امریکی حکمت عملی کی ناکامی

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ نتائج کی کسوٹی پر جیتی اور ہاری جاتی ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی مہم بھی اسی حقیقت کی ایک تازہ مثال بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ چند ماہ قبل جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کی تو ان کے اہداف انتہائی بلند تھے۔ تہران میں نظام کی تبدیلی، ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کا خاتمہ، اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ان مقاصد میں شامل تھا۔ لیکن آج منظرنامہ یکسر مختلف دکھائی دیتا ہے۔
اب خبریں یہ ہیں کہ امریکہ اور ایران جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لئے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر غور کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا، ایران کو منجمد مالی وسائل تک رسائی ملے گی اور جنگ بندی کو مختلف محاذوں تک وسعت دی جائے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں امریکی مطالبات کا دائرہ نمایاں طور پر سکڑ چکا ہے۔ اب نہ ایران کے میزائل پروگرام کی بات ہو رہی ہے اور نہ ہی اس کے علاقائی اتحادیوں کے کردار کو مرکزی مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ توجہ صرف جوہری پروگرام تک محدود ہو گئی ہے، بالکل اسی طرح جیسے 2015 کے جوہری معاہدے سے قبل باراک اوباما کی انتظامیہ نے اختیار کیا تھا۔ یہ ایک دلچسپ سیاسی تضاد ہے کہ جس معاہدے کو ٹرمپ نے 2018 میں ختم کر دیا تھا، آج وہ عملاً اسی طرز کی سفارت کاری کی طرف واپس آتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس صورتحال نے ایک اور حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کا بحران امریکی پالیسی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب امریکہ نے یکطرفہ طور پر 2015 کے معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تو ایران بین الاقوامی معائنہ کاروں کے مطابق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کر رہا تھا۔ بعد کے برسوں میں بھی مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، لیکن واشنگٹن کی بدلتی ہوئی پالیسیوں نے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طویل تنازعات اکثر طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے ختم ہوئے ہیں۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ اس سبق کو قبول کرتی ہے تو ایک قابلِ عمل معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر واشنگٹن سفارت کاری کے ذریعے وہی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جو جنگ کے ذریعے حاصل نہ ہو سکے، تو امریکہ ایک اور طویل اور مہنگے تنازعے میں الجھ سکتا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا امریکہ نے ایران کے بارے میں اپنی پرانی غلطیوں سے کچھ سیکھا ہے، یا تاریخ خود کو ایک بار پھر دہرانے جا رہی ہے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

امریکی حکمت عملی کی ناکامی

بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ نتائج کی کسوٹی پر جیتی اور ہاری جاتی ہیں۔ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی مہم بھی اسی حقیقت کی ایک تازہ مثال بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ چند ماہ قبل جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کی تو ان کے اہداف انتہائی بلند تھے۔ تہران میں نظام کی تبدیلی، ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کا خاتمہ، اور خطے میں اس کے اتحادی گروہوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ان مقاصد میں شامل تھا۔ لیکن آج منظرنامہ یکسر مختلف دکھائی دیتا ہے۔
اب خبریں یہ ہیں کہ امریکہ اور ایران جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لئے ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر غور کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا، ایران کو منجمد مالی وسائل تک رسائی ملے گی اور جنگ بندی کو مختلف محاذوں تک وسعت دی جائے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں امریکی مطالبات کا دائرہ نمایاں طور پر سکڑ چکا ہے۔ اب نہ ایران کے میزائل پروگرام کی بات ہو رہی ہے اور نہ ہی اس کے علاقائی اتحادیوں کے کردار کو مرکزی مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ توجہ صرف جوہری پروگرام تک محدود ہو گئی ہے، بالکل اسی طرح جیسے 2015 کے جوہری معاہدے سے قبل باراک اوباما کی انتظامیہ نے اختیار کیا تھا۔ یہ ایک دلچسپ سیاسی تضاد ہے کہ جس معاہدے کو ٹرمپ نے 2018 میں ختم کر دیا تھا، آج وہ عملاً اسی طرز کی سفارت کاری کی طرف واپس آتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس صورتحال نے ایک اور حقیقت بھی واضح کر دی ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں اعتماد کا بحران امریکی پالیسی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب امریکہ نے یکطرفہ طور پر 2015 کے معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تو ایران بین الاقوامی معائنہ کاروں کے مطابق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کر رہا تھا۔ بعد کے برسوں میں بھی مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، لیکن واشنگٹن کی بدلتی ہوئی پالیسیوں نے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طویل تنازعات اکثر طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے ختم ہوئے ہیں۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ اس سبق کو قبول کرتی ہے تو ایک قابلِ عمل معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر واشنگٹن سفارت کاری کے ذریعے وہی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جو جنگ کے ذریعے حاصل نہ ہو سکے، تو امریکہ ایک اور طویل اور مہنگے تنازعے میں الجھ سکتا ہے۔
اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا امریکہ نے ایران کے بارے میں اپنی پرانی غلطیوں سے کچھ سیکھا ہے، یا تاریخ خود کو ایک بار پھر دہرانے جا رہی ہے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں