بھارت کا اسکولی تعلیمی نظام: نیتی آیوگ رپورٹ 2026 کی روشنی میں ایک تفصیلی جائزہ

تجمل قادری

نیتی آیوگ کی مئی 2026 میں جاری کردہ رپورٹ “School Education System in India: Temporal Analysis and Policy Roadmap for Quality Enhancement” بھارت کے اسکولی تعلیمی نظام کا گزشتہ دس برسوں (2014-15 تا 2024-25) کا جامع تجزیہ پیش کرتی ہے۔ یہ رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ تعلیمی شعبے کی کامیابیوں، کمزوریوں، چیلنجز اور مستقبل کے امکانات کا ایک مکمل خاکہ فراہم کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اگر 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک (Viksit Bharat) بننے کا خواب پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کی بنیاد ایک مضبوط، معیاری اور مساوی تعلیمی نظام ہی پر استوار ہوگی۔
رسائی میں نمایاں کامیابی
رپورٹ کے مطابق بھارت میں اس وقت تقریباً 14.71 لاکھ اسکول اور 24.69 کروڑ سے زیادہ طلبہ موجود ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں تعلیم تک رسائی کے میدان میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ تقریباً ہر گاؤں اور آبادی تک ابتدائی تعلیم کی سہولت پہنچ چکی ہے اور پرائمری سطح پر داخلہ کی شرح تقریباً عالمگیر ہو چکی ہے۔ سروا شکشا ابھیان، حقِ تعلیم قانون (RTE)، سمدھرا شکشا اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 جیسے اقدامات نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ابتدائی سطح پر کامیابی کے باوجود ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم تک پہنچنے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ اعلیٰ ثانوی سطح پر مجموعی اندراج کی شرح (GER) صرف 4.58 فیصد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لاکھوں طلبہ اسکول کی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔
اندراج بڑھا، لیکن تسلسل اب بھی چیلنج
رپورٹ کے مطابق اندراج میں اضافے کے باوجود ڈراپ آؤٹ کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔ پرائمری سطح پر صورت حال بہتر ہے لیکن مڈل، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطحوں پر طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم چھوڑ دیتی ہے۔ معاشی مجبوری، جلد شادی، سماجی رکاوٹیں، روزگار کی تلاش اور بعض علاقوں میں تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
خصوصاً دیہی اور قبائلی علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بھارت کو حقیقی تعلیمی ترقی حاصل کرنی ہے تو صرف داخلوں میں اضافہ کافی نہیں بلکہ طلبہ کو آخری جماعت تک برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران اسکولی انفراسٹرکچر میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ بیشتر اسکولوں میں بجلی، بیت الخلاء اور پینے کے پانی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ لڑکیوں کے لئے الگ بیت الخلاء کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں طالبات کی حاضری اور تعلیمی تسلسل بہتر ہوا ہے۔
اس کے باوجود کئی اسکول اب بھی جدید تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ کمپیوٹر لیبز، انٹرنیٹ، سمارٹ کلاس رومز، سائنس لیبارٹریاں اور معیاری کتب خانے اب بھی ملک کے تمام علاقوں میں یکساں طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ خاص طور پر دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ: تعلیمی معیار
رپورٹ کا سب سے اہم اور تشویشناک پہلو تعلیمی معیار سے متعلق ہے۔ مختلف قومی سرویز جیسے ASER، NAS اور PARAKH کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں طلبہ اپنی جماعت کے مطابق تعلیمی مہارتیں حاصل نہیں کر پا رہے۔
بہت سے بچے اعلیٰ جماعتوں تک پہنچنے کے باوجود بنیادی سطح کی پڑھائی، تحریر اور حساب کتاب میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اگرچہ کووڈ وبا کے بعد بنیادی خواندگی اور عددی مہارتوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور عملی علم کے استعمال میں اب بھی نمایاں کمزوریاں موجود ہیں۔
اسی وجہ سے رپورٹ نے "Foundational Literacy and Numeracy” کو پورے تعلیمی نظام کی بنیاد قرار دیا ہے اور سفارش کی ہے کہ تیسری جماعت تک ہر بچے کو پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حساب کی مکمل صلاحیت حاصل ہونی چاہیے۔
اساتذہ کی کمی اور تربیت کا مسئلہ
تعلیمی معیار کا ایک اہم پہلو اساتذہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی ریاستوں میں ہزاروں تدریسی اسامیاں خالی ہیں۔ متعدد اسکول سنگل ٹیچر اسکولوں کے طور پر کام کر رہے ہیں جہاں ایک ہی استاد کئی جماعتوں کو پڑھاتا ہے۔
رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ صرف اساتذہ کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ ان کی مسلسل تربیت، پیشہ ورانہ ترقی اور جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کرنا بھی ضروری ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق اساتذہ کو محض نصاب مکمل کرنے والا نہیں بلکہ تعلیمی رہنما اور طلبہ کی شخصیت سازی کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔
مساوات اور شمولیت
رپورٹ کے مطابق صنفی مساوات کے میدان میں بھارت نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیمی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور کئی علاقوں میں ان کی کارکردگی لڑکوں سے بہتر دیکھی گئی ہے۔
اسی طرح درج فہرست ذاتوں (SC)، درج فہرست قبائل (ST) اور دیگر پسماندہ طبقات کے اندراج میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم قبائلی، پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات اور معیار کے حوالے سے اب بھی تفاوت موجود ہے۔ خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں (CwSN) کے لئے دوستانہ انفراسٹرکچر اور معاون سہولیات کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
نجی تعلیم کا بڑھتا رجحان
رپورٹ کے مطابق والدین کی ایک بڑی تعداد سرکاری اسکولوں کے بجائے نجی اسکولوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس رجحان کی بنیادی وجوہات بہتر نظم و نسق، اساتذہ کی حاضری، انگریزی میڈیم تعلیم اور تعلیمی نتائج ہیں۔
یہ صورتحال سرکاری تعلیمی نظام کے لئے ایک سنجیدہ سوال کھڑا کرتی ہے کہ اگر سرکاری اسکول معیار اور اعتماد بحال نہ کر سکے تو تعلیمی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔
مستقبل کی سمت
نیتی آیوگ نے 33 جامع سفارشات پیش کی ہیں جن میں اسکول کمپلیکس ماڈل، بنیادی خواندگی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، ڈیجیٹل تعلیم، مصنوعی ذہانت کا استعمال، پیشہ ورانہ تعلیم، ذہنی صحت، بچوں کی فلاح و بہبود اور ابتدائی بچپن کی تعلیم (ECCE) شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کو اب "داخلے پر مبنی نظام” سے آگے بڑھ کر "سیکھنے پر مبنی نظام” کی طرف جانا ہوگا۔
مجموعی طور پر نیتی آیوگ کی رپورٹ ایک متوازن تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف بھارت نے رسائی، اندراج، بنیادی ڈھانچے اور صنفی شمولیت میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جبکہ دوسری طرف تعلیمی معیار، سیکھنے کے نتائج، اساتذہ کی کمی، ڈیجیٹل تفاوت اور ثانوی سطح پر طلبہ کے تسلسل جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ رپورٹ کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ اگر بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بننا ہے تو تعلیمی نظام کو صرف تعداد کے اعتبار سے نہیں بلکہ معیار، مساوات اور مؤثریت کے اعتبار سے بھی عالمی معیار تک پہنچانا ہوگا۔
یہ مضمون نیتی آیوگ کی 2026 کی رپورٹ کے مجموعی نتائج، چیلنجز اور سفارشات پر مبنی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ/ وزارت خارجہ

جنگ نیوز بھارت نے پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

گلگت بلتستان، جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ/ وزارت خارجہ

جنگ نیوز بھارت نے پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان...

بھارت کا اسکولی تعلیمی نظام: نیتی آیوگ رپورٹ 2026 کی روشنی میں ایک تفصیلی جائزہ

تجمل قادری

نیتی آیوگ کی مئی 2026 میں جاری کردہ رپورٹ “School Education System in India: Temporal Analysis and Policy Roadmap for Quality Enhancement” بھارت کے اسکولی تعلیمی نظام کا گزشتہ دس برسوں (2014-15 تا 2024-25) کا جامع تجزیہ پیش کرتی ہے۔ یہ رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ تعلیمی شعبے کی کامیابیوں، کمزوریوں، چیلنجز اور مستقبل کے امکانات کا ایک مکمل خاکہ فراہم کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت اگر 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک (Viksit Bharat) بننے کا خواب پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کی بنیاد ایک مضبوط، معیاری اور مساوی تعلیمی نظام ہی پر استوار ہوگی۔
رسائی میں نمایاں کامیابی
رپورٹ کے مطابق بھارت میں اس وقت تقریباً 14.71 لاکھ اسکول اور 24.69 کروڑ سے زیادہ طلبہ موجود ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں تعلیم تک رسائی کے میدان میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ تقریباً ہر گاؤں اور آبادی تک ابتدائی تعلیم کی سہولت پہنچ چکی ہے اور پرائمری سطح پر داخلہ کی شرح تقریباً عالمگیر ہو چکی ہے۔ سروا شکشا ابھیان، حقِ تعلیم قانون (RTE)، سمدھرا شکشا اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 جیسے اقدامات نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاہم رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ابتدائی سطح پر کامیابی کے باوجود ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم تک پہنچنے والے طلبہ کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ اعلیٰ ثانوی سطح پر مجموعی اندراج کی شرح (GER) صرف 4.58 فیصد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لاکھوں طلبہ اسکول کی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔
اندراج بڑھا، لیکن تسلسل اب بھی چیلنج
رپورٹ کے مطابق اندراج میں اضافے کے باوجود ڈراپ آؤٹ کا مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔ پرائمری سطح پر صورت حال بہتر ہے لیکن مڈل، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطحوں پر طلبہ کی بڑی تعداد تعلیم چھوڑ دیتی ہے۔ معاشی مجبوری، جلد شادی، سماجی رکاوٹیں، روزگار کی تلاش اور بعض علاقوں میں تعلیمی اداروں کی عدم دستیابی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
خصوصاً دیہی اور قبائلی علاقوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بھارت کو حقیقی تعلیمی ترقی حاصل کرنی ہے تو صرف داخلوں میں اضافہ کافی نہیں بلکہ طلبہ کو آخری جماعت تک برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران اسکولی انفراسٹرکچر میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ بیشتر اسکولوں میں بجلی، بیت الخلاء اور پینے کے پانی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ لڑکیوں کے لئے الگ بیت الخلاء کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں طالبات کی حاضری اور تعلیمی تسلسل بہتر ہوا ہے۔
اس کے باوجود کئی اسکول اب بھی جدید تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ کمپیوٹر لیبز، انٹرنیٹ، سمارٹ کلاس رومز، سائنس لیبارٹریاں اور معیاری کتب خانے اب بھی ملک کے تمام علاقوں میں یکساں طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ خاص طور پر دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ: تعلیمی معیار
رپورٹ کا سب سے اہم اور تشویشناک پہلو تعلیمی معیار سے متعلق ہے۔ مختلف قومی سرویز جیسے ASER، NAS اور PARAKH کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں طلبہ اپنی جماعت کے مطابق تعلیمی مہارتیں حاصل نہیں کر پا رہے۔
بہت سے بچے اعلیٰ جماعتوں تک پہنچنے کے باوجود بنیادی سطح کی پڑھائی، تحریر اور حساب کتاب میں مشکلات کا شکار ہیں۔ اگرچہ کووڈ وبا کے بعد بنیادی خواندگی اور عددی مہارتوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور عملی علم کے استعمال میں اب بھی نمایاں کمزوریاں موجود ہیں۔
اسی وجہ سے رپورٹ نے "Foundational Literacy and Numeracy” کو پورے تعلیمی نظام کی بنیاد قرار دیا ہے اور سفارش کی ہے کہ تیسری جماعت تک ہر بچے کو پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حساب کی مکمل صلاحیت حاصل ہونی چاہیے۔
اساتذہ کی کمی اور تربیت کا مسئلہ
تعلیمی معیار کا ایک اہم پہلو اساتذہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کئی ریاستوں میں ہزاروں تدریسی اسامیاں خالی ہیں۔ متعدد اسکول سنگل ٹیچر اسکولوں کے طور پر کام کر رہے ہیں جہاں ایک ہی استاد کئی جماعتوں کو پڑھاتا ہے۔
رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ صرف اساتذہ کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ ان کی مسلسل تربیت، پیشہ ورانہ ترقی اور جدید تدریسی مہارتوں سے آراستہ کرنا بھی ضروری ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے مطابق اساتذہ کو محض نصاب مکمل کرنے والا نہیں بلکہ تعلیمی رہنما اور طلبہ کی شخصیت سازی کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔
مساوات اور شمولیت
رپورٹ کے مطابق صنفی مساوات کے میدان میں بھارت نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیمی شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور کئی علاقوں میں ان کی کارکردگی لڑکوں سے بہتر دیکھی گئی ہے۔
اسی طرح درج فہرست ذاتوں (SC)، درج فہرست قبائل (ST) اور دیگر پسماندہ طبقات کے اندراج میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تاہم قبائلی، پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات اور معیار کے حوالے سے اب بھی تفاوت موجود ہے۔ خصوصی ضرورتوں کے حامل بچوں (CwSN) کے لئے دوستانہ انفراسٹرکچر اور معاون سہولیات کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
نجی تعلیم کا بڑھتا رجحان
رپورٹ کے مطابق والدین کی ایک بڑی تعداد سرکاری اسکولوں کے بجائے نجی اسکولوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس رجحان کی بنیادی وجوہات بہتر نظم و نسق، اساتذہ کی حاضری، انگریزی میڈیم تعلیم اور تعلیمی نتائج ہیں۔
یہ صورتحال سرکاری تعلیمی نظام کے لئے ایک سنجیدہ سوال کھڑا کرتی ہے کہ اگر سرکاری اسکول معیار اور اعتماد بحال نہ کر سکے تو تعلیمی عدم مساوات مزید بڑھ سکتی ہے۔
مستقبل کی سمت
نیتی آیوگ نے 33 جامع سفارشات پیش کی ہیں جن میں اسکول کمپلیکس ماڈل، بنیادی خواندگی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی، ڈیجیٹل تعلیم، مصنوعی ذہانت کا استعمال، پیشہ ورانہ تعلیم، ذہنی صحت، بچوں کی فلاح و بہبود اور ابتدائی بچپن کی تعلیم (ECCE) شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کو اب "داخلے پر مبنی نظام” سے آگے بڑھ کر "سیکھنے پر مبنی نظام” کی طرف جانا ہوگا۔
مجموعی طور پر نیتی آیوگ کی رپورٹ ایک متوازن تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف بھارت نے رسائی، اندراج، بنیادی ڈھانچے اور صنفی شمولیت میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جبکہ دوسری طرف تعلیمی معیار، سیکھنے کے نتائج، اساتذہ کی کمی، ڈیجیٹل تفاوت اور ثانوی سطح پر طلبہ کے تسلسل جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ رپورٹ کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ اگر بھارت کو 2047 تک ایک ترقی یافتہ قوم بننا ہے تو تعلیمی نظام کو صرف تعداد کے اعتبار سے نہیں بلکہ معیار، مساوات اور مؤثریت کے اعتبار سے بھی عالمی معیار تک پہنچانا ہوگا۔
یہ مضمون نیتی آیوگ کی 2026 کی رپورٹ کے مجموعی نتائج، چیلنجز اور سفارشات پر مبنی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں