گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جنگلات اور درختوں کے رقبے میں اضافہ، آبی ذخائر اور ساحلی ماحولیاتی نظام کی بحالی، دریاؤں کی صفائی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے شعبوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ "نمامی گنگے” پروگرام کے ذریعے دریائے گنگا کی صفائی اور آلودگی میں کمی لائی گئی، جبکہ شیروں، ہاتھیوں، گینڈوں اور دیگر جنگلی جانوروں کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ٹھوس فضلے کی پروسیسنگ، سرکلر اکانومی، گرین اسکلز اور ماحولیاتی بیداری کے فروغ پر بھی توجہ دی گئی۔بھارت کی ماحولیاتی حکمتِ عملی گزشتہ بارہ برسوں میں وشواس (اعتماد)، نرمان (تعمیر) اور جن کلیان (عوامی فلاح) کے اصولوں پر استوار رہی ہے۔ حکومت کے مطابق اقتصادی ترقی اور عوامی بہبود کے لئے ماحولیاتی تحفظ کو قومی ترجیح بنایا گیا، جبکہ پالیسی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی منصوبہ بندی کے ذریعے عمل درآمد کو مؤثر بنایا گیا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات نے بھارت کی ماحولیاتی صلاحیت، پائیدار ترقی کی استعداد اور عالمی ساکھ کو مضبوط کیا ہے۔ ملک نے کئی موسمیاتی اہداف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کیے اور بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل سولر الائنس، مشن لائف اور دیگر عالمی اقدامات میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ماہرین کے مطابق ماحولیاتی استحکام کے لئے جنگلات، دریا، دلدلی علاقے، ساحلی نظام اور جنگلی حیات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں بھارت نے گزشتہ برسوں کے دوران جنگلاتی رقبے میں اضافے، قدرتی مساکن کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی ہے۔حکومت کے مطابق یہ اقدامات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی سمت ایک اہم پیش رفت ہیں۔
بھارت کی سبز تبدیلی
بھارت کی سبز تبدیلی
گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت نے ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جنگلات اور درختوں کے رقبے میں اضافہ، آبی ذخائر اور ساحلی ماحولیاتی نظام کی بحالی، دریاؤں کی صفائی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے شعبوں میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ "نمامی گنگے” پروگرام کے ذریعے دریائے گنگا کی صفائی اور آلودگی میں کمی لائی گئی، جبکہ شیروں، ہاتھیوں، گینڈوں اور دیگر جنگلی جانوروں کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ٹھوس فضلے کی پروسیسنگ، سرکلر اکانومی، گرین اسکلز اور ماحولیاتی بیداری کے فروغ پر بھی توجہ دی گئی۔بھارت کی ماحولیاتی حکمتِ عملی گزشتہ بارہ برسوں میں وشواس (اعتماد)، نرمان (تعمیر) اور جن کلیان (عوامی فلاح) کے اصولوں پر استوار رہی ہے۔ حکومت کے مطابق اقتصادی ترقی اور عوامی بہبود کے لئے ماحولیاتی تحفظ کو قومی ترجیح بنایا گیا، جبکہ پالیسی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی منصوبہ بندی کے ذریعے عمل درآمد کو مؤثر بنایا گیا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات نے بھارت کی ماحولیاتی صلاحیت، پائیدار ترقی کی استعداد اور عالمی ساکھ کو مضبوط کیا ہے۔ ملک نے کئی موسمیاتی اہداف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کیے اور بین الاقوامی سطح پر انٹرنیشنل سولر الائنس، مشن لائف اور دیگر عالمی اقدامات میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ماہرین کے مطابق ماحولیاتی استحکام کے لئے جنگلات، دریا، دلدلی علاقے، ساحلی نظام اور جنگلی حیات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں بھارت نے گزشتہ برسوں کے دوران جنگلاتی رقبے میں اضافے، قدرتی مساکن کی بحالی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی ہے۔حکومت کے مطابق یہ اقدامات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی سمت ایک اہم پیش رفت ہیں۔


