صالحین کی صحبت: قرآن و سنت کی روشنی میں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
نیزیہ بھی جاننا چاہیے کہ علما کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرائیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو وہ خود بھی بہت بڑے جرم کے مرتکب قرار پائیں گے اور جو لوگ ان کی کورانہ تقلید و اطاعت کریں گے وہ بھی گنہ گار قرار دیے جائیں گے۔ یہی غلطی یہود و نصاریٰ نے کی تھی تو قرآن نے ان کی یہ کہہ کر مذمت کی: ’’ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علما اور درویشوں کو رب بنالیا ہے۔‘‘ (التوبۃ: ۳۱)۔ روایتوں میں ہے کہ حضرت عدی بن حاتمؓ جو پہلے عیسائی تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر مشرف با اسلام ہوئے تو انہوں نے آپؐ سے منجملہ اور سوالات کے ایک سوال یہ بھی کیا تھا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علما اور درویشوںکی کبھی عبادت نہیں کی پھر اس آیت میں ان پر یہ الزام کیوں عائد کیا گیا کہ انہوں نے ان کو اپنارب بنالیا؟ جواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ان کے علما اور مشائخ جب کسی چیز کو ان کے لئے حلال قرار دیتے تھے تو وہ لوگ بھی اسے حلال مان لیتے تھے، اور جب کسی چیز کو ان کے لئے حرام قرار دیتے تھے ، تو وہ لوگ بھی اسے حرام مان لیتے تھے؟ (سنن الترمذیؒ: حدیث نمبر ۳۰۹۵)۔ یعنی ان کا یہی طرز عمل علما اور مشائخ کو خدا کا درجہ دینے کے مترادف تھا کیوں کہ اپنی طرف سے حلال و حرام کا حکم جاری کرنے کا اختیار صرف خدائے تعالیٰ کو ہے، علما اور فقہا کا کام انبیا کے نائب ہونے کی حیثیت سے صرف احکام خداوندی کی تعبیر و تشریح کرنا اور ان کے دائرۂ اطلاق کو واضح کرنا ہے نہ کہ حلت و حرمت کے احکام بدلنا یا اپنی طرف سے کوئی حکم جاری کرنا۔ لہٰذا جو کوئی ایسا کرے گا، اس کی اطاعت بالکل نہیں کی جائے گی۔
ہاں جو علما خدا ترس ہوں، آخرت کی فکر رکھتے ہوں، شریعت کے پابند ہوں، اور اپنی عالمانہ ذمے داریوں کا احساس رکھتے ہوں، وہ یقینا اس قابل ہیں کہ ان کی صحبت اختیار کی جائے، ان سے فقط اللہ کی رضا کے لئے محبت رکھی جائے، ان کا غایت درجہ ادب و احترام کیا جائے، اور شرعی امور میںان کی متابعت کی جائے۔ اسی طرح جن نیک و صالح مومنین کی صحبت حاصل ہو، انھیں بھی آج کے اس پرفتن دور میں غنیمت جانا جائے اور ان سے بھی فقط رضائے الٰہی کی ظاطر محبت رکھی جائے اور مصاحبت کے حقوق ادا کیے جائیں ۔ صالحین سے اللہ کی رضا کے لئے محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کو لازم کردیتا ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لئے واجب ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری وجہ سے ایک جگہ جمع ہوکر بیٹھتے ہیں، میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (مسند احمدؒ، حدیث نمبر ۲۲۰۳۰)۔
اس سلسلے میںایک روایت  حضرت ابوہریرہؓ نے بھی آپؐ سے نقل کی ہے جس میں بڑی بشارت ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی سے ملاقات کے لئے چلا جو دوسری بستی میں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو اس کی ملاقات کے لئے مقرر کردیا۔ جب وہ شخص اس کے سامنے آیا تو اس نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس شخص نے کہا کہ میں اپنے ایک بھائی سے ملاقات کے لئے جارہا ہوں جو اس بستی میں رہتاہے۔ فرشتے نے پوچھا : کیا تمھارا اس پر کوئی حق نعمت ہے جسے وصول کرنے جارہے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، بس مجھے اس کے ساتھ صرف اللہ عزوجل کی خاطر محبت ہے۔ فرشتے نے کہا: تو سنو! میں اللہ کا قاصد ہوں تمھاری طرف تاکہ تمھیں یہ بشارت دوں کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے ویسی ہی محبت رکھتا ہے جیسی تم اس کی خاطر اس بھائی سے رکھتے ہو۔ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر۶۵۴۹)۔
ان احادیث سے یہ پتا چلتا ہے کہ نیک و صالح لوگوں سے صرف اللہ کے واسطے محبت رکھنا، اللہ کی رضا کی خاطر ہی ان سے ملنا اور باہمی حقوق ادا کرنا، خدائے تعالیٰ کی نگاہ میںنہایت محبوب اعمال میں سے ہیں جن سے انسان اللہ کی محبت اور خوشنودی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ پھر جب اللہ عزوجل اپنے کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو اس کی محبت و مقبولیت اہل آسمان و اہل زمین کے درمیان ڈال دیتا ہے اور سب اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیںکہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اس طرح زمین والوں میں بھی اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔‘‘ (صحیح البخاريؒ، حدیث نمبر۷۴۸۵)۔
اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے صالحین کے لئے محشرکی سختیوں سے حفاظت اور اعلیٰ مراتب کی حصولیابی کی بھی بشارت دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میری عظمت و بزرگی کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں ان کواپنے سائے میں جگہ دوں گا، آج کے دن جب کہ میرے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر۶۵۴۸، بروایت حضرت ابوہریرہؓ)۔ دوسری روایت میں آپؐ کا ارشاد ہے: ’’بلاشبہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیا و شہدا تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انھیں ملے گا، اس پر انبیا اور شہدا بھی رشک کریں گے۔‘‘ لوگوں نے پوچھاکہ اے اللہ کے رسولؐ! آپ ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہوگا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہوگالیکن وہ اللہ کی ذات کی خاطرایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے نور مجسم ہوں گے، اور وہ لوگ نور (کے ممبروں) پر ہوں گے، انھیں کوئی خوف نہیں ہوگا جب کہ لوگ خوف زدہ ہورہے ہوں گے، اور انھیں کوئی رنج و غم نہیں ہوگا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے‘‘ اور آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ترجمہ)۔ ’’آگاہ رہو کہ اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (سورۃ یونس: ۶۲)۔ ‘‘ (سنن أبي داوُدؒ، حدیث نمبر۳۵۲۷، بروایت حضرت عمر بن خطابؓ)۔ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا لطیف اشارہ بھی دیا کہ اللہ کی خوشنودی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اولیا اللہ میں سے ہیں جنھیں آخرت میں نہ کسی قسم کا کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی رنج و غم۔ یہ ان کے لئے دراصل اخروی نجات کی بشارت ہے۔
علاوہ ازیں صالحین کی محبت اخروی درجات میں بلندی کا بھی سبب ہے ۔ انبیا، علما، صلحا اور بزرگان دین سے اللہ کے لئے محبت رکھنے والے لوگ ان شاء اللہ بروز قیامت ان کے ساتھ اٹھیں گے اور ان کی رفاقت و معیت انھیں حاصل ہوگی۔ یہ معاملہ اس حقیقت کے باوجود ہوگا کہ محبت رکھنے والے کے اپنے اعمال اس درجے کے نہ ہوں جو اس کے محبوب انبیا، علما، صلحا یا بزرگان دین کے ہوں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! انسان ایک شخص کے ساتھ اس کے اچھے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے مگر خود اس جیسے عمل نہیں کرسکتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ ‘‘ (سنن أبي داوُدؒ، حدیث نمبر۵۱۲۷، بروایت حضرت انسؓ)۔ اسی طرح ایک بدوی کے اس سوال پر کہ قیامت کب آئے گی، پھر قیامت کی تیاری کے سلسلے میں کوتاہی کے اس کے اعتراف، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ سے محبت کے اظہار پر آپؐ نے یہی فرمایا : ’’بلاشبہ تم قیامت دن ان کے ساتھ ہوگے جن سے تم محبت رکھتے ہو۔ ‘‘ (صحیح البخاريؒ، حدیث نمبر ۶۱۶۷، بروایت حضرت انسؓ)۔
یہ سب بڑی بشارتیں ہیں ان لوگوں کے حق میں جو انبیا، علما، صلحا یا بزرگان دین سے صرف اللہ کی رضاکی خاطر محبت رکھتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ان حضرات سے محبت رکھنا اور بات ہے اور اس کے دعوے کرنا اور، جو لوگ ان حضرات سے واقعی محبت رکھیں گے، وہ یقینا دین کی بنیادی باتوں پر بھی عمل پیرا ہوں گے اور خود کو کفر، شرک، نفاق، فسق و فجور اور بدعات سے بچائیں گے۔ جو لوگ فرائض و واجبات کی بھی پابندی نہ کرتے ہوں، اور شرک و بدعات اور فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہوں، انھیں ان بشارتوں سے خود کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہیے۔ حدیث میں جو یہ کہا گیا ہے کہ صلحا سے محبت کرنے والا خود ان جیسے اعمال نہ رکھتا ہو پھر بھی ان کے ساتھ ہوگا، اس مراد وہ اعمال صالحہ ہیں جو انسان فرائض و واجبات کے علاوہ اضافی طور پر کیا کرتا ہے اور جن میں ایک دوسرے پر فوقیت لے جانے کی گنجائش رہتی ہے، مثلاً نفل نمازیں، نفل روزے، نفلی صدقات، نفلی عمرہ و حج، شب بیداری، اوراد و وظائف کا اہتمام، تلاوت قرآن، لوگوں کی امداد و خیرخواہی، دین کی سربلندی اور اس کے احیا و بقا کے لئے عزیمت کے طور پر کی جانے والی کاوشیں، مجاہدے اور قربانیاںوغیرہ۔ اس سے مراد یہ قطعی نہیں ہے کہ انسان فرائض و واجبات کی بھی پرواہ نہ کرتا ہو اور دیگر بداعمالیوں میں متواتر ملوث ہو، اور وہ فقط محبت کے دعوے کی بنیاد پران حضرات کے مقام و مرتبے کو پالے۔
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمیؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے ۔ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خوش ہو کر کہا: ربیعہ آج مجھ سے کچھ مانگ لو! تو انہوں نے کہا: ’’میں جنت میں آپؐ کی رفاقت مانگتا ہوں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’یا اس کے سوا کچھ اور ؟‘‘ تو انہوں نے عرض کیا: ’’بس یہی‘‘۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۱۰۹۴)۔ یہاں سجدوں کی کثرت سے نفل نمازیں ہی مراد ہیں کیوں کہ فرائض کی تعداد رکعت اور سجدے تو محدود ہیں، اور ان صحابی سے ان میں کوتاہی کی کوئی توقع بھی نہ تھی۔ نیز جو بات ہم سب کے لئے سبق آموز ہے، وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صرف اپنی دعا یا سفارش کے بھروسے پر نہیں چھوڑا بلکہ کثرت سے سجدہ کرنے کی تعلیم دی۔ اس لئے ہمیں بھی صرف آپؐ کی محبت اور سفارش کے بھروسے نہیں رہنا چاہیے بلکہ زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کو اختیار کرنے کی فکر کرنی چاہیے اور ایسے گناہوں میں تو بالکل بھی نہیں پڑنا چاہیے جن کے مواخذہ سے کسی کی سفارش بھی نجات نہیں دلاسکتی۔
آخر میں یہ عرض ہے کہ صالحین سے محبت و رفاقت کے کچھ عملی تقاضے بھی ہیں جنھیں پورا کرنے سے آپس کے تعلقات کے مستحکم ہونے اور تزکیۂ نفس کی راہ آسان ہوجانے کی امید ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ جن سے فقط اللہ کی رضا کے لئے محبت رکھتے ہوں، ان سے اپنی محبت کا اظہار ضرور کردیجیے۔ اس کے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں، فریق ثانی کو بھی قرب کا احساس ہوتا ہے، اور دونوں طرف کے احساسات اور جذبات کے تبادلے سے محبت و خلوص میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ پھرمحبت صرف ایک قلبی کیفیت نہیں رہ جاتی بلکہ اس کے تقاضے عملی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں، اور معاملہ ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں دلچسپی لینے، ایک دوسرے کی خیرخواہی کرنے، ایک دوسرے کی ضروریات اور جذبات کا خیال رکھنے، باہمی حقوق ادا کرنے اور ایک دوسرے کے لئے دعاگو رہنے تک جا پہنچتا ہے۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تلقین فرمائی ہے۔ حضرت مقدام بن معدیکربؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشا فرمایا: ’’جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی سے محبت کرے تو اسے بتلادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘ (سنن أبي داوُدؒ: حدیث نمبر۵۱۲۴)۔
  دوسری اہم بات یہ ہے کہ حسب موقع و ضرورت ایک دوسرے کی مدد اور حوصلہ افزائی کیجیے۔ انسان جب احکام شریعت پر چلنے کی ٹھان لیتا ہے تو اسے بہت بار آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا، کبھی اس کے اوپر سخت حالات آتے ہیں، کبھی اپنوں کی مخالفت اور قطع تعلقی جھیلنی پڑتی ہے اور انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے ، ایسے میں اس کا حوصلہ پست ہوتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی اس کی دل جوئی و دست گیری کرے اور اس کے پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دے۔ایسے حالات میں اس کے وہ صالح رفیق جو اس سے محض اللہ کے لئے محبت رکھتے ہیں اگر سامنے نہ آئیں اور اس کی حوصلہ افزائی اور اعانت نہ کریں، تو پھر کس سے امیدیں رکھی جاسکتی ہیں۔ اس لئے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہیے، ایک دوسرے کی مدد کیجیے اور ایک دوسرے کا سہارا بنیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے ایک عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۶۵۸۵) ۔ یعنی جس طرح عمارت کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کا سہارا بنتی ہے اور اسے مضبوطی فراہم کرتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ بالخصوص نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے: ’’نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور ظلم و زیادتی پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ (المائدۃ: ۲) ۔
اس آیت میں یہ اصول بھی واضح ہے کہ تعاون صرف نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ہے، گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں نہیں، اس لئے نہ ایسا کبھی کرنا چاہیے اور نہ ہی دوسروں سے اس کی کوئی توقع رکھنی چاہیے۔ بلکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اپنا کوئی رفیق یا بھائی کسی گناہ پر آمادہ ہو یا کسی پر زیادتی کررہا ہو، تو اسے پیار سے سمجھائے اور اس عمل سے اسے باز رکھنے کی کوشش کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! ہم مظلوم کی مدد تو کرسکتے ہیں، لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپؐ نے فرمایا:’’ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔‘‘ (صحیح البخاريؒ: حدیث نمبر ۲۴۴۴)۔ یعنی اس وقت اس کی مدد یہی ہے کہ ظلم سے اسے روک دو۔ ظالم کو ظالم جانتے ہوئے ظلم پر اس کی مدد کرنا سخت گناہ ہے جس سے ایمان کے زائل ہوجانے کا خدشہ ہے۔ حضرت اوس بن شرجیلؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چلا تاکہ اس کی مدد کرے اور اسے اس بات کا علم ہوکہ وہ ظالم ہے، تو یقینا وہ اسلام سے نکل گیا۔‘‘ (معجم الکبیر للطبرانيؒ: حدیث نمبر۶۱۹) ۔
سورۃ المائدۃ کی مذکورہ آیت اور احادیث بالاسے بالکل عیاں ہے کہ ظلم ایمان اور اسلام کے کس قدر منافی شے ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک کس قدر ناپسندیدہ ہے۔ جب ظالم کی مدد کرنے والے کو اسلام سے نکل جانے کی وعید سنائی گئی ہے تو جو خود ظلم کرے، اس کے بارے میں قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ اس لئے صالح لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ نہ تو خودان کی ذات سے کسی پر ظلم و زیادتی ہو اور نہ ہی ان کے ذریعہ کسی ظلم و زیادتی کرنے والے کی اعانت ہو۔ ان بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھیں گے تو آپس کی محبت ان شاء اللہ دنیوی واخروی دونوں زندگی میںبار آور ہوگی۔ اللہ تعالیٰ قارئین کے ساتھ احقر کو بھی ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!
 ٭٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

صالحین کی صحبت: قرآن و سنت کی روشنی میں

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
نیزیہ بھی جاننا چاہیے کہ علما کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال اور حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرائیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو وہ خود بھی بہت بڑے جرم کے مرتکب قرار پائیں گے اور جو لوگ ان کی کورانہ تقلید و اطاعت کریں گے وہ بھی گنہ گار قرار دیے جائیں گے۔ یہی غلطی یہود و نصاریٰ نے کی تھی تو قرآن نے ان کی یہ کہہ کر مذمت کی: ’’ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علما اور درویشوں کو رب بنالیا ہے۔‘‘ (التوبۃ: ۳۱)۔ روایتوں میں ہے کہ حضرت عدی بن حاتمؓ جو پہلے عیسائی تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوکر مشرف با اسلام ہوئے تو انہوں نے آپؐ سے منجملہ اور سوالات کے ایک سوال یہ بھی کیا تھا کہ یہود و نصاریٰ نے تو اپنے علما اور درویشوںکی کبھی عبادت نہیں کی پھر اس آیت میں ان پر یہ الزام کیوں عائد کیا گیا کہ انہوں نے ان کو اپنارب بنالیا؟ جواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ یہ ٹھیک ہے کہ انہوں نے ان کی عبادت نہیں کی لیکن کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ان کے علما اور مشائخ جب کسی چیز کو ان کے لئے حلال قرار دیتے تھے تو وہ لوگ بھی اسے حلال مان لیتے تھے، اور جب کسی چیز کو ان کے لئے حرام قرار دیتے تھے ، تو وہ لوگ بھی اسے حرام مان لیتے تھے؟ (سنن الترمذیؒ: حدیث نمبر ۳۰۹۵)۔ یعنی ان کا یہی طرز عمل علما اور مشائخ کو خدا کا درجہ دینے کے مترادف تھا کیوں کہ اپنی طرف سے حلال و حرام کا حکم جاری کرنے کا اختیار صرف خدائے تعالیٰ کو ہے، علما اور فقہا کا کام انبیا کے نائب ہونے کی حیثیت سے صرف احکام خداوندی کی تعبیر و تشریح کرنا اور ان کے دائرۂ اطلاق کو واضح کرنا ہے نہ کہ حلت و حرمت کے احکام بدلنا یا اپنی طرف سے کوئی حکم جاری کرنا۔ لہٰذا جو کوئی ایسا کرے گا، اس کی اطاعت بالکل نہیں کی جائے گی۔
ہاں جو علما خدا ترس ہوں، آخرت کی فکر رکھتے ہوں، شریعت کے پابند ہوں، اور اپنی عالمانہ ذمے داریوں کا احساس رکھتے ہوں، وہ یقینا اس قابل ہیں کہ ان کی صحبت اختیار کی جائے، ان سے فقط اللہ کی رضا کے لئے محبت رکھی جائے، ان کا غایت درجہ ادب و احترام کیا جائے، اور شرعی امور میںان کی متابعت کی جائے۔ اسی طرح جن نیک و صالح مومنین کی صحبت حاصل ہو، انھیں بھی آج کے اس پرفتن دور میں غنیمت جانا جائے اور ان سے بھی فقط رضائے الٰہی کی ظاطر محبت رکھی جائے اور مصاحبت کے حقوق ادا کیے جائیں ۔ صالحین سے اللہ کی رضا کے لئے محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کو لازم کردیتا ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری محبت ان لوگوں کے لئے واجب ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری وجہ سے ایک جگہ جمع ہوکر بیٹھتے ہیں، میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں، میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (مسند احمدؒ، حدیث نمبر ۲۲۰۳۰)۔
اس سلسلے میںایک روایت  حضرت ابوہریرہؓ نے بھی آپؐ سے نقل کی ہے جس میں بڑی بشارت ہے کہ ایک شخص اپنے بھائی سے ملاقات کے لئے چلا جو دوسری بستی میں رہتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو اس کی ملاقات کے لئے مقرر کردیا۔ جب وہ شخص اس کے سامنے آیا تو اس نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس شخص نے کہا کہ میں اپنے ایک بھائی سے ملاقات کے لئے جارہا ہوں جو اس بستی میں رہتاہے۔ فرشتے نے پوچھا : کیا تمھارا اس پر کوئی حق نعمت ہے جسے وصول کرنے جارہے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، بس مجھے اس کے ساتھ صرف اللہ عزوجل کی خاطر محبت ہے۔ فرشتے نے کہا: تو سنو! میں اللہ کا قاصد ہوں تمھاری طرف تاکہ تمھیں یہ بشارت دوں کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے ویسی ہی محبت رکھتا ہے جیسی تم اس کی خاطر اس بھائی سے رکھتے ہو۔ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر۶۵۴۹)۔
ان احادیث سے یہ پتا چلتا ہے کہ نیک و صالح لوگوں سے صرف اللہ کے واسطے محبت رکھنا، اللہ کی رضا کی خاطر ہی ان سے ملنا اور باہمی حقوق ادا کرنا، خدائے تعالیٰ کی نگاہ میںنہایت محبوب اعمال میں سے ہیں جن سے انسان اللہ کی محبت اور خوشنودی کا مستحق ہوجاتا ہے۔ پھر جب اللہ عزوجل اپنے کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو اس کی محبت و مقبولیت اہل آسمان و اہل زمین کے درمیان ڈال دیتا ہے اور سب اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیںکہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اس طرح زمین والوں میں بھی اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔‘‘ (صحیح البخاريؒ، حدیث نمبر۷۴۸۵)۔
اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے صالحین کے لئے محشرکی سختیوں سے حفاظت اور اعلیٰ مراتب کی حصولیابی کی بھی بشارت دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میری عظمت و بزرگی کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں ان کواپنے سائے میں جگہ دوں گا، آج کے دن جب کہ میرے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر۶۵۴۸، بروایت حضرت ابوہریرہؓ)۔ دوسری روایت میں آپؐ کا ارشاد ہے: ’’بلاشبہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیا و شہدا تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انھیں ملے گا، اس پر انبیا اور شہدا بھی رشک کریں گے۔‘‘ لوگوں نے پوچھاکہ اے اللہ کے رسولؐ! آپ ہمیں بتائیں کہ وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہوگا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہوگالیکن وہ اللہ کی ذات کی خاطرایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے نور مجسم ہوں گے، اور وہ لوگ نور (کے ممبروں) پر ہوں گے، انھیں کوئی خوف نہیں ہوگا جب کہ لوگ خوف زدہ ہورہے ہوں گے، اور انھیں کوئی رنج و غم نہیں ہوگا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے‘‘ اور آپؐ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ترجمہ)۔ ’’آگاہ رہو کہ اللہ کے ولیوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (سورۃ یونس: ۶۲)۔ ‘‘ (سنن أبي داوُدؒ، حدیث نمبر۳۵۲۷، بروایت حضرت عمر بن خطابؓ)۔ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا لطیف اشارہ بھی دیا کہ اللہ کی خوشنودی کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اولیا اللہ میں سے ہیں جنھیں آخرت میں نہ کسی قسم کا کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی کوئی رنج و غم۔ یہ ان کے لئے دراصل اخروی نجات کی بشارت ہے۔
علاوہ ازیں صالحین کی محبت اخروی درجات میں بلندی کا بھی سبب ہے ۔ انبیا، علما، صلحا اور بزرگان دین سے اللہ کے لئے محبت رکھنے والے لوگ ان شاء اللہ بروز قیامت ان کے ساتھ اٹھیں گے اور ان کی رفاقت و معیت انھیں حاصل ہوگی۔ یہ معاملہ اس حقیقت کے باوجود ہوگا کہ محبت رکھنے والے کے اپنے اعمال اس درجے کے نہ ہوں جو اس کے محبوب انبیا، علما، صلحا یا بزرگان دین کے ہوں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! انسان ایک شخص کے ساتھ اس کے اچھے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے مگر خود اس جیسے عمل نہیں کرسکتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔ ‘‘ (سنن أبي داوُدؒ، حدیث نمبر۵۱۲۷، بروایت حضرت انسؓ)۔ اسی طرح ایک بدوی کے اس سوال پر کہ قیامت کب آئے گی، پھر قیامت کی تیاری کے سلسلے میں کوتاہی کے اس کے اعتراف، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ سے محبت کے اظہار پر آپؐ نے یہی فرمایا : ’’بلاشبہ تم قیامت دن ان کے ساتھ ہوگے جن سے تم محبت رکھتے ہو۔ ‘‘ (صحیح البخاريؒ، حدیث نمبر ۶۱۶۷، بروایت حضرت انسؓ)۔
یہ سب بڑی بشارتیں ہیں ان لوگوں کے حق میں جو انبیا، علما، صلحا یا بزرگان دین سے صرف اللہ کی رضاکی خاطر محبت رکھتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ان حضرات سے محبت رکھنا اور بات ہے اور اس کے دعوے کرنا اور، جو لوگ ان حضرات سے واقعی محبت رکھیں گے، وہ یقینا دین کی بنیادی باتوں پر بھی عمل پیرا ہوں گے اور خود کو کفر، شرک، نفاق، فسق و فجور اور بدعات سے بچائیں گے۔ جو لوگ فرائض و واجبات کی بھی پابندی نہ کرتے ہوں، اور شرک و بدعات اور فسق و فجور میں مبتلا رہتے ہوں، انھیں ان بشارتوں سے خود کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہیے۔ حدیث میں جو یہ کہا گیا ہے کہ صلحا سے محبت کرنے والا خود ان جیسے اعمال نہ رکھتا ہو پھر بھی ان کے ساتھ ہوگا، اس مراد وہ اعمال صالحہ ہیں جو انسان فرائض و واجبات کے علاوہ اضافی طور پر کیا کرتا ہے اور جن میں ایک دوسرے پر فوقیت لے جانے کی گنجائش رہتی ہے، مثلاً نفل نمازیں، نفل روزے، نفلی صدقات، نفلی عمرہ و حج، شب بیداری، اوراد و وظائف کا اہتمام، تلاوت قرآن، لوگوں کی امداد و خیرخواہی، دین کی سربلندی اور اس کے احیا و بقا کے لئے عزیمت کے طور پر کی جانے والی کاوشیں، مجاہدے اور قربانیاںوغیرہ۔ اس سے مراد یہ قطعی نہیں ہے کہ انسان فرائض و واجبات کی بھی پرواہ نہ کرتا ہو اور دیگر بداعمالیوں میں متواتر ملوث ہو، اور وہ فقط محبت کے دعوے کی بنیاد پران حضرات کے مقام و مرتبے کو پالے۔
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمیؓ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتے تھے ۔ ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خوش ہو کر کہا: ربیعہ آج مجھ سے کچھ مانگ لو! تو انہوں نے کہا: ’’میں جنت میں آپؐ کی رفاقت مانگتا ہوں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’یا اس کے سوا کچھ اور ؟‘‘ تو انہوں نے عرض کیا: ’’بس یہی‘‘۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تو پھر اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۱۰۹۴)۔ یہاں سجدوں کی کثرت سے نفل نمازیں ہی مراد ہیں کیوں کہ فرائض کی تعداد رکعت اور سجدے تو محدود ہیں، اور ان صحابی سے ان میں کوتاہی کی کوئی توقع بھی نہ تھی۔ نیز جو بات ہم سب کے لئے سبق آموز ہے، وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صرف اپنی دعا یا سفارش کے بھروسے پر نہیں چھوڑا بلکہ کثرت سے سجدہ کرنے کی تعلیم دی۔ اس لئے ہمیں بھی صرف آپؐ کی محبت اور سفارش کے بھروسے نہیں رہنا چاہیے بلکہ زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کو اختیار کرنے کی فکر کرنی چاہیے اور ایسے گناہوں میں تو بالکل بھی نہیں پڑنا چاہیے جن کے مواخذہ سے کسی کی سفارش بھی نجات نہیں دلاسکتی۔
آخر میں یہ عرض ہے کہ صالحین سے محبت و رفاقت کے کچھ عملی تقاضے بھی ہیں جنھیں پورا کرنے سے آپس کے تعلقات کے مستحکم ہونے اور تزکیۂ نفس کی راہ آسان ہوجانے کی امید ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ جن سے فقط اللہ کی رضا کے لئے محبت رکھتے ہوں، ان سے اپنی محبت کا اظہار ضرور کردیجیے۔ اس کے نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں، فریق ثانی کو بھی قرب کا احساس ہوتا ہے، اور دونوں طرف کے احساسات اور جذبات کے تبادلے سے محبت و خلوص میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے۔ پھرمحبت صرف ایک قلبی کیفیت نہیں رہ جاتی بلکہ اس کے تقاضے عملی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں، اور معاملہ ایک دوسرے کے ذاتی معاملات میں دلچسپی لینے، ایک دوسرے کی خیرخواہی کرنے، ایک دوسرے کی ضروریات اور جذبات کا خیال رکھنے، باہمی حقوق ادا کرنے اور ایک دوسرے کے لئے دعاگو رہنے تک جا پہنچتا ہے۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تلقین فرمائی ہے۔ حضرت مقدام بن معدیکربؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشا فرمایا: ’’جب کوئی شخص اپنے کسی مسلمان بھائی سے محبت کرے تو اسے بتلادے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘ (سنن أبي داوُدؒ: حدیث نمبر۵۱۲۴)۔
  دوسری اہم بات یہ ہے کہ حسب موقع و ضرورت ایک دوسرے کی مدد اور حوصلہ افزائی کیجیے۔ انسان جب احکام شریعت پر چلنے کی ٹھان لیتا ہے تو اسے بہت بار آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا، کبھی اس کے اوپر سخت حالات آتے ہیں، کبھی اپنوں کی مخالفت اور قطع تعلقی جھیلنی پڑتی ہے اور انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے ، ایسے میں اس کا حوصلہ پست ہوتا ہے اور ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی اس کی دل جوئی و دست گیری کرے اور اس کے پائے ثبات میں لغزش نہ آنے دے۔ایسے حالات میں اس کے وہ صالح رفیق جو اس سے محض اللہ کے لئے محبت رکھتے ہیں اگر سامنے نہ آئیں اور اس کی حوصلہ افزائی اور اعانت نہ کریں، تو پھر کس سے امیدیں رکھی جاسکتی ہیں۔ اس لئے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہیے، ایک دوسرے کی مدد کیجیے اور ایک دوسرے کا سہارا بنیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ’’ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے ایک عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘ (صحیح مسلمؒ، حدیث نمبر ۶۵۸۵) ۔ یعنی جس طرح عمارت کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کا سہارا بنتی ہے اور اسے مضبوطی فراہم کرتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ بالخصوص نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا چاہیے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے: ’’نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور ظلم و زیادتی پر ایک دوسرے سے تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ بہت سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘ (المائدۃ: ۲) ۔
اس آیت میں یہ اصول بھی واضح ہے کہ تعاون صرف نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ہے، گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں نہیں، اس لئے نہ ایسا کبھی کرنا چاہیے اور نہ ہی دوسروں سے اس کی کوئی توقع رکھنی چاہیے۔ بلکہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اپنا کوئی رفیق یا بھائی کسی گناہ پر آمادہ ہو یا کسی پر زیادتی کررہا ہو، تو اسے پیار سے سمجھائے اور اس عمل سے اسے باز رکھنے کی کوشش کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! ہم مظلوم کی مدد تو کرسکتے ہیں، لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپؐ نے فرمایا:’’ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔‘‘ (صحیح البخاريؒ: حدیث نمبر ۲۴۴۴)۔ یعنی اس وقت اس کی مدد یہی ہے کہ ظلم سے اسے روک دو۔ ظالم کو ظالم جانتے ہوئے ظلم پر اس کی مدد کرنا سخت گناہ ہے جس سے ایمان کے زائل ہوجانے کا خدشہ ہے۔ حضرت اوس بن شرجیلؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص کسی ظالم کے ساتھ چلا تاکہ اس کی مدد کرے اور اسے اس بات کا علم ہوکہ وہ ظالم ہے، تو یقینا وہ اسلام سے نکل گیا۔‘‘ (معجم الکبیر للطبرانيؒ: حدیث نمبر۶۱۹) ۔
سورۃ المائدۃ کی مذکورہ آیت اور احادیث بالاسے بالکل عیاں ہے کہ ظلم ایمان اور اسلام کے کس قدر منافی شے ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے نزدیک کس قدر ناپسندیدہ ہے۔ جب ظالم کی مدد کرنے والے کو اسلام سے نکل جانے کی وعید سنائی گئی ہے تو جو خود ظلم کرے، اس کے بارے میں قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ اس لئے صالح لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ نہ تو خودان کی ذات سے کسی پر ظلم و زیادتی ہو اور نہ ہی ان کے ذریعہ کسی ظلم و زیادتی کرنے والے کی اعانت ہو۔ ان بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھیں گے تو آپس کی محبت ان شاء اللہ دنیوی واخروی دونوں زندگی میںبار آور ہوگی۔ اللہ تعالیٰ قارئین کے ساتھ احقر کو بھی ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!
 ٭٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں