
طبیب احسن تابش’
’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں سابقہ لفظ لگا کر بہت سارے الفاظ بناسکتے ہیں۔ جیسے ایڈیٹر ،انٹر،ایسبیسٹر،ایکسلیٹر،اسکوٹر، آپریٹر ، انوائٹر، بٹر ، بیرسٹر، پینٹر، پلاسٹر، پوسٹر، پرنٹر، تھیئٹر،تھرمامیٹر ، ٹماٹر، ٹریکٹر، جنریٹر، ڈاکٹر، ڈائرکٹر، ڈسٹر، رجسٹر، لائٹر، ایڈمنسٹر، سوئٹر،سسٹر، سمسٹر،فلٹر، فائٹر، کنڈکٹر، کنسٹرکٹر، کلکولیٹر، کمپیوٹر،کیرکٹر، کلکٹر،گوئٹر، لائٹر،ماسٹر، منسٹر، مٹر، موٹر، الیکٹرک میٹر، مونیٹر، واٹر، ہیٹر ، ہیلی کاپٹروغیرہ۔
آئیے ! اب چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں پہلے کس ’’ٹر‘‘سے سابقہ پڑتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ انسان جب ماں کے شکم میںوجود پاتا ہے تو سب سے پہلے جس’’ٹر‘‘سے سابقہ پڑتا ہے وہ ہے ڈاکٹر ، ڈاکٹر دوا کے ساتھ ساتھ طرح طرح کے مشورے اس کی ماں کو دے دیتا ہے تا کہ بچے کی نشو ونما اور ارتقائی مرحلے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ وہ بحسن خوبی عالم وجود میں آجائے۔ جب بچہ اس دار فانی میں آجاتا ہے تو اسے تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، تب اسے ماسٹر سے سابقہ پڑتا ہے۔ اسکول کی پڑھائی سے جب بات بنتی ہوئی نظر نہیں آتی تب اسے گھر پر ایک ٹیوٹر کی ضرورت پڑتی ہے، بچہ جب پڑھ لکھ کر فارغ ہوجاتا ہے تو ملازمت کے سلسلے میں ملک اور کبھی بیرون ملک کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ جہاں اسے موٹر اور کنڈکٹر سے سابقہ پڑتا ہے۔ اگر وہ منسٹر بن جاتا ہے تو ہیلی کاپٹر سے سابقہ پڑتا ہے تا کہ سیلاب زدہ علاقوں کا وہ دورہ کریں۔ اس طرح ایک ’’ٹر‘‘سے اور سابقہ پڑا۔ کوئی بچہ پڑھ لکھ کر رائٹر بن جاتا ہے جہاں اسے ایڈیٹر سے سابقہ پڑتا ہے۔
گویا انسان کی زندگی میںبہت سارے ’’ٹر‘‘سے سابقہ پڑتا ہی رہتا ہے۔ کبھی کبھی دو ’’ٹر‘‘میں آپسی اختلافات بھی پیداہوجاتے ہیں۔ جیسے ڈاکٹر اور تھرمامیٹر میں گہرا رشتہ تھا ، جب بھی کوئی مریض بخار میں مبتلا ہوتا تو ڈاکٹر اسے تھرما میٹر سے بخار ناپتا ، تب اسے دوا دی جاتی۔ مگر اب تھرمامیٹر ڈاکٹر کے کلینک سے ایسے غائب ہوگیا جیسے گدھے کے سر سے سنگھ ۔ تھرما میٹر کو اس سے دلی صدمہ پہنچا وہ مریضوں سے کبھی بغل گیر ہوتا تھا تو کبھی دونوں لبوں کے درمیان اسے لوگ جگہ دیتے تھے۔ اب یہ محبت ، دوستی مفقود ہو گئی۔ اب آپ کو چاہے جتنا بھی تیز بخار ہو دوا کھائیں اور اپنے کام پر جائیں۔ کھانے میں کوئی پرہیز نہیں۔ اسی طرح دو ’’ٹر‘‘یعنی ٹماٹر اور مٹر میں دوستی نظر نہیں آتی ۔ مٹر کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کھانے سے لوگوں کا یورک ایسیڈ بڑھتا ہے جس سے لوگ لنگڑا پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لئے تمہیں کوئی پسند نہیں کرتا۔ وہیں ٹماٹر کا کہنا ہے کہ ہمارے کھانے سے تو لوگوں کی صحت بنتی ہے ، ہمارے استعمال سے جسم میں خون پیدا ہوتا ہے ارے اور تو اور کسی بھی پارٹی میں جائو ، بریانی کے ساتھ سلاد نہیں تو سب لذیذ غذائیں بد مزہ نظر آئیںگی اور ہمارے بغیر سلاد کا تصور ہی بے معنی ہے اور تمہارے استعمال سے لوگوں کا ہاضمہ بگڑ جاتا ہے ، ابھی کھایا اور فوراً بیت الخلاء کی دوڑ لگانا شروع ۔ کئی بار تو لوگوں کو تمہاری وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے تو واٹر(سلائن) چڑھانا پڑتا ہے۔
دواور ’’ٹر‘‘جو آپس میں الجھتے نظر آتے ہیں وہ ہے رجسٹر اور کمپیوٹر ۔ رجسٹر کا کہنا ہے کہ ایک دور تھا کہ ہر جگہ میں ہی میں تھا۔ چاہے وہ سرکاری دفتر ہو یا پرائیوٹ ، اسکول ، کالج، ہسپتال ہرجگہ میرا ہی وجود تھا۔ ہر طرح کا اندراج مجھ میں ہی لوگ کرتے تھے۔ مگر جب سے تمہارا آگمن ہوا ہے لوگ مجھے کنارہ کش کرچکے ہیں۔ حالاں کہ مجھ میں آسانیاں زیادہ تھیں، جب چاہا کھول لیا ، جب چاہا بند کرکے الماری میں رکھ دیا۔ کوئی مسئلہ نہ تھا۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے مجھے لوگ لے جایاکرتے تھے۔ مگر تمہارے اندر یہ سب کمیاں پائی جاتی ہیں۔ تمہارا کبھی سرور ڈائون ہوجاتا ہے تو کبھی لنک فیل ہوجاتا ہے ، اس طرح لوگوں کو قطار میں لگے لگے اکتاہٹ ہونے لگتی ہے ، پھر مایوس ہوکر اپنے گھر کو لوٹ جاتے ہیں۔ منٹوں کاکام گھنٹوں میں بھی نہیں ہوتا۔
وہیں کمپیوٹر کا کہنا ہے کہ ہمارے اندر چند خرابیاں ضرور ہیں ، مگر میں بیک وقت کئی مقامات پر لوگوں کے پیغامات پلک جھپکتے پہنچا دیتا ہوں۔ جس سے لوگوں کو آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اب تو ہمارے بغیر زندگی کا کوئی شعبہ خالی نہیں۔ جہاں میں نہ پایا جائوں۔ حتیٰ کہ میں اسکول ، کالج کے نصاب میں بھی شامل ہو چکا ہوں۔ دونوں کی آپسی نوک جھونک سے کمپیوٹرکا ذہنی توازن بگڑتا نظرآیا تو پھر آپریٹرکوبلایاگیا، رجسٹر سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔
اور دو ’’ٹر‘‘میں توتو میں ہوجاتی ہے ۔ موٹر (ایمبولنس ) اور ہیلی کاپٹر کا کہنا ہے کہ ہمارے سامنے تمہاری اوقات ہی کیا ہے ۔ میں لوگوں کو آسمان کا سیر کراتا ہوں اور تم اوبڑ کھابڑسڑک پر چلتے ہو،ہم پر سوار ہونا لوگ فخر سمجھتے ہیں۔ موٹر نے کہا زیادہ بھانجو مت ۔لوگوں کو خوب پتا ہے کہ تم اچانک زمین دوز بھی ہوجاتے ہو اور تمہارے پرخچے اڑ جاتے ہیں، اس وقت لوگوں کی مدد کے لئے مجھے ہی بلایاجاتا ہے اور انہیں ہسپتال تک میں ہی پہنچاتی ہوں۔ موٹر نے کہاکہ اکبر الٰہ آبادی نے ٹھیک ہی کہا ہے ؎
چڑھے ایئرشپ پر تو سمجھے میں ہی ہوں خدا نہیں ہے
وہاں سے جب گرے تو لاش کا بھی پتہ نہیں ہے
باتیں تو اور بھی ہیں مگر یہاں سب ’’ٹر‘‘پر گفتگو ممکن نہیں۔ بس اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ آپ کسی کے سامنے دو ’’ٹر‘‘کا استعمال ایک ساتھ نہ کریںگے۔ ورنہ بات بڑھے گی تو کلکٹر تک پہنچ جائے گی تو پھر مشکلوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یعنی کسی کے روبرو ہو یا موبائل پر ۔ زیادہ ’’ٹرٹر‘‘ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ کچھ لوگ اس لت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ میرا مضمون پڑھ کر داد دیں یا نہ دیں مگر موبائل پر ’’ٹرٹر‘‘ کرنے سے پرہیز کریں۔ امید ہے کہ آپ ’’ٹر‘‘والا لفظ موقع محل کے حساب سے استعمال کریںگے مگر ’’ٹرٹر ‘‘ کااستعمال کسی کے سامنے نہ کریںگے ۔ اسی میں ہماری آپ کی بھلائی ہے۔ بہت دیر میں نے آپ کے سامنے ’’ٹرٹر‘‘ کردیا۔ اب اجازت دیں۔
—


