام، عراق، مصر، ایران اور شمالی افریقہ تک پہنچ گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارتداد کے طوفان کا مقابلہ کرکے امت کی وحدت کو محفوظ بنایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قیصر و کسریٰ کی طاقتیں مسلمانوں کے سامنے جھک گئیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں اسلامی سرحدیں مزید وسیع ہوئیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں اگرچہ داخلی فتنے پیدا ہوئے لیکن اسلام کی علمی و روحانی بنیادیں مضبوط ہوتی رہیں۔۔۔

اس کے بعد بنو امیہ کا دور آیا اور اسی دور میں اسلام مشرق میں سندھ اور ماوراء النہر تک اور مغرب میں اندلس کے ساحلوں تک پہنچ گیا۔ تاریخ کا عجیب منظر تھا کہ ایک طرف اندلس میں اسلامی جھنڈے لہرا رہے تھے اور دوسری طرف وسط ایشیا کے میدانوں میں اسلام کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ بنو عباس کے دور میں سیاسی طاقت کے ساتھ علمی عظمت بھی اپنے عروج پر پہنچی۔ بغداد علم و حکمت کا مرکز بن گیا۔ طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ، ادب اور فقہ ہر میدان میں مسلمانوں نے ایسے کارنامے انجام دیے جن کے اثرات آج تک باقی ہیں۔۔

اسی دوران اسلام کی نگاہیں برصغیر ہند کی طرف بھی اٹھیں۔ ہندوستان اور عرب کے درمیان تجارتی تعلقات تو عہدِ نبوی ہی سے قائم تھے۔ عرب تاجر مالابار کے ساحلوں تک آتے تھے اور اپنے حسنِ کردار سے لوگوں کے دل جیتتے تھے چنانچہ اسلام کا پہلا تعارف ہندوستان کو تجارت، اخلاق اور دعوت کے ذریعے حاصل ہوا۔ جنوبی ہند کے بعض علاقوں میں مسلمان بستیاں اسی ابتدائی دور میں قائم ہو چکی تھیں۔۔۔۔
بعد ازاں سن 712ء میں محمد بن قاسم کی قیادت میں سندھ فتح ہوا۔ یہ ہندوستان میں اسلامی حکومت کی پہلی باقاعدہ بنیاد تھی۔ اگرچہ اس وقت پورا ہندوستان اسلامی اقتدار کے زیرِ نگیں نہیں آیا تھا لیکن ایک دروازہ کھل چکا تھا جس سے اسلام کی روشنی اندر داخل ہونے لگی۔ اس کے بعد مختلف ادوار آئے۔ غزنویوں کا دور آیا خصوصاً سلطان محمود غزنوی نے شمالی ہند میں مسلم اقتدار کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ پھر غوری سلطنت وجود میں آئی اور محمد غوری کی فتوحات نے دہلی میں اسلامی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی۔۔
اس کے بعد دہلی سلطنت کا دور شروع ہوا جس میں غلام خاندان، خلجی خاندان، تغلق خاندان، سید خاندان اور لودھی خاندان یکے بعد دیگرے برسرِ اقتدار آئے۔ ان ادوار میں اگرچہ کمزوریاں بھی تھیں لیکن مجموعی طور پر ہندوستان میں اسلامی تہذیب، عدالت، تعلیم اور تمدن کی جڑیں گہری ہوتی گئیں۔ مدارس قائم ہوئے، مساجد آباد ہوئیں، علومِ دینیہ کو فروغ ملا اور صوفیائے کرام نے دعوتِ اسلام کا ایسا کام کیا کہ لاکھوں انسان اسلام کے دامن میں آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر مغلیہ سلطنت کا سورج طلوع ہوا۔ بابر سے لے کر اورنگزیب عالمگیر تک کا دور برصغیر کی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے خاص طور پر جہانگیر، شاہجہان اور اورنگزیب کے ادوار میں مسلم اقتدار اپنی وسعت اور شان کے اعتبار سے دنیا کی بڑی سلطنتوں میں شمار ہوتا تھا اگرچہ مختلف بادشاہوں کی پالیسیوں میں فرق تھا لیکن مجموعی طور پر ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی قوت ایک حقیقت تھی۔۔

مگر تاریخ کا اصول ہے کہ عروج کے بعد اگر قومیں اپنے بنیادی اصولوں سے دور ہو جائیں تو زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جب اخلاص کی جگہ دنیا طلبی نے لے لی، جب علم کی جگہ جمود نے آ لیا، جب اتحاد کی جگہ فرقہ بندی پیدا ہو گئی، جب عدل کی جگہ مفادات غالب آ گئے اور جب قیادت اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو گئی تو زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں اندرونی انتشار، علاقائی بغاوتوں، معاشی کمزوری اور بیرونی سازشوں نے مل کر اس عظیم عمارت کو ہلا دیا۔۔۔
ادھر یورپ میں سائنسی اور صنعتی انقلاب برپا ہو رہا تھا اور مسلمان ماضی کے کارناموں پر فخر کرتے ہوئے حال کی ذمہ داریوں سے غافل ہو رہے تھے نتیجتاً انگریز تجارتی کمپنی کے روپ میں آئے اور پھر پورے ہندوستان کے مالک بن بیٹھے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد تو مسلمانوں پر خصوصی مصائب کا دور شروع ہوا۔ سیاسی اقتدار چھن گیا، تعلیمی میدان میں پسماندگی پیدا ہوئی اور معاشی کمزوری نے انہیں مزید متأثر کیا لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کا سفر اقتدار کے زوال سے رک گیا تو یہ تاریخ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہوگی۔ اسلام سلطنتوں کا محتاج نہ تھا ، نہ ہے اور نہ رہے گا۔ اندلس ختم ہو گیا مگر اسلام باقی رہا۔ بغداد تباہ ہو گیا مگر اسلام زندہ رہا۔ دہلی کا تخت چھن گیا مگر اسلام کا پیغام باقی رہا آج بھی دنیا میں اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والے مذاہب میں شمار ہوتا ہے۔ ہر براعظم میں اس کے ماننے والے موجود ہیں اور ہر نسل میں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اس کی دعوت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔۔۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ مقام دوبارہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے جس پر مسلمان کبھی فائز تھے؟ اس کا جواب نہ تو سیاسی نعروں میں ملے گا اور نہ ہی جذباتی تقریروں میں۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ مسلمانوں کو عروج اس وقت ملا جب ان کے اندر ایمان کی حرارت، علم کی عظمت، کردار کی پاکیزگی اور اجتماعی وحدت موجود تھی۔ جب قرآن ان کی زندگی کا مرکز تھا، جب مساجد صرف تربیت گاہ تھیں، جب علماء امت کی رہنمائی کرتے تھے، جب حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتے تھے اور جب علم حاصل کرنا عبادت سمجھا جاتا تھا۔۔

اگر آج مسلمان دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے فکری بیداری پیدا کرنا ہوگی، قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہوگا، جدید علوم اور دینی علوم کے درمیان مصنوعی دیواروں کو گرانا ہوگا، نوجوانوں میں علمی اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے وحدتِ امت کو فروغ دینا ہوگا، معاشی میدان میں خود کفالت، تعلیمی میدان میں برتری اور اخلاقی میدان میں نمونہ بننا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان کے تناظر میں خصوصاً مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی ضرورت تعلیم، تنظیم، کردار سازی اور مثبت قیادت کی ہے۔ یہ ملک مسلمانوں کے لئے کوئی اجنبی سرزمین نہیں ہے بلکہ ایک ایسی دھرتی ہے جس کی تاریخ میں ان کی صدیوں کی محنت، تہذیب، علم اور قربانیاں شامل ہیں۔ یہاں کے مسلمان اگر علم، اخلاق، دیانت، خدمتِ خلق اور قومی تعمیر کے میدان میں نمایاں کردار ادا کریں تو وہ دوبارہ ایک مؤثر قوت بن سکتے ہیں۔۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کی اصل طاقت نہ قلعوں میں تھی، نہ تاج و تخت میں، نہ فوجوں کی کثرت میں بلکہ اس کی اصل طاقت ان دلوں میں تھی جو اللہ پر یقین رکھتے تھے، ان کرداروں میں تھی جو انسانیت کے لئے رحمت تھے۔ جب یہ اوصاف پیدا ہوئے تو مکہ کے ایک گھر سے اٹھنے والی صدا دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی اور جب یہ اوصاف کمزور پڑ گئے تو عظیم سلطنتیں بھی ہاتھ سے نکل گئیں۔۔۔
آج بھی مکۃ المکرمہ سے اٹھنے والی وہ روشنی بجھی نہیں ہے۔ وہی قرآن موجود ہے، وہی کعبہ موجود ہے، وہی رسولِ رحمت کی تعلیمات موجود ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا امت دوبارہ اپنے اندر وہ ایمان، وہ علم، وہ اخلاص اور وہ قربانی پیدا کرنے کے لئے تیار ہے جس نے کبھی صحراء کے چند مسافروں کو دنیا کا رہنما بنا دیا تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو تاریخ کا دروازہ آج بھی بند نہیں ہوا اور امتِ مسلمہ کے لئے عروج کا سورج دوبارہ طلوع ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

مکہ سے ہندوستان تک اسلام کا سفر عروج، زوال اور تجدید عظمت کی داستان

خامہ بکف محمد پالن پوری

دنیا کی تاریخ میں بہت سی تحریکیں اٹھیں، بہت سے نظریات پیدا ہوئے، بے شمار سلطنتیں وجود میں آئیں اور مٹ بھی گئیں لیکن تاریخ کے افق پر ایک حقیقت ایسی بھی طلوع ہوئی ہے جس کی مثال نہ اس سے پہلے ملتی ہے اور نہ اس کے بعد اور وہ ہے حقیقت اسلام۔۔۔۔۔اسلام نہ تو کسی بادشاہ کی سلطنت سازی کا منصوبہ تھا اور نہ ہی کسی فلسفی کے ذہنی تخیلات کا نتیجہ تھا بلکہ یہ ربِ کائنات کی جانب سے انسانیت کے لئے آخری ہدایت تھی جس کا آغاز اس وقت ہوا جب دنیا ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ انسان اپنے خالق کو بھول چکا تھا، طاقت ہی حق کا معیار بن گئی تھی، اخلاقی قدریں پامال ہو چکی تھیں، عورت کی عزت محفوظ نہ تھی، کمزوروں کے لئے کوئی پناہ نہ تھی اور انسانیت اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی تھی ایسے میں عرب کے سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان واقع مکۃ المکرمہ میں ایک ایسا چراغ روشن ہوا جس کی روشنی نے نہ صرف جزیرۂ عرب بلکہ تین براعظموں کو منور کر دیا۔ غارِ حراء میں نازل ہونے والی پہلی وحی نے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک فرد کی تبدیلی سے شروع ہونے والا انقلاب تھا لیکن اس کا دائرہ پوری انسانیت تک پھیلنے والا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سال تک مکہ کی گلیوں میں توحید کا پیغام سنایا۔ طعن و تشنیع برداشت کی، پتھر کھائے، بائیکاٹ سہا، اپنے جاں نثار صحابہ کو ظلم سہتے دیکھا مگر دعوت کے چراغ کو بجھنے نہ دیا۔ یہی وہ بیج تھا جو بعد میں ایک تناور درخت بننے والا تھا۔۔۔

ہجرتِ مدینہ اسلامی تاریخ کا پہلا عظیم موڑ تھا۔ یہاں اسلام ایک مکمل معاشرہ اور ریاست بن کر ابھرا۔ چند سالوں کے اندر وہ قوم جو کل تک منتشر قبائل میں بٹی ہوئی تھی ایک امت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت عرب کا بیشتر حصہ اسلام کے پرچم تلے آ چکا تھا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسلام کا سفر یہاں رکا نہیں بلکہ پھیلاؤ بڑھتا ہی چلا گیا۔۔۔۔

خلفائے راشدین کے دور میں اسلام عرب کے صحراؤں سے نکل کر شام، عراق، مصر، ایران اور شمالی افریقہ تک پہنچ گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارتداد کے طوفان کا مقابلہ کرکے امت کی وحدت کو محفوظ بنایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قیصر و کسریٰ کی طاقتیں مسلمانوں کے سامنے جھک گئیں۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں اسلامی سرحدیں مزید وسیع ہوئیں اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں اگرچہ داخلی فتنے پیدا ہوئے لیکن اسلام کی علمی و روحانی بنیادیں مضبوط ہوتی رہیں۔۔۔

اس کے بعد بنو امیہ کا دور آیا اور اسی دور میں اسلام مشرق میں سندھ اور ماوراء النہر تک اور مغرب میں اندلس کے ساحلوں تک پہنچ گیا۔ تاریخ کا عجیب منظر تھا کہ ایک طرف اندلس میں اسلامی جھنڈے لہرا رہے تھے اور دوسری طرف وسط ایشیا کے میدانوں میں اسلام کی صدائیں گونج رہی تھیں۔ بنو عباس کے دور میں سیاسی طاقت کے ساتھ علمی عظمت بھی اپنے عروج پر پہنچی۔ بغداد علم و حکمت کا مرکز بن گیا۔ طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ، ادب اور فقہ ہر میدان میں مسلمانوں نے ایسے کارنامے انجام دیے جن کے اثرات آج تک باقی ہیں۔۔

اسی دوران اسلام کی نگاہیں برصغیر ہند کی طرف بھی اٹھیں۔ ہندوستان اور عرب کے درمیان تجارتی تعلقات تو عہدِ نبوی ہی سے قائم تھے۔ عرب تاجر مالابار کے ساحلوں تک آتے تھے اور اپنے حسنِ کردار سے لوگوں کے دل جیتتے تھے چنانچہ اسلام کا پہلا تعارف ہندوستان کو تجارت، اخلاق اور دعوت کے ذریعے حاصل ہوا۔ جنوبی ہند کے بعض علاقوں میں مسلمان بستیاں اسی ابتدائی دور میں قائم ہو چکی تھیں۔۔۔۔
بعد ازاں سن 712ء میں محمد بن قاسم کی قیادت میں سندھ فتح ہوا۔ یہ ہندوستان میں اسلامی حکومت کی پہلی باقاعدہ بنیاد تھی۔ اگرچہ اس وقت پورا ہندوستان اسلامی اقتدار کے زیرِ نگیں نہیں آیا تھا لیکن ایک دروازہ کھل چکا تھا جس سے اسلام کی روشنی اندر داخل ہونے لگی۔ اس کے بعد مختلف ادوار آئے۔ غزنویوں کا دور آیا خصوصاً سلطان محمود غزنوی نے شمالی ہند میں مسلم اقتدار کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ پھر غوری سلطنت وجود میں آئی اور محمد غوری کی فتوحات نے دہلی میں اسلامی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی۔۔
اس کے بعد دہلی سلطنت کا دور شروع ہوا جس میں غلام خاندان، خلجی خاندان، تغلق خاندان، سید خاندان اور لودھی خاندان یکے بعد دیگرے برسرِ اقتدار آئے۔ ان ادوار میں اگرچہ کمزوریاں بھی تھیں لیکن مجموعی طور پر ہندوستان میں اسلامی تہذیب، عدالت، تعلیم اور تمدن کی جڑیں گہری ہوتی گئیں۔ مدارس قائم ہوئے، مساجد آباد ہوئیں، علومِ دینیہ کو فروغ ملا اور صوفیائے کرام نے دعوتِ اسلام کا ایسا کام کیا کہ لاکھوں انسان اسلام کے دامن میں آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر مغلیہ سلطنت کا سورج طلوع ہوا۔ بابر سے لے کر اورنگزیب عالمگیر تک کا دور برصغیر کی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے خاص طور پر جہانگیر، شاہجہان اور اورنگزیب کے ادوار میں مسلم اقتدار اپنی وسعت اور شان کے اعتبار سے دنیا کی بڑی سلطنتوں میں شمار ہوتا تھا اگرچہ مختلف بادشاہوں کی پالیسیوں میں فرق تھا لیکن مجموعی طور پر ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی قوت ایک حقیقت تھی۔۔

مگر تاریخ کا اصول ہے کہ عروج کے بعد اگر قومیں اپنے بنیادی اصولوں سے دور ہو جائیں تو زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ جب اخلاص کی جگہ دنیا طلبی نے لے لی، جب علم کی جگہ جمود نے آ لیا، جب اتحاد کی جگہ فرقہ بندی پیدا ہو گئی، جب عدل کی جگہ مفادات غالب آ گئے اور جب قیادت اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو گئی تو زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں اندرونی انتشار، علاقائی بغاوتوں، معاشی کمزوری اور بیرونی سازشوں نے مل کر اس عظیم عمارت کو ہلا دیا۔۔۔
ادھر یورپ میں سائنسی اور صنعتی انقلاب برپا ہو رہا تھا اور مسلمان ماضی کے کارناموں پر فخر کرتے ہوئے حال کی ذمہ داریوں سے غافل ہو رہے تھے نتیجتاً انگریز تجارتی کمپنی کے روپ میں آئے اور پھر پورے ہندوستان کے مالک بن بیٹھے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد تو مسلمانوں پر خصوصی مصائب کا دور شروع ہوا۔ سیاسی اقتدار چھن گیا، تعلیمی میدان میں پسماندگی پیدا ہوئی اور معاشی کمزوری نے انہیں مزید متأثر کیا لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کا سفر اقتدار کے زوال سے رک گیا تو یہ تاریخ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہوگی۔ اسلام سلطنتوں کا محتاج نہ تھا ، نہ ہے اور نہ رہے گا۔ اندلس ختم ہو گیا مگر اسلام باقی رہا۔ بغداد تباہ ہو گیا مگر اسلام زندہ رہا۔ دہلی کا تخت چھن گیا مگر اسلام کا پیغام باقی رہا آج بھی دنیا میں اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والے مذاہب میں شمار ہوتا ہے۔ ہر براعظم میں اس کے ماننے والے موجود ہیں اور ہر نسل میں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اس کی دعوت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔۔۔

اب سوال یہ ہے کہ وہ مقام دوبارہ کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے جس پر مسلمان کبھی فائز تھے؟ اس کا جواب نہ تو سیاسی نعروں میں ملے گا اور نہ ہی جذباتی تقریروں میں۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ مسلمانوں کو عروج اس وقت ملا جب ان کے اندر ایمان کی حرارت، علم کی عظمت، کردار کی پاکیزگی اور اجتماعی وحدت موجود تھی۔ جب قرآن ان کی زندگی کا مرکز تھا، جب مساجد صرف تربیت گاہ تھیں، جب علماء امت کی رہنمائی کرتے تھے، جب حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتے تھے اور جب علم حاصل کرنا عبادت سمجھا جاتا تھا۔۔

اگر آج مسلمان دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے فکری بیداری پیدا کرنا ہوگی، قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہوگا، جدید علوم اور دینی علوم کے درمیان مصنوعی دیواروں کو گرانا ہوگا، نوجوانوں میں علمی اعتماد پیدا کرنا ہوگا، اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے وحدتِ امت کو فروغ دینا ہوگا، معاشی میدان میں خود کفالت، تعلیمی میدان میں برتری اور اخلاقی میدان میں نمونہ بننا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان کے تناظر میں خصوصاً مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی ضرورت تعلیم، تنظیم، کردار سازی اور مثبت قیادت کی ہے۔ یہ ملک مسلمانوں کے لئے کوئی اجنبی سرزمین نہیں ہے بلکہ ایک ایسی دھرتی ہے جس کی تاریخ میں ان کی صدیوں کی محنت، تہذیب، علم اور قربانیاں شامل ہیں۔ یہاں کے مسلمان اگر علم، اخلاق، دیانت، خدمتِ خلق اور قومی تعمیر کے میدان میں نمایاں کردار ادا کریں تو وہ دوبارہ ایک مؤثر قوت بن سکتے ہیں۔۔
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اسلام کی اصل طاقت نہ قلعوں میں تھی، نہ تاج و تخت میں، نہ فوجوں کی کثرت میں بلکہ اس کی اصل طاقت ان دلوں میں تھی جو اللہ پر یقین رکھتے تھے، ان کرداروں میں تھی جو انسانیت کے لئے رحمت تھے۔ جب یہ اوصاف پیدا ہوئے تو مکہ کے ایک گھر سے اٹھنے والی صدا دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی اور جب یہ اوصاف کمزور پڑ گئے تو عظیم سلطنتیں بھی ہاتھ سے نکل گئیں۔۔۔
آج بھی مکۃ المکرمہ سے اٹھنے والی وہ روشنی بجھی نہیں ہے۔ وہی قرآن موجود ہے، وہی کعبہ موجود ہے، وہی رسولِ رحمت کی تعلیمات موجود ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا امت دوبارہ اپنے اندر وہ ایمان، وہ علم، وہ اخلاص اور وہ قربانی پیدا کرنے کے لئے تیار ہے جس نے کبھی صحراء کے چند مسافروں کو دنیا کا رہنما بنا دیا تھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو تاریخ کا دروازہ آج بھی بند نہیں ہوا اور امتِ مسلمہ کے لئے عروج کا سورج دوبارہ طلوع ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں