قربانی حکمت کے ساتھ: عیدالاضحیٰ پر ایمان، قانون اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ

ڈاکٹر ریاض احمد

عیدالاضحیٰ اسلامی تقویم کے سب سے بامعنی اور روحانی مواقع میں سے ایک ہے۔ یہ صرف کھانے، ملنے جلنے اور خوشی منانے کا تہوار نہیں بلکہ قربانی، اطاعت، عاجزی اور ہمدردی کا ایک عظیم پیغام ہے۔ قربانی کا عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم مثال سے جڑا ہوا ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم کر دیا۔ یہی جذبہ انسانیت کے لئے ایک ابدی سبق بن گیا۔ اس لئے قربانی صرف اس جانور کا نام نہیں جسے ذبح کیا جاتا ہے، بلکہ یہ نیت، نظم و ضبط، سخاوت اور اس اخلاقی تبدیلی کا نام ہے جو ایک مومن کے اندر پیدا ہونی چاہیے۔
مگر موجودہ سماجی اور سیاسی حالات میں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گائے کی قربانی ایک حساس مسئلہ بن چکی ہے، مسلمانوں کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایمان کے ساتھ ساتھ حکمت سے بھی کام لینے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی مذہبی عمل غیر ضروری تنازع، قانونی پریشانی، سماجی کشیدگی یا فرقہ وارانہ غلط فہمی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ دین کی اصل خوبصورتی صرف عبادات ادا کرنے میں نہیں، بلکہ انہیں ذمہ داری، وقار اور معاشرتی شعور کے ساتھ ادا کرنے میں ہے۔
ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ کا مسئلہ قانونی اور جذباتی دونوں اعتبار سے نہایت حساس ہے۔ ملک بھر میں مویشیوں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین یکساں نہیں ہیں؛ یہ قوانین ریاست در ریاست مختلف ہیں۔ بعض ریاستوں میں سخت پابندیاں ہیں، بعض میں مخصوص شرائط کے تحت اجازت ہے، اور کچھ جگہوں پر عمر، سرٹیفکیٹ یا ویٹرنری منظوری جیسی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر حالیہ رپورٹس میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی مذہبی رہنماؤں نے لوگوں کو سرکاری قوانین کی پابندی، تصادم سے گریز، اور ایسے مقامات پر بکرے یا دنبے جیسے جائز متبادل جانوروں کی قربانی کا مشورہ دیا جہاں مویشیوں کی قربانی سے کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکمت نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔ اسلام نے قربانی کو صرف ایک خاص جانور تک محدود نہیں کیا۔ مقامی رسم و رواج، استطاعت اور قانونی اجازت کے مطابق قربانی بکرے، دنبے، گائے، بھینس یا اونٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ جانور شرعی شرائط پر پورا اترتا ہو۔ کئی اسلامی فلاحی ادارے بھی قربانی کے لئے بکرے، دنبے، گائے، بھینس اور اونٹ کو جائز جانوروں میں شامل کرتے ہیں، ساتھ ہی جانور کے ساتھ رحم، درست طریقے سے ذبح اور گوشت کی مناسب تقسیم پر زور دیتے ہیں۔ اس لئے جب کوئی خاص جانور قانونی یا سماجی تنازع کا سبب بن جائے تو کسی دوسرے جائز جانور کا انتخاب ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ شعور، پختگی اور سمجھ داری کی علامت ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مسلمانوں کو قربانی کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ مذہبی عمل کی آزادی ایک اہم حق ہے اور اس کا احترام ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک متنوع معاشرے میں اس حق کو کس انداز میں استعمال کیا جائے، جہاں مختلف طبقات کے اپنے جذبات اور حساسیتیں موجود ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے کو مذہبی آزادی کا تحفظ کرنا چاہیے، لیکن مذہبی طبقات کو بھی عوامی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حقوق اور ذمہ داریاں ساتھ ساتھ چلنی چاہئیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو دوسرے سے جدا کر دیا جائے تو معاشرہ بداعتمادی، اشتعال اور تصادم کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس سلسلے میں مسلم علماء، سماجی رہنماؤں اور تعلیم یافتہ شہریوں کا کردار بہت اہم ہے۔ انہیں واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہیے کہ قربانی کا مقصد کسی برادری کو چیلنج کرنا، کسی کے جذبات کو مجروح کرنا یا طاقت کا مظاہرہ کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد عبادت، خیرات اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اگر یہی عبادت کسی حساس علاقے میں بکرے یا دنبے کے ذریعے زیادہ پرامن طریقے سے ادا کی جا سکتی ہے تو اس اختیار پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ یہ پسپائی نہیں، حکمت ہے۔ یہ خوف نہیں، دور اندیشی ہے۔ یہ ایمان پر سمجھوتہ نہیں، بلکہ ایمان کو غیر ضروری تنازع سے بچانے کی کوشش ہے۔
اسی طرح حکومتوں اور انتظامیہ کو بھی انصاف، شفافیت اور حساسیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ قانون کا نفاذ جانبدارانہ یا امتیازی نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی قانونی پابندیاں موجود ہیں تو انہیں عید سے پہلے واضح طور پر بتایا جانا چاہیے، نہ کہ اچانک کارروائیوں کے ذریعے خوف یا الجھن پیدا کی جائے۔ مجاز ذبح خانوں، ویٹرنری سرٹیفکیٹ، صفائی کے انتظامات اور امن و امان کے لئے عملی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ امن صرف پابندیاں لگانے سے قائم نہیں ہوتا؛ اس کے لئے منظم منصوبہ بندی اور مساوی سلوک بھی ضروری ہے۔
مسلم معاشرے کو بھی اپنی بعض عادات اور طریقوں میں اصلاح کی ضرورت ہے جو قربانی کے وقار کو متاثر کرتے ہیں۔ کھلے عام ذبح کا مظاہرہ، فضلے کا غیر مناسب طریقے سے پھینکنا، صفائی کا فقدان، بلند آواز میں بحث و تکرار، اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیوز یا تصاویر شیئر کرنا، یہ سب عیدالاضحیٰ کے پیغام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسلام صفائی، رحم اور وقار کا دین ہے۔ اگر قربانی بے ترتیبی یا اشتعال کے ماحول میں کی جائے تو ممکن ہے کہ ظاہری طور پر ایک رسم پوری ہو جائے، لیکن اسلام کی بلند اخلاقی روح مجروح ہو جاتی ہے۔ چھری کی دھار ہماری ذمہ داری کے احساس سے زیادہ تیز نہیں ہونی چاہیے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک غیر محتاط جملہ چند لمحوں میں مختلف طبقات تک پہنچ کر غصہ، خوف یا سیاسی استحصال کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لئے ایک عملی حل یہ ہے کہ ذبح سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔ عید کا پیغام ہمدردی، خیرات، خاندانی محبت اور غریبوں کی خدمت کے ذریعے عام ہونا چاہیے۔ دنیا کو قربانی کا روحانی اور انسانی پہلو نظر آنا چاہیے، صرف اس کا ظاہری عمل نہیں۔
ایک اور اہم حل مقامی سطح پر منظم منصوبہ بندی ہے۔ مقامی مساجد، علماء، فلاحی تنظیمیں اور ذمہ دار شہری عید سے پہلے واضح رہنما اصول تیار کریں۔ ان رہنما اصولوں میں یہ باتیں شامل ہو سکتی ہیں: مقامی قانون کی پابندی، حساس علاقوں میں متنازع جانوروں سے گریز، مجاز مقامات کا استعمال، صفائی کا خاص خیال، گوشت کی باوقار تقسیم، کھلے عام نمائش سے پرہیز، اور اشتعال انگیز آن لائن مواد سے اجتناب۔ یہ رہنمائی جمعہ کے خطبات، کمیونٹی میٹنگز، واٹس ایپ گروپس اور مقامی اعلانات کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ بحران کے بعد قابو پانے سے بہتر ہے کہ پہلے ہی احتیاط اختیار کی جائے۔
عیدالاضحیٰ کا گہرا سبق قربانی ہے۔ لیکن آج شاید ہم سے صرف جانور کی قربانی مطلوب نہیں، بلکہ ہمیں اپنی انا، ضد، غصہ اور اپنی بات منوانے کی خواہش کو بھی قربان کرنا ہوگا۔ اگر گائے کے بجائے بکرے کا انتخاب کسی محلے کو کشیدگی سے بچا سکتا ہے، نوجوانوں کو قانونی مشکلات سے محفوظ رکھ سکتا ہے، اور ایک مذہبی تہوار کے وقار کو برقرار رکھ سکتا ہے، تو یہ انتخاب خود بھی ایک حکیمانہ قربانی ہے۔
ایک بالغ اور باشعور قوم وہ نہیں ہوتی جو ہر اشتعال پر جذباتی ردعمل دے۔ ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو جانتی ہے کہ کب ثابت قدم رہنا ہے، کب خاموش رہنا ہے، اور کب قانونی اور پرامن متبادل اختیار کرنا ہے۔ ایمان کی طاقت تصادم سے نہیں ناپی جاتی۔ ایمان کی طاقت صبر، نظم و ضبط اور اخلاقی بصیرت سے ظاہر ہوتی ہے۔
عیدالاضحیٰ کو خوف، شک یا سیاسی استحصال کا موسم نہیں بننا چاہیے۔ اسے وہی رہنا چاہیے جس کے لئے یہ مقرر کی گئی ہے: قربانی، رحم، خیرات اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا تہوار۔ غریبوں تک کھانا پہنچنا چاہیے، خاندانوں میں خوشی ہونی چاہیے، پڑوسیوں کو تحفظ کا احساس ہونا چاہیے، اور معاشرے کو ذمہ دار ایمان کی خوبصورتی نظر آنی چاہیے۔
لہٰذا حل ایک متوازن راستے میں ہے: قربانی کی دینی روح کا تحفظ کیا جائے، ملک کے قانون کا احترام کیا جائے، دوسروں کے جذبات کو سمجھا جائے، اور حکمت کے ساتھ عمل کیا جائے۔ جہاں گائے کی قربانی قانونی طور پر ممنوع ہو یا سماجی طور پر شدید کشیدگی کا سبب بن سکتی ہو، وہاں مسلمانوں کو دوسرے جائز جانوروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ جہاں ذبح کی اجازت ہو، وہاں بھی یہ عمل قانونی، نجی، صاف ستھرے اور باوقار انداز میں کیا جانا چاہیے۔
عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام یہ نہیں کہ امن کی قیمت پر کسی خاص جانور پر اصرار کیا جائے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ انسان عاجزی کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکے اور ہمدردی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کرے۔ جب قربانی حکمت کے ساتھ کی جاتی ہے تو وہ معاشرے کو تقسیم نہیں کرتی، بلکہ دلوں کو پاک کرتی ہے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بناتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

قربانی حکمت کے ساتھ: عیدالاضحیٰ پر ایمان، قانون اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ

ڈاکٹر ریاض احمد

عیدالاضحیٰ اسلامی تقویم کے سب سے بامعنی اور روحانی مواقع میں سے ایک ہے۔ یہ صرف کھانے، ملنے جلنے اور خوشی منانے کا تہوار نہیں بلکہ قربانی، اطاعت، عاجزی اور ہمدردی کا ایک عظیم پیغام ہے۔ قربانی کا عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم مثال سے جڑا ہوا ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم کر دیا۔ یہی جذبہ انسانیت کے لئے ایک ابدی سبق بن گیا۔ اس لئے قربانی صرف اس جانور کا نام نہیں جسے ذبح کیا جاتا ہے، بلکہ یہ نیت، نظم و ضبط، سخاوت اور اس اخلاقی تبدیلی کا نام ہے جو ایک مومن کے اندر پیدا ہونی چاہیے۔
مگر موجودہ سماجی اور سیاسی حالات میں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں گائے کی قربانی ایک حساس مسئلہ بن چکی ہے، مسلمانوں کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایمان کے ساتھ ساتھ حکمت سے بھی کام لینے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی مذہبی عمل غیر ضروری تنازع، قانونی پریشانی، سماجی کشیدگی یا فرقہ وارانہ غلط فہمی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ دین کی اصل خوبصورتی صرف عبادات ادا کرنے میں نہیں، بلکہ انہیں ذمہ داری، وقار اور معاشرتی شعور کے ساتھ ادا کرنے میں ہے۔
ہندوستان میں گائے کے ذبیحہ کا مسئلہ قانونی اور جذباتی دونوں اعتبار سے نہایت حساس ہے۔ ملک بھر میں مویشیوں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین یکساں نہیں ہیں؛ یہ قوانین ریاست در ریاست مختلف ہیں۔ بعض ریاستوں میں سخت پابندیاں ہیں، بعض میں مخصوص شرائط کے تحت اجازت ہے، اور کچھ جگہوں پر عمر، سرٹیفکیٹ یا ویٹرنری منظوری جیسی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر حالیہ رپورٹس میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی مذہبی رہنماؤں نے لوگوں کو سرکاری قوانین کی پابندی، تصادم سے گریز، اور ایسے مقامات پر بکرے یا دنبے جیسے جائز متبادل جانوروں کی قربانی کا مشورہ دیا جہاں مویشیوں کی قربانی سے کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکمت نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔ اسلام نے قربانی کو صرف ایک خاص جانور تک محدود نہیں کیا۔ مقامی رسم و رواج، استطاعت اور قانونی اجازت کے مطابق قربانی بکرے، دنبے، گائے، بھینس یا اونٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ جانور شرعی شرائط پر پورا اترتا ہو۔ کئی اسلامی فلاحی ادارے بھی قربانی کے لئے بکرے، دنبے، گائے، بھینس اور اونٹ کو جائز جانوروں میں شامل کرتے ہیں، ساتھ ہی جانور کے ساتھ رحم، درست طریقے سے ذبح اور گوشت کی مناسب تقسیم پر زور دیتے ہیں۔ اس لئے جب کوئی خاص جانور قانونی یا سماجی تنازع کا سبب بن جائے تو کسی دوسرے جائز جانور کا انتخاب ایمان کی کمزوری نہیں بلکہ شعور، پختگی اور سمجھ داری کی علامت ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مسلمانوں کو قربانی کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ مذہبی عمل کی آزادی ایک اہم حق ہے اور اس کا احترام ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک متنوع معاشرے میں اس حق کو کس انداز میں استعمال کیا جائے، جہاں مختلف طبقات کے اپنے جذبات اور حساسیتیں موجود ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے کو مذہبی آزادی کا تحفظ کرنا چاہیے، لیکن مذہبی طبقات کو بھی عوامی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حقوق اور ذمہ داریاں ساتھ ساتھ چلنی چاہئیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک کو دوسرے سے جدا کر دیا جائے تو معاشرہ بداعتمادی، اشتعال اور تصادم کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس سلسلے میں مسلم علماء، سماجی رہنماؤں اور تعلیم یافتہ شہریوں کا کردار بہت اہم ہے۔ انہیں واضح طور پر یہ پیغام دینا چاہیے کہ قربانی کا مقصد کسی برادری کو چیلنج کرنا، کسی کے جذبات کو مجروح کرنا یا طاقت کا مظاہرہ کرنا نہیں ہے۔ اس کا مقصد عبادت، خیرات اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ اگر یہی عبادت کسی حساس علاقے میں بکرے یا دنبے کے ذریعے زیادہ پرامن طریقے سے ادا کی جا سکتی ہے تو اس اختیار پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ یہ پسپائی نہیں، حکمت ہے۔ یہ خوف نہیں، دور اندیشی ہے۔ یہ ایمان پر سمجھوتہ نہیں، بلکہ ایمان کو غیر ضروری تنازع سے بچانے کی کوشش ہے۔
اسی طرح حکومتوں اور انتظامیہ کو بھی انصاف، شفافیت اور حساسیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ قانون کا نفاذ جانبدارانہ یا امتیازی نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی قانونی پابندیاں موجود ہیں تو انہیں عید سے پہلے واضح طور پر بتایا جانا چاہیے، نہ کہ اچانک کارروائیوں کے ذریعے خوف یا الجھن پیدا کی جائے۔ مجاز ذبح خانوں، ویٹرنری سرٹیفکیٹ، صفائی کے انتظامات اور امن و امان کے لئے عملی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ امن صرف پابندیاں لگانے سے قائم نہیں ہوتا؛ اس کے لئے منظم منصوبہ بندی اور مساوی سلوک بھی ضروری ہے۔
مسلم معاشرے کو بھی اپنی بعض عادات اور طریقوں میں اصلاح کی ضرورت ہے جو قربانی کے وقار کو متاثر کرتے ہیں۔ کھلے عام ذبح کا مظاہرہ، فضلے کا غیر مناسب طریقے سے پھینکنا، صفائی کا فقدان، بلند آواز میں بحث و تکرار، اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیوز یا تصاویر شیئر کرنا، یہ سب عیدالاضحیٰ کے پیغام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسلام صفائی، رحم اور وقار کا دین ہے۔ اگر قربانی بے ترتیبی یا اشتعال کے ماحول میں کی جائے تو ممکن ہے کہ ظاہری طور پر ایک رسم پوری ہو جائے، لیکن اسلام کی بلند اخلاقی روح مجروح ہو جاتی ہے۔ چھری کی دھار ہماری ذمہ داری کے احساس سے زیادہ تیز نہیں ہونی چاہیے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک غیر محتاط جملہ چند لمحوں میں مختلف طبقات تک پہنچ کر غصہ، خوف یا سیاسی استحصال کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لئے ایک عملی حل یہ ہے کہ ذبح سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔ عید کا پیغام ہمدردی، خیرات، خاندانی محبت اور غریبوں کی خدمت کے ذریعے عام ہونا چاہیے۔ دنیا کو قربانی کا روحانی اور انسانی پہلو نظر آنا چاہیے، صرف اس کا ظاہری عمل نہیں۔
ایک اور اہم حل مقامی سطح پر منظم منصوبہ بندی ہے۔ مقامی مساجد، علماء، فلاحی تنظیمیں اور ذمہ دار شہری عید سے پہلے واضح رہنما اصول تیار کریں۔ ان رہنما اصولوں میں یہ باتیں شامل ہو سکتی ہیں: مقامی قانون کی پابندی، حساس علاقوں میں متنازع جانوروں سے گریز، مجاز مقامات کا استعمال، صفائی کا خاص خیال، گوشت کی باوقار تقسیم، کھلے عام نمائش سے پرہیز، اور اشتعال انگیز آن لائن مواد سے اجتناب۔ یہ رہنمائی جمعہ کے خطبات، کمیونٹی میٹنگز، واٹس ایپ گروپس اور مقامی اعلانات کے ذریعے دی جا سکتی ہے۔ بحران کے بعد قابو پانے سے بہتر ہے کہ پہلے ہی احتیاط اختیار کی جائے۔
عیدالاضحیٰ کا گہرا سبق قربانی ہے۔ لیکن آج شاید ہم سے صرف جانور کی قربانی مطلوب نہیں، بلکہ ہمیں اپنی انا، ضد، غصہ اور اپنی بات منوانے کی خواہش کو بھی قربان کرنا ہوگا۔ اگر گائے کے بجائے بکرے کا انتخاب کسی محلے کو کشیدگی سے بچا سکتا ہے، نوجوانوں کو قانونی مشکلات سے محفوظ رکھ سکتا ہے، اور ایک مذہبی تہوار کے وقار کو برقرار رکھ سکتا ہے، تو یہ انتخاب خود بھی ایک حکیمانہ قربانی ہے۔
ایک بالغ اور باشعور قوم وہ نہیں ہوتی جو ہر اشتعال پر جذباتی ردعمل دے۔ ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو جانتی ہے کہ کب ثابت قدم رہنا ہے، کب خاموش رہنا ہے، اور کب قانونی اور پرامن متبادل اختیار کرنا ہے۔ ایمان کی طاقت تصادم سے نہیں ناپی جاتی۔ ایمان کی طاقت صبر، نظم و ضبط اور اخلاقی بصیرت سے ظاہر ہوتی ہے۔
عیدالاضحیٰ کو خوف، شک یا سیاسی استحصال کا موسم نہیں بننا چاہیے۔ اسے وہی رہنا چاہیے جس کے لئے یہ مقرر کی گئی ہے: قربانی، رحم، خیرات اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا تہوار۔ غریبوں تک کھانا پہنچنا چاہیے، خاندانوں میں خوشی ہونی چاہیے، پڑوسیوں کو تحفظ کا احساس ہونا چاہیے، اور معاشرے کو ذمہ دار ایمان کی خوبصورتی نظر آنی چاہیے۔
لہٰذا حل ایک متوازن راستے میں ہے: قربانی کی دینی روح کا تحفظ کیا جائے، ملک کے قانون کا احترام کیا جائے، دوسروں کے جذبات کو سمجھا جائے، اور حکمت کے ساتھ عمل کیا جائے۔ جہاں گائے کی قربانی قانونی طور پر ممنوع ہو یا سماجی طور پر شدید کشیدگی کا سبب بن سکتی ہو، وہاں مسلمانوں کو دوسرے جائز جانوروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ جہاں ذبح کی اجازت ہو، وہاں بھی یہ عمل قانونی، نجی، صاف ستھرے اور باوقار انداز میں کیا جانا چاہیے۔
عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام یہ نہیں کہ امن کی قیمت پر کسی خاص جانور پر اصرار کیا جائے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ انسان عاجزی کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکے اور ہمدردی کے ساتھ انسانیت کی خدمت کرے۔ جب قربانی حکمت کے ساتھ کی جاتی ہے تو وہ معاشرے کو تقسیم نہیں کرتی، بلکہ دلوں کو پاک کرتی ہے اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بناتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں